Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • 
بھارت میں ایک اور امتحانی پرچہ لیک

    
بھارت میں ایک اور امتحانی پرچہ لیک

    ‎بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالیہ دنوں میں نیٹ (NEET) امتحان کے معاملے پر ملک گیر احتجاج کے بعد اب گجرات کی ایک آیوروید یونیورسٹی میں بھی امتحانی پرچہ مبینہ طور پر لیک ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے ایک بار پھر بھارتی تعلیمی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
    ‎بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گجرات کے شہر جام نگر میں واقع آیوروید یونیورسٹی کے بی اے ایم ایس تھرڈ ایئر کے ایم ایس سرجیکل سسٹم کے امتحان کا پرچہ امتحان سے قبل واٹس ایپ گروپس پر گردش کرتا رہا۔ بتایا گیا ہے کہ امتحان میں شامل 12 سوالات میں سے 11 سوالات وہی تھے جو پہلے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے تھے۔
    ‎اس یونیورسٹی سے 20 سے 25 کالجوں کا الحاق ہے، جہاں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ واقعے کے بعد طلبہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور وہ امتحان کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
    ‎معاملہ سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ تاہم حکام نے دیگر مضامین کے امتحانات معمول کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق متعلقہ امتحان 20 جولائی کو منعقد ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر امتحان معمول کے مطابق جاری رہا، لیکن بعد ازاں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ سوالیہ پرچہ امتحان شروع ہونے سے کافی پہلے مختلف واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا جا چکا تھا۔
    ‎یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک پر شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ اس معاملے پر ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ نے احتجاج کیا اور امتحانی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ موجودہ واقعے نے ایک بار پھر امتحانات کے انعقاد اور سکیورٹی انتظامات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
    ‎واضح رہے کہ پیپر لیک سے متعلق حالیہ دعوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ حکام کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا۔

  • 
جاپان میں زلزلے کے بعد 60 سے زائد آفٹر شاکس، محکمہ موسمیات کی تصدیق

    
جاپان میں زلزلے کے بعد 60 سے زائد آفٹر شاکس، محکمہ موسمیات کی تصدیق

    ‎جاپان میں آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ جاپان کی محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ ابتدائی زلزلے کے بعد اب تک 61 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق آفٹر شاکس کی شدت جاپان کے سیسمک انٹینسٹی اسکیل پر ایک سے چھ درجے کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آفٹر شاکس کا سلسلہ کچھ وقت تک جاری رہ سکتا ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
    ‎جاپان میں زلزلوں کی شدت جانچنے کے لیے عالمی میگنیٹیوڈ اسکیل کے ساتھ ایک مخصوص سیسمک انٹینسٹی اسکیل بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو صفر سے سات تک ہوتا ہے۔ اس پیمانے پر صفر کا مطلب ہے کہ زلزلے کی لرزش محسوس نہیں ہوتی، جبکہ سات سب سے زیادہ شدت کو ظاہر کرتا ہے، جس میں فرنیچر اپنی جگہ سے سرک سکتا ہے یا الٹ سکتا ہے اور شدید نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے 2016 کے کوماموتو زلزلے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت دو روز کے دوران انتہائی شدید نوعیت کے متعدد زلزلے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اس تباہ کن زلزلے میں ایک ہزار سے زائد افراد زخمی جبکہ 40 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
    ‎حکام مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی ادارے الرٹ ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمزور عمارتوں سے دور رہیں، ممکنہ آفٹر شاکس کے پیش نظر محفوظ مقامات پر رہیں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔

  • 
چینی اوپن سورس اے آئی ماڈلز کی عالمی مقبولیت میں اضافہ

    
چینی اوپن سورس اے آئی ماڈلز کی عالمی مقبولیت میں اضافہ

    ‎چین کی اوپن سورس مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق گزشتہ ہفتے تک چینی اوپن سورس بڑے اے آئی ماڈلز کے دنیا بھر میں مجموعی ڈاؤن لوڈز کی تعداد 10 ارب سے تجاوز کر گئی ہے، جو اس شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت کی صنعت میں کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک داخلی آزمائش کے دوران ایک امریکی کمپنی کے اے آئی ایجنٹ نے سائبر حملوں کی صلاحیت جانچنے کے دوران غیر متوقع رویہ اختیار کیا اور ایک اوپن سورس اے آئی کمیونٹی کے داخلی نظام تک رسائی حاصل کر لی، جس کے بعد سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔
    ‎اسی دوران چین نے اپنا نیا اوپن سورس اے آئی ماڈل Kimi K3 بھی متعارف کرایا، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں 2.8 ٹریلین پیرامیٹرز موجود ہیں۔ اس بنیاد پر اسے دنیا کا سب سے بڑا اوپن سورس اے آئی ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎مزید بتایا گیا ہے کہ اے آئی پلیٹ فارم OpenRouter کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی کمپنیوں کی جانب سے چینی اے آئی ماڈلز کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دعویٰ ہے کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ٹوکنز میں چینی ماڈلز کا حصہ 4.5 فیصد سے بڑھ کر 46 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران شمالی امریکا، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ کے 9,200 سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں نے چینی اے آئی ماڈلز کی کمرشل اے پی آئی سروسز کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، جس سے عالمی سطح پر ان ماڈلز کی بڑھتی ہوئی قبولیت ظاہر ہوتی ہے۔

  • نیتن یاہو انتہائی حساس معلومات امریکی صدر کو دیں گے،عرب میڈیا

    نیتن یاہو انتہائی حساس معلومات امریکی صدر کو دیں گے،عرب میڈیا

    اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکا کے اہم دورے پر واشنگٹن روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

    عرب خبر رساں اداروں ’العریبیہ‘ اور الحدث‘ نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو اس دورے کے دوران انتہائی حساس معلومات اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں جو وہ امریکی صدر کو پیش کریں گےان معلومات میں خاص طور پر ایران کی جانب سے ایٹم بم کے حصول کی پیش رفت سے متعلق تازہ ترین انٹیلی جنس رپورٹ شامل ہے تاکہ امریکا کو ایران کی ایٹمی صلاحیتوں اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے اس دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی اہم اور متنازع امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم لبنان اور شام سے فوج کے انخلا کے حوالے سے امریکی مطالبے پر اپنی شدید مخالفت کا اظہار کریں گے اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ درخواست بھی کریں گے کہ امریکا ترکیہ کو جدید ”ایف 35“ جنگی طیاروں کی فروخت سے باز رہے کیونکہ اس سے خطے میں دفاعی توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ سے جب ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی فروخت پر اسرائیلی مخالفت کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ ہمارا زبردست اتحادی ہے، کوئی مجھے نہیں بتا سکتا کیا بیچنا ہے اور کیا نہیں،

    واشنگٹن روانگی کے وقت نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے مقاصد کو واضح کیاانہوں نے کہا کہ ان مشکل حالات میں انتہائی عزم اور بڑی دانش مندی کے ساتھ عمل کرنا ضروری ہے ہم ایجنڈا پر موجود تمام امور پر بات کریں گے، جن میں سب سے پہلے ایران ہے، اور یقیناً ہمارا مقصد اپنی سیکیورٹی کا تحفظ اور اپنے ارد گرد امن کے دائرے کو وسعت دینا ہے۔

    نیتن یاہو کا یہ سفر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔ پرواز کے بعد تک سفر کی تفصیلات، لینڈنگ کا وقت اور مقام ظاہر نہیں کیا گیا اور طیارے میں صحافیوں کو بھی ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی گئی،پرواز کے ڈیڑھ گھنٹے بعد وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں نیتن یاہو نے اس دورے کے وقت کو ”پیچیدہ حالات“ کا نتیجہ قرار دیا جبکہ فلائٹ ٹریکنگ سے معلوم ہوا کہ ان کا سرکاری طیارہ بن گوریان ایئرپورٹ کے بجائے ”نیواتیم“ ایئر بیس سے روانہ ہوا۔

  • جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

    جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

    جاپان کے جنوبی علاقے میں 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس کے بعد حکام نے سونامی کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    جاپانی محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز کیوشو جزیرے کے کماموتو صوبے کے قریب سمندر میں تھا اور یہ سطح سمندر سے تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں آیاحکام نے خبردار کیا ہے کہ ساحلی علاقوں میں ایک میٹر تک بلند لہریں اٹھ سکتی ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اونچی جگہوں پر منتقل ہو جائیں اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

    جاپانی نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ کے مطابق ایک میٹر تک بلند سونامی لہریں بعض علاقوں میں ریکارڈ بھی کی جا چکی ہیں۔ تاہم فوری طور پر بڑے پیمانے پر نقصانات یا جانی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں،جاپانی حکومت نے کماموتو کے علاوہ ناگاساکی، کاگوشیما، فوکوکا، ساگا، اوئیتا اور میازاکی صوبوں کے لیے بھی ہنگامی زلزلہ وارننگ جاری کی ہے یہ تمام علاقے جاپان کے جنوبی کیوشو خطے میں واقع ہیں،یہ ایک ہفتے کے دوران جاپان میں آنے والا دوسرا بڑا زلزلہ ہے اس سے قبل 25 جون کو ملک کے شمالی حصے میں 7.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا، تاہم اس واقعے میں کسی ہلاکت یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

    جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے سب سے زیادہ آتے ہیں۔ یہ ملک بحرالکاہل کے زلزلہ خیز خطے ”رِنگ آف فائر“ میں واقع ہے اور چار بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر موجود ہے۔ جاپان میں ہر سال سیکڑوں زلزلے آتے ہیں، تاہم ان میں سے زیادہ تر کی شدت کم ہوتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شہریوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

  • جانسن اینڈ جانسن کے پاؤڈر سے کینسر: کمپنی کی متاثرین کو 5.5 ارب ڈالرز ہرجانہ دینے کی پیشکش

    جانسن اینڈ جانسن کے پاؤڈر سے کینسر: کمپنی کی متاثرین کو 5.5 ارب ڈالرز ہرجانہ دینے کی پیشکش

    مشہور کمپنی ’جانسن اینڈ جانسن‘ نے امریکا میں اپنے بے بی پاؤڈر اور دیگر ٹیلکم پاؤڈر مصنوعات کے خلاف دائر ہزاروں مقدمات نمٹانے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ ڈالر تک کی ادائیگی کی پیشکش کی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، اربوں ڈالرز کی یہ پیشکش کئی برسوں سے جاری قانونی تنازع ختم کرنے کی کوشش ہے، جس کی وجہ سے نیو جرسی میں قائم اس بڑی کمپنی کو مسلسل قانونی چیلنجز کا سامنا رہا ہےجانسن اینڈ جانسن نے ایک بار پھر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ٹیلکم پر مبنی مصنوعات کینسر کا سبب نہیں بنتیں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے مشہور بے بی پاؤڈر کی تیاری کا فارمولا بھی تبدیل کر دیا ہے۔

    کمپنی کے نائب صدر برائے قانونی امور ایرک ہاس نے کہا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ایرک کے مطابق کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کے خلاف پیش کیے گئے دعوؤں میں وزن نہیں، تاہم وہ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی غرض سے تصفیہ پر آمادہ ہوئی ہے۔

    کمپنی کے مطابق مجوزہ معاہدہ تقریباً 69 ہزار مقدمات پر لاگو ہوگا، جو ٹیلکم پاؤڈر سے متعلق باقی رہ جانے والے زیادہ تر دعوؤں کا احاطہ کرتے ہیں جانسن اینڈ جانسن نے بتایا کہ وہ آئندہ سال 3 ارب ڈالر تک ادا کرے گی، جبکہ اس کے بعد 2028 سے پہلے کسی اضافی ادائیگی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ اسی وقت حتمی ہوگا جب ریاستی اور وفاقی عدالتوں میں اووری کے کینسر سے متعلق مقدمات کے کم از کم 95 فیصد دعویداروں کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرمز اس کی منظوری دیں گی۔

    ایرک ہاس نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ اگر مقدمات کی کارروائی جاری رہتی تو وہ کامیاب ہو جاتی، کیونکہ اب تک عدالتوں میں زیر سماعت زیادہ تر مقدمات میں کمپنی کے حق میں فیصلے آئے ہیں، اس معاہدے سے کمپنی اس تنازع کو پیچھے چھوڑ کر اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی جان بچانے والی ادویات اور طبی آلات کی تیاری پر پوری توجہ دے سکے گی۔

    کمپنی کی سابق شاخ ’کینویو‘ اب شمالی امریکا سے باہر جانسن بے بی پاؤڈر سے متعلق قانونی ذمہ داری کی مالک ہے کینویو کے پاس بینڈ ایڈ، لسٹرین اور کیلپول جیسے معروف برانڈز بھی موجود ہیں یہ کمپنی 2022 میں جانسن اینڈ جانسن سے الگ کی گئی تھی۔

    جانسن اینڈ جانسن کے خلاف ٹیلکم پر مبنی بے بی پاؤڈر سے متعلق مقدمات کا سلسلہ 2009 میں شروع ہوا تھا رواں سال جولائی میں ایک امریکی وفاقی عدالت نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اس بات پر سوال اٹھایا تھا کہ آیا انفرادی مدعی یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ان کے اووری کے کینسر کی براہ راست وجہ ٹیلکم ہی تھا۔

    ٹیلکم ایک قدرتی معدنی مادہ ہے جو میگنیشیم، سلیکان، آکسیجن اور ہائیڈروجن پر مشتمل ہوتا ہے اس کی نرم اور ملائم ساخت کی وجہ سے اسے برسوں تک بے بی پاؤڈر اور دیگر کاسمیٹک مصنوعات میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

    مدعیان کا مؤقف ہے کہ جانسن اینڈ جانسن کی بعض ٹیلکم مصنوعات میں ایسبیسٹس موجود تھا، جس کے باعث کینسر پیدا ہوا ایسبیسٹس ایک ایسا مادہ ہے جسے کینسر کا سبب بننے والا سمجھا جاتا ہے، اور چونکہ زمین میں ٹیلکم اور ایسبیسٹس کی تہیں اکثر ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں، اس لیے آلودگی کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب جانسن اینڈ جانسن مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے کمپنی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ مختلف مطالعات کے مطابق اس کا ٹیلکم محفوظ ہے، اس میں ایسبیسٹس شامل نہیں اور یہ کینسر کا باعث نہیں بنتا2022 میں جانسن اینڈ جانسن نے اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں ٹیلکم پر مبنی بے بی پاؤڈر کی تیاری اور فروخت بند کر دے گی، اس سے دو سال قبل کمپنی امریکا میں اس مصنوعات کی فروخت روک چکی تھی۔

    اس وقت کمپنی نے کہا تھا کہ عالمی سطح پر اپنے مصنوعات کے جائزے کے بعد اس نے تجارتی بنیادوں پر فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ مکمل طور پر کارن اسٹارچ پر مبنی بے بی پاؤڈر فروخت کرے گی۔

  • ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے،ٹرمپ

    ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کا کہنا ہے کہ ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے-

    ریاست مشی گن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کی ڈرون اور میزائل بنانے کی زیادہ تر صلاحیت بھی تباہ کر دی ہے۔ لیکن ایران اب اپنی سابقہ صلاحیت کے صرف تقریباً 7 فیصد کی رفتار سے ڈرون تیار کر رہا ہے اب ایران ہمارے ساتھ معاہدے کی بات کر رہا ہے، اگر ہم سخت کارروائی نہ کرتے تو مذاکرات کی نوبت ہی نہ آتی۔

    صدر ٹرمپ نے ایران کو گزشتہ 47 سے 50 سال سے مشرقِ وسطیٰ کا “غنڈہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کا خیال تھا کہ ایران کو رعایتیں دے کر منایا جا سکتا ہے، مگر ‘ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، اور ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں،دیکھتے ہیں انجام کیا ہوتا ہے، اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی خوشگوار مذاکرات جاری ہیں، ہماری بحریہ کی ناکہ بندی اتنی مؤثر ہے کہ ایک بھی کشتی گزر نہیں سکتی، ایران امریکا سے کہہ رہا ہے، “براہِ کرم، بحری ناکہ بندی ختم کر دیں۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھاکہ مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کیخلاف طاقتور فوجی آپریشن کے لیے تیار ہیں، سفارت کاری کو زیادہ وقت نہیں دوں گا، سفارت کاری تیزی سے ہونی چاہیے ورنہ پھر بالکل نہیں ہو گی،ابھی ہم ایران سے بات چیت کر رہے ہیں، ہماری ایران سے اچھی بات چیت ہو رہی ہے، بہت امکان ہے کہ کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔

  • ٹرمپ کاایک بار پھر 2020 کے انتخابات میں چینی مداخلت کا دعویٰ، تحقیقات کا حکم

    ٹرمپ کاایک بار پھر 2020 کے انتخابات میں چینی مداخلت کا دعویٰ، تحقیقات کا حکم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی اور چینی مداخلت کے الزامات دہراتے ہوئےمعاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

    وائٹ ہاؤس سے جمعرات کی شب قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ کیا کہ 2020 کا صدارتی انتخاب، جس میں انہیں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی، شفاف نہیں تھا، چین نے انتخابات سے قبل 22 کروڑ امریکی ووٹرز کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی، جسے انہوں نے ’انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی دراندازی‘ قرار دیا،تاہم انہوں نے اپنے دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا، جبکہ ماضی میں متعدد عدالتیں 2020 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات مسترد کر چکی ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی انتخابات میں مبینہ چینی مداخلت کی تحقیقات کا حکم دے رہے ہیں اور ایسی انٹیلیجنس دستاویزات کو بھی منظرعام پر لائیں گے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ان سے ووٹنگ سسٹم کی سنگین کمزوریاں بے نقاب ہوتی ہیں،صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر چین نے ووٹرز کے ڈیٹا تک رسائی حاصل بھی کی تو اس سے اس وقت کے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو انتخاب جیتنے میں کس طرح مدد ملی۔

    ٹرمپ نے امریکی انتخابی نظام کو ’انتہائی ناقص‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ہیرا پھیری اور بدعنوانی کے خطرات سے دوچار ہے، لیکن انہوں نے ووٹوں میں ردوبدل یا انتخابی نتائج تبدیل کیے جانے کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر اور ایف بی آئی کو ان الزامات کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مبینہ ڈیٹا چوری کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین کیا جا سکے۔

    خطاب کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس نے ایک ویب سائٹ بھی جاری کی، جس پر مختلف تحقیقاتی فائلوں، انٹیلیجنس تجزیوں اور سرکاری خط و کتابت کے منتخب حصے بغیر مکمل سیاق و سباق کے شائع کیے گئے،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکی انتخابی نظام ہیرا پھیری اور بدعنوانی کے خطرات سے محفوظ نہیں، وفاقی حکام ان ریاستوں کو بھی مطلع کر رہے ہیں جن کے انتخابی ڈیٹا کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ کئی برسوں سے 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی عدالتیں درجنوں مقدمات میں بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے شواہد نہ ملنے کی بنیاد پر ان الزامات کو مسترد کر چکی ہیں۔

  • 
روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر برفانی طوفان، پانچ بوسنیائی کوہ پیما ہلاک

    
روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر برفانی طوفان، پانچ بوسنیائی کوہ پیما ہلاک

    ‎روس کے بلند ترین اور یورپ کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان کے باعث پانچ بوسنیائی کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔ روسی حکام کے مطابق خراب موسم کے باعث جاں بحق ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی لاشیں تاحال پہاڑ سے منتقل نہیں کی جا سکیں۔
    ‎روسی وزارتِ ہنگامی حالات کے مطابق امدادی ٹیموں نے پہلے دو زخمی کوہ پیماؤں کو بحفاظت پہاڑ سے نکال کر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا۔ بعد ازاں 5,350 میٹر کی بلندی پر موجود دو کوہ پیماؤں کی لاشیں بھی برآمد کر لی گئیں۔
    ‎روسی فیڈریشن کی تحقیقاتی کمیٹی کے علاقائی دفتر کے مطابق مزید تین کوہ پیماؤں کی لاشوں کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے، تاہم شدید خراب موسم، برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث انہیں ابھی تک پہاڑ سے نیچے منتقل نہیں کیا جا سکا۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسم بہتر ہوتے ہی ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
    ‎اگرچہ روسی حکام نے ابتدائی بیان میں ہلاک ہونے والوں کی شہریت کی تصدیق نہیں کی، تاہم مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والے تمام کوہ پیما بوسنیا و ہرزیگووینا سے تعلق رکھتے تھے۔
    ‎ماؤنٹ ایلبروس، جس کی بلندی 5,642 میٹر ہے، روس اور جارجیا کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یورپ کی بلند ترین چوٹی شمار ہوتی ہے۔ یہ پہاڑ موسم میں اچانک تبدیلی، شدید برفانی طوفانوں اور دشوار گزار راستوں کے باعث کوہ پیماؤں کے لیے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
    ‎بوسنیائی میڈیا کے مطابق سات رکنی مہم جوئی گروپ کا تعلق بوسنیا کے وسطی شہر زینیتسا سے تھا۔ اس گروپ میں ایک شادی شدہ جوڑا اور مقامی اسپتال میں خدمات انجام دینے والی ایک خاتون ڈاکٹر بھی شامل تھیں۔ حادثے کے بعد بوسنیا میں غم کی فضا پائی جا رہی ہے اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔
    ‎روسی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں موسم بہتر ہونے کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ باقی لاشوں کو بھی پہاڑ سے منتقل کیا جا سکے۔

  • 
سیئٹل فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، 2 سالہ بچہ سمیت متعدد زخمی

    
سیئٹل فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، 2 سالہ بچہ سمیت متعدد زخمی

    ‎امریکا کے شہر سیئٹل میں منعقد ہونے والے مشہور بائٹ آف سیئٹل (Bite of Seattle) فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ کے ایک واقعے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ دو سالہ بچے سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
    ‎یہ واقعہ اتوار کی شام سیئٹل سینٹر کے قریب پیش آیا، جہاں ہر سال منعقد ہونے والا مفت فوڈ فیسٹیول ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ فائرنگ شروع ہوتے ہی تقریب میں موجود افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگنے لگے۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق یکے بعد دیگرے کئی گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک عینی شاہد جسٹس بیٹزل نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ قریبی کنسرٹ سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک چھ سے سات گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں اور ہر طرف لوگ چیختے ہوئے بھاگنے لگے۔ کچھ افراد نے جان بچانے کے لیے حفاظتی باڑ بھی گرا دی۔
    ‎سیئٹل پولیس کے مطابق شام تقریباً چھ بجے فائرنگ کی اطلاع ملنے پر پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ چار زخمیوں کو ہاربر ویو میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جن میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل تھا۔
    ‎حکام کے مطابق ایک اور زخمی شخص بعد میں خود ایک دوسرے اسپتال پہنچا، جہاں اس کے جسم پر گولی لگنے کی تصدیق ہوئی۔ بعد ازاں اسپتال منتقل کیے گئے زخمیوں میں سے ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین ہو گئی۔
    ‎سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فائرنگ کی اصل وجہ کیا تھی اور اس میں ملوث افراد کون تھے۔ تاحال کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری یا حملے کے محرکات سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔