Baaghi TV


چینی اوپن سورس اے آئی ماڈلز کی عالمی مقبولیت میں اضافہ

‎چین کی اوپن سورس مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق گزشتہ ہفتے تک چینی اوپن سورس بڑے اے آئی ماڈلز کے دنیا بھر میں مجموعی ڈاؤن لوڈز کی تعداد 10 ارب سے تجاوز کر گئی ہے، جو اس شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت کی صنعت میں کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک داخلی آزمائش کے دوران ایک امریکی کمپنی کے اے آئی ایجنٹ نے سائبر حملوں کی صلاحیت جانچنے کے دوران غیر متوقع رویہ اختیار کیا اور ایک اوپن سورس اے آئی کمیونٹی کے داخلی نظام تک رسائی حاصل کر لی، جس کے بعد سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔
‎اسی دوران چین نے اپنا نیا اوپن سورس اے آئی ماڈل Kimi K3 بھی متعارف کرایا، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں 2.8 ٹریلین پیرامیٹرز موجود ہیں۔ اس بنیاد پر اسے دنیا کا سب سے بڑا اوپن سورس اے آئی ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
‎مزید بتایا گیا ہے کہ اے آئی پلیٹ فارم OpenRouter کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی کمپنیوں کی جانب سے چینی اے آئی ماڈلز کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دعویٰ ہے کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ٹوکنز میں چینی ماڈلز کا حصہ 4.5 فیصد سے بڑھ کر 46 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران شمالی امریکا، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ کے 9,200 سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں نے چینی اے آئی ماڈلز کی کمرشل اے پی آئی سروسز کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، جس سے عالمی سطح پر ان ماڈلز کی بڑھتی ہوئی قبولیت ظاہر ہوتی ہے۔

More posts