اپر کوہستان اسکینڈل میں قومی احتساب بیورو نے مزید دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد پر قومی خزانے سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے غیر قانونی طور پر حاصل کرنے اور مرکزی ملزم کے ساتھ ملی بھگت کا الزام ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گرفتار ملزمان کو احتساب عدالت کے جج محمد حامد مغل کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ اور تفتیشی افسر بھی موجود تھے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔
نیب پراسیکیوٹر کے مطابق گرفتار ملزم اعجاز الحق محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس، اپر کوہستان کا ملازم ہے، جسے 9 اگست کو نیب کے وارنٹ پر گرفتار کیا گیا۔ پراسیکیوٹر نے الزام عائد کیا کہ اعجاز الحق نے اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے بینک اکاؤنٹس سے 1.126 ارب روپے کی رقم غیر قانونی طور پر نقد نکلوائی اور غبن کیا۔
دوسرے گرفتار ملزم محمد زبور کے بارے میں نیب نے بتایا کہ وہ نجی ٹھیکیدار اور ایک تعمیراتی کمپنی کا مالک ہے۔ اسے بھی 9 اگست 2026 کو گرفتار کیا گیا۔
نیب کے مطابق محمد زبور نے داسو میں دو مختلف نجی بینکوں میں اپنے نام سے اکاؤنٹس کھول رکھے تھے۔ الزام ہے کہ اس نے غیر قانونی طور پر جاری کیے گئے ٹریژری چیکس کے ذریعے قومی خزانے سے 11 کروڑ 38 لاکھ روپے حاصل کرکے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزمان سے مزید تفتیش ضروری ہے تاکہ مبینہ مالی فراڈ میں ملوث دیگر افراد کا بھی سراغ لگایا جاسکے۔
عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ ملزمان پر عائد الزامات کا حتمی فیصلہ قانونی کارروائی اور عدالت کے فیصلے سے ہوگا۔
اپر کوہستان اسکینڈل میں مزید 2 ملزمان گرفتار
