تحصیل گوجرخان میں ایک طویل عرصے سے روزانہ رات بارہ بجتے ہی بجلی کی بندش نے عوام کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ شدید حبس اور گرمی میں معصوم بچے بلکتے ہیں، بزرگ بے بسی سے پسینہ بہاتے ہیں، مریض ساری رات تڑپتے ہیں اور محنت کش طبقہ، جو دن بھر روزی روٹی کے لیے مشقت کرتا ہے، رات کو بھی سکون کی ایک سانس لینے سے محروم رہتا ہے۔ یہ صرف لوڈشیڈنگ نہیں، بلکہ عام شہری کے بنیادی حقِ زندگی اور سکون پر کاری ضرب ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عوام سے بجلی کے بھاری بھرکم بل، فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور نت نئے ٹیکس تو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر وصول کیے جاتے ہیں، لیکن جب عوام کو ان کا بنیادی حق دینے کی باری آتی ہے تو پورا نظام خاموش دکھائی دیتا ہے۔ آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ عوام ادائیگی بھی کریں، مہنگائی بھی برداشت کریں اور پھر راتیں بھی اندھیرے اور اذیت میں گزاریں؟ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو مقامی سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی خاموشی ہے۔ گوجرخان کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ان کے منتخب نمائندے کہاں ہیں؟ اگر یہ مسئلہ مہینوں سے جاری ہے تو اسمبلیوں میں اس پر کتنی بار آواز بلند کی گئی؟ کتنی بار متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا گیا؟ کتنی بار عوام کے حق میں مؤثر مؤقف اختیار کیا گیا؟ اگر عوام کو آج بھی جواب نہیں مل رہا تو یہ خاموشی خود ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ شہریوں میں یہ احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ انتخابات کے بعد عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ جب ووٹ درکار ہوتے ہیں تو گلی گلی دستک دی جاتی ہے، لیکن جب انہی لوگوں کے گھروں میں اندھیرا، گرمی اور بے بسی اترتی ہے تو ان کی آواز سننے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ گوجرخان کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے اپنی نمائندگی ثابت کریں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بجلی کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ عوام اب وعدوں، دعوؤں اور تصویری بیانات سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ وہ جواب بھی چاہتے ہیں، ذمہ داری بھی چاہتے ہیں اور فوری ریلیف بھی چاہتے ہیں۔ اگر اربوں روپے کے بل اور ٹیکس وصول کرنے کے باوجود بھی ایک شہری کو رات کے وقت پنکھے کی ہوا نصیب نہ ہو تو پھر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ آخر اس نظام کی کامیابی کا معیار کیا ہے؟ رات بارہ بجے ہونے والی روزانہ کی لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، اس کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور منتخب نمائندے خاموش تماشائی بننے کے بجائے اسمبلیوں اور متعلقہ فورمز پر اپنے لوگوں کے حق کی مؤثر آواز بنیں۔ عوام مزید اندھیرے نہیں، جواب اور انصاف چاہتے ہیں۔
رات بارہ بجتے ہی گوجرخان اندھیرے میں، آخر عوام کا جرم کیا ہے؟تحریر : قمرشہزاد مغل
