پتوکی میں کتے کے کاٹنے کا شکار ہونے والا 51 سالہ شخص علاج کے دوران لاہور کے میو اسپتال میں انتقال کر گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق مریض کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم بروقت مکمل علاج نہ ہونے کے باعث اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ شخص کو 17 جولائی کو کتے نے کاٹا تھا، جس کے بعد اسے اینٹی ریبیز ویکسین کی تین خوراکیں دی گئیں۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض کی حالت پیچیدہ ہونے کے باوجود اسے ریبیز امیونوگلوبولن (RIG) نہیں لگایا گیا، جو شدید نوعیت کے سگ گزیدگی کے کیسز میں علاج کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
میو اسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق مریض جب اسپتال پہنچا تو اس میں ریبیز کی علامات نمایاں ہو چکی تھیں اور بیماری خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ ایسی صورتحال میں علاج کے امکانات انتہائی محدود رہ جاتے ہیں، کیونکہ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کتے، بلی یا کسی بھی مشتبہ جانور کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھونا، بروقت اینٹی ریبیز ویکسین لگوانا اور اگر زخم گہرا ہو یا چہرے، گردن یا ہاتھوں پر ہو تو ریبیز امیونوگلوبولن کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔ ان تمام مراحل پر مکمل عمل کرنے سے بیماری سے مؤثر تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ سگ گزیدگی کے کسی بھی واقعے کو معمولی نہ سمجھا جائے اور فوری طور پر مستند طبی مرکز سے رجوع کیا جائے تاکہ مکمل علاج بروقت شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر بھی زور دیا کہ اینٹی ریبیز ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبولن کی دستیابی ہر ضلع میں یقینی بنائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
کتے کے کاٹنے سے متاثرہ شخص ویکسین کے باوجود جانبر نہ ہو سکا
