Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ایران کا سعودی عرب پر میزائل حملوں سے اظہار لاتعلقی

    ایران کا سعودی عرب پر میزائل حملوں سے اظہار لاتعلقی

    ایران نے سعودی عرب پر میزائلوں حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیاہے-

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کے مطابق ایران کے ایک فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران سعودی عرب میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دیگر ممالک سے داغے گئے میزائلوں یا راکٹوں سے کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کرتا ہےخطے میں امریکی مفادات کے خلاف ہونے والی کسی بھی کارروائی کو ایران سے منسوب کرنا بڑی غلط فہمی ہے، ان کارروائیوں کو ایران سے منسوب کرنا خطے کی صورتِ حال سے آگاہی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

    یہ بیان سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے نئے ڈرون حملوں کی اطلاع دینے کے بعد سامنے آیا ہے، جن کا الزام سعودی حکام نے عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے اس واقعے کو عراق سے کیا جانے والا ایک اور “دہشت گرد حملہ” قرار دیتے ہوئے اس کا الزام “ایران سے منسلک گروہوں” پر عائد کیا،کہاکہ سعودی عرب مناسب وقت اور مناسب مقام پر اس حملے کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے عراق میں ایران نواز گروہوں پر حملے کی تصدیق کی ہے ،غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سینٹکام کا کہنا ہے کہ،اس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے،عراق کے نیم فوجی گروپ حشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں ان کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیاجس میں 10 اہلکار ہلاک ہوئے۔

  • نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ میں اس جنگ میں پھنسا رہوں،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے رویے پر کھلے عام ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”نیتن یاہو مجھے جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں“۔

    منگل کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات سے کچھ دیر قبل امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ پر سخت ردعمل دیا جس میں کہا گیا تھا کہ نیتن یاہو ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ سے متعلق انٹیلی جنس معلومات ان کے ساتھ شیئر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ٹرمپ نے نیتن یاہو کے نجی نام کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بی بی سے یہ سب سننے کی ضرورت نہیں ہے، بی بی مجھے یہ باتیں صرف اس لیے بتا رہے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ میں اس جنگ میں پھنسا رہوں۔

    امریکی صدر نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ اگر تمہارے پاس معلومات تھیں تو تم نے مجھے براہ راست کیوں نہیں بتائیں، پوری دنیا کے سامنے اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پک ایکس پر کیا ہو رہا ہے اور یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے-

    اسی دوران صدر ٹرمپ نے ترکیہ کو جدید ایف 35 طیاروں کی فراہمی پر اسرائیلی مخالفت کو بھی رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سچ تو یہ ہے کہ ہم ان ممالک کے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھ رہے ہیں جو ہمارے بغیر وجود بھی نہیں رکھ سکتے، اور آپ جانتے ہیں کہ ہمارے بغیر کون باقی نہیں رہ سکتا، وہ اسرائیل ہے-

    اس عوامی تنقید اور کھچاؤ کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان اوول آفس میں بند کمرہ ملاقات ہوئی، جس میں صحافیوں کو آنے یا سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی،ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ”یہ نشست مثبت اور پیداواری رہی“۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس ملاقات پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی اب تک کی بہترین گفتگو قرار دیا،نیتن یاہو نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ جب میں اسے بہترین کہہ رہا ہوں تو اس کا مطلب کوئی سطحی بات نہیں ہے، یہ گفتگو مکمل شراکت داری، باہمی تعاون اور اس مشترکہ مقصد پر ایک جیسے فہم پر مبنی تھی کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے دیے جائیں۔

    امریکی عوام اور خود صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے ایک بڑے طبقے میں اس جنگ کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی ہے اور امریکی عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ نیتن یاہو امریکا کو مزید جنگوں میں دھکیل رہے ہیں،نیتن یاہو کے لیے یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ وہ اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریب تعلقات کو ظاہر کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

  • حوثیوں کا سعودی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    حوثیوں کا سعودی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    یمن کے حوثی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کا ایک جاسوس ڈرون یمن کے شمالی صوبے صعدہ کی فضائی حدود میں مار گرایا ہے۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ کرائیل طرز کے اس ڈرون کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ صعدہ گورنریٹ کی فضائی حدود میں مبینہ طور پر دشمنانہ سرگرمیوں میں مصروف تھا، حوثی فضائی دفاعی یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے ڈرون کو کامیابی سے تباہ کیا تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ڈرون کو کس ہتھیار یا دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا،ان کا گروہ یمن کی خودمختاری اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور کسی بھی مبینہ خلاف ورزی کا جواب دینا اپنا جائز حق سمجھتا ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • افغان طالبان کاسینئر عہدیدار ذبیح اللہ قاتلانہ حملے میں ہلاک

    افغان طالبان کاسینئر عہدیدار ذبیح اللہ قاتلانہ حملے میں ہلاک

    افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں طالبان حکومت کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کے ایک محافظ کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ضلع بہارک میں اس وقت پیش آیا جب ذبیح اللہ امیری اپنے دفتر جا رہے تھے موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے بہارک،فیض آباد شاہراہ پر ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔

    بدخشان کی سکیورٹی کمان کے ترجمان احسان اللہ کامکار نے بتایا کہ حملے کے بعد ذبیح اللہ امیری کے محافظوں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    طالبان حکومت کے مقامی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ حملے کے پس منظر اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے،تاحال کسی فرد یا تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ طالبان پولیس کے ترجمان نے بھی اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ آیا حملہ طالبان مخالف گروہوں سے منسلک تھا یا نہیں۔

    ذبیح اللہ امیری طالبان حکومت کی نمایاں میڈیا شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور گزشتہ چند برسوں سے بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

  • طالبان کا اسماعیلی جماعت خانوں کو مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم

    طالبان کا اسماعیلی جماعت خانوں کو مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم

    افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (UNAMA) نے اپنی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے صوبہ بدخشان میں اسماعیلی برادری کے کم از کم 33 جماعت خانوں (عبادت گاہوں) کو بند کر دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے طالبان کی ‘وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر’ نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر صوبہ بدخشان میں اسماعیلی برادری کے جماعت خانوں کی بندش کا سلسلہ شروع کیا اور پیروکاروں کو وہاں عبادت سے روک دیا،بند کیے جانے والے 33 جماعت خانوں میں سے 17 زیبات (Zebak) کے ضلع میں، 14 اشکاشم (Ishkashim) میں اور 2 واخان (Wakhan) کے علاقے میں واقع ہیں طالبان حکام کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ ان عمارتوں کو اب مساجد کے طور پر استعمال کیا جائے۔

    یوناما کی رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے طالبان کی وزارتِ خارجہ نےموقف اختیار کیا ہےکہ جائزہ رپورٹوں کےمطابق ہر جماعت خانے کی صورتحال دوسرے سے مختلف تھی اور اس حوالے سے تمام فیصلے انفرادی نوعیت کی بنیاد (Case-by-Case) پر کیے گئے ہیں، طالبان کا دعویٰ ہے کہ بعض علاقوں میں مساجد کی کمی تھی، جبکہ بعض جماعت خانوں کو رہائشی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    یوناما کی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان نے صرف اسماعیلی برادری ہی نہیں بلکہ اہل تشیع کی مذہبی سرگرمیوں پر بھی سخت قدغنیں عائد کی ہیں، عاشورہ کے موقع پر پروان اور لوگر کے اضلاع میں شیعہ برادری کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی مذہبی تقریبات صرف مخصوص کردہ مساجد تک ہی محدود رکھیں،جبکہ،کابل میں عاشورہ کے مذہبی پرچم لہرانے اور ان کی نمائش کرنے کی پاداش میں طالبان نے شیعہ برادری کے 45 افراد کو حراست میں بھی لیا۔

  • ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹکام کے مرکز پر حملہ

    ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹکام کے مرکز پر حملہ

    ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹکام کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمزمیں وارننگ نظر انداز کرنے والے 3 آئل ٹینکرز کو بھی روک دیا گیاامریکی فوج کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جنھیں روک لیا گیا ہے، امریکی فورسز چوکس اور ہائی الرٹ ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے اردن میں واقع امریکی اڈے کی جانب بیلسٹک میزائل داغے تھے اردن کی فضاؤں میں دھماکے سنے گئے ،جہاں میزائل دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے فائر کئے گئے میزائلوں کو روکا ہے۔

    دوسری جانب کویت کی وزراء کونسل نے ایران کی جانب سے ملک کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک قرار دیا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کویتی کابینہ نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ ایران کے حملے خطے میں کشیدگی میں سنگین اضافہ ہیں اور یہ نہ صرف کویت بلکہ پورے خلیجی خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ کویت اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، ملکی دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گےکویتی حکومت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ خطے میں مزید کشیدگی روکنے، بین الاقوامی قوانین کا احترام یقینی بنانے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔

    واضح رہے امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے تین روز قبل ایران پر ایک روز کے لیے حملے روکنے کا حکم دیا تھا تاہم مطالبات پورے نہ ہونے پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔

  • تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی عراق پر جوابی کارروائی

    تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی عراق پر جوابی کارروائی

    سعودی عرب نے اپنی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی یہ کارروائی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مکمل تعاون اور رابطے کے ساتھ انجام دی گئی،سعودی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت کی مسلح افواج نے عراق میں ان اہداف کو نشانہ بنایا جو سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث عناصر سے منسلک تھے۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی رائل فضائیہ نے عراق میں چار مقامات پر حملے کیے ان میں بصرہ، واسط، کربلا اور نینوی کا میدان شامل ہے سعودی فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود ایران نواز ملیشیا مسلسل سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جن کو اب جواب دیا جا رہا ہےیہ کارروائی قومی سلامتی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری، شہریوں اور اہم قومی تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور مستقبل میں بھی کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے بھی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل حق دفاع خود کے مطابق کیا گیا ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے عراق سے ڈرون حملے کر کے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے بعد یہ محدود اور ہدفی کارروائی کی گئی،مملکت خطے میں کشیدگی بڑھانے کی خواہاں نہیں تاہم اگر اس کی سلامتی، خودمختاری یا قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔

  • 
کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کر گئی، متاثرہ افراد کی تعداد 3,200 سے تجاوز

    
کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کر گئی، متاثرہ افراد کی تعداد 3,200 سے تجاوز

    ‎جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی تازہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جہاں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 3,200 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ اب تک 1,405 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ 10 دنوں میں تقریباً 1,000 نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں، جس سے صحت حکام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
    ‎یہ کانگو میں ایبولا کی 17ویں وبا ہے، جس کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس مرتبہ وائرس کی بونڈی بوجیو (Bundibugyo) قسم پھیل رہی ہے، جس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں ہے۔ اسی وجہ سے وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق تقریباً 90 فیصد مریض شمال مشرقی صوبے اٹوری (Ituri) میں سامنے آئے ہیں، جو جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحد سے متصل ہے۔ ادارے نے بتایا ہے کہ وائرس اب ملک کے پانچ صوبوں تک پھیل چکا ہے، جن میں دو ایسے صوبے بھی شامل ہیں جہاں حال ہی میں نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
    ‎اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین ایئر سروس (UNHAS) کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر مریضوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن سب سے بڑا مسئلہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک رسائی ہے۔ اس مقصد کے لیے فضائی سروس کے ذریعے ڈاکٹروں، طبی ٹیموں اور امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
    ‎یو این ایچ اے ایس کے مطابق فضائی سروس صرف طبی عملے کی نقل و حمل تک محدود نہیں بلکہ لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے نمونوں کی محفوظ ترسیل بھی یقینی بنا رہی ہے، تاکہ وائرس کی مؤثر نگرانی اور متاثرہ افراد کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایبولا مزید علاقوں میں پھیل سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

  • 
فرانس اور اسپین میں شدید گرمی برقرار، جنگلاتی آگ مزید بے قابو ہونے کا خدشہ

    
فرانس اور اسپین میں شدید گرمی برقرار، جنگلاتی آگ مزید بے قابو ہونے کا خدشہ

    ‎یورپ کے دو بڑے ممالک فرانس اور اسپین شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت میں مزید اضافے اور بارش نہ ہونے کی پیشگوئی نے جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم موسم کی سخت صورتحال امدادی کارروائیوں کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
    ‎فرانس کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں جاری شدید ہیٹ ویو کل اپنے عروج پر پہنچے گی۔ مختلف علاقوں میں گرمی کی لہر کے حوالے سے وارننگز جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ بارش کا کوئی امکان نہ ہونے کے باعث جنگلاتی آگ مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎جنوب مغربی فرانس کے گیروند ریجن میں آگ کی صورتحال رات بھر نسبتاً مستحکم رہی، جہاں فائر فائٹرز کے ساتھ فوجی انجینئرز بھی آگ بجھانے کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب دھوئیں اور فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر کے طور پر فیس ماسک فراہم کیے جا رہے ہیں۔
    ‎ادھر اسپین میں دارالحکومت میڈرڈ کے مغرب میں لگی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں بتدریج پیش رفت ہو رہی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق صورتحال آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے، تاہم احتیاط کے پیش نظر 63 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
    ‎مشرقی اسپین میں امدادی کارروائیوں کو ایک اور خطرے کا سامنا ہے، جہاں تقریباً ایک صدی قبل ہونے والی ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران استعمال ہونے والا غیر پھٹا ہوا بارودی مواد اب بھی مختلف علاقوں میں موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث ان دھماکا خیز مواد کے پھٹنے کا خطرہ بھی موجود ہے، جس سے امدادی کارروائیاں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔
    ‎ماہرین موسمیات کے مطابق شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہوائیں آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث جنگلاتی آگ پر مکمل قابو پانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز اور خطے کی کشیدگی پر ایران اور جاپان کے وزرائے خارجہ کا رابطہ

    
آبنائے ہرمز اور خطے کی کشیدگی پر ایران اور جاپان کے وزرائے خارجہ کا رابطہ

    ‎ایران اور جاپان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال، ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے خاتمے کی کوششوں اور آبنائے ہرمز میں امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے جاپانی ہم منصب توشیمیتسو موتیگی کو خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے موجودہ علاقائی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی بریفنگ دی۔
    ‎ایرانی بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کی بدامنی کے خاتمے کے لیے باہمی رابطے اور مشترکہ تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
    ‎گفتگو کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
    ‎آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ جاپان اپنی خام تیل کی ضروریات کا 90 فیصد سے زائد حصہ اسی بحری راستے کے ذریعے درآمد کرتا ہے، جس کے باعث اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی جاپان سمیت کئی ممالک کے لیے معاشی اہمیت رکھتی ہے۔
    ‎حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایران اور جاپان کے درمیان ہونے والا یہ رابطہ سفارتی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا ہے۔