ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے حالیہ فضائی حملے میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے تین اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ جمعرات کی صبح شمال مغربی صوبے زنجان میں کیا گیا، جہاں ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی صوبائی شاخ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے تین اہلکار جان سے گئے۔ حکام کے مطابق حملے کے بعد متاثرہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ نقصان کا جائزہ لینے کا عمل بھی جاری ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے آئی آر جی سی کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی فضائی حملہ صوبہ زنجان میں کیا گیا، جہاں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کی ایک بڑی لہر مکمل کر لی گئی ہے۔ تاہم امریکی حکام نے زنجان میں ہونے والے مخصوص حملے یا ایرانی دعووں میں ہونے والی ہلاکتوں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی تبصرہ نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مختلف ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سفارتی ذرائع کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ خطے میں مزید تصادم سے بچا جا سکے۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
Category: بین الاقوامی
-

امریکی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار شہید
-

پاکستان 2029ء تک بنگلہ دیش کو 5 ہزار گاڑیاں برآمد کرے گا
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان آٹو موبائل شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان نے 2029ء تک بنگلہ دیش کو 5 ہزار گاڑیاں برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس پیش رفت کو ملکی آٹو انڈسٹری کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پہلی بار پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیاں اتنی بڑی تعداد میں بیرون ملک برآمد کی جائیں گی۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی صنعتی اور برآمدی پالیسی میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط مینوفیکچرنگ حب بنانے کے وژن پر عمل پیرا ہے اور مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے مقامی صنعت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ہارون اختر نے بتایا کہ چینی سرمایہ کار پاکستان میں مختلف صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جو ملکی معیشت اور برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے تاکہ پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کے ساتھ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں بیٹریوں کی تیاری کے لیے 150 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں استعمال ہونے والے تقریباً 95 فیصد موبائل فون اب مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ جلد ہی سولر پینلز کی مقامی پیداوار بھی شروع کی جائے گی، جس سے درآمدات میں نمایاں کمی اور زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے۔
معاونِ خصوصی نے یہ بھی بتایا کہ حکومت دو پہیوں والی الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی تیاری کے لیے اب تک 86 لائسنس جاری کر چکی ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت نہ صرف ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
اس موقع پر رینکون آٹو کے ایم ڈی رومو روف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے اشتراک سے بنگلہ دیش کو گاڑیوں کی برآمد کی جائے گی، جبکہ بنگلہ دیش میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی مانگ بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایم جی پاکستان کے سی ای او جیان چھیانگ ساؤ نے کہا کہ ہر ملک کی آٹو انڈسٹری کو ترقی کے لیے مناسب حکومتی تحفظ اور پالیسی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے مقامی صنعت مضبوط اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔ -

آئی آر جی سی کا امریکی فوجی اثاثوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے امریکا کے خلاف مبینہ جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی فوجی اثاثوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے مطابق 8 جولائی سے 22 جولائی تک جاری رہنے والی 15 روزہ کارروائیوں میں مختلف امریکی عسکری تنصیبات، دفاعی نظام اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان کے مطابق ریڈار اور فضائی دفاع کے شعبے میں 7 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، 3 سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، پیٹریاٹ دفاعی نظام کے 6 ریڈار اور متعدد ابتدائی وارننگ و نگرانی کے ریڈارز کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کے بعد پیٹریاٹ دفاعی نظام کی صلاحیت نمایاں طور پر متاثر ہوئی، جس کے باعث ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی کارروائیوں میں آسانی پیدا ہوئی۔
آئی آر جی سی کے مطابق امریکی لاجسٹک ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے 6 مراکز، 3 سپورٹ اور لاجسٹک تنصیبات، ایندھن کے 12 بڑے ذخائر، ہتھیاروں اور اسپیئر پارٹس کے 17 گودام اور میزائلوں کے 6 ذخیرہ خانے شامل ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد امریکی افواج کی آپریشنل استعداد کو کمزور کرنا تھا۔
ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ آپریشنل انفرااسٹرکچر کے شعبے میں ایم کیو 9 ڈرونز کے 6 ہینگرز، ایف 15 لڑاکا طیاروں کی تیاری کی ایک تنصیب، 8 نئے ڈرونز پر مشتمل ہینگر، طیارہ بردار جہاز کا رننگ پلیٹ فارم، پی 8 طیارے کا ہینگر، ہیمارس میزائل پلیٹ فارمز، پیٹریاٹ دفاعی نظام کے 4 کمپلیکسز اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ ایک ڈیٹا پروسیسنگ مرکز کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فضائی کارروائیوں کے دوران زمین پر موجود 11 لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر، 17 جاسوس اور آپریشنل ڈرونز، ایک سی 17 ٹرانسپورٹ طیارہ اور فضائی حدود میں ایندھن فراہم کرنے والے 8 طیارے بھی حملوں کی زد میں آئے۔
تاہم امریکی حکام نے آئی آر جی سی کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی مذکورہ نقصانات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس لیے ان دعوؤں کی غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق ہونا باقی ہے۔ -

بارش کی امید میں بھارتی گاؤں میں دو گدھوں کی شادی
بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے ایک دیہات میں بارش کی امید پر دو گدھوں کی شادی کرانے کی انوکھی روایت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع اننت پور کے کلیان درگ منڈل کے گاؤں کرلا پلی کے رہائشیوں نے مقامی روایات کے تحت دو گدھوں کی باقاعدہ شادی کی تقریب منعقد کی، جس کا مقصد مون سون کی بارشوں کے لیے دعائیں کرنا تھا۔تقریب کے دوران دونوں گدھوں کو روایتی انداز میں سجایا گیا اور ڈھول کی تھاپ پر پورے گاؤں میں جلوس کی صورت میں گھمایا گیا۔ اس کے بعد مقامی رسم و رواج کے مطابق ان کی شادی کی تقریب انجام دی گئی۔شادی کے بعد دیہاتیوں نے دونوں جانوروں پر پانی ڈالا اور علاقے میں موسلا دھار بارش کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی خشک سالی کے دوران اسی روایت پر عمل کیا گیا تھا، جس کے بعد علاقے میں اچھی بارش ہوئی تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سال بھی یہ رسم سازگار مون سون بارشوں کے لیے نیک شگون ثابت ہوگی۔
-

مودی کا جنگی جنون : پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایوی ایشن کو اربوں ڈالر کا خسارہ
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا جنگی جنون نہ صرف میدانِ جنگ میں ہزیمت کا سبب بنا ہے بلکہ اس نے بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کستان کی جانب سے فضائی حدود کی مسلسل بندش نے بھارتی ایئر لائنز کے مالیاتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی کی وجہ سے بھارتی طیاروں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑے جس کے باعث ایندھن اور آپریشنل اخراجات میں بے پناہ اِضافہ ہوا۔
بین الاقوامی خبررساں ایجنسی فلائٹ گلوبل کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی قومی ایئر لائن ایئر انڈیا کو 31 مارچ کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران تقریباً 2.3 ارب ڈالر کا تاریخ کا بدترین خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جارحانہ پالیسیوں نے اس کے اپنے ہی شہری ہوابازی کے شعبے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ایئر انڈیا نے پاک بھارت تنازع کے بعد پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کو خسارے کی بڑی وجہ قرار دے دیا۔ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے مغربی روٹس تبدیل کرنے پر مجبور بھارتی ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اِضافہ ہوا۔ امریکہ ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی اتار چڑھاؤ نے بھی ایئر انڈیا کے مالی مسائل بڑھا دیے ہین ، بھارتی ماہر ایوی ایشن سوباش گوئل کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ائیر لائنز کی 400 سے 500 پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی اور ناقص حکمتِ عملی نے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کو بھی تباہی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
-

امریکی فضائی حملوں میں ایرانی خاندان جاں بحق،ایران کا جوابی کاروائی کا اعلان
تہران: ایران کے جنوبی علاقوں پر امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک میاں بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا، جبکہ متعدد بچے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جزیرہ قشم میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جہاں حملے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹا کر لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ایک بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق امریکی میزائل حملے کے بعد جزیرہ قشم میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہوگئی تھی، تاہم بعد ازاں بجلی بحال کر دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حملے صرف جزیرہ قشم تک محدود نہیں رہے بلکہ اہواز، آبادان، شادگان، اروندکنار، کازرون، کیش جزیرہ، ابو موسیٰ اور بندر عباس کے نواحی علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ صوبہ خوزستان کے شہر اہواز میں کم از کم سات مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ بوشہر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں فوجی کارروائی کی تصدیق کی ہے، تاہم حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔ صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اور نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے آج جارح کو سزا دی جائے گی،یہ بیان امریکاکی جانب سے گزشتہ شب ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
-

امریکا کے ایران پر ایک بار پھر حملے
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں امریکا نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کر دیا، جبکہ جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق جنوبی ایران کے کئی مقامات پر زور دار دھماکے سنے گئے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ قشم جزیرے میں شہر کے اندر کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ مقامی افراد کے مطابق ایک میزائل رہائشی علاقے میں آ گرا۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔رپورٹس کے مطابق بوشہر صوبے میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں ایران کا واحد جوہری بجلی گھر واقع ہے۔ اس کے علاوہ بندر عباس میں دو دھماکوں، جبکہ ابوموسیٰ، کیش اور قشم کے جزیروں سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک امریکی سینئر عہدیدار کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے اندر متعدد اہداف پر فضائی حملے کر رہی ہے۔
یہ کارروائی ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے مبینہ میزائل حملے کا "انتہائی سخت جواب” دینے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو منٹوں میں تباہ کر دیا تھا۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران نے دشمن کے خلاف مزاحمت کی نئی مثال قائم کی ہے اور ایرانی قوم ظلم اور ناانصافی کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ دشمن کے خلاف ثابت قدم رہیں۔
دریں اثنا امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جنوبی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اب تک 20 تجارتی جہازوں کو واپس موڑا جا چکا ہے۔ سینٹکام کے مطابق دو جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ دو دیگر پر چڑھ کر کارروائی بھی کی گئی۔علاقائی کشیدگی کے تناظر میں عراق نے اپنی سرزمین سے سعودی عرب پر مبینہ حملوں کے دعووں کے ثبوت طلب کر لیے ہیں، جبکہ اسرائیلی آرمی چیف نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیلی افواج لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی وزارت اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل سے منسلک چار دہشت گرد نیٹ ورک ختم کر دیے گئے ہیں اور 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ایرانی فوج کے نائب سربراہ ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بحریہ کی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی بحری نقل و حرکت ممکن نہیں۔
-

سعودی وزیر دفاع کی امریکی صدر ٹرمپ سےہنگامی ملاقات
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ سےہنگامی ملاقات کی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ملاقات کامقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچانا تھا،اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات میں سعودی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں،سعوی وزیردفاع نےکہا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے بنیادی ڈھانچے اور توانائی تنصیبات پر حملےکرکے ریڈلائن کراس کی جس کی وجہ سےجواب دینا پڑا،سعوی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ کہا عراق میں کارروائی کا مقصد یہ نہیں کہ ہم کشیدگی بڑھانےکے حامی ہیں، عراق میں کارروائی کا مقصد یہ بتانا تھا کہ مملکت دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔
سعودی وزیرِدفاع نے جے ڈی وینس سے کہا کہ نیتن یاہو ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے پر زور دے رہے ہیں، سعودی عرب کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے کیونکہ یہ زیادہ سودمند راستہ ہے،سعودی وزیرِدفاع نےامریکی نائب صدر کو بتایا کہ سعودی عرب حوثیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے،سعودی وزیرِدفاع نےکہا کہ حوثیوں کے معاملے پر فی الحال امریکا کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔سعودی وزیرِدفاع نےیہ بھی کہا کہ حوثیوں کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔
-

ایران کا یوکرین سے بحیرۂ کیسپین جہاز حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ
ایران نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری باضابطہ طور پر قبول کرے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران اس معاملے کو اٹھایا اور حملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں ایرانی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، اس لیے اس واقعے کو غیر ارادی قرار دینا قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں یوکرین کے وزیر خارجہ سے بھی اس معاملے پر بات ہوئی، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ حملے کی مکمل ذمہ داری واضح طور پر قبول کی جانی چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے عوامی بیانات اس حملے کی ذمہ داری کی نشاندہی کرتے ہیں، لہٰذا اس واقعے کو حادثاتی قرار دینے کی گنجائش نہیں رہتی۔
دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایران پر زور دیا کہ وہ روس کو دی جانے والی فوجی معاونت ختم کرے۔ انہوں نے ایران میں دو فرانسیسی سفارت کاروں کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لینے کے واقعے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔
کاجا کالاس نے عباس عراقچی اور یوکرینی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والے رابطے کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ سفارتی بات چیت کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
دریں اثنا دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، جہاں حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق خطے میں جاری تنازعات کے تناظر میں ایران، یوکرین اور یورپی یونین کے درمیان سفارتی رابطے آئندہ دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔ -

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں تیز، فلسطینی اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافے کے باعث فلسطینیوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں گھروں کی مسماری، زمینوں پر قبضے اور فوجی کارروائیوں میں شدت آنے سے شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے نابلس سے تعلق رکھنے والی صحافی سارہ ابو الرب نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حلقوں میں کھلے عام فلسطینیوں کو مزید علاقوں سے بے دخل کرنے، ان کی نقل و حرکت محدود کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد بڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ زمینی حقائق اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیلی فورسز گھروں کو مسمار کرنے، فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنے اور مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر رہی ہیں۔ ان اقدامات کے باعث متاثرہ خاندان شدید بے یقینی اور خوف کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ صرف سڑکوں یا بازاروں میں ہی نہیں بلکہ اپنے گھروں کے اندر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ رات کے وقت چھاپوں، گرفتاریوں اور اچانک فوجی کارروائیوں کے خدشات نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہو چکے ہیں۔ متعدد علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں، کاروبار اور روزمرہ کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ بچوں اور خواتین میں خوف اور ذہنی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دے رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔