Baaghi TV

امن کا مرکز، اسلام آبادتحریر: رانا شہزادہ الطاف

دنیا اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ سے اٹھنے والی چنگاریاں کسی بھی وقت پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے کر تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی تھیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور بقا کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ لیکن ایسے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد نے ایک بار پھر "امن کے پیامبر” کے طور پر اپنا لوہا منوا لیا۔

حالیہ امریکہ و ایران مذاکرات کا اسلام آباد میں کامیاب انعقاد اور ان کا حل ہونا محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کی بہت بڑی جیت ہے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے تو شاید آج دنیا ایک ایسی تباہی کا منظر دیکھ رہی ہوتی جس کا تصور ہی لرزہ خیز ہے۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ ٹکراؤ کا مطلب نسلِ انسانی کا خاتمہ تھا۔

پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست ہے جو جنگوں میں فریق بننے کے بجائے امن کے پل تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام آباد کی پرسکون فضاؤں میں ہونے والے ان فیصلوں نے ثابت کیا کہ بڑی سے بڑی غلط فہمی اور دیرینہ دشمنی کا حل بھی بندوق کی گولی میں نہیں بلکہ میز پر موجود مکالمے میں ہے۔اس کامیابی نے جہاں دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب سائے سے نکالا ہے، وہاں پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ آج پوری دنیا سکھ کا سانس لے رہی ہے، اور اس امن کا سہرا ان تمام قوتوں کے سر ہے جنہوں نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے تباہی کے دہانے سے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔بلا شبہ، اسلام آباد نے آج تاریخ کا رخ موڑ کر دنیا کو ایک نئی زندگی کی امید دی ہے۔

More posts