چکوال میں 9 سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی بچی ہانیہ احمد کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے بچی کی موت کے بعد ملزم اہلکار کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں نامزد سی سی ڈی اہلکار سے فائرنگ میں استعمال ہونے والی سرکاری رائفل برآمد کر لی گئی ہے۔ ابتدائی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی حساسیت کے پیش نظر اسلحہ اور دیگر شواہد فرانزک تجزیے کے لیے بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقدمے کی تفتیش پہلے تھانہ سٹی پولیس کے پاس تھی، تاہم بعد ازاں تحقیقات واپس لے کر کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مبینہ طور پر فائرنگ کے دوران طے شدہ آپریشنل طریقہ کار اور حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق سی سی ڈی اہلکار شجاعت پر الزام ہے کہ اس نے بغیر مناسب وارننگ کے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں معصوم بچی جان کی بازی ہار گئی جبکہ اس کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان بھی زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاندان ڈھڈیال سے چکوال آیا تھا اور نوگزی دربار کے قریب مبینہ ڈکیتی کی کوشش کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار افراد زخمی ہوئے جبکہ 9 سالہ ہانیہ احمد شدید زخموں کے باعث دم توڑ گئی۔
دوسری جانب سی سی ڈی پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے چکوال دورے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ متاثرہ خاندان سے ملاقات اور تعزیت کریں گے جبکہ واقعے کی تحقیقات اور پیش رفت کا جائزہ بھی لیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی حتمی رپورٹ جلد متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔ متاثرہ خاندان اور عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ تحقیقات کے بعد انصاف کے تقاضے کس حد تک پورے کیے جاتے ہیں۔
ہانیہ احمد قتل کیس: سی سی ڈی اہلکار کیخلاف قتل کا مقدمہ درج
