Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • کینیڈین ائیرلائن کاپاکستان کیلئے پروازوں کااعلان

    کینیڈین ائیرلائن کاپاکستان کیلئے پروازوں کااعلان

    کینیڈا کی ایک ایئرلائن نے پاکستان کیلئے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    کینیڈامیں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے تصدیق کی ہےکہ براہِ راست پروازیں شروع کرنے کی درخواست موصول ہو چکی ہے۔ایئرلائن نےٹورنٹوسے اسلام آباد، لاہور، اور کراچی کے لیے ہفتے میں 3 براہِ راست پروازیں چلانے کی درخواست کی ہے اورابتدائی طور پر دو Boeing 777 طیارے استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جن کی تعداد مانگ بڑھنے پر زیادہ کی جا سکتی ہے۔زارا ایئرویزجس کے بانی پاکستانی نژاد کینیڈین کاروباری شخصیت فقیر حسین ہیں نے پاکستان میں گراؤنڈ ہینڈلنگ اور دیگر انتظامات کے لیے ‘شاہین ایئرپورٹ سروسز’ (SAPS) کے ساتھ اشتراک بھی مکمل کیا ہے۔اس وقت کینیڈا سے پاکستان کے لیے صرف پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی ڈائریکٹ پروازیں موجود ہیں۔ کینیڈین نجی ایئرلائن کے آنے سے کینیڈا میں مقیم لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کو سستے ٹکٹ، بہتر سروس اور سفر کےمتبادل آپشنز ملیں گے۔

  • انتہا پسند مودی حکومت بھی غزہ میں جنگی جرائم میں اسرائیل کی معاون نکلی

    انتہا پسند مودی حکومت بھی غزہ میں جنگی جرائم میں اسرائیل کی معاون نکلی

    انتہا پسند مودی حکومت بھی غزہ میں جنگی جرائم میں اسرائیل کی معاون نکلی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے مودی یاہو مسلم دشمن مخالفت کا سب کچا چٹھا کھول دیا

    مودی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں معاونت کر رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اسرائیل کو مسلسل اسلحہ فراہم کر رہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 تک بھارت سے اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود اور پرزوں کی 2,596 کھیپیں بھیجی گئیں۔ بھارتی کمپنیوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کے 390,516 پرزے، دھماکہ خیز اسلحے کے 564,970 اجزا اور فوجی گاڑیوں کے 298 پرزے فراہم کیے۔ برآمدات میں مشین گن کے پرزے، توپ خانے کے گولے، ڈرون وارہیڈز اور بکتر بند گاڑیوں کے اجزا شامل ہیں۔ اسلحہ وصول کرنے والی اسرائیلی کمپنیوں میں ایلبٹ سسٹمز، رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز شامل ہیں۔ رپورٹ میں سرکاری ملکیت کی میونیشنز انڈیا لمیٹڈ سمیت متعدد بھارتی اسلحہ ساز کمپنیوں کی برآمدات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بھارت کے قانونی نظام میں اسلحہ برآمد کرنے سے پہلے بین الاقوامی انسانی قانون کو لاحق خطرات جانچنے کا میکانزم موجود نہیں۔

    رپورٹ میں اسلحہ برآمد کرنے کے بھارتی نظام میں شفافیت اور جواب دہی کی شدید کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔بھارت نے اسلحہ کی تجارت کے معاہدے پر نہ دستخط کیے ہیں اور نہ ہی اس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے احکامات کے بعد بھارت لاعلمی کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔ بھارتی کمپنیاں اسرائیلی فوج کو سامان فراہم کر کے بین الاقوامی جرائم میں معاونت کی مرتکب ہو سکتی ہیں۔ ایمنسٹی نے جون اور جولائی 2026 میں بھارتی حکومت سے جواب طلب کیا، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ایمنسٹی نے بھارت سے اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود، پرزوں اور فوجی آلات کی تمام منتقلی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں اسرائیل پر جامع اسلحہ پابندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متاثرہ فلسطینیوں کے لیے ازالے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاہدہ کرلیا،ٹرمپ

    بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاہدہ کرلیا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بورڈ آف پیس نے غزہ میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاہدہ کرلیا۔

    صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاہدہ ہوگیا ہے، جیسے ہی غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج واپس چلی جائیں گی،ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب اہم قدم ہے، معاہدہ مرحلہ وار اور منظم طریقے سے نافذ کیا جائے گا،صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس نے آج غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے، یہ معاہدہ دیرپا امن اور سلامتی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے،ٹرمپ نے کہاکہ یہ معاہدہ غزہ میں بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ہے، جو فلسطینی عوام کی مدد کے لیے بورڈ آف پیس کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرے گی۔

    امریکی صدر نےکہا کہ ساتھ ہی اسرائیل کو بھی وہ سکیورٹی فراہم کی جائے گی جس کا وہ مطالبہ کرتا ہے، تاکہ غزہ کو مستقبل میں حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے،امریکی صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ میرے 20 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس پر مرحلہ وار عمل کیا جائے گا، اور جیسے جیسے غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج غزہ سے انخلا کریں گی، جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس نئی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں امن و امان کی ذمہ داری سنبھالے گی، ایک سال قبل غزہ شدید جنگ، انسانی بحران کا شکار تھا، تاہم اب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ ابھی مزید کام باقی ہے،ٹرمپ نے اس موقع پر مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا جبکہ مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو بھی تاریخی پیش رفت کا سبب قرار دیامہ 7 اکتوبر کو غزہ سے پیدا ہونے والے خطرے کو دوبارہ جنم لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی،اس معاہدے کے تحت غزہ بالآخر ایسی نئی فلسطینی حکومت کے حوالے کیا جائے گا جو اپنے عوام کی خدمت کرے گی، اور اس پیش رفت کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے سب کو مبارکباد دی گئی۔

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہےکہ ہتھیاروں اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا پر معاہدہ طے پاگیا ہے،حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ثالث کردار ادا کریں، امید ہے ثالث اور بورڈ آف پیس اسرائیل کو معاہدے کا پابند بنائیں گے۔

  • سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے کا مجرم  دہشت گردی کے الزامات میں بھی قصوروار قرار

    سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے کا مجرم دہشت گردی کے الزامات میں بھی قصوروار قرار

    توہین آمیز ناول لکھنے والے ملعون سلمان رشدی پر 2022 میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی وفاقی عدالت کی جیوری نے ملزم ہادی مطر کو دہشت گردی سمیت تمام وفاقی الزامات میں قصوروار قرار دے دیا ہے۔

    28 سالہ ہادی مطر اس سے قبل ریاست نیویارک کی عدالت سے اقدام قتل کے جرم میں 25 سال قید کی سزا پا چکا ہے، تاہم وفاقی عدالت میں دہشت گردی کے جرم میں سزا سنائے جانے کے بعد اسے عمر قید کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ حملہ 12 اگست 2022 کو ریاست نیویارک کے چوٹاکوا انسٹیٹیوشن میں اس وقت ہوا تھا جب سلمان رشدی لکھاریوں کی آزادی اور تحفظ کے موضوع پر خطاب کرنے والے تھے۔ اچانک حملہ آور اسٹیج پر چڑھ گیا اور چاقو کے وار شروع کر دیے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق سلمان رشدی کے جسم پر 15 مرتبہ چاقو کے وار کیے گئے، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے، ان کی ایک آنکھ کی بینائی مکمل طور پر ختم ہوگئی جبکہ انہیں گردن، چہرے، ہاتھ اور جسم کے دیگر حصوں پر بھی سنگین زخم آئے۔

    وفاقی استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ہادی مطر کا حملہ محض ذاتی دشمنی نہیں بلکہ بین الاقوامی دہشت گردی کا ایک منصوبہ تھا۔پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے 1989 میں سلمان رشدی کے قتل کے لیے جاری کیے گئے فتویٰ سے متاثر تھا، جو رشدی کے ناول "The Satanic Verses” کی اشاعت کے بعد جاری کیا گیا تھا۔عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق ملزم نے 2021 اور 2022 کے دوران مختلف میسجنگ ایپس پر متعدد پیغامات بھیجے جن میں وہ سلمان رشدی پر اسلام کی توہین کا الزام لگاتا رہا اور انہیں قتل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا رہا۔

    پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ ملزم نے اپنے ذاتی نوٹ میں یہ بھی تحریر کیا تھا "ہمیں اسے جلد از جلد قتل کرنا ہوگا۔”

    ملزم کے وکیل نیتھنیل بارون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ حملے کے وقت ہادی مطر کے ذہن میں کیا ارادہ تھا۔دفاع کا کہنا تھا کہ صرف پیغامات یا نظریاتی وابستگی کو دہشت گردی کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔دوسری جانب ہادی مطر نے خود عدالت میں گواہی دینے سے انکار کر دیا۔

    عدالت میں سلمان رشدی نے بتایا کہ وہ حملہ آور کے اصل ارادوں سے واقف نہیں تھے، تاہم حملے کی شدت واضح کرتی ہے کہ انہیں شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا”میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا مقصد کیا تھا، لیکن میرے جسم کے مختلف حصوں پر زخم اس حملے کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔”

    استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ہادی مطر امریکی ریاست نیو جرسی میں مقیم تھا اور اس کے کمرے اور کمپیوٹر سے ایسی تصاویر اور مواد ملا جو لبنانی تنظیم حزب اللہ کی حمایت کی نشاندہی کرتے تھے۔وفاقی حکام کے مطابق ملزم نے سلمان رشدی کی رہائش اور عوامی تقریبات پر کئی ماہ تک نظر رکھی اور بالآخر چوٹاکوا انسٹیٹیوشن میں ان کی تقریر کو حملے کے لیے منتخب کیا۔

  • بھارتی دلہنیں عالمی فیشن انڈسٹری کی نئی طاقت

    بھارتی دلہنیں عالمی فیشن انڈسٹری کی نئی طاقت

    نئی دہلی: بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی شادیوں کی صنعت نے نہ صرف ملکی فیشن انڈسٹری کو مضبوط مالی بنیاد فراہم کی ہے بلکہ بھارتی ڈیزائنرز کو عالمی فیشن کے نمایاں ترین پلیٹ فارمز تک بھی پہنچا دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب بھارت کو صرف عالمی برانڈز کے لیے کڑھائی اور ملبوسات تیار کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا، مگر اب بھارتی ڈیزائنرز پیرس، نیویارک، کانز فلم فیسٹیول اور دیگر بین الاقوامی تقریبات میں اپنی تخلیقات کے ذریعے منفرد شناخت بنا رہے ہیں۔

    مشہور بھارتی فیشن ڈیزائنر راہول مشرا پیرس ہاؤٹ کوچر ویک میں مستقل شرکت کرتے ہیں، جبکہ معروف ڈیزائنر منیش ملہوترا نے حال ہی میں پیرس کوچر ویک میں پہلی بار اپنی کلیکشن پیش کی، جہاں عالمی فیشن کی معروف شخصیت اینا ونٹور بھی موجود تھیں۔ اسی طرح گورو گپتا کے ملبوسات گرامیز اور کانز فلم فیسٹیول جیسے بڑے عالمی ایونٹس میں مشہور شخصیات زیب تن کرتی ہیں، جبکہ دلہنوں کے پسندیدہ ڈیزائنر سبیاساچی رواں سال ستمبر میں نیویارک فیشن ویک میں اپنی کلیکشن پیش کریں گے۔منیش ملہوترا کے مطابق عالمی سطح پر بھارتی دستکاری کو ملنے والی پذیرائی سے نہ صرف برانڈز کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے بلکہ بھارتی صارفین میں بھی فخر اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی کامیابیاں اہم ہیں، تاہم ان کے کاروبار کی اصل بنیاد اب بھی دلہنوں کے لیے تیار کیے جانے والے خصوصی ملبوسات ہیں، جن سے حاصل ہونے والی آمدنی کاریگروں، ورکشاپس اور روایتی دستکاری کے تحفظ پر خرچ کی جاتی ہے۔

    اسی وجہ سے انڈیا کوچر ویک 2026 کو بھارتی فیشن انڈسٹری کا اہم ترین ایونٹ سمجھا جاتا ہے، جہاں ہر سال ایسے رجحانات متعارف کرائے جاتے ہیں جو اکتوبر سے شروع ہونے والے شادیوں کے سیزن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سال یہ تقریب سیاسی احتجاجوں کے باعث نسبتاً سادہ ماحول میں منعقد ہوئی اور بالی ووڈ ستاروں کی شرکت محدود رہی، تاہم ڈیزائنرز کی شاندار کلیکشنز نے فیشن شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ڈیزائنر مسابا گپتا نے پہلی مرتبہ انڈیا کوچر ویک میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ دلہنوں کے ملبوسات سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کے برانڈ کے مستقبل، نئے منصوبوں اور تخلیقی خوابوں کی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق 2018 کے بعد سے ان کے کاروبار کا تقریباً 80 فیصد حصہ شادیوں اور تقریبات کے لباس سے وابستہ ہے، اس لیے برانڈ کی طویل مدتی کامیابی کے لیے اسی شعبے پر توجہ دینا ضروری ہے۔

    امریکی سرمایہ کاری کمپنی جیفریز کے مطابق بھارت کی شادیوں کی صنعت کا حجم 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو دنیا میں چین کے بعد دوسرا بڑا ویڈنگ مارکیٹ تصور کیا جاتا ہے۔ بھارتی خاندان شادیوں پر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، جبکہ جیولری اور ڈیزائنر ملبوسات اس اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہوتے ہیں۔معروف ڈیزائنر ترون تہلیانی کا کہنا ہے کہ بھارت میں شادی ایک ثقافتی روایت ہے، جہاں کئی روز تک جاری رہنے والی تقریبات میں مختلف لباس درکار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں بھارتیوں کی معاشی خوشحالی اور عالمی طرزِ زندگی سے متاثر ہونے کے باعث شادیوں کا انداز مکمل طور پر بدل چکا ہے، اور اب صرف ارب پتی خاندان ہی نہیں بلکہ خوشحال متوسط طبقہ بھی شادیوں پر بڑے پیمانے پر خرچ کر رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اب شادیوں سے قبل خصوصی تقریبات، تھیم پارٹیوں اور ایونٹس کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف دلہا اور دلہن بلکہ ان کے اہلِ خانہ اور مہمان بھی ہر تقریب کے لیے الگ الگ ملبوسات خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی لگژری برانڈز گچی، جمی چو اور بلغاری بھی بھارتی تہواروں اور شادیوں کے سیزن کے لیے خصوصی کلیکشنز متعارف کرا رہے ہیں تاکہ بھارت کی تیزی سے بڑھتی لگژری مارکیٹ سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھارتی ڈیزائنرز کی کامیابی میں بیرونِ ملک مقیم بھارتی برادری نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جو اپنی ثقافتی شناخت برقرار رکھنے کے لیے روایتی مگر جدید انداز کے بھارتی ملبوسات خریدنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی رجحان نے بھارتی فیشن کو ایک مقامی صنعت سے نکال کر عالمی لگژری مارکیٹ کا نمایاں حصہ بنا دیا ہے۔

  • ہیتھرو ایئرپورٹ پر طیارے کے فیول ٹینک میں دھماکا،انجینئر کی موت

    ہیتھرو ایئرپورٹ پر طیارے کے فیول ٹینک میں دھماکا،انجینئر کی موت

    برطانیہ کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ورجن اٹلانٹک کے ایک نوجوان انجینئر طیارے کے فیول ٹینک کے اندر کام کے دوران ہونے والے دھماکے میں شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے، جبکہ واقعے کی مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 23 سالہ جارجی بکسٹن 11 جون کو بوئنگ 787-900 طیارے میں فیول لیک کی جانچ کے دوران ایک غیر آتش گیر دھماکے کی زد میں آ گئے تھے۔ دھماکے کے وقت وہ حفاظتی سانس لینے والے آلات استعمال کر رہے تھے۔رپورٹ کے مطابق دھماکے کے باعث جارجی بکسٹن کے سر اور دھڑ پر شدید ضربیں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی بے ہوش ہو گئے۔ ان کے ساتھی انجینئر، جو فیول ٹینک کے دوسرے حصے میں موجود تھے، محفوظ رہے اور زخمی انجینئر کو فوری طور پر باہر منتقل کیا۔واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں، لندن ایمبولینس سروس، ایوی ایشن پولیس اور ایئر ایمبولینس نے موقع پر پہنچ کر زخمی انجینئر کو اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کے سر اور گردن کے متعدد آپریشن کیے گئے، تاہم وہ 7 جولائی کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

    پولیس کی درخواست پر کیے گئے فرانزک پوسٹ مارٹم میں تصدیق ہوئی کہ ان کی موت شدید دماغی چوٹ اور کھوپڑی و چہرے پر مہلک زخم آنے کے باعث ہوئی۔میٹروپولیٹن پولیس اور ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایگزیکٹو مشترکہ طور پر واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ تاحال کسی فرد پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

  • سعودی عرب کا بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کیلئے بحری دفاعی اتحاد قائم

    سعودی عرب کا بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کیلئے بحری دفاعی اتحاد قائم

    سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کیلئے بحری دفاعی اتحاد قائم کر لیا۔

    سعودی خبرایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے 13 دیگر ممالک کے ساتھ بحری دفاعی اتحاد قائم کیا ہے،سعوی وزارت دفاع کے مطابق مجوزہ بحری دفاعی اتحاد سے متعلق اجلاس میں پاکستان سمیت 43 ممالک اور یورپی یونین وفد نے شرکت کی، اجلاس میں سعودی عرب کے مجوزہ بحری دفاعی اتحاد کا بانی اور سربراہ ہونے اور مجوزہ بحری دفاعی اتحاد کا ہیڈکورٹر سعودی عرب میں ہونے پر تبادلہ خیال ہوا،مجوزہ اتحاد باب المندب، بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں دفاعی تعاون کو فروغ دے گا،سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق پاکستان، ترکیہ، مصر، سوڈان سمیت 14 ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں مجوزہ کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کی حمایت میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔

    مشترکہ اعلامیے پر سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، اردن، یمن، بنگلا دیش، نائیجیریا اور صومالیہ نے بھی دستخط کیے، جبکہ اس میں اتحاد کے قیام سے متعلق پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا،اعلامیے میں کہا گیا کہ بعض دیگر ممالک نے بھی اتحاد کی حمایت کا اظہار کیا ہے، تاہم وہ باضابطہ شمولیت کے لیے اپنے داخلی قانونی مراحل مکمل کر رہے ہیں، جبکہ مزید ممالک کے لیے اتحاد کے دروازے کھلے رہیں گے۔

    واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔،20 جولائی کو حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سعودی آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ریاض کو آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اپنی تیل برآمدات کا رخ بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کی جانب موڑنا پڑا۔

  • 
جرمنی میں شدید گرمی سے رواں سال 10 ہزار کے قریب اموات

    
جرمنی میں شدید گرمی سے رواں سال 10 ہزار کے قریب اموات

    ‎جرمنی میں شدید گرمی کی لہر کے باعث رواں سال اب تک تقریباً 10 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جرمن ادارۂ صحت رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق زیادہ تر اموات 75 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں ریکارڈ کی گئی ہیں، جو شدید درجہ حرارت کے اثرات کے لیے زیادہ حساس سمجھے جاتے ہیں۔
    ‎ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے بزرگ افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا شہریوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت انسانی جسم پر براہ راست اثر ڈالتی ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دل و سانس کی بیماریوں کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    ‎رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ دنوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرتا ہے تو گرمی سے ہونے والی اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ادارے نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے، پانی کا زیادہ استعمال کرنے اور بزرگ افراد کی خصوصی دیکھ بھال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک میں مقامی حکام نے ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے تاکہ کمزور طبقات کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
    ‎ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث انتہائی درجہ حرارت کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے شہریوں کو موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور گرمی کی شدت کے دوران اپنی صحت کا خاص خیال رکھنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

  • 
لندن میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حامیوں کا صحافی مرتضی علی شاہ پر تشدد

    
لندن میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حامیوں کا صحافی مرتضی علی شاہ پر تشدد

    لندن میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسلک افراد کی جانب سے ایک پاکستانی صحافی پر مبینہ تشدد کے واقعے نے صحافتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    وسطی لندن میں آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے نکالے گئے احتجاجی مارچ کی کوریج کے دوران جیو نیوز کے سینئر رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔رپورٹس کے مطابق ہائیڈ پارک سے پاکستان ہائی کمیشن تک کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے حامیوں کی جانب سے نکالے گئے مارچ کی رپورٹنگ کے دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ احتجاج میں شریک افراد آزاد کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تشدد کے خاتمے، بنیادی حقوق کی بحالی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔عینی شاہدین اور سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق، جب مارچ پاکستان ہائی کمیشن کے قریب پہنچا تو مرتضیٰ علی شاہ موقع پر رپورٹنگ میں مصروف تھے۔ اسی دوران کم از کم تین افراد نے مبینہ طور پر انہیں لاتوں اور گھونسوں کا نشانہ بنایا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔

    واقعے کے بعد بڑی تعداد میں افراد مرتضیٰ علی شاہ کے گرد جمع ہوگئے، جس سے موقع پر کشیدگی پیدا ہوگئی۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے میٹروپولیٹن پولیس، احتجاجی منتظمین اور دیگر افراد نے فوری مداخلت کی۔پولیس اہلکاروں نے مرتضیٰ علی شاہ کو ہجوم سے بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق بعد ازاں جب وہ دوبارہ پاکستان ہائی کمیشن کے قریب رپورٹنگ کے لیے پہنچے تو اسی گروپ کے بعض افراد نے انہیں ایک بار پھر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔واقعے کے بعد صحافیوں کے تحفظ اور دورانِ ڈیوٹی میڈیا نمائندوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے،

  • 
امریکی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار شہید

    
امریکی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار شہید

    ‎ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے حالیہ فضائی حملے میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے تین اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ جمعرات کی صبح شمال مغربی صوبے زنجان میں کیا گیا، جہاں ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی صوبائی شاخ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے تین اہلکار جان سے گئے۔ حکام کے مطابق حملے کے بعد متاثرہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ نقصان کا جائزہ لینے کا عمل بھی جاری ہے۔
    ‎ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے آئی آر جی سی کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی فضائی حملہ صوبہ زنجان میں کیا گیا، جہاں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
    ‎دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کی ایک بڑی لہر مکمل کر لی گئی ہے۔ تاہم امریکی حکام نے زنجان میں ہونے والے مخصوص حملے یا ایرانی دعووں میں ہونے والی ہلاکتوں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی تبصرہ نہیں کیا۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مختلف ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سفارتی ذرائع کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ خطے میں مزید تصادم سے بچا جا سکے۔
    ‎ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔