امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی۔ ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات تھی، جسے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق بند کمرے میں ہونے والی یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ملاقات کو "مثبت اور نتیجہ خیز” قرار دیا، تاہم دونوں رہنماؤں کے دفاتر کی جانب سے فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں رہنما اپنے اپنے ممالک میں سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیل میں نیتن یاہو آئندہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں حالیہ مہینوں کے دوران کچھ کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں یوکرین کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یوکرینی ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران روسی میزائل حملوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کی دفاعی صلاحیت بڑھانے پر خاص توجہ دی گئی۔ ملاقات کے بعد صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی یوکرین میں مقامی سطح پر تیاری کے لیے لائسنس اور دیگر دفاعی تجاویز پر بات چیت کی۔
زیلنسکی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایسے اقدامات پر بھی غور کیا جو یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں اور روسی حملوں سے شہریوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
Category: بین الاقوامی
-

واشنگٹن میں ٹرمپ کی نیتن یاہو اور زیلنسکی سے اہم ملاقاتیں
-

ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو مزید اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے پک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) سمیت دیگر مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ "اچھی بات چیت” جاری ہے، تاہم امریکا اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پک ایکس ماؤنٹین ہمارے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں، ایران کے حوالے سے ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے۔”
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، "میں ایسا نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر معاہدہ نہ ہوا تو دیگر اہداف بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔”
ٹرمپ کے اس بیان کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں مختلف ممالک کی ثالثی سے جاری ہیں۔
ادھر ایران کی جانب سے ٹرمپ کے تازہ بیان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک جانب سفارتی حل کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب فوجی آپشن کو بھی کھلا رکھے ہوئے ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات برقرار ہیں۔ -

ایران پر حملوں کے لیے امریکی طیاروں نے اسرائیلی اڈے استعمال کیے
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران پر کیے گئے امریکی فضائی حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں نے اسرائیلی فضائی اڈوں سے پروازیں کیں۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 14 سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز نے کہا کہ "ایرانی جانتے ہیں کہ امریکی طیارے یہاں سے اڑان بھرتے ہیں اور ایندھن بھرنے والے طیارے بھی یہیں سے روانہ ہوتے ہیں تاکہ ایران پر حملے کیے جا سکیں۔”
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ "ایران نے تقریباً ہر جگہ حملے کیے، سوائے اسرائیل کے۔”
اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ جمعے سے امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے میں وقفے کے بعد خطے میں نسبتاً سکون پایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جولائی کے وسط میں کشیدگی بڑھنے کے بعد ایران نے اپنے حملوں کا رخ اردن، بحرین اور کویت کی جانب موڑ دیا تھا۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے اس دعوے پر ایران یا امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے بھی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر مزید اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ اس سے امریکا اور اسرائیل کے دفاعی تعاون کے بارے میں بھی نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔ -

سیئٹل فائرنگ: 15 سالہ نوجوان حراست میں، واقعہ گینگ دشمنی کا نتیجہ قرار
امریکی شہر سیئٹل میں اتوار کو ہونے والی خونریز فائرنگ کے سلسلے میں 15 سالہ نوجوان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں کم از کم تین افراد نے فائرنگ کی، جن میں ایک 19 سالہ نوجوان بھی شامل تھا جو موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
عدالت میں جمع کرائی گئی پولیس دستاویزات کے مطابق تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ فائرنگ میں 15 سالہ زیر حراست ملزم، اس کا ایک ساتھی جو ہلاک ہو چکا ہے، اور کم از کم ایک نامعلوم مسلح شخص ملوث تھا۔ پولیس مزید ملزمان کی تلاش اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
سیئٹل پولیس کی اسسٹنٹ چیف آف انویسٹی گیشنز نیکول پاول نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ ممکنہ طور پر گینگ دشمنی کا نتیجہ تھا، جہاں دو گروہوں نے ایک دوسرے پر اندھا دھند گولیاں چلائیں۔
حکام کے مطابق اس فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہوئے، جن میں 19 سالہ مبینہ شوٹر کے علاوہ 56 سالہ خاتون اور 44 سالہ مرد بھی شامل ہیں۔ دونوں شہری فائرنگ کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران کم از کم سات، جبکہ ممکنہ طور پر آٹھ افراد گولیوں کی زد میں آئے۔ زخمیوں میں مختلف عمر کے افراد شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ فی الحال عوام کے لیے کسی مسلسل خطرے کی اطلاع نہیں ہے، تاہم واقعے میں ملوث دیگر مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ کنگ کاؤنٹی میڈیکل ایگزامنر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ فائرنگ کے محرکات اور تمام ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ -

آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی تجویز، ایران امریکا مذاکرات کی نئی کوششیں جاری
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کا انتظام مشترکہ طور پر کیا جائے گا اور جہازوں سے رضاکارانہ فیس وصول کی جائے گی تاکہ ایران کو اس آبی راستے پر مکمل اور یکطرفہ اختیار حاصل نہ رہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مشرق وسطیٰ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قطر اور پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام کو امید ہے کہ کشیدگی میں حالیہ وقفے کے بعد سفارتی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل تیسرے روز بھی حملوں میں وقفہ برقرار رہا، جس سے مذاکرات کے امکانات مزید روشن ہوئے ہیں۔ تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، کیونکہ ایران یا ایران سے وابستہ گروہوں کی جانب سے سعودی عرب، اردن اور عراق پر ڈرون حملوں نے خطے میں کشیدگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے براہ راست اور بالواسطہ ذرائع سے ملاقات کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم اس وقت ایران سے بات چیت کر رہے ہیں اور مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔” تاہم انہوں نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا دیگر اقدامات پر بھی غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ تہران نے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی۔ ان کے مطابق ثالث ممالک امریکی پیغامات ایران تک پہنچا سکتے ہیں، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان اس وقت کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی تجویز خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کی ایک اہم سفارتی کوشش تصور کی جا رہی ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار ایران اور امریکا کے آئندہ فیصلوں پر ہوگا۔ -

حوثی حملے کے بعد سعودی آرامکو نے جازان آئل ریفائنری بند کر دی
یمن کے حوثی گروپ کے حملے کے بعد سعودی آرامکو نے اپنی جازان آئل ریفائنری عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حملے میں ریفائنری کے بعض اہم حصوں کو نقصان پہنچا، جس کے بعد تیل کی تنصیب کی سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق روزانہ 4 لاکھ بیرل خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھنے والی جازان ریفائنری کو 27 جولائی سے بند کر دیا گیا ہے۔ ایک مشاورتی ادارے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حملے میں انٹیگریٹڈ کمپوزٹ گیسفیکیشن سائیکل (IGCC) کمپلیکس اور آئل ٹینک ایریا کو نقصان پہنچا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی آرامکو نے مرمت کا کام شروع کر دیا ہے اور منصوبہ ہے کہ ریفائنری کو ابتدائی طور پر 15 اگست تک دوبارہ فعال کر دیا جائے۔
ادھر حوثی گروپ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے سعودی عرب کے جازان اور ینبع میں واقع آرامکو کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس کی رائٹرز نے تصدیق کی ہے۔ ویڈیو میں حملے کے بعد متعلقہ علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرانداز ہو رہی ہے، جبکہ تیل کی تنصیبات پر حملوں سے عالمی سپلائی چین اور خام تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ حملے سے ہونے والے نقصانات اور اس کے مکمل اثرات کے حوالے سے سعودی آرامکو کی جانب سے مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔ -

جاپان: زلزلے کے بعد ٹوکیو ہنیڈا ایئرپورٹ پر درجنوں پروازیں متاثر
جاپان میں آنے والے زلزلے کے اثرات ٹوکیو کے مصروف ترین ہنیڈا ایئرپورٹ تک پہنچ گئے ہیں، جہاں متعدد ملکی اور بین الاقوامی پروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار ہو گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ ہنیڈا ایئرپورٹ زلزلے کے مرکز کوماموتو سے سینکڑوں میل دور واقع ہے، تاہم احتیاطی اقدامات اور آپریشنل صورتحال کے باعث 40 سے زائد ملکی اور بین الاقوامی پروازیں تاخیر کا شکار یا منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ایئرپورٹ حکام کے مطابق علاقائی اور کنیکٹنگ پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث متعدد مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تازہ ترین صورتحال ضرور معلوم کر لیں۔
زلزلے کے بعد جاپانی حکام ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم تنصیبات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ایئرلائنز بھی اپنے فلائٹ شیڈول کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آفٹر شاکس کے خدشات کے باعث فضائی آپریشنز پر عارضی اثرات برقرار رہ سکتے ہیں، تاہم صورتحال معمول پر لانے کے لیے متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔ -

بھارت میں ایک اور امتحانی پرچہ لیک
بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالیہ دنوں میں نیٹ (NEET) امتحان کے معاملے پر ملک گیر احتجاج کے بعد اب گجرات کی ایک آیوروید یونیورسٹی میں بھی امتحانی پرچہ مبینہ طور پر لیک ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے ایک بار پھر بھارتی تعلیمی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گجرات کے شہر جام نگر میں واقع آیوروید یونیورسٹی کے بی اے ایم ایس تھرڈ ایئر کے ایم ایس سرجیکل سسٹم کے امتحان کا پرچہ امتحان سے قبل واٹس ایپ گروپس پر گردش کرتا رہا۔ بتایا گیا ہے کہ امتحان میں شامل 12 سوالات میں سے 11 سوالات وہی تھے جو پہلے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے تھے۔
اس یونیورسٹی سے 20 سے 25 کالجوں کا الحاق ہے، جہاں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ واقعے کے بعد طلبہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور وہ امتحان کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ تاہم حکام نے دیگر مضامین کے امتحانات معمول کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متعلقہ امتحان 20 جولائی کو منعقد ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر امتحان معمول کے مطابق جاری رہا، لیکن بعد ازاں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ سوالیہ پرچہ امتحان شروع ہونے سے کافی پہلے مختلف واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا جا چکا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک پر شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ اس معاملے پر ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ نے احتجاج کیا اور امتحانی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ موجودہ واقعے نے ایک بار پھر امتحانات کے انعقاد اور سکیورٹی انتظامات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
واضح رہے کہ پیپر لیک سے متعلق حالیہ دعوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ حکام کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا۔ -

جاپان میں زلزلے کے بعد 60 سے زائد آفٹر شاکس، محکمہ موسمیات کی تصدیق
جاپان میں آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ جاپان کی محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ ابتدائی زلزلے کے بعد اب تک 61 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آفٹر شاکس کی شدت جاپان کے سیسمک انٹینسٹی اسکیل پر ایک سے چھ درجے کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آفٹر شاکس کا سلسلہ کچھ وقت تک جاری رہ سکتا ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
جاپان میں زلزلوں کی شدت جانچنے کے لیے عالمی میگنیٹیوڈ اسکیل کے ساتھ ایک مخصوص سیسمک انٹینسٹی اسکیل بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو صفر سے سات تک ہوتا ہے۔ اس پیمانے پر صفر کا مطلب ہے کہ زلزلے کی لرزش محسوس نہیں ہوتی، جبکہ سات سب سے زیادہ شدت کو ظاہر کرتا ہے، جس میں فرنیچر اپنی جگہ سے سرک سکتا ہے یا الٹ سکتا ہے اور شدید نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے 2016 کے کوماموتو زلزلے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت دو روز کے دوران انتہائی شدید نوعیت کے متعدد زلزلے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اس تباہ کن زلزلے میں ایک ہزار سے زائد افراد زخمی جبکہ 40 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
حکام مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی ادارے الرٹ ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمزور عمارتوں سے دور رہیں، ممکنہ آفٹر شاکس کے پیش نظر محفوظ مقامات پر رہیں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ -

چینی اوپن سورس اے آئی ماڈلز کی عالمی مقبولیت میں اضافہ
چین کی اوپن سورس مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق گزشتہ ہفتے تک چینی اوپن سورس بڑے اے آئی ماڈلز کے دنیا بھر میں مجموعی ڈاؤن لوڈز کی تعداد 10 ارب سے تجاوز کر گئی ہے، جو اس شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت کی صنعت میں کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک داخلی آزمائش کے دوران ایک امریکی کمپنی کے اے آئی ایجنٹ نے سائبر حملوں کی صلاحیت جانچنے کے دوران غیر متوقع رویہ اختیار کیا اور ایک اوپن سورس اے آئی کمیونٹی کے داخلی نظام تک رسائی حاصل کر لی، جس کے بعد سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔
اسی دوران چین نے اپنا نیا اوپن سورس اے آئی ماڈل Kimi K3 بھی متعارف کرایا، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں 2.8 ٹریلین پیرامیٹرز موجود ہیں۔ اس بنیاد پر اسے دنیا کا سب سے بڑا اوپن سورس اے آئی ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اے آئی پلیٹ فارم OpenRouter کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی کمپنیوں کی جانب سے چینی اے آئی ماڈلز کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دعویٰ ہے کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ٹوکنز میں چینی ماڈلز کا حصہ 4.5 فیصد سے بڑھ کر 46 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران شمالی امریکا، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ کے 9,200 سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں نے چینی اے آئی ماڈلز کی کمرشل اے پی آئی سروسز کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، جس سے عالمی سطح پر ان ماڈلز کی بڑھتی ہوئی قبولیت ظاہر ہوتی ہے۔