مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔ امریکا اور سعودی عرب کی مشترکہ فضائی کارروائیوں میں عراق کے مختلف علاقوں میں کم از کم 20 جنگجو ہلاک جبکہ 32 دیگر زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم اردن کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فجر کے وقت داغے گئے پانچ میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور سعودی عرب نے عراق کے سات مختلف صوبوں میں فضائی حملے کیے۔ ان کارروائیوں کا ہدف ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانے تھے۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے پر کئی بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک ایران کے خلاف فوجی دباؤ اور حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا، اس وقت تک جوابی اقدامات بھی جاری رہیں گے۔
دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے تصدیق کی کہ ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے پانچ میزائلوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا گیا، جس کے باعث کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل خطے میں نسبتاً سکون دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم تازہ حملوں نے ایک بار پھر یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ عراق، اردن اور دیگر ممالک میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ عالمی برادری مسلسل تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دے رہی ہے۔
Category: بین الاقوامی
-

امریکا اور سعودی حملوں میں عراق میں 20 جنگجو ہلاک
-

انگلینڈ کے نصف سے زائد علاقوں میں خشک سالی نافذ، ریکارڈ کم بارش
برطانیہ کے مختلف علاقوں میں غیر معمولی گرمی اور ریکارڈ کم بارش کے باعث انگلینڈ کے نصف حصے میں باضابطہ طور پر خشک سالی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال پانی کی قلت، زراعت اور جنگلاتی آگ کے خطرات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
انگلینڈ کی ماحولیات ایجنسی کے مطابق سات علاقوں کو سرکاری طور پر خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں ایسٹ اینگلیا، ہرٹفورڈشائر، پورا لندن، ٹیمز ویلی، ہیمپشائر، آئل آف وائٹ، ڈیون، کارن وال، ویسٹ مڈلینڈز اور ویسیکس شامل ہیں، جس میں ڈورسیٹ، سومرسیٹ، ولٹ شائر اور جنوبی گلوسٹرشائر کے علاقے بھی آتے ہیں۔
حکام کے مطابق جولائی کے دوران بارش کی مقدار معمول سے انتہائی کم رہی۔ پورے انگلینڈ میں متوقع بارش کا صرف سات فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنوبی انگلینڈ کے بعض علاقوں میں صرف ایک فیصد بارش ہوئی، جو غیر معمولی صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ جولائی ریکارڈ کی تاریخ کا خشک ترین مہینہ بننے جا رہا ہے۔ دوسری جانب ویلز بھی تقریباً 190 برسوں کی تاریخ میں اپنے خشک ترین جولائی کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے پانی کے ذخائر اور زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ادھر ملک میں رواں سال گرمی کی چوتھی شدید لہر اپنے عروج پر پہنچنے والی ہے۔ بدھ کے روز بعض علاقوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے باعث جنگلاتی آگ بھڑکنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خشک موسم، تیز ہواؤں اور شدید گرمی کے امتزاج سے جنگلاتی آگ کی شدت غیر معمولی ہو سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں سے پانی کے محتاط استعمال، غیر ضروری آگ جلانے سے گریز اور مقامی حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ -

زمین پر ہر 27 ملین سال بعد بڑی قدرتی آفات آتی ہیں: ماہر ارضیات کا دعویٰ
نیو یارک یونیورسٹی کے ماہر ارضیات پروفیسر مائیکل ریمپینو نے ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ زمین پر بڑی قدرتی اور ارضیاتی تباہیاں تقریباً ہر 27 ملین سال بعد ایک باقاعدہ چکر کے تحت رونما ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی تاریخ میں کئی بڑے تباہ کن واقعات ایک مخصوص زمانی وقفے کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جس سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ یہ واقعات محض اتفاق نہیں بلکہ کسی گہرے ارضیاتی عمل کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
پروفیسر ریمپینو نے اپنے تازہ تحقیقی مقالے میں جدید عمر شناسی کے اعداد و شمار اور شماریاتی تجزیے کی مدد سے گزشتہ تقریباً 260 ملین برسوں کے دوران پیش آنے والے 89 بڑے ارضیاتی واقعات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تمام واقعات کے درمیان حیران کن حد تک مماثلت اور باقاعدہ وقفہ پایا جاتا ہے۔
تحقیق میں جن بڑے واقعات کا جائزہ لیا گیا ان میں سمندری جانداروں کی بڑے پیمانے پر معدومیت، سمندروں میں آکسیجن کی شدید کمی، آتش فشاں سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ، طاقتور زلزلوں کے طویل سلسلے، سمندر کی سطح میں نمایاں تبدیلیاں اور سمندر کی تہہ کے پھیلاؤ کی رفتار میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔
پروفیسر ریمپینو کے مطابق ان تمام ارضیاتی تبدیلیوں کا تعلق تقریباً 27 ملین سال کے ایک مشترکہ چکر سے دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زمین کے اندر یا نظامِ شمسی میں کوئی ایسا بنیادی عمل موجود ہو سکتا ہے جو وقتاً فوقتاً بڑے پیمانے پر قدرتی تبدیلیوں کو جنم دیتا ہے۔
تاہم اس تحقیق پر سائنسی حلقوں میں مکمل اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ متعدد ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ مختلف نوعیت کے ان واقعات کو ایک ہی وجہ یا ایک ہی نظام سے جوڑنے کے لیے ابھی مزید مضبوط شواہد درکار ہیں۔ ان کے مطابق معدومیت، آتش فشانی سرگرمی، زلزلے اور سمندری تبدیلیاں مختلف عوامل کے نتیجے میں بھی رونما ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب پروفیسر ریمپینو اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ زمین کی تاریخ میں بڑے پیمانے پر معدومیت اور دیگر تباہ کن واقعات کے پیچھے کوئی نہ کوئی بنیادی اور مشترکہ ارضیاتی راز موجود ہے، جسے سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم اس تحقیق میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ مستقبل میں کسی مخصوص تاریخ پر کوئی تباہ کن قدرتی آفت ضرور آئے گی، بلکہ یہ ایک سائنسی نظریہ ہے جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔ -
ویزا مسائل میں پھنسے افراد کے لیے دبئی امیگریشن کا بڑا ریلیف
متحدہ عرب امارات میں ویزا مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے دبئی امیگریشن نے اہم سہولتوں کا اعلان کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو فوری مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
دبئی امیگریشن کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ جن افراد کو ویزا سے متعلق کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا ہے، وہ بلا تاخیر دبئی امیگریشن کے الویر سینٹر سے رابطہ کریں اور اپنی مشکلات سے آگاہ کریں تاکہ انہیں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ دبئی امیگریشن کا مقصد کسی بھی ضرورت مند شخص کو مشکلات میں تنہا نہ چھوڑنا ہے۔ اگر کسی کے پاس رہنے کی جگہ موجود نہیں تو اسے عارضی رہائش فراہم کی جائے گی، جبکہ خوراک کی ضرورت ہونے پر مفت کھانے کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے مزید بتایا کہ ضرورت مند افراد کے لیے مفت طبی معائنہ بھی دستیاب ہوگا، جبکہ دانتوں کے علاج سمیت دیگر بنیادی طبی سہولیات بھی بغیر کسی فیس کے فراہم کی جائیں گی تاکہ متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت میسر آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جو وطن واپسی میں قانونی یا انتظامی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے ان کی واپسی کا عمل آسان بنایا جائے گا۔
دبئی امیگریشن نے اس موقع پر ایک نئے رہنمائی مرکز کے قیام کا بھی اعلان کیا، جہاں دبئی میں پھنسے ہوئے سیاحوں اور ملازمت کی تلاش میں آنے والے افراد کو قانونی رہنمائی، مشاورت اور ضروری معاونت فراہم کی جائے گی۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری کا کہنا تھا کہ دبئی آنے والے سیاح اور ملازمت کے متلاشی افراد ہمارے مہمان ہیں، اس لیے ان کے مسائل کا حل اور ان کی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام متاثرہ افراد پر زور دیا کہ وہ کسی بھی پریشانی کی صورت میں متعلقہ حکام سے رابطہ کریں تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ -

اسرائیلی وزیر دفاع کا جنوبی لبنان کے 24 دیہات مکمل تباہ کرنے کا اعتراف
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں 24 دیہات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ان علاقوں میں موجود بستیوں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے ان دیہات میں صرف چند عمارتیں نہیں بلکہ پورے علاقے کو تباہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق ان 24 دیہات میں تقریباً 15 ہزار سے 20 ہزار مکانات موجود تھے، جنہیں مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان کا اہم سرحدی شہر بنت جبیل بھی شدید تباہی کا شکار ہوا ہے۔ ان کے بقول اسرائیلی فوج اس وقت جنوبی لبنان کے تقریباً 700 مربع کلومیٹر علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث شہری آبادی، رہائشی انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے۔
لبنانی حکام کی جانب سے متعدد مواقع پر اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں سے ہزاروں شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور متعدد دیہات خالی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے تازہ بیان نے ایک بار پھر جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کی شدت اور ان کے انسانی اثرات پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ تاہم اس بیان پر لبنان یا دیگر بین الاقوامی فریقوں کی جانب سے مزید ردعمل سامنے آنے کا انتظار ہے۔ -

کرم سرحد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید فائرنگ، بھاری ہتھیاروں کا استعمال
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں اسپینہ شگہ سیکٹر کے قریب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کا آغاز مبینہ طور پر افغان علاقے سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کے بعد ہوا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھاری توپ خانے اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ کئی سرحدی مقامات تک پھیل گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی کا دائرہ ضلع کرم کے گیدو، گاوی اور پیوار سمیت دیگر قریبی علاقوں تک بھی وسیع ہو گیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اسپینہ شگہ کا علاقہ پاک افغان سرحد کے حساس ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ماضی میں بھی سرحد پار فائرنگ اور جھڑپوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی، دہشت گردی اور عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کے الزامات کے باعث تعلقات میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔
ابھی تک دونوں ممالک کی حکومتوں یا عسکری حکام کی جانب سے جانی نقصان یا مالی نقصانات کے حوالے سے کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ سرحدی جھڑپوں کی آزادانہ تصدیق بھی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے سرحدی آبادی، نقل و حمل اور علاقائی امن پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حالات معمول پر لانے کے لیے سفارتی رابطوں اور فوجی سطح پر رابطہ کاری کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ -

شیخ حسینہ کا وطن واپسی کا اعلان، کہا جان کو خطرہ ہے
بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا ہے کہ انہیں اپنی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اس کے باوجود وہ رواں سال دسمبر تک وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام خدشات کے باوجود اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گی۔
شیخ حسینہ واجد نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ بنگلادیش واپسی پر انہیں قتل کیا جا سکتا ہے یا گرفتار کر کے جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ممکنہ انجام سے بخوبی واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود وطن واپس جانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے ملک اور عوام کے درمیان موجود رہیں۔ ان کے مطابق بنگلادیش کے عوام کی آواز اور حمایت ہی ان کے وطن واپسی کے فیصلے کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور وہ ہر حال میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتی ہیں۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ ذاتی تحفظ سے زیادہ اپنے ملک اور عوام کے مستقبل کو اہم سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں مشکلات یا قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا تو وہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔
شیخ حسینہ کے بیان نے بنگلادیش کی سیاسی صورتحال پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی ممکنہ واپسی سے ملک کی سیاست میں نئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، جبکہ ان کی سلامتی اور قانونی حیثیت سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
تاہم بنگلادیشی حکام کی جانب سے ان کے بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اگر وہ دسمبر میں وطن واپس آتی ہیں تو ان کے خلاف کسی قانونی کارروائی یا گرفتاری کا امکان موجود ہے یا نہیں۔ -

کیرالہ:غلط شناخت پر گرفتاری،پولیس کا وحشیانہ تشدد ، مسلمان بس ڈرائیور دم توڑ گیا
کیرالہ کے ضلع کولم میں 29 سالہ مسلمان نوجوان اور نجی بس ڈرائیور ‘سیاد’ پولیس کے مبینہ وحشیانہ تشدد کے باعث ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
کشمیر میڈیا سروس اور مقامی ذرائع کے مطابق، 29 سالہ سیاد کو ایک 13 سالہ لاپتا بچے کی شکایت پر کینڈرا پولیس نے حراست میں لیا تھا اگرچہ اگلی ہی صبح لاپتا بچہ بخیریت اپنے گھر پہنچ گیا، جس کے بعد پولیس نے سیاد کو بھی چھوڑ دیا، لیکن اس مختصر حراست کے دوران پولیس کا رویہ انتہائی سفاکانہ رہا-
اہلِ خانہ کے مطابق، سیاد حراست سے قبل مکمل صحت مند تھا، لیکن پولیس کی بے رحمانہ مار پیٹ کے باعث وہ رہائی کے بعد اس قدر نڈھال ہو گیا کہ پانی پینے سے بھی قاصر رہا،حالت مسلسل بگڑنے اور سینے میں شدید درد کی شکایت پر جب اسےہسپتال منتقل کیا گیا تو ایکسرے رپورٹس میں اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی پائیں گئیں، تشدد کے باعث پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن پھیل گیا،جس پر اسے انتہائی تشویشناک حالت میں ترواننت پورم کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ وینٹی لیٹر پر زندگی کی بازی ہار گیا۔
شکایت کنندہ نے خود میڈیا کو دیے گئے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس نے پولیس موبائل میں پولیس اہلکاروں کو سیاد پر بدترین تشدد کرتے دیکھا، جہاں وہ شدید درد کے باعث چیختا چلاتا رہا،اس جابرانہ واقعے کے بعد پولیس کے خلاف عوام میں شدید اشتعال پھیلا ہوا ہے مقامی رکنِ اسمبلی این بالاگوپال نے واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کیرالہ پولیس کے رویے اور حراست کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔
مقتول کے لواحقین نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر کے ان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ فی الوقت ڈسٹرکٹ کرائم برانچ نے معاملہ درج کر کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
بھارت میں پولیس حراست کے دوران تشدد اور ہلاکتوں پر انسانی حقوق کی عالمی اور مقامی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں رپورٹ کے مطابق اکثر اوقات اقلیتی اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو بناء کسی ٹھوس ثبوت اور محض شک کی بنیاد پر حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہےبھارتی آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی فرد کو حراست کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا غیر قانونی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے تحت حراست میں لیے گئے شخص کا طبی معائنہ کرانا لازمی ہوتا ہے، جس کی اس کیس میں صریحاً خلاف ورزی کی گئی۔
-

ایران کا سعودی عرب پر میزائل حملوں سے اظہار لاتعلقی
ایران نے سعودی عرب پر میزائلوں حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیاہے-
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کے مطابق ایران کے ایک فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران سعودی عرب میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دیگر ممالک سے داغے گئے میزائلوں یا راکٹوں سے کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کرتا ہےخطے میں امریکی مفادات کے خلاف ہونے والی کسی بھی کارروائی کو ایران سے منسوب کرنا بڑی غلط فہمی ہے، ان کارروائیوں کو ایران سے منسوب کرنا خطے کی صورتِ حال سے آگاہی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔
یہ بیان سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے نئے ڈرون حملوں کی اطلاع دینے کے بعد سامنے آیا ہے، جن کا الزام سعودی حکام نے عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے اس واقعے کو عراق سے کیا جانے والا ایک اور “دہشت گرد حملہ” قرار دیتے ہوئے اس کا الزام “ایران سے منسلک گروہوں” پر عائد کیا،کہاکہ سعودی عرب مناسب وقت اور مناسب مقام پر اس حملے کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے عراق میں ایران نواز گروہوں پر حملے کی تصدیق کی ہے ،غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سینٹکام کا کہنا ہے کہ،اس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے،عراق کے نیم فوجی گروپ حشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں ان کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیاجس میں 10 اہلکار ہلاک ہوئے۔
-
نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ میں اس جنگ میں پھنسا رہوں،ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے رویے پر کھلے عام ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”نیتن یاہو مجھے جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں“۔
منگل کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات سے کچھ دیر قبل امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ پر سخت ردعمل دیا جس میں کہا گیا تھا کہ نیتن یاہو ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ سے متعلق انٹیلی جنس معلومات ان کے ساتھ شیئر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ٹرمپ نے نیتن یاہو کے نجی نام کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بی بی سے یہ سب سننے کی ضرورت نہیں ہے، بی بی مجھے یہ باتیں صرف اس لیے بتا رہے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ میں اس جنگ میں پھنسا رہوں۔
امریکی صدر نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ اگر تمہارے پاس معلومات تھیں تو تم نے مجھے براہ راست کیوں نہیں بتائیں، پوری دنیا کے سامنے اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پک ایکس پر کیا ہو رہا ہے اور یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے-
اسی دوران صدر ٹرمپ نے ترکیہ کو جدید ایف 35 طیاروں کی فراہمی پر اسرائیلی مخالفت کو بھی رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سچ تو یہ ہے کہ ہم ان ممالک کے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھ رہے ہیں جو ہمارے بغیر وجود بھی نہیں رکھ سکتے، اور آپ جانتے ہیں کہ ہمارے بغیر کون باقی نہیں رہ سکتا، وہ اسرائیل ہے-
اس عوامی تنقید اور کھچاؤ کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان اوول آفس میں بند کمرہ ملاقات ہوئی، جس میں صحافیوں کو آنے یا سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی،ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ”یہ نشست مثبت اور پیداواری رہی“۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس ملاقات پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی اب تک کی بہترین گفتگو قرار دیا،نیتن یاہو نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ جب میں اسے بہترین کہہ رہا ہوں تو اس کا مطلب کوئی سطحی بات نہیں ہے، یہ گفتگو مکمل شراکت داری، باہمی تعاون اور اس مشترکہ مقصد پر ایک جیسے فہم پر مبنی تھی کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے دیے جائیں۔
امریکی عوام اور خود صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے ایک بڑے طبقے میں اس جنگ کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی ہے اور امریکی عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ نیتن یاہو امریکا کو مزید جنگوں میں دھکیل رہے ہیں،نیتن یاہو کے لیے یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ وہ اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریب تعلقات کو ظاہر کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔