Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان طالبان نے ڈرون حملے کیے ،ہدف پر پہنچنے سے پہلے مار گرایا،ڈی جی آئی ایس پی آر

    افغان طالبان نے ڈرون حملے کیے ،ہدف پر پہنچنے سے پہلے مار گرایا،ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ 13 مارچ کو افغان طالبان نے پاکستان پر ڈرون حملے کیے، ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تباہ شدہ ڈرون کے ملبے سے کوئٹہ میں دو بچے زخمی ہوئے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شخص زخمی ہوا،حملے عوام میں خوف پھیلانے کی افغان طالبان کی ناپاک کوشش ہے، عوام اور مسلح افواج افغانستان پر قابض کرائے کی دہشتگرد ملیشیا کی حقیقت جانتے ہیں،افغان سرزمین سے دہشتگردوں کے خاتمے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا،افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے،افواج دہشتگردی اور اس کی تمام شکلوں کے خلاف ثابت قدمی سے لڑتی رہیں گی۔

  • سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،فتنہ الخوارج کے دو ڈرون مار گرائے ، وزارت اطلاعات

    سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،فتنہ الخوارج کے دو ڈرون مار گرائے ، وزارت اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے دو ڈرون کامیابی کے ساتھ مار گرائے ہیں، جس کے نتیجے میں کسی فوجی تنصیب یا اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچا۔

    وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گرد تنظیم کی جانب سے استعمال کیے جانے والے دو ڈرون پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سکیورٹی فورسز نے جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز استعمال کرتے ہوئے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ڈرونز کو مؤثر کارروائی کے بعد مار گرایا گیا، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم گرنے والے ملبے کی وجہ سے قریبی علاقے میں معمولی نقصان ہوا، جسے فوری طور پر کنٹرول کر لیا گیا۔ اس دہشت گرد تنظیم کو افغان طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ افغان طالبان رجیم خطے میں سرگرم مختلف دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور معاونت فراہم کر رہی ہے، جن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بھی شامل ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کیے جانے والے دعوؤں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں۔ افغان وزارت دفاع اور رجیم سے وابستہ دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے پھیلاؤ کے حوالے سے بدنام ہیں۔حالیہ دنوں میں انہی اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کا ایک طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ پائلٹوں کی گرفتاری سے متعلق بھی بے بنیاد اطلاعات پھیلائی گئیں۔ بعد ازاں افغان رجیم سے منسلک اکاؤنٹس نے خاموشی سے یہ دعوے حذف کر دیے۔ جھوٹے پروپیگنڈے کے باوجود حقیقت سامنے آ کر رہتی ہے اور سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھیں گی اور کسی بھی دہشت گرد خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران اب اپنے بعض بیلسٹک میزائلوں میں کلسٹر میونیشنز (Cluster Munitions) نصب کر رہا ہے، جس سے اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے حملوں کو روکنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

    رات کے وقت اسرائیلی آسمان پر نارنجی روشنی کے چھوٹے چھوٹے ذرات تیزی سے زمین کی طرف گرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فضا میں خطرے کے سائرن گونج رہے ہوتے ہیں۔ دراصل یہ روشنی کے ذرات چھوٹے بم ہوتے ہیں جو ایک بیلسٹک میزائل کے سرے سے بلند فضا میں چھوڑے جاتے ہیں اور پھر وسیع علاقے میں بکھر کر زمین پر گرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایران کے بیشتر بیلسٹک میزائل تقریباً 24 چھوٹے بم (بومبلٹس) لے جا سکتے ہیں جبکہ ایران کا ایک میزائل خرمشہر (Khorramshahr) 80 تک بومبلٹس لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر بومبلٹ میں تقریباً 11 پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے جو زمین پر گرنے کے بعد شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔تحقیقی جائزوں کے مطابق ایران کے دو حملوں میں یہ بومبلٹس 7 سے 8 میل تک پھیلے علاقے میں گرے۔ ان میں گھروں، کاروباری مراکز، سڑکوں اور پارکوں سمیت مختلف شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل میں میزائل حملوں سے پہلے وارننگ سسٹم اور بنکرز کی موجودگی شہریوں کو کسی حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے تل ابیب کے مضافات میں ایک بومبلٹ گرنے سے دو تعمیراتی مزدور ہلاک اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں مزدور حملے کے وقت کسی محفوظ مقام پر موجود نہیں تھے۔

    کلسٹر ہتھیاروں کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی متنازع سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ وسیع علاقے میں بغیر امتیاز کے تباہی پھیلاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آباد علاقوں میں ان کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی گزشتہ سال ایران کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ تاہم ایران نے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

    اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے مشکل
    اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام نے اگرچہ اکثر بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن چھوٹے بومبلٹس کو روکنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا سائز چھوٹا اور رفتار تیز ہونے کی وجہ سے انہیں بروقت نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔اسرائیلی میزائل ماہر تال انبار کے مطابق ایران کا مقصد فعال میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینا ہے۔ان کے مطابق بعض اوقات اسرائیلی دفاعی نظام میزائل کو فضا میں تباہ کر دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بومبلٹس زمین پر گر جاتے ہیں، کیونکہ یا تو میزائل کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا یا وہ پہلے ہی بومبلٹس چھوڑ چکا ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کلسٹر ہتھیاروں کے استعمال کا ایک مقصد اسرائیل کو اپنے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل زیادہ تعداد میں استعمال کرنے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ ایک میزائل کو روکنے کے لیے بعض اوقات کئی انٹرسیپٹر داغنے پڑ سکتے ہیں، جس سے دفاعی ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب ممکنہ طور پر طویل المدتی تھکا دینے والی جنگ کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ ایک میزائل بھی اسرائیل کے لاکھوں شہریوں کو بنکروں میں جانے پر مجبور کر دیتا ہے جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو مہنگے دفاعی وسائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔اسلحہ ماہر این آر جینزن جونز کے مطابق ایسے ہتھیاروں کا بنیادی مقصد صرف فوجی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ شہری آبادی میں خوف اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔اسرائیلی فوج اور ہوم فرنٹ کمانڈ نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ سائرن بند ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک پناہ گاہوں میں رہیں کیونکہ بومبلٹس بعد میں بھی گر سکتے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر پھٹنے والے بومبلٹس کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا دھماکہ ہینڈ گرینیڈ جیسی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اسی حکمت عملی کو جاری رکھتا ہے تو یہ نہ صرف اسرائیل کے فضائی دفاع بلکہ پورے خطے کی سکیورٹی صورتحال کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

  • افغانستان کے ڈرون حملے،کوہاٹ،اسلام آباد،پشاور،اٹک میں ڈرون گرے،اسلام آباد ایئر پورٹ بند

    افغانستان کے ڈرون حملے،کوہاٹ،اسلام آباد،پشاور،اٹک میں ڈرون گرے،اسلام آباد ایئر پورٹ بند

    افغانستان کی عبوری حکومت باز نہ آئی، پاکستان کی طرف ڈرون بھیج دیئے،راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی شام ڈرون سرگرمیوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ احتیاطی اقدامات کے طور پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو ڈرون پشاور اور دیگر شمالی علاقوں سے پرواز کرتے ہوئے اٹک کے راستے راولپنڈی کی سمت بڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔ اطلاعات کے مطابق شام تقریباً 7 بج کر 15 منٹ پر یہ ڈرون اٹک شہر کے اوپر سے گزرے اور ان کی ممکنہ سمت واہ کینٹ اور اسلام آباد بتائی جا رہی تھی۔دوسری جانب کوہاٹ کینٹ کے علاقے میں مبینہ کامی کازی ڈرون حملے کی تین مختلف جگہوں پر اطلاعات موصول ہوئیں۔پہلا دھماکہ صبح 7 بج کر 55 منٹ پر جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔دوسرا واقعہ صبح 8 بج کر 55 منٹ پر پاک فضائیہ کے آفیسرز میس کے قریب پیش آیا جبکہ تیسرا واقعہ صبح 9 بج کر 7 منٹ پر پاک فضائیہ کے افسران کی رہائشی کالونی کے قریب لاگ ہاؤس کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث ابھی ان مقامات کا مکمل تکنیکی تجزیہ نہیں کیا جا سکا۔

    ادھر 13 مارچ 2026 کو شام تقریباً 7 بجے راولپنڈی کے حمزہ کیمپ میں ایک ڈرون گرنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق ڈرون بلاک 28 کی افسران کی رہائش گاہ کی بالائی منزل سے ٹکرایا تاہم خوش قسمتی سے اس میں دھماکہ نہیں ہوا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مزید اطلاعات کے مطابق ایک اور ڈرون اسلام آباد کے سیکٹر I-8 کے قریب گرنے یا ٹکرانے کی خبر بھی زیر گردش ہے،

    صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے 100 فیصد اسٹینڈ ٹو نافذ کر دیا ہے، کینٹ کے تمام چیک پوسٹس بند کر دی گئی ہیں اور صرف محدود آمد و رفت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ فوری ردعمل کی فورسز کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے جبکہ سی ایم ایچ کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔حکام کے مطابق شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور غیر ضروری طور پر حساس مقامات کے قریب جانے سے احتیاط کریں۔

  • قندھار میں البدر ہیڈ کوارٹر پر حملہ،متعدد کمانڈرز کے ہلاک و زخمی ہونے کی خبریں

    قندھار میں البدر ہیڈ کوارٹر پر حملہ،متعدد کمانڈرز کے ہلاک و زخمی ہونے کی خبریں

    قندھار میں البدر کور ہیڈکوارٹر پر حملہ، متعدد کمانڈرز کے ہلاک و زخمی ہونے کی خبریں

    پاک فضائیہ نے گزشتہ شب پھر کابل میں ٹی ٹی اے رجیم کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر، قندھار میں کور ہیڈکوارٹر ،ائیرپورٹ اور اسلحہ کے ذخیروں کو تباہ کرنے کے علاؤہ پکتیکا میں دہشتگردوں کے کیمپ تباہ کر دیے ۔ فضائی حملوں میں ٹی ٹی اے اہلکار ،داعش خراسان ، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے متعدد دہشتگرد مارے گئے ۔ افغانستان کی یہ فوجی چھاؤنیاں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اسلحہ ڈپو کے طور پر استعمال ہو رہی تھیں۔

    سوشل میڈیا پر یہ خبریں زیرگردش ہے کہ قندھار میں البدر کور ہیڈ کوارٹر کے کور کمانڈر مہراللہ حماد، چیف آف سٹاف حزب اللہ افغان اور ڈپٹی کمانڈر ولی جان حمزہ سمیت متعدد کمانڈر ان حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جن میں بیشتر کے ہلاک ہونے جبکہ ان تینوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جنہیں قندھار میں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہےتاہم دوسری جانب افغان طالبان نے پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں تاحال ہلاکتوں اور کمانڈر کے زخمیوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی

    پاک فضائیہ نے کابل میں طالبان عسکری تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا، القاعدہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کے متعدد دہشتگرد ہلاک ہو گئے،ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے کابل کے علاقہ قصبہ میں طالبان عسکری تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا،جس کے نتیجے میں متعدد القاعدہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ شاہینوں نے پکتیا میں طالبان کے فوجی ٹھکانوں کو زمین بوس کردیا،پاک فضائیہ نے پکتیا کے مختلف علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی ہتھیار اور سازوسامان تباہ ہو گئے۔

    دوسری جانب کتیکا سے کابل جانے والا قافلہ آئی ای ڈی دھماکے کی زد میں آگیا، دو دہشتگرد کمانڈر ہلاک، متعدد زخمی؛ذرائع کے مطابق برمل کے علاقے میں کالعدم ٹی ٹی پی کی اہم شخصیات کے قافلے کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو کمانڈر ہلاک جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
    مزید بتایا جا رہا ہے کہ یہ قافلہ کابل میں کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا۔

  • ایران کے  اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے

    ایران کے اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے

    ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے۔

    پاسداران انقلاب کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس آپریشن کی 37 ویں لہر کے دوران تقریباً تین گھنٹے تک مسلسل میزائل حملے کیے گئے حملوں میں عراق کے شہر اربیل، بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹر اور اسرائیل کے شہر تل ابیب میں فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی اور اسرائیلی اہداف پر مسلسل تین گھنٹے تک میزائل اور ڈرونز برسائے، جن میں جدید ’خرمشاہ‘ میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا اس حملے کو ایران کا اب تک کا سب سے طاقتور حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق جنوبی تل ابیب میں واقع سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز کو دوسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا جبکہ مقبوضہ بندرگاہ حیفہ پر بھی میزائل داغے گئے،ان حملوں میں خیبر شکن، قدر اور خرم شہر نامی میزائل استعمال کیے گئے جن میں متعدد وارہیڈز نصب تھے، جبکہ قدر میزائل کے وارہیڈ کا وزن تقریباً ایک ٹن بتایا گیا ہے آپریشن وعدہ صادق 4 گزشتہ ماہ اس وقت شروع کیا گیا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں۔

    امریکا کراچی کی سڑکیں دکھا کر کہہ رہا ہے کہ ہم نے ایران کو تباہ کر دیا ،فیصل کراچی

    ایران جنگ :ٹرمپ نےحملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی

    ایران کا اسرائیل کے بن گورین ائیرپورٹ پر حملہ

  • پینٹاگون کی ایرانی حملوں میں 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

    پینٹاگون کی ایرانی حملوں میں 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران جنگ میں اب تک تقریباً 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق زخمی ہونے والے بیشتر اہلکاروں کی چوٹیں معمولی نوعیت کی تھیں اور ان میں سے 108 فوجی صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، اس وقت 8 امریکی فوجیوں کی حالت نازک ہے جنہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اس سے قبل پینٹاگون نے 7 امریکی فوجیوں ی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے جنگ کے دس روز کے دوران تقریباً 150 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد پینٹاگون کے ترجمان نے 140 فوجیوں کے زخمی ہونے کا بیان جاری کیا وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی میڈیا کے سوال پر ان اعداد و شمار کو درست قرار دیتے ہوئے مزید تفصیلات کے لیے پینٹاگون سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔

    گوشت کی قیمتوں میں اضافہ،عام شہریوں کی قیمت خرید سے بڑھ کر،نوٹس کی اپیل

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے، جو آج 12 ویں روز بھی جاری ہیں۔ دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے جواب میں خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

    پینٹاگون کے مطابق جنگ کے آغاز سے ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے کیونکہ امریکی فوج ایران کے ہتھیاروں کے ذخائر اور محدود تعداد میں موجود میزائل لانچرز کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    پاکستان کی لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت

  • آپریشن غضب للحق:پاکستانی فوج کو دیکھ کر افغان طالبان پوسٹوں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے

    آپریشن غضب للحق:پاکستانی فوج کو دیکھ کر افغان طالبان پوسٹوں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے

    آپریشن غضب للحق کے دوران پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں موثر انداز میں جاری رکھی ہو ئی ہیں، پاک فوج کے بہادر جوان اندر گئے اور ہتھیاروں کو قبضے میں لے کر واپس لے آئے ہندوستانی طالبان نے انہیں آتے دیکھ کر دوڑ لگا دی-

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں متعدد افغان طالبان ہلاک جبکہ باقی پسپائی اختیار کرتے ہوئے فرار ہو گئے، پاک فوج کے بھرپور جواب میں دشمن فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 10 مارچ 2026 کو، سیکورٹی فورسز نے دو سوویت نژاد 73mm HGL-9 ہیوی گرنیڈ لانچرز کو افغان طالبان کے زیر قبضہ پوزیشنوں سے برآمد کیا یہ ہتھیار پوسٹ 2 اور پوسٹ 3 سے طالبان جنگجوؤں کے پوسٹوں کو چھوڑ کر ژوب سیکٹر کے سامنے والے فرنٹ لائن علاقے سے فرار ہونے کے بعد ملے تھے ان بھاری ہتھیاروں کی برآمدگی سرحد کے ساتھ جاری پیش رفت کو نمایاں کرتی ہے کیونکہ سیکیورٹی فورسز خطے میں اپنی کارروائیاں اور نگرا نی جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔

    کینیڈا میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ

    دبئی میں معاشی و سیکیورٹی بحران: مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا

    سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،علی پرویز ملک

  • وزیراعظم کا ایرانی  سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

    وزیراعظم کا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط لکھ کر انہیں سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد دی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے امت مسلمہ کے لیے دعاؤں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات پر پاکستانی عوام شدید دکھ میں ہیں اور مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں امید ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا، پاک ایران تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ، ثقافت اور زبان کی بنیاد پر مضبوط ہیں۔

    وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ، وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    وزیراعظم نے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور تمام شعبوں میں باہمی مفاد کے لیے ایران کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت، کامیابی اور ایرانی عوام کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعائیں بھی کیں۔

    فوجی دستے کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں،بحرین

  • آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،گریز کیا جائے،وزیر قانون

    آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،گریز کیا جائے،وزیر قانون

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خطے میں کشیدہ صورتحال ہمارے لئے بھی چیلنج ہے،پاکستان نے کوشش کی ہے تنازع کا سفارتی حل نکلے،ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں۔

    اعظم نذیر تارڑ نے دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، دوست ممالک پر حملوں کے معاملے کو بھی دیکھا گیا، ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،دوست ممالک کی جانب سے بے چینی کااظہار کیا گیا ہے، آرٹیکل 19کے تحت ہر شہری کو اظہاررائے کی آزادی ہے،ہر شخص کو دل کی بات کرنے کا حق ہے لیکن آئین کو بھی دیکھنا ہے،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آرٹیکل 19پڑھ کر سنایا،انہوں نے کہاکہ قانون کے تحت اظہاررائے میں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑیں گے،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،میڈیا کا ذمہ درانہ کردار ادا کرنا ضروری ہے،سوشل میڈیا پر تبصروں کی وجہ سے دوست ملک کی جانب سے بے چینی کا اظہار ہوا ہے اور پوچھا گیا کہ کیا یہ پاکستان کا مؤقف ہے؟ اس لیے میڈیا یا سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے آئین پاکستان کو ذہن میں رکھیں اور بین الاقومی سطح پر جو خارجہ پالیسی ہے اس کو بھی سامنے رکھنا ہے۔ ہمارے صحافیوں اور پاکستان اور بیرون ملک کے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے آئین کو مدنظر رکھیں۔ اگر اس طرح کے بیانات گروپوں کی طرف سے دیے جاتے ہیں اور دوست ممالک تک پہنچتے ہیں اور انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں تو ان سے گریز کیا جانا چاہیے،

    اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج کل وی لاگز میں، لوگ اکثر ایسی باتیں کہتے ہیں کہ زیادہ آراء یا زیادہ رقم کمائی جائے، یہاں تک کہ دوست ممالک کے بارے میں بھی۔ لیکن میرا آئین اور حلف مجھے پابند کرتا ہے کہ میں اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کروں۔ ہماری پالیسی واضح ہے، پاکستان کے مفادات پہلے آتے ہیں،ویلاگ میں ویوز لینے اور ٹی وی شوز میں تبصرہ میں بہت احتیاط کریں.