جنوب مغربی یورپ میں پھیلنے والی شدید جنگلاتی آگ نے فرانس اور اسپین کے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث تین لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ حکام کے مطابق حالیہ برسوں کی یہ بدترین آتش زدگی ہے، جبکہ ماہرین اسے غیر معمولی گرمی کی لہر اور خشک موسم کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
فرانس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی بدترین جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے ہزاروں فائر فائٹرز، ہیلی کاپٹرز اور خصوصی آلات تعینات کیے گئے ہیں۔ فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک ملک میں تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار ہیکٹر رقبہ آگ کی نذر ہو چکا ہے۔
دوسری جانب اسپین میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ یورپی جنگلاتی آگ کی نگرانی کے نظام EFFIS کے اعداد و شمار کے مطابق 22 جولائی تک ایک لاکھ 19 ہزار ہیکٹر سے زائد اراضی جل چکی تھی، جبکہ وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے مطابق مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبہ متاثر ہو چکا ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران یورپ بھر میں 22 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آیا، جو 2022 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر معمولی درجہ حرارت، خشک سالی اور تیز ہوائیں آگ کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کے باعث اسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔
فرانس میں تقریباً دو لاکھ 20 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ اسپین میں 75 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے نکالا گیا اور تقریباً 30 ہزار افراد کو گھروں میں ہی محفوظ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسپین کے جنوبی علاقے اندلس میں 10 جولائی کو لگنے والی تیز رفتار آگ کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ بعد ازاں آگ سینکڑوں کلومیٹر دور دارالحکومت میڈرڈ کے اطراف تک پھیل گئی، جہاں مزید 10 ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ 24 جولائی کو اسپین کی حکومت نے دو بڑی آگ پر قابو نہ پانے کے باعث قومی ایمرجنسی نافذ کر دی۔
حکام نے شہریوں سے متاثرہ علاقوں سے دور رہنے، حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے اور ہنگامی امدادی اداروں سے تعاون کی اپیل کی ہے، جبکہ یورپی ممالک جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے مشترکہ امدادی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Category: بین الاقوامی
-

فرانس اور اسپین میں خوفناک جنگلاتی آگ، تین لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور
-

مشرقی القدس میں اسرائیلی فوج کا یو این آر ڈبلیو اے مرکز پر چھاپہ، عملہ حراست میں
مقبوضہ مشرقی القدس کے شمال میں واقع قلندیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA) کے تربیتی مرکز پر چھاپہ مار کر عملے کے متعدد ارکان کو حراست میں لے لیا۔
مقامی حکام کے مطابق اسرائیلی فوجی مرکز میں زبردستی داخل ہوئے، آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور وہاں موجود عملے کو ایک ہال میں جمع کرکے حراست میں رکھا۔ کارروائی کے دوران کیمپ کے مختلف حصوں میں بھی سکیورٹی آپریشن جاری رہا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یروشلم گورنریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے رات گئے قلندیہ پناہ گزین کیمپ پر چھاپہ مارا، اس دوران اسٹن گرینیڈ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک مقام پر آگ بھی بھڑک اٹھی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل یروشلم گورنریٹ نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیلی حکام قلندیہ میں واقع یو این آر ڈبلیو اے کے تربیتی مرکز کو مسمار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی ادارہ کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران اسرائیلی حکام نے 341 انہدامی کارروائیاں کیں، جن میں 740 عمارتیں منہدم ہوئیں، جبکہ ان اقدامات سے کم از کم 923 فلسطینی متاثر ہوئے۔
ادھر غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں بھی اسرائیلی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے والے یو این آر ڈبلیو اے کے ایک اسکول کے باہر شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جو وہیل چیئر استعمال کر رہا تھا اور پہلے ہی ایک سابقہ اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی دونوں ٹانگیں کھو چکا تھا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ حملے اکثر بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیے جاتے ہیں، جس کے باعث عام شہری مسلسل خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ -

جنوبی افریقا میں فائرنگ، 4 پاکستانی شہری جاں بحق
جنوبی افریقا کے علاقے سیبینزا (Sebenza) میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے چار پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ ہفتے کی شام زور فونٹین روڈ پر اس وقت پیش آیا جب چاروں افراد اپنی گاڑی میں سوار ہو کر گھر واپس جا رہے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے تمام پاکستانی شہری ٹیمبیسا کے علاقے میں چھوٹی دکانوں کے مالک تھے اور روزگار کے سلسلے میں جنوبی افریقا میں مقیم تھے۔ واقعے نے پاکستانی برادری میں شدید خوف و ہراس اور غم کی لہر دوڑا دی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرین کی گاڑی جب ایک ٹریفک سگنل پر رکی تو اسی دوران ایک سفید رنگ کی سیڈان گاڑی ان کے قریب آ کر رکی۔ گاڑی سے مسلح افراد باہر نکلے اور انہوں نے متاثرین کی گاڑی کے دونوں اطراف سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اچانک ہونے والے حملے میں چاروں پاکستانی شہری موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملنے پر امدادی اہلکار اور پولیس فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے، جہاں طبی عملے نے چاروں افراد کی موت کی تصدیق کر دی۔ پولیس نے جائے وقوع سے 9 ایم ایم پستول کے متعدد خول قبضے میں لے لیے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
جنوبی افریقی پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد کی روشنی میں یہ واقعہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے، تاہم حملے کے محرکات اور اصل مقصد کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تاحال کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، جبکہ حملہ آور واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب جنوبی افریقا میں مقیم پاکستانی برادری نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار عناصر کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ -

فٹبال میچ میں جھگڑا، بیچ بچاؤ کرانے والی خاتون ریفری زخمی
فرانسیسی کلب میٹز اور نیدرلینڈز کے کلب فارچیونا اسٹارڈ کے درمیان کھیلے گئے دوستانہ فٹبال میچ کے دوران کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں مداخلت کرنے والی خاتون ریفری زخمی ہو گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میچ کے 40ویں منٹ میں ایک کھلاڑی کی جانب سے مخالف کھلاڑی کی جرسی کھینچنے پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آمنے سامنے آ گئے۔ ابتدا میں تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے دھکم پیل اور جھگڑے میں تبدیل ہو گئی، جبکہ دونوں ٹیموں کے دیگر کھلاڑی بھی تنازع میں شامل ہو گئے۔
صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے 26 سالہ خاتون ریفری میتھلڈ ڈیمونکے فوری طور پر کھلاڑیوں کے درمیان پہنچیں اور جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کی۔ تاہم ہجوم اور دھکم پیل کے دوران وہ توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور زمین پر گر گئیں، جس کے باعث انہیں چوٹ آئی۔
واقعے کے بعد میچ میں کچھ دیر کے لیے کھیل روک دیا گیا، جبکہ ریفری کی خیریت دریافت کی گئی۔ ابتدائی طبی امداد فراہم کیے جانے کے بعد وہ دوبارہ کھڑی ہو گئیں اور میچ کے انتظامات سنبھالے۔ رپورٹس کے مطابق ان کی چوٹ زیادہ سنگین نہیں تھی۔
اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوئیں، جہاں فٹبال شائقین نے خاتون ریفری کے پیشہ ورانہ انداز اور ہمت کو سراہا۔ کھیلوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ میدان میں نظم و ضبط برقرار رکھنا ریفری کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے، تاہم ایسے تنازعات میں ان کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
یہ دوستانہ میچ اگرچہ مقابلے کی تیاری کے لیے کھیلا جا رہا تھا، لیکن کھلاڑیوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے کھیل کے ماحول کو متاثر کیا۔ منتظمین کی جانب سے واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ ایسے حالات سے بچنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔ -

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی اپنی ہی فوج کی فائرنگ سے ہلاک
مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی فوجی اپنی ہی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا۔ اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کانکے مطابق یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا، جس میں اسرائیلی فوجی یووال عذرا فرینڈلی فائر کے واقعے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں کارروائیاں کر رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آپریشن کے دوران غلطی سے اپنی ہی فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں یووال عذرا ہلاک ہو گیا۔ تاہم واقعے کی مکمل وجوہات اور حالات کے بارے میں اسرائیلی حکام نے تفصیلات جاری نہیں کیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فرینڈلی فائر کا واقعہ کن حالات میں پیش آیا اور آیا اس میں آپریشنل غلطی یا رابطے میں کسی قسم کی کوتاہی شامل تھی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فوجی کی ہلاکت کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فورسز نے مختلف علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، جبکہ علاقے میں پہلے سے جاری تناؤ کے باعث حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
مغربی کنارے میں گزشتہ کئی ماہ سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں، فلسطینی مزاحمت اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ واقعے نے ایک بار پھر علاقے کی نازک سکیورٹی صورتحال کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں معمولی واقعات بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔
تاحال اسرائیلی فوج کی جانب سے واقعے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری نہیں کی گئی، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد مزید معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں گی -

عراق سے سعودی عرب پر ڈرون حملہ ناکام، فضائی دفاع نے متعدد ڈرون تباہ کر دیے
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران عراق کی جانب سے آنے والے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا۔ حکام کے مطابق ان ڈرونز کا ہدف سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع تیل کی تنصیبات تھیں، تاہم تمام ڈرونز کو بروقت نشانہ بنا کر حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی اور قومی تنصیبات کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
ترجمان کے مطابق مملکت اپنی دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور مناسب وقت، مقام اور حالات کے مطابق جواب دینے کا حق بھی محفوظ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایسے حملوں کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب میں آرامکو کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دونوں فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں کی گئی، تاہم سعودی وزارت دفاع کا مؤقف ہے کہ حملے عراق کی سرزمین سے کیے گئے۔
تاحال عراقی حکومت کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ایران نے بھی سعودی الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس دوران خطے میں سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ -

غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے امریکا اس میں برابر کا شریک ہے،سینیٹر برنی سینڈرز
امریکا کے سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے امریکا اس میں برابر کا شریک ہے۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ امریکا نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی، اسرائیل پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات ہونے کے باوجود امریکا نے اس کی مدد کی،جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں کیں اور پیش قدمی جاری رکھی،اسرائیل نے غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کیا ہے ، امریکی عوام اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس عوامی رائے کا احترام کرے اور اسرائیل کو فوجی امداد فوری طور پر روک دےجنگ بندی کے نو ماہ بعد بھی فلسطینی عوام کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں، غزہ کے 92 فیصد رہائشی مکانات تباہ یا شدید متاثر ہو چکے ہیں، غزہ کی 70 فیصد آبادی مناسب رہائش کی سہولت سے محروم ہے غزہ کے 91 فیصد بچوں کو باقاعدہ تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ، علاوہ ازیں غزہ میں 70 فیصد کم عمر بچے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں،جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں متعدد نئی فوجی چوکیاں قائم کی ہیں۔ اسرائیلی حکومت غزہ پر مستقل قبضے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
-

روس ایران کو امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے، یوکرینی صدر
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے-
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جولائی کے آغاز سے یوکرینی حکام نے خلیجی ممالک اور وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر روسی سیٹلائٹس کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے،روس کی جانب سے حاصل کی جانے والی یہ سیٹلائٹ تصاویر بعد ازاں ایران تک پہنچتی ہیں، اور ان تصاویر اور ایرانی حملوں کے درمیان واضح تعلق دیکھا گیا ہے یہ معلومات حملوں سے پہلے اہداف کی تیاری، حملوں کے دوران رہنمائی اور بعد میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں-
زیلنسکی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ کیسپین میں ایران اور روس کے درمیان عسکری سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں نشانہ بنایا ہے،ان حملوں میں فوجی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کے علاوہ ایک جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ یوکرین کی انٹیلی جنس سروس نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے ایسے بحری جہازوں پر ڈرون حملے کیے جو ایران اور روس کے درمیان فوجی سامان منتقل کر رہے تھے۔
دوسری جانب ایران نے یوکرین کے اس مبینہ حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تہران میں تعینات یوکرینی ناظم الامور کو طلب کیا اور واقعے کو "جارحانہ اور مجرمانہ اقدام” قرار دیا،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یوکرین کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی ملاح جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں کبھی فریق بننے کی کوشش نہیں کی۔
امریکی میڈیا میں بھی گزشتہ چند ہفتوں سے یہ دعوے سامنے آتے رہے ہیں کہ روس ایران کو امریکی فوجی تنصیبات سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں چین کا نام بھی اس حوالے سے لیا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
-

امریکی اور صہیونی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا،مجتبیٰ خامنہ ای
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی اور صہیونی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا-
سپریم لیڈر نے حزب اللہ کے خط کے جواب میں لکھا کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف مضبوط چٹان کی طرح ہے، ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، امریکی اور صہیونی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ حزب اللہ کی ثابت قدمی دنیا بھر کی آزاد اقوام کیلئے ایک متاثر کن پیغام بن گئی ہے، عالمی تکبر و غلبہ کے خلاف جدوجہد کرنے والی اقوام کیلئے حزب اللہ مثال بن چکی ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا ہے کہ ایران کے دشمن سیاسی اور معاشی دباؤ کے ذریعے قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشکل حالات کے باوجود ایرانی قوم کی مزاحمتی طاقت میں اضافہ ہوا ہےدباؤ اور پابندیوں کے باوجود سائنس، ٹیکنالوجی، طب اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں ایران نے نمایاں ترقی کی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا فعال تبادلہ جاری ہے ، واشنگٹن ماضی میں مذاکرات میں دھوکا دے چکا ہےپاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایران کی ترجیح اب بھی حملوں کے جواب میں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔
-

بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں تیزی
افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں تیزی ،مختلف اضلاع میں جھڑپوں کے بعد سیکیورٹی صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔
طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے کابل سے بدخشان جانے والے طالبان کے ایک فوجی قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 6 سے زائد زخمی ہوئے-
ایکس پر جاری تنظیم کے بیان کے مطابق، اس کے جنگجوؤں نے کابل سے شمالی سالنگ تک طالبان کے فوجی قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، یہ قافلہ بدخشان میں تعیناتی کے لیے اضافی نفری اور فوجی سازوسامان منتقل کر رہا تھا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ ہفتے کے روز ضلع زیباک میں اس کے جنگجوؤں نے طالبان کے 2 فوجی ڈرون مار گرائے، جبکہ جمعہ کے روز اسی ضلع میں طالبان کے ہیلی کاپٹروں کو لینڈنگ کیے بغیر واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
دوسری جانب سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت ایک جائز حکومت نہیں، اور اس کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت مزید منظم ہوگی، جو بالآخر طالبان کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔