Baaghi TV

چائلڈ سیکس گرومنگ میں عاشق فردوسی فیملی کو جیل،بھائی قید رہا

برطانیہ میں کشمیر کی یکجہتی کے نام پر ایک نام نہاد احتجاج ہوا۔ باوثوق زرائع اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے کنفرم کیا کہ اس احتجاج میں پاکستانی اور آزاد کشمیریوں کی تعداد بہت کم تھی، جبکہ بھارتی کمیونٹی زیادہ تھی۔
اس احتجاج کے تمام تر اخراجات بھی را کے لندن ڈیسک نے اٹھائے۔

جو سڑکیں ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاج کے لیے بھری جاتی تھیں، آج عاشق فردوسی جیسے ننگ دین ننگ قوم غداروں کی وجہ سے بھارتیوں کو خوش کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ چائلڈ سیکس گرومنگ میں عاشق فردوسی فیملی کو جیل، بھائی کو جیل بھیج دیا گیا،عاشق فردوسی کے بھائی نے دس سال جیل میں‌گزارے ہیں.

دوسری جانب چیئرپرسن استحکام پاکستان اتحاد اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ساجدہ احمد کشمیری نے اوورسیز کشمیریوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ سے ایک ویڈیو میں عاشق فردوسی نامی بندہ ناچ ناچ کر، ٹپ ٹپ کر اس کی حالت غیر ہو رہی تھی اور وہ پاکستانی اداروں اور پاکستانی عوام کے لیے بکواس کر رہا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مقبوضہ کشمیر میں عورتوں کی عصمت دری ہو رہی تھی، اس وقت ان مردوں کی غیرت کہاں مر گئی تھی؟ساجدہ احمد کشمیری نے مزید کہا کہ برطانیہ میں یہ لوگ مجرے کر رہے ہیں اور یہ سب پہلے کیوں نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے سروں پر مردوں کو محافظ بنایا ہے، مگر تم جیسے بے غیرت مرد ہوتے ہیں جن کی عورتوں کی عزتیں لٹتی ہیں اور روزِ محشر تم کھڑے ہو کر جواب دو گے۔
انہوں نے کہا کہ تم سے سوال کیا جائے گا کہ تم حق کا ساتھ دینے کے بجائے الٹا بول رہے تھے۔ ساجدہ احمد کشمیری نے یاد دہانی کرائی کہ جب لٹے پٹے 25 لاکھ لوگ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آزاد کشمیر آئے ہیں، تب تمہاری آوازیں کیوں نہیں نکلیں کہ ان لوگوں کو کیوں بے گھر کر دیا گیا اور جب زندگی ان لوگوں پر تنگ کر دی گئی تھی، تب ملکِ پاکستان نے انہیں پناہ دی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ تم وہاں کیوں ناچ رہے ہو، جبکہ تم بھی تو پاکستان سے ویزا لے کر وہاں پہنچے ہو۔ ساجدہ احمد کشمیری نے واضح کیا کہ تم کچھ بھی بول لو، مگر تمہارے پاس شناختی کارڈ ملکِ پاکستان کا ہی ہے

More posts