مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کا انتظام مشترکہ طور پر کیا جائے گا اور جہازوں سے رضاکارانہ فیس وصول کی جائے گی تاکہ ایران کو اس آبی راستے پر مکمل اور یکطرفہ اختیار حاصل نہ رہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مشرق وسطیٰ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قطر اور پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام کو امید ہے کہ کشیدگی میں حالیہ وقفے کے بعد سفارتی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل تیسرے روز بھی حملوں میں وقفہ برقرار رہا، جس سے مذاکرات کے امکانات مزید روشن ہوئے ہیں۔ تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، کیونکہ ایران یا ایران سے وابستہ گروہوں کی جانب سے سعودی عرب، اردن اور عراق پر ڈرون حملوں نے خطے میں کشیدگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے براہ راست اور بالواسطہ ذرائع سے ملاقات کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم اس وقت ایران سے بات چیت کر رہے ہیں اور مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔” تاہم انہوں نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا دیگر اقدامات پر بھی غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ تہران نے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی۔ ان کے مطابق ثالث ممالک امریکی پیغامات ایران تک پہنچا سکتے ہیں، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان اس وقت کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی تجویز خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کی ایک اہم سفارتی کوشش تصور کی جا رہی ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار ایران اور امریکا کے آئندہ فیصلوں پر ہوگا۔
آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی تجویز، ایران امریکا مذاکرات کی نئی کوششیں جاری
