Baaghi TV

تیسری عالمی جنگ کا ٹل جانا اور اسلام آباد کا تاریخی کردار،تحریر: جان محمد رمضان

تاریخ کے صفحات جب بھی پلٹے جائیں گے، اکیسویں صدی کے اس عشرے کو انسانیت کے لیے انتہائی نازک دور قرار دیا جائے گا۔ ایک ایسا وقت جب جدید ٹیکنالوجی اور مہلک ہتھیاروں نے انسان کو طاقت کے نشے میں چور کر دیا تھا، عین اسی وقت مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں سے اٹھنے والی امریکہ اور ایران کی کشیدگی نے دنیا کو ہولناک تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ عالمی مبصرین پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں ہے، جس کے بعد شاید زمین پر زندگی کے آثار باقی نہ رہیں۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، اور امن کی اس تلاش کا مرکز بنا پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد۔

حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے کامیاب مذاکرات محض دو ممالک کے درمیان مفاہمت نہیں بلکہ عالمِ انسانیت کی بقا کا پروانہ ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے حالات جس نہج پر پہنچ چکے تھے، وہاں ایک معمولی سی چنگاری بھی عالمی آتش فشاں کو پھاڑنے کے لیے کافی تھی۔ بحیرہ عرب سے لے کر خلیجِ فارس تک پھیلے ہوئے تنازعات نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کو مفلوج کر دیا تھا۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ کا خطرہ اتنا بڑھ چکا تھا کہ بڑی طاقتیں بھی بے بس نظر آ رہی تھیں۔
ایسے میں اسلام آباد کا بطورِ میزبان سامنے آنا اور دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر جرات مندانہ فیصلے کروانا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک عظیم الشان فتح ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ عالمی امن کے قیام کے لیے اس کا کردار ناگزیر ہے۔ ان مذاکرات کی کامیابی نے ان تمام سازشی نظریات کو دفن کر دیا جو پاکستان کو تنہائی کا شکار دیکھنا چاہتے تھے۔

اس امن معاہدے کے اثرات دور رس ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا اس ہولناک ایٹمی جنگ سے بچ گئی جو شاید انسانی تہذیب کا آخری باب ثابت ہوتی۔ اسلام آباد کی پُرکشش فضاؤں میں ہونے والے ان مکالموں نے ثابت کیا کہ سفارت کاری وہ ہتھیار ہے جو بڑی سے بڑی فوج اور مہلک ترین میزائل سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس کامیابی نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور درمیان میں پاکستان جیسا مخلص ثالث موجود ہو، تو دہائیوں پرانی دشمنی بھی دوستی اور مفاہمت میں بدل سکتی ہے۔

آج جب دنیا کے بڑے بڑے دارالحکومت جنگ کے سائے میں سہمے ہوئے تھے، اسلام آباد سے نکلنے والی امن کی اس کرن نے پوری دنیا کو امید کی نئی روشنی دی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے بھی ایک سنہری موقع ہے کہ وہ خود کو خطے میں معاشی اور سفارتی مرکز کے طور پر منوائے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں، جبکہ ترقی کا راستہ صرف اور صرف امن کی شاہراہ سے گزرتا ہے۔ جان محمد رمضان کی یہ تحریر اس بات کی گواہ ہے کہ آج اسلام آباد نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب سائے سے نکال کر تاریخ کا رخ موڑ دیا ہے۔

More posts