امریکا ،ایران جنگ بندی کے سلسلہ میں اسلام آباد ایک بار پھر میزبانی کرنے کو تیار ہے ،پاکستان واحدثالث ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تین روزہ دورہ ایران کیا اور ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں یہ دورہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ہوا، اب دوسرے دور کا اعلان ہو چکا کہ مذاکرات ہونے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ بھی کہ چکے کہ امریکی وفد اسلام آباد آج پہنچے گا ،امریکا ایران مذاکرات کے حوالہ سے ساری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں ایسے میں پاکستانی میڈیا کو بھی اعتماد کی فضا بنانی ہو گی، مصدقہ خبر کو ہی نشر کرنا چاہئے نہ کہ افواہیں، تجزیوں کو خبر بنا کر پیش کیا جائے
گزشتہ دورِ مذاکرات سے پہلے جس طرح دیکھا گیا تھا، اب بھی دوسرے مرحلے کے ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے میڈیا میں کافی ہائپ پیدا ہو رہی ہے۔ایران کی جانب سے مختلف رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ ان کا وفد آئے گا یا نہیں۔اگر ماضی کودیکھا جائے تو یہ زیادہ امکان ہے کہ ایران کی طرف سے میڈیا میں اشارے اور سیاسی حکمتِ عملی کے تحت دباؤ بنایا جا رہا ہے تاکہ مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے اور اندرونی سیاست کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔ایران کے وزیرِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ “ابھی کوئی منصوبہ نہیں”۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ معاملے پر غور کر رہے ہیں لیکن حتمی فیصلہ نہیں ہوا،یہ ایک روایتی دباؤ کی حکمتِ عملی ہے۔ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب بھی واحد ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اس کردار میں فعال ہے اور آئندہ دور بھی اسی جگہ ہونے کا امکان ہے۔
میڈیا کو دونوں انتہاؤں سے گریز کرنا چاہیے؛ نہ یہ کہنا درست ہے کہ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں اور نہ ہی یہ کہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عمل جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ دونوں وفود اسلام آباد کا دورہ کریں گے، کیونکہ دونوں فریقین معاہدے تک پہنچنے کے لیے مثبت سوچ رکھتے ہیں، تاہم ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
