حماس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ میں مسلح گروپوں کے مرحلہ وار غیر مسلح ہونے سے متعلق ایک مجوزہ روڈ میپ پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم تنظیم نے واضح کیا ہے کہ یہ ابھی صرف ایک مسودہ ہے اور اسے حتمی معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جہاں حماس کے رہنماؤں نے مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس کی نگرانی مبینہ طور پر "بورڈ آف پیس” کر رہا ہے۔
بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کو ایک "تاریخی معاہدہ” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کار غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کے مکمل غیر مسلح ہونے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
دوسری جانب حماس کے حکام نے ٹرمپ کے بیان سے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال صرف ایک مجوزہ مسودے پر اصولی اتفاق ہوا ہے اور اسے حتمی معاہدہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ حماس کے ایک ذریعے کے مطابق منصوبے میں یہ تجویز شامل ہے کہ بھاری ہتھیار مستقبل کی فلسطینی سول انتظامیہ کی نگرانی میں رکھے جائیں گے، نہ کہ اسرائیل کے حوالے کیے جائیں۔
حماس کی مذاکراتی ٹیم کے رکن غازی حمد نے کہا ہے کہ تنظیم اس وقت تک غیر مسلح ہونے کے عمل کو آگے نہیں بڑھائے گی جب تک اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا شروع نہیں کرتی۔ ان کے مطابق اسرائیلی انخلا اور معاہدے کی دیگر بنیادی شرائط پر عمل درآمد اس عمل کے لیے لازمی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے میں سرنگوں، اسلحے کے ذخائر اور عسکری پیداوار کی تنصیبات کے خاتمے کی تجاویز بھی شامل ہیں تاکہ مرحلہ وار غزہ میں مسلح ڈھانچے کو ختم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی امداد میں اضافے، ایک سول فلسطینی انتظامیہ کے قیام، اسرائیلی افواج کے انخلا اور ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو غزہ میں نئی فلسطینی سول انتظامیہ قائم ہوگی، جو "بورڈ آف پیس” کے ساتھ مل کر کام کرے گی، جبکہ اس کے نتیجے میں اسرائیل کے لیے طویل المدتی سیکیورٹی اور خطے میں استحکام کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
Category: بین الاقوامی
-

حماس کا غزہ میں مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کے مجوزہ منصوبے پر اصولی اتفاق
-

اسرائیلی فوج کا غزہ میں کتائب المجاہدین کے کمانڈر کی شہادت کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی غزہ میں ایک کارروائی کے دوران فلسطینی مسلح گروپ کتائب المجاہدین کے کمانڈر احمد حسین محمد کفینہ کو شہید کر دیا ہے۔ فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی غزہ کے جنوبی حصے میں کی گئی، تاہم حملے کے مقام اور اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق احمد حسین محمد کفینہ پر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں حصہ لینے کا الزام تھا۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیلی شہری نوآ ارگامانی اور اویناتان اور کے اغوا میں ملوث تھے، جبکہ سدھیساک رنتھالک کے اغوا کی منصوبہ بندی اور نگرانی بھی انہوں نے کی تھی۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ احمد حسین محمد کفینہ کو ایک انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔ تاہم حملے کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی نقصان یا دیگر تفصیلات کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب، اس دعوے پر کتائب المجاہدین یا دیگر فلسطینی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں اور فضائی حملے بدستور جاری ہیں، جبکہ خطے میں انسانی بحران، امدادی سرگرمیوں اور جنگ بندی کی کوششوں پر بھی عالمی برادری کی توجہ مرکوز ہے۔ -

ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
ایران نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں واقع احمد الجابر ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان، جسے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے شائع کیا، میں کہا گیا ہے کہ حملے کے دوران امریکی فوج کے لیے استعمال ہونے والے اہم فوجی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق ڈرون حملوں میں طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو ہدف بنایا گیا۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔ ایران کے مطابق کویت کا احمد الجابر ایئر بیس خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور فوجی کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح حملے سے ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں بھی آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ادھر تہران میں قائم سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز سے وابستہ محقق علی اکبر دارینی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا خطے میں اپنی فوجی تنصیبات اور سازوسامان میں اضافہ کر رہا ہے، جس کا مقصد مستقبل میں ایران کے خلاف مزید بڑے حملوں کی تیاری ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران حالیہ حملوں کے ذریعے ممکنہ امریکی فوجی کارروائیوں کو پہلے ہی روکنے یا محدود کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر اس پر مزید حملے کیے گئے تو وہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب خطے کی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کئی ممالک دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی اپیل کر رہے ہیں، کیونکہ کسی بھی نئے فوجی تصادم کے پورے مشرق وسطیٰ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

مراکش سے ہسپانوی علاقے سیوٹا میں داخلے کی کوشش، 34 تارکین وطن ہلاک
مراکش سے ہسپانوی خودمختار علاقے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران کم از کم 34 تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہزاروں افراد نے خشکی اور سمندر کے راستے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ حالیہ برسوں کے سب سے بڑے سرحدی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
سیوٹا کے علاقائی صدر خوان خیسوس ویواس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 34 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے اموات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ ایک روز کے دوران تقریباً 60 ہزار افراد مراکش سے سیوٹا میں داخل ہوئے، جن میں سے کئی افراد نے سمندر میں تیر کر یا ساحلی رکاوٹ عبور کر کے ہسپانوی حدود میں پہنچنے کی کوشش کی۔
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے صورتحال کو اسپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بحران سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل متحرک کر دیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وزیر داخلہ فرنانڈو گراندے مارلاسکا کے ہمراہ سیوٹا کا دورہ کریں گے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
ہسپانوی وزارت داخلہ کے مطابق جمعہ تک تقریباً 25 ہزار تارکین وطن کو واپس مراکش بھیجا جا چکا ہے، جبکہ مزید افراد کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔
سیوٹا میں سول گارڈ اہلکاروں کی نمائندہ تنظیم کے سربراہ راشد صبیحی نے اس صورتحال کو "شدید انسانی بحران” قرار دیا۔ ان کے مطابق ہزاروں تارکین وطن، جن میں بڑی تعداد بغیر سرپرست بچوں کی بھی ہے، فٹ پاتھوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ بہت سے لوگ شہر کی سڑکوں پر بے مقصد گھوم رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کئی افراد سمندر میں ڈوب گئے، جبکہ بعض افراد تاراخال (Tarajal) ساحل پر سرحدی رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت، سرحدی سلامتی اور انسانی بحران سے متعلق سنگین سوالات کو اجاگر کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے متاثرین کی حفاظت اور ہنگامی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے، جبکہ ہسپانوی اور مراکشی حکام صورتحال پر قابو پانے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں۔ -

اے آئی تربیت کے لیے کتابیں اسکین کرنے کے بعد اصل نسخے تلف کیے جانے کا انکشاف
برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی چند بڑی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز کی تربیت کے لیے بڑی تعداد میں کتابیں خریدنے، انہیں ڈیجیٹل شکل میں اسکین کرنے اور بعد ازاں بعض صورتوں میں ان کے اصل نسخے تلف کرنے کا طریقہ اختیار کر رہی ہیں۔ اس انکشاف کے بعد علمی، ادبی اور ثقافتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیک کمپنیاں پرانی اور مختلف موضوعات پر مشتمل کتابیں بڑی تعداد میں حاصل کرتی ہیں، جنہیں تیز رفتار اسکیننگ مشینوں کے ذریعے ڈیجیٹل فارمیٹ میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران بعض اوقات کتابوں کی جلد کو کاٹنا یا انہیں الگ کرنا پڑتا ہے تاکہ ہر صفحے کو تیزی سے اسکین کیا جا سکے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسکیننگ مکمل ہونے کے بعد بعض کتابوں کے اصل نسخے محفوظ رکھنے کے بجائے تلف کر دیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ عام کتابوں تک محدود رہے تو بھی یہ قابلِ بحث معاملہ ہے، لیکن اگر اس میں نایاب، تاریخی یا محدود تعداد میں دستیاب کتابیں بھی شامل ہوں تو یہ انسانی علم، ادبی سرمایہ اور ثقافتی ورثے کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اصل کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنی اشاعت، کاغذ، طباعت اور تاریخی حیثیت کے باعث بھی اہمیت رکھتی ہیں۔
ادبی اور لائبریری شعبے سے وابستہ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی کتابوں کی اسکیننگ کے دوران ان کے اصل نسخوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نقل کبھی بھی اصل تاریخی دستاویز یا کتاب کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی، اس لیے قیمتی علمی ذخیرے کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی کے حامی ماہرین کا مؤقف ہے کہ کتابوں کی ڈیجیٹلائزیشن سے معلومات تک رسائی آسان ہوتی ہے اور مصنوعی ذہانت کی ترقی میں بھی مدد ملتی ہے۔ تاہم وہ بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نایاب اور تاریخی اہمیت کی حامل کتابوں کو تلف کرنے کے بجائے محفوظ کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس علمی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا، کاپی رائٹ قوانین اور علمی وسائل کے تحفظ سے متعلق دنیا بھر میں بحث تیزی سے جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے -

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا جان سے مارنے کی دھمکیوں کا دعویٰ، بی جے پی پر سنگین الزامات
بھارت میں حالیہ احتجاجی تحریک کے بعد منظرعام پر آنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ابھیجیت دپکے کا کہنا ہے کہ انہیں مسلسل فون کالز کے ذریعے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔
اورنگ آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران بھی انہیں سنگین نوعیت کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق نامعلوم افراد نے انہیں احتجاج ختم کرنے اور بی جے پی میں شامل ہونے کا کہا، بصورت دیگر انہیں گولی مارنے کی دھمکی دی گئی۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی "محبت کی زبان” ہے، جس میں مخالفین کو ڈرا دھمکا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور مختلف ذرائع سے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا۔
ابھیجیت دپکے نے مزید کہا کہ انہیں متعدد مرتبہ بی جے پی میں شمولیت کی پیش کش کی گئی، لیکن انہوں نے ہر بار انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں بی جے پی میں شامل ہونا ہوتا تو وہ بہت پہلے یہ فیصلہ کر چکے ہوتے، تاہم وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔
ملکی سیاست میں مستقبل کے کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایک فرد کو اس حد تک طاقتور بنا دیا گیا ہے کہ اسے آئین سے بھی بالاتر سمجھا جانے لگا ہے، جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی بہتری اسی میں ہے کہ عوام متحد ہو کر آئینی اور جمہوری اصولوں کے مطابق اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
کاکروچ جنتا پارٹی پر بیرون ملک سے فنڈنگ حاصل کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ اگر واقعی ایسی کوئی بات ہے تو یہ بھارتی وزارت داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں وزیر داخلہ امیت شاہ کو اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے جنتر منتر میں احتجاج کے دوران ہونے والے پتھراؤ اور طلبہ پر پولیس کی جانب سے کیے گئے لاٹھی چارج کا ذمہ دار بھی امیت شاہ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام کارروائیاں منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں تاکہ احتجاج کو دبایا جا سکے۔
دوسری جانب، ان الزامات پر بی جے پی یا بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔ -

امریکا میں غیر ملکی طلبہ کے لیے ملازمت کا راستہ مہنگا ہونے کا امکان، ایک لاکھ ڈالر فیس کی تجویز زیر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ غیر ملکی طلبہ کے لیے گریجویشن کے بعد امریکا میں ملازمت حاصل کرنے کے عمل کو مزید سخت اور مہنگا بنانے پر غور کر رہی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے "اختیاری عملی تربیت” یعنی او پی ٹی (OPT) پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم یہ تجویز عالمی طلبہ میں تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
او پی ٹی پروگرام امریکا میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے طلبہ اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ایک سال تک قانونی طور پر امریکا میں کام کر سکتے ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی یعنی اسٹیم (STEM) کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اس مدت میں مزید دو سال کی توسیع بھی دی جاتی ہے، جس کے بعد کئی طلبہ امریکی ورک ویزا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ او پی ٹی پروگرام کو بعض افراد نے ویزا قوانین سے بچنے، ویزا فراڈ کرنے اور مقررہ مدت سے زیادہ امریکا میں قیام کے لیے استعمال کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے خدشات کے پیش نظر پروگرام میں سختی اور اضافی مالی شرائط متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی کارکنوں یا طلبہ سے متعلق سخت اقدامات کی کوشش کی ہو۔ اس سے قبل بھی نئے ورک ویزا درخواست دہندگان پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم امریکی وفاقی اپیل عدالت نے حال ہی میں اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر او پی ٹی پروگرام پر بھی ایک لاکھ ڈالر فیس نافذ کر دی گئی تو یہ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں طلبہ امریکا کے بجائے برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور آسٹریلیا جیسے ممالک کا رخ کر سکتے ہیں، جہاں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے مواقع نسبتاً آسان اور کم خرچ ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تجویز سے امریکا میں پہلے سے زیر تعلیم طلبہ بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ او پی ٹی پروگرام کو امریکی ملازمت اور مستقل کیریئر کی جانب پہلا اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ اگر حکومت اس تجویز کو عملی شکل دیتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف بین الاقوامی طلبہ بلکہ امریکی جامعات اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

کرکٹ ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے پر 17 سالہ بھارتی نوجوان کرکٹر نے زندگی کا خاتمہ کر لیا
بھارت کے شہر ناگپور میں ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کی ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے کے بعد 17 سالہ نوجوان کرکٹر نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق واقعے نے کھیلوں کے حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والی نوجوان کرکٹر کی شناخت ادیتی موریشور چوکانڈے کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق ریاست مہاراشٹر کے شہر اکولا سے تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ بہتر کرکٹ مواقع کی تلاش میں ناگپور منتقل ہوئی تھیں، جہاں وہ لکشمی نگر کے علاقے میں رہائش پذیر تھیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ادیتی گزشتہ دو برس سے مسلسل سخت محنت اور تربیت میں مصروف تھیں۔ ان کا خواب تھا کہ وہ ودربھ کرکٹ ایسوسی ایشن کی ٹیم میں جگہ بنا کر اعلیٰ سطح کی کرکٹ کھیلیں اور مستقبل میں اپنا نام روشن کریں۔ اس مقصد کے لیے وہ ناگپور کی سرو کرکٹ اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہی تھیں اور بی سی سی آئی سے وابستہ کرکٹ نظام میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کی ٹیم کے انتخاب میں نام شامل نہ ہونے پر وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس صورتحال نے انہیں گہری مایوسی میں مبتلا کر دیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران ایک تحریری نوٹ بھی ملا ہے، جس میں نوجوان کرکٹر نے اپنی ذہنی کیفیت اور تکلیف کا ذکر کیا ہے۔ تاہم پولیس نے اس نوٹ کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ادیتی کے خاندان کا کرکٹ سے بھی تعلق تھا اور ان کا بھائی بھی کرکٹ کھیلتا ہے۔ اہل خانہ اور قریبی افراد اس افسوسناک واقعے سے شدید صدمے میں ہیں۔
پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ دوسری جانب اس واقعے نے نوجوان کھلاڑیوں پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ، سخت مقابلے اور کھیلوں میں نفسیاتی معاونت کی ضرورت پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ -

کینیڈین ائیرلائن کاپاکستان کیلئے پروازوں کااعلان
کینیڈا کی ایک ایئرلائن نے پاکستان کیلئے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈامیں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے تصدیق کی ہےکہ براہِ راست پروازیں شروع کرنے کی درخواست موصول ہو چکی ہے۔ایئرلائن نےٹورنٹوسے اسلام آباد، لاہور، اور کراچی کے لیے ہفتے میں 3 براہِ راست پروازیں چلانے کی درخواست کی ہے اورابتدائی طور پر دو Boeing 777 طیارے استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جن کی تعداد مانگ بڑھنے پر زیادہ کی جا سکتی ہے۔زارا ایئرویزجس کے بانی پاکستانی نژاد کینیڈین کاروباری شخصیت فقیر حسین ہیں نے پاکستان میں گراؤنڈ ہینڈلنگ اور دیگر انتظامات کے لیے ‘شاہین ایئرپورٹ سروسز’ (SAPS) کے ساتھ اشتراک بھی مکمل کیا ہے۔اس وقت کینیڈا سے پاکستان کے لیے صرف پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی ڈائریکٹ پروازیں موجود ہیں۔ کینیڈین نجی ایئرلائن کے آنے سے کینیڈا میں مقیم لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کو سستے ٹکٹ، بہتر سروس اور سفر کےمتبادل آپشنز ملیں گے۔
-

انتہا پسند مودی حکومت بھی غزہ میں جنگی جرائم میں اسرائیل کی معاون نکلی
انتہا پسند مودی حکومت بھی غزہ میں جنگی جرائم میں اسرائیل کی معاون نکلی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے مودی یاہو مسلم دشمن مخالفت کا سب کچا چٹھا کھول دیا
مودی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں معاونت کر رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اسرائیل کو مسلسل اسلحہ فراہم کر رہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 تک بھارت سے اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود اور پرزوں کی 2,596 کھیپیں بھیجی گئیں۔ بھارتی کمپنیوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کے 390,516 پرزے، دھماکہ خیز اسلحے کے 564,970 اجزا اور فوجی گاڑیوں کے 298 پرزے فراہم کیے۔ برآمدات میں مشین گن کے پرزے، توپ خانے کے گولے، ڈرون وارہیڈز اور بکتر بند گاڑیوں کے اجزا شامل ہیں۔ اسلحہ وصول کرنے والی اسرائیلی کمپنیوں میں ایلبٹ سسٹمز، رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز شامل ہیں۔ رپورٹ میں سرکاری ملکیت کی میونیشنز انڈیا لمیٹڈ سمیت متعدد بھارتی اسلحہ ساز کمپنیوں کی برآمدات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بھارت کے قانونی نظام میں اسلحہ برآمد کرنے سے پہلے بین الاقوامی انسانی قانون کو لاحق خطرات جانچنے کا میکانزم موجود نہیں۔
رپورٹ میں اسلحہ برآمد کرنے کے بھارتی نظام میں شفافیت اور جواب دہی کی شدید کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔بھارت نے اسلحہ کی تجارت کے معاہدے پر نہ دستخط کیے ہیں اور نہ ہی اس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے احکامات کے بعد بھارت لاعلمی کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔ بھارتی کمپنیاں اسرائیلی فوج کو سامان فراہم کر کے بین الاقوامی جرائم میں معاونت کی مرتکب ہو سکتی ہیں۔ ایمنسٹی نے جون اور جولائی 2026 میں بھارتی حکومت سے جواب طلب کیا، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ایمنسٹی نے بھارت سے اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود، پرزوں اور فوجی آلات کی تمام منتقلی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں اسرائیل پر جامع اسلحہ پابندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متاثرہ فلسطینیوں کے لیے ازالے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔