پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبداللہ طاہر کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قتل کی وجہ نارووال میں ریت کے ٹھیکے پر پیدا ہونے والی رنجش تھی، جبکہ اس کیس میں ایک بیرون ملک مقیم ملزم کو مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عبداللہ طاہر کو نارووال میں ریت کا ٹھیکہ نہ لینے کی تنبیہ کی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس کے باوجود ٹھیکہ حاصل کیا۔ ذرائع کے مطابق اس تنازع کے بعد امریکا میں مقیم زمان کوگی بٹ نے مبینہ طور پر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے عبداللہ طاہر کو قتل کروانے کی منصوبہ بندی کی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم زمان کوگی بٹ کے ریڈ وارنٹ جاری کرانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے بعد بین الاقوامی قانونی طریقہ کار کے تحت ملزم کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ زمان کوگی بٹ ماضی میں بھی متعدد سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے اور اس پر تقریباً 20 افراد کے قتل کے الزامات ہیں، تاہم ان دعوؤں کی عدالتی سطح پر تصدیق ہونا باقی ہے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ عبداللہ طاہر پر فائرنگ کرنے والے مبینہ کرائے کے شوٹرز تاحال گرفتار نہیں ہو سکے، تاہم تفتیشی ٹیم ان تک پہنچنے کے قریب ہے اور انہیں جلد گرفتار کرنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق قتل کیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد ہی حتمی حقائق واضح ہو سکیں گے۔
Category: جرائم و حادثات
-

عبداللہ طاہر قتل کیس، ریت کے ٹھیکے کی رنجش سامنے آگئی
-

شادی سے انکار پر تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی خاتون 17 روز بعد دم توڑ گئی
لاہور کے علاقے فیکٹری ایریا میں شادی سے انکار پر تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی 36 سالہ خاتون ثنا 17 روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد جناح اسپتال میں دم توڑ گئی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ ثنا کو شدید جھلسنے کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ مسلسل زیر علاج رہی، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔تحقیقات کے مطابق محلے دار ملزم خالد نے شادی سے انکار پر خاتون پر تیزاب پھینکا تھا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح جھلس گئی، جبکہ واقعے کے دوران ملزم خود بھی تیزاب سے زخمی ہوگیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم خالد پہلے ہی گرفتار ہے، جبکہ خاتون کے انتقال کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
-

تلہ گنگ: چھ روز سے لاپتا 17 سالہ لڑکی کی لاش برآمد
تلہ گنگ میں چھ روز قبل لاپتا ہونے والی 17 سالہ لڑکی تحریم اختر کی لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں افسوس اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ فرانزک شواہد کی مدد سے موت کی وجوہات اور ممکنہ ملزمان کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق تحریم اختر گزشتہ چار برس سے اپنے ماموں کے گھر، ڈھوک ڈالی داخلی موگلہ میں رہائش پذیر تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 24 اور 25 جولائی کی درمیانی شب اچانک گھر سے لاپتا ہو گئی تھیں، جس کے بعد ان کی تلاش شروع کی گئی۔
لڑکی کے ماموں کی درخواست پر تھانہ صدر تلہ گنگ میں 25 جولائی کو نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی تھی اور لاپتا لڑکی کی تلاش جاری تھی۔
آج موگلہ کے قریب ایک دربار کے نزدیک جھاڑیوں سے تحریم اختر کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاش گھاس سے ڈھکی ہوئی تھی جبکہ ناک سے جھاگ نکل رہی تھی اور چہرے پر خون کے نشانات بھی موجود تھے۔ تاہم موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ صدر تلہ گنگ کی پولیس ٹیم ایس ایچ او امان اللہ کی سربراہی میں موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔
پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم کو بھی موقع پر طلب کیا گیا تاکہ جائے وقوعہ سے شواہد اور نمونے حاصل کیے جا سکیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ، پوسٹ مارٹم، موبائل ریکارڈ اور دیگر شواہد کی روشنی میں واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق فی الحال واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور قبل از وقت کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر قتل کے محرکات اور اس میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ -

لاہور، امریکن نیشنل خاتون اور بچوں کی پرسرار موت کا معمہ حل
لاہور کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی پراسرار ہلاکتوں کے کیس کا معمہ حل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پولیس نے بتایا ہے کہ فرانزک شواہد کے مطابق خاتون نے اپنے بچوں کو زہر دینے کے بعد خود بھی خودکشی کرلی۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ فرانزک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون ذہنی مسائل کا شکار تھی اور مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر خودکشی کے مختلف طریقے تلاش کرتی رہتی تھی۔ ان کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ امریکا سے لاہور آئی تھی۔پولیس کے مطابق 17 جولائی کو خاتون نے آئس کریم میں پوٹاشیئم سائنائیڈ ملا کر پہلے اپنے تین بچوں کو کھلائی اور بعد ازاں خود بھی وہی آئس کریم کھالی۔ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ خاتون نے اپنے شوہر کو بھی زہریلی آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ محفوظ رہے۔
ذیشان رضا نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون نے زہریلا کیمیکل اپنی ایک دوست کے گھر پارسل کے ذریعے منگوایا تھا۔ پولیس نے شوہر کا پولی گراف ٹیسٹ بھی کیا اور مکمل تفتیش کے بعد اسے بے گناہ قرار دیا۔پولیس نے کیس میں مزید دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں آن لائن کیمیکل فروخت کرنے والا دکاندار اور کیمیکل پہنچانے والا رائیڈر شامل ہیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق کیمیکل شاپ کا مالک غیر قانونی طور پر آن لائن کیمیکل فروخت کر رہا تھا اور اس نے پوٹاشیئم سائنائیڈ فراہم کرنے کے عوض ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے وصول کیے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد کی بنیاد پر چالان تیار کیا جا رہا ہے اور پراسیکیوشن کے تعاون سے انہیں قانون کے مطابق سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔
-

خود کو صحافی ظاہر کرنے والا اشتہاری ملزم گرفتار
راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خود کو صحافی ظاہر کرنے والے اشتہاری ملزم احتشام فاروق کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم متعدد نجی نیوز چینلز کے لوگوز کے ساتھ تھانے پہنچا اور اپنا تعارف صحافی کے طور پر کروایا، تاہم شناختی کارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ وہ دو مقدمات میں اشتہاری ہے۔پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے بعد تھانہ مندرہ اور تھانہ سول لائن کو اطلاع دی۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے پر تھانہ مندرہ پولیس ملزم کو اپنی تحویل میں لے گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ صحافت کی آڑ میں شہریوں سے مبینہ نوسربازی اور مالی فراڈ کرنے والے عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے، اور ایسے افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
-

ریس کورس پارک میں 11 سالہ بچے سے بدفعلی کی کوشش ناکام
ریس کورس پارک میں 11 سالہ بچے سے بدفعلی کی کوشش ناکام بنا دی گئی
ریس کورس پولیس اطلاع ملتے ہی فوری موقع پر پہنچی،ملزم گرفتار کر لیا گیا،مشکوک شخص کو موقع پر ہی رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔،11 سالہ ارقم پارک میں کھیل رہا تھا اور اچانک نظروں سے اوجھل ہو گیا،تلاش کرنے پر ملزم بچے کو جھولی میں بٹھا کر حراساں اور چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا ،ملزم انوار کی خلاف مقدمہ درج، مزید تفتیش جاری ہے،ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی کا کہنا ہے کہ گھناونے جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں،
دوسری جانب شاد باغ پولیس کا 15 کی کال پر فوری ریسپانس ،12 سالہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا اوباش ملزم گرفتارکر لیا گیا،ملزم نے گھر کا دروازہ کھولتے وقت بچی کے ساتھ چھیڑ خانی کی اور فرار ہو گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو فحش حرکات اور فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے،شاد باغ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا،ایس پی سٹی عاطف امیر کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد اور ہراساں کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں
-

22 سالہ سلائی کا کام کرنے والی لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی
گوجرانوالہ: تھانہ سول لائن کے علاقے مغل چوک میں 22 سالہ سلائی کا کام کرنے والی لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے لواحقین کی درخواست پر نامزد ملزم سرفراز کے خلاف تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کے مطابق ملزم پر لڑکی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔متاثرہ لڑکی کے لواحقین نے سی پی او گوجرانوالہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دلائی جائے۔
-

ہنگو کے جنگلات سے پولیس کانسٹیبل کی لاش برآمد، تحقیقات شروع
خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی کے جنگلات سے ایک پولیس اہلکار کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس کے ترجمان کے مطابق جنگلاتی علاقے سے ملنے والی لاش کی شناخت پولیس کانسٹیبل مشرف علی کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او سٹی فیاض خان کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
پولیس حکام نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور ابتدائی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے منتقل کر دیا۔ فرانزک شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی وجوہات اور حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق فی الحال پولیس اہلکار کی موت کی وجہ کے بارے میں کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔ تفتیشی ٹیم مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے اور واقعے کے تمام ممکنہ محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک تجزیے اور دیگر شواہد کی روشنی میں مزید پیش رفت کی جائے گی۔ حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر سے متعلق تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔ -

امریکا میں فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ، 3 افراد ہلاک
امریکی شہر سیئٹل میں مشہور سیاحتی مقام اسپیس نیڈل کے قریب فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق واقعہ اتوار کو پیش آیا جب شہر کے سیئٹل سینٹر میں سالانہ ”بائٹ آف سیئٹل“ فوڈ فیسٹیول جاری تھا،شہر سیئٹل فائر ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ فائرنگ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بجے ہوئی، واقعے میں دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک زخمی نے اسپتال میں دم توڑ گیا،چار زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم ہے، جبکہ ایک زخمی نے اسپتال جانے سے انکار کردیا۔
سیئٹل کی میئر کیٹی ولسن نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہےمیں سیئٹل پولیس کے ان اہلکاروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی اور ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔
سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس کے مطابق ایک دوسرا مشتبہ شخص جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا ہے جسے تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں مشتبہ افراد ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھےواقعے کے دوران کئی افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے اسپیس نیڈل کے اندر پناہ لی زخمیوں میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل ہے –
سیئٹل پولیس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں،اس کے علاوہ پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق ویڈیوز یا معلومات موجود ہوں تو وہ پولیس سے رابطہ کریں۔
واشنگٹن کے گورنر باب فرگوسن اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بے مقصد تشدد قرار دیاگورنر باب فرگوسن نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ میری دعائیں متاثرین کے خاندانوں اور ان امدادی کارکنوں کے ساتھ ہیں جو لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
-

شام میں دو بسوں کے درمیان تصادم، 35 افراد ہلاک، متعدد زخمی
شام میں دو بسوں کے درمیان خوفناک تصادم سے تقریباً 35 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
شام میں دو مسافر بسوں کے درمیان ہونے والے خوفناک تصادم کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تیز رفتاری اور مخالف سمت سے آنے والی بس سے ٹکر کے باعث پیش آیا، تاہم حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے،ریسکیو اہلکاروں نے متاثرہ بسوں کی باڈی کو کاٹ کر متعدد مسافروں کو باہر نکالا-
شامی حکام نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سڑک پر ٹریفک بحال کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔