اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقے میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو دی گئی ہدایات کے تحت مختلف دیہات میں داخل ہو کر تلاشی لینے، اسلحہ قبضے میں لینے اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ان علاقوں میں، جنہیں اس نے "دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے” قرار دیا، مزید وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
دوسری جانب مغربی کنارے میں انسانی حقوق کے کارکن اور یوتھ اگینسٹ سیٹلمنٹس کے بانی عیسیٰ عمرو نے اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی شہری روزانہ تشدد اور خوف کا سامنا کر رہے ہیں۔
عیسیٰ عمرو کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں کے حملے اور فوجی کارروائیاں گزشتہ کئی ماہ سے شدت اختیار کر چکی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فلسطینی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسرائیلی فوج ان واقعات کو روکنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ مہینوں کے دوران فوجی چھاپوں، گرفتاریوں اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے شہریوں کے تحفظ اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے پر زور دے رہے ہیں۔
نیتن یاہو کا مغربی کنارے میں کارروائیاں مزید وسیع کرنے کا عندیہ
