Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • 
آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران کا نیا طریقہ کار، 60 روز تک کوئی فیس نہیں ہوگی

    
آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران کا نیا طریقہ کار، 60 روز تک کوئی فیس نہیں ہوگی

    ‎ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق نئے قواعد کا مقصد بحری ٹریفک کو منظم بنانا اور حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد تجارتی سرگرمیوں کو مزید آسان بنانا ہے۔
    ‎ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی کے مطابق صرف وہی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے جو مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت باقاعدہ درخواست جمع کرائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سہولت ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تناظر میں فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ غیر سرکاری ذرائع یا غیر مجاز چینلز کے ذریعے موصول ہونے والی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔ تمام بحری کمپنیوں اور جہازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ٹرانزٹ درخواست کم از کم 48 گھنٹے قبل جمع کرائیں تاکہ بروقت منظوری اور محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎ایرانی حکام نے مزید اعلان کیا کہ آئندہ 60 روز تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز سے کوئی ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد عالمی بحری تجارت کو سہولت فراہم کرنا اور خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ حالیہ مفاہمتی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ سعودی عرب سمیت کئی ممالک کے تیل بردار جہاز بھی دوبارہ اس اہم عالمی بحری راستے سے گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔

  • 
متحدہ عرب امارات میں فضائی آپریشن مکمل بحال، تمام پروازیں معمول پر آ گئیں

    
متحدہ عرب امارات میں فضائی آپریشن مکمل بحال، تمام پروازیں معمول پر آ گئیں

    ‎ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے ملک بھر میں فضائی آپریشن اور پروازوں کی مکمل بحالی کا اعلان کر دیا ہے۔ اماراتی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ فضائی حدود اور ہوائی سفر معمول کے مطابق بحال کر دیے گئے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق تمام ایئرپورٹس پر پروازوں کا شیڈول بتدریج معمول پر آ رہا ہے اور مسافروں کو سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ فضائی آپریشن کی بحالی سے بین الاقوامی اور علاقائی پروازوں میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں فضائی سرگرمیاں بھی معمول کی طرف لوٹ رہی ہیں۔
    ‎اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے نہ صرف عالمی تجارت بلکہ سفری صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ ان کے مطابق خطے میں استحکام کے باعث فضائی اور بحری ٹرانسپورٹ دونوں شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آپریشن کی مکمل بحالی سے مسافروں، ایئرلائنز اور تجارتی شعبے کو ریلیف ملے گا، جبکہ خلیجی خطے میں سفری اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔

  • 
آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بحال، تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ

    
آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بحال، تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جسے عالمی توانائی اور تجارتی منڈیوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎خبر رساں ادارے کے مطابق معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بحری نقل و حمل کی بحالی کے ساتھ عالمی سطح پر تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل معمول پر آنے لگی ہے۔
    ‎بحری نقل و حمل کی نگرانی کرنے والی کمپنی کے مطابق جمعرات کے روز 25 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو 18 اپریل کے بعد ایک ہی دن میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ بحری ٹریفک ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں تجارتی اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی روانی میں بہتری آنے سے عالمی سپلائی چین کو استحکام ملنے کی توقع ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خطے میں کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد تجارتی سرگرمیوں میں دوبارہ تیزی آنا شروع ہو گئی ہے۔

  • اگر میں نہیں ہوتا تو اسرائیل کا صفایا ہوچکا ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ

    اگر میں نہیں ہوتا تو اسرائیل کا صفایا ہوچکا ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب خطے میں استحکام برقرار رکھنے کی کوششیں جاری تھیں تو ایسے حملوں کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
    ‎صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ان کی سفارتی کوششیں نہ ہوتیں تو اسرائیل کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا اور وہ کہیں زیادہ کمزور صورتحال میں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تحمل اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
    ‎ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہ رہتے بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے پھیلنے کی صورت میں توانائی کی منڈیوں، عالمی تجارت اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے، جس سے دنیا کے کئی ممالک معاشی بحران کی لپیٹ میں آ جاتے۔
    ‎امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔

  • 
اسرائیلی وزیر کا اشتعال انگیز بیان، پورے لبنان کو جلا دینے کی دھمکی

    
اسرائیلی وزیر کا اشتعال انگیز بیان، پورے لبنان کو جلا دینے کی دھمکی

    ‎لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے سخت اور اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے لبنان کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں ایک افسر سمیت چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے، جس کے بعد بن گویر نے سوشل میڈیا اور میڈیا سے گفتگو میں سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
    ‎اسرائیلی وزیر نے کہا کہ اسرائیل کو دنیا کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ اس کے شہریوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے” اور ہر اسرائیلی ماں کے آنسوؤں کے بدلے ہزاروں لبنانی ماؤں کو رونا چاہیے۔
    ‎بن گویر نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں خطے میں سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے اور اسرائیل کو فوری طور پر مزید سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
    ‎ان کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کے ماحول میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس قسم کے بیانات نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کی امیدوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی علاقوں میں حالیہ دنوں جھڑپوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

  • حزب اللہ حملے میں اسرائیلی فوج کے ٹینک بٹالین کمانڈر سمیت 4 فوجی ہلاک

    حزب اللہ حملے میں اسرائیلی فوج کے ٹینک بٹالین کمانڈر سمیت 4 فوجی ہلاک

    حزب اللہ مزاحمت کاروں کے حملے میں اسرائیلی فوج کے ٹینک بٹالین کمانڈر سمیت 4 فوجی ہلاک ہوگئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھٹوں میں حزب اللہ کے حملوں میں 4 اسرائیلی فوجی مارے گئے اور 5 زخمی ہوئے ہیں،رپورٹ کے مطابق حزب اللہ مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے 4 فوجیوں میں ایک 32 سالہ افسر لیفٹیننٹ Dor Gedalia Ben Simhon بھی شامل ہیں جو اسرائیلی فوج کے ٹینک بٹالین کے کمانڈر ہیں.اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ دوسرے واقعے میں حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے ایک ڈرون حملے میں 5 اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان کے علاقوں میں حملے جاری ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والے حملوں میں 16 افراد شہید ہوگئے۔

  • اسرائیل کی امن عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش،لبنان پربمباری،سوئٹزرلینڈ مذاکرات منسوخ

    اسرائیل کی امن عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش،لبنان پربمباری،سوئٹزرلینڈ مذاکرات منسوخ

    امریکا اور ایران کے درمیان آج سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے مذاکرات منسوخ ہو گئے۔

    سوئس وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق برجنسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ مذاکرات اب نہیں ہوں گے،سوئس وزارتِ خارجہ کا یہ بیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سوئٹزر لینڈ روانگی مؤخر ہونے کے بعد سامنے آیا ہے،اس حوالے سے ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ فی الحال نائب صدر آج رات روانہ نہیں ہو رہے، لیکن امریکا تکنیکی مذاکرات جلد شروع ہونے کا منتظر ہے۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدیدی بمباری امریکا ایران تکنیکی مذاکرات میں رکاوٹ بن گئی۔عرب میڈیا کے مطابق ایرانی وفد نے لبنان پر حملوں کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کردیا، ایرانی وفد کے نہ آنے پر تکنیکی مذاکرات کو ملتوی کرنا پڑا۔رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد کے نہ آنے پر امریکی نائب صدر نے بھی دورہ ملتوی کردیا۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے امن عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے اور ڈیل پر دستخط کے بعد بھی لبنان کے جنوبی علاقے نبتیہ پر وحشیانہ بمباری کردی، کئی عمارتیں اور شہادتوں کی تعداد سولہ ہوگئی۔گزشتہ روز بھی 3 شہری شہید ہوئے تھے، 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید لبنانی شہریوں کی تعداد 3 ہزار 912 تک پہنچ گئی۔

  • ٹرمپ کا ایران معاہدہ اوباما کے جوہری معاہدے سے کس طرح مختلف ہے؟

    ٹرمپ کا ایران معاہدہ اوباما کے جوہری معاہدے سے کس طرح مختلف ہے؟

    امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے بہتر قرار دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا نیا معاہدہ واقعی 2015 کے جوہری معاہدے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا یا نہیں۔

    فرانس میں الیکٹرانک طور پر دستخط کیے گئے 14 نکاتی فریم ورک کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور حاصل نہ کرنے کا عہد کیا ہے، جبکہ امریکا نے پابندیوں کے خاتمے، 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی پر اتفاق کیا ہے۔نئے معاہدے اور اوباما دور کے جوہری معاہدے میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ 2015 کے JCPOA میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی اور واضح شرائط شامل تھیں۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو 15 سال تک صرف 3.67 فیصد تک یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جو توانائی کے مقاصد کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی، جبکہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی سے بہت کم تھی۔

    اس کے برعکس موجودہ مفاہمتی یادداشت میں جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی شرائط شامل نہیں کی گئیں اور اس معاملے کو آئندہ 60 روزہ مذاکراتی مرحلے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کو یورینیئم افزودہ کرنے کی کتنی اجازت ہوگی یا سرے سے اجازت دی بھی جائے گی یا نہیں۔

    معاہدے کے تحت امریکا نے ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے 300 ارب ڈالر کے اقتصادی و تعمیر نو پروگرام پر کام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اوباما دور کے معاہدے میں پابندیوں میں نرمی ایران کی جانب سے جوہری شرائط پر عمل درآمد سے مشروط تھی، جبکہ نئے معاہدے میں پابندیوں کے خاتمے کا حتمی شیڈول آئندہ مذاکرات کے بعد طے کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 300 ارب ڈالر کا مجوزہ فنڈ ایران کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے اور اسے بین الاقوامی اقتصادی تنہائی سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ان اثاثوں کا بڑا حصہ امریکا کے بجائے چین اور عراق جیسے ممالک میں موجود ہے، جس کے باعث ان کی واپسی مکمل طور پر واشنگٹن کے اختیار میں نہیں۔

    نئے معاہدے کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران اور عمان مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر مذاکرات کریں گے۔

    علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی معاہدے میں کئی سوالات بدستور موجود ہیں۔ جس طرح اوباما دور کے معاہدے میں حماس،حزب اللہ اور حوثی گروہوں کا براہ راست ذکر نہیں تھا، اسی طرح نئے معاہدے میں بھی ان گروہوں سے متعلق کوئی واضح شرط شامل نہیں کی گئی۔ البتہ لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا ذکر ضرور موجود ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مفاہمتی یادداشت فی الحال ایک ابتدائی فریم ورک کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں کئی اہم نکات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ مرحلے پر یہ معاہدہ اوباما دور کے JCPOA سے زیادہ جامع یا مؤثر دکھائی نہیں دیتا، تاہم آئندہ 60 روز کے مذاکرات میں اگر تفصیلی شرائط طے پا جاتی ہیں تو اس کی نوعیت اور اثرات میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

  • مودی کو امریکی صدر نے قاتل کا لقب دے دیا

    مودی کو امریکی صدر نے قاتل کا لقب دے دیا

    جی سیون سمٹ میں مودی کی شرکت بھارت کیلئے بدنامی کا سبب بن گئی

    خود کو عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے والے مودی کو امریکی صدر سے ملاقات مہنگی پڑ گئی ،بھارت میں طویل ترین مدت تک اقتدار میں رہنے والا مودی امریکی صدر سے گفتگو کے دوران بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا،ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایک لفظ نہ بول پانے والے مودی کو امریکی صدر نے قاتل کا لقب دے دیا،ٹیلی پرامپٹر کے سہارے تقریریں کرنے والا مودی ہاتھ میں پرچی لیکر بھی ٹرمپ کے سامنے اعتماد سے دو لفظ نہ بول سکا،سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کاکروچ جنتا پارٹی نے طنزیہ ٹوئٹ میں کہا کہ؛کیا ملاقات میں مودی بغیر ٹیلی پرومپٹر کے ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا؟

  • نیویارک،ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ سے خوف و ہراس، بھگدڑ میں ایک شخص زخمی

    نیویارک،ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ سے خوف و ہراس، بھگدڑ میں ایک شخص زخمی

    نیویارک کے مصروف ترین علاقے ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ کے واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق واقعہ دوپہر 3 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں موجود سیاحوں اور شہریوں میں شدید خوف پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث 17 سالہ مشتبہ نوجوان کو پولیس نے فوری تعاقب کے بعد حراست میں لے لیا، جبکہ زخمی شخص کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    فائرنگ کا یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب باسکٹ بال ٹیم نیویارک نِکس کی کامیابی کے حوالے سے شہر بھر میں تقریبات جاری تھیں۔ سیکیورٹی کے پیش نظر تقریباً 10 ہزار پولیس اہلکار مختلف مقامات پر تعینات تھے۔واضح رہے کہ 16 جون کو بھی نیویارک نِکس کی تاریخی کامیابی کے بعد ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 17 سالہ لڑکا زخمی ہو گیا تھا۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔