بھارتی ریاست آسام میں پولیس نے دو نابالغ لڑکیوں کو مبینہ طور پر میزورام سے اغوا کرکے چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں تین نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت 20 سالہ امجد حسین لسکر، 23 سالہ صدام حسین لسکر اور 25 سالہ رنکو داس کے نام سے ہوئی ہے۔ تینوں کا تعلق آسام کے ضلع کچھار سے بتایا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعہ 3 اگست کی علی الصبح اس وقت سامنے آیا جب دونوں لڑکیاں تقریباً رات 2 بج کر 30 منٹ پر دھولائی پولیس اسٹیشن پہنچیں اور پولیس کو بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔کچھار کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجت پال کے مطابق دونوں متاثرہ لڑکیوں نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا کہ انہیں اغوا کیا گیا تھا اور ملزمان نے ان کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ بعد ازاں اپنے بیانات میں لڑکیوں نے الزام عائد کیا کہ مزاحمت کے باوجود انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس افسر نے بتایا کہ چونکہ دونوں لڑکیوں نے خود کو نابالغ قرار دیا، اس لیے پولیس نے معاملے میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین سمیت تمام متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی شروع کی۔
پولیس کے مطابق دونوں متاثرہ لڑکیوں کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے ہیں، جبکہ لازمی طبی معائنے بھی کرائے گئے ہیں۔ ابتدائی قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد تینوں گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔پولیس نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 70(2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جو 18 سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ دفعہ 87 کے تحت اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔پولیس نے پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفینسز ایکٹ 2012 کی دفعہ 6 بھی شامل کی ہے، جو بچے کے ساتھ سنگین نوعیت کے جنسی حملے سے متعلق ہے۔حکام کے مطابق معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ تفتیش کے دوران متاثرہ لڑکیوں کے بیانات، طبی رپورٹس اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کیس کو آگے بڑھایا جائے گا۔
