Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • حوثی تنظیم کا بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر میزائل حملے کا دعویٰ

    حوثی تنظیم کا بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر میزائل حملے کا دعویٰ

    یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللّٰہ نے بحیرۂ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حوثی گروپ کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی آئل ٹینکر کو سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع کے قریب بحیرۂ احمر میں نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی سعودی بحری ناکہ بندی کے خلاف ردعمل کے طور پر کی گئی۔ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ 22 جولائی سے نافذ سعودی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے 8 جہازوں پر حملے کیے گئے، جبکہ 29 جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا۔یحییٰ سریع کا کہنا تھا کہ حوثی تنظیم سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ حملہ آج کس وقت کیا گیا۔

  • پاکستان کے بعد بنگلہ دیش بھی بھارتی مداخلت کی لپیٹ میں

    پاکستان کے بعد بنگلہ دیش بھی بھارتی مداخلت کی لپیٹ میں

    بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی بھارتی سازش بے نقاب ہو گئی

    سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش میں مداخلت کی کھلی چھوٹ ،حسینہ واجد آج 5 اگست کو نئی دہلی میں فارن کورسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کی تقریب سے ورچوئل خطاب کررہی ہیں۔ حسینہ واجد کے ورچوئل خطاب پر بنگلہ دیش نے بھارت سے وضاحت مانگ لی -وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور شمع عبید اسلام کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا۔

    پرائیویٹ تقریب” کا بھارتی مؤقف محض ایک مضحکہ خیز سفارتی ڈرامہ ہے-سیاسی مبصرین کے مطابق بنگلہ دیش کے احتجاج کے باوجود شیخ حسینہ کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینا معنی خیز ہے ڈھاکہ بدستور بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں۔ حسینہ واجد عدالت سے سزا کے بعد بنگلہ دیش کو مطلوب ہیں -سیاسی مبصرین کے مطابق بھارتی سرپرستی میں حسینہ واجد کا خطاب بنگلہ دیشی سلامتی پر حملہ ہے- نئی دہلی میں اتنی بڑی تقریب بھارتی سرکار کی سرپرستی کے بغیر ناممکن ہے- حسینہ واجد کو پلیٹ فارم دینا بنگلہ دیشی عوام کے فیصلے پر کاری ضرب ہے-

  • امریکا کی 7 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملوں کا  انکشاف

    امریکا کی 7 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملوں کا انکشاف

    امریکا کی 7 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملوں کا انکشاف ہواہے-

    امریکا کی ریاست منیسوٹا میں 30 سے زائد واٹر سسٹمز پر ایک باہم مربوط سائبر حملے کے بعد ایف بی آئی نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی سات مختلف ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملے رپورٹ ہوئے ہیں،جبکہ،امریکی سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) نے ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم سائبر ماہرین کا ماننا ہے کہ ان اقدامات کے تار تہران سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منیسوٹا کے گورنر ٹم والز اور مقامی حکام کو ناکارہ قرار دیا، جبکہ گورنر والز نے پلٹ کر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”ٹرمپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دیگر ریاستیں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں“۔

    اگرچہ ایران نے ان مخصوص واقعات پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم وہ ماضی میں ایسے تمام سائبر حملوں کے الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے،ماضی میں اسی نوعیت کے ایک الزام پر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے کہا تھا کہ ایران کے ایجنڈے میں سائبر دنیا میں کبھی بھی کوئی خطرناک اقدام شامل نہیں رہا اور نہ ہی وہ ایسی کسی بھی پیش رفت کی حمایت کرتا ہے۔

    امریکی تحقیقاتی ادارے اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا حملہ آوروں نے صرف ایران کا روپ دھار کر امریکا کے اندر مزید سنسنی اور تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی ہے؟اس حوالے سے سائبر سیکیورٹی کے سابق نائب ڈائریکٹر جیک براؤن نے ’بی بی سی‘ سے گفتگو میں کہا کہ یہ حملہ آور دراصل حکومت کی بنیادی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت پر عوام کے اعتماد کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب جنگ کے باعث ملک پہلے ہی شدید تقسیم کا شکار ہے، امریکا میں واٹر سسٹمز پر حملہ کرنا آسان اس لیے ہے کیونکہ یہاں کی ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچہ پرانا ہو چکا ہے۔

    امریکا کے سابق محکمہ خارجہ کے انسدادِ دہشت گردی کے مشیر مورگن رائٹ نے صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کسی قوم کو گھٹنوں کے بل لانا چاہتے ہیں تو آپ دو چیزوں کو نشانہ بناتے ہیں، ایک بجلی اور دوسرا پانی، اگر امریکی حکومت نے ان پانی کے سسٹمز کے تحفظ کو فوری طور پر اپ گریڈ نہ کیا اور انہیں انٹرنیٹ سے الگ نہ کیا تو مستقبل میں کیمیکلز کی مقدار میں نقصان دہ تبدیلی یا پانی کی فراہمی میں طویل تعطل جیسے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

  • مالدووا کے وزیراعظم کی طالبان رجیم  کے وفد کی ملک آمدپروضاحت جاری

    مالدووا کے وزیراعظم کی طالبان رجیم کے وفد کی ملک آمدپروضاحت جاری

    مالدووا کے وزیراعظم نے طالبان رجیم کی وزارت زراعت کے وفد کی ملک آمد کو ’شرمناک‘ اور ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا۔

    وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا کہ مالدووا طالبان ’حکومت‘ کو تسلیم نہیں کرتا، وفد کے دورے کی منظوری انتظامی جانچ پڑتال کے بعد دی گئی، تاہم اس کے ممکنہ سیاسی اور سفارتی نتائج کو نظر انداز کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ وفد کو ویزے جاری کرنے کا فیصلہ انتظامی طریقہ کار کے تحت تو کیا گیا، تاہم اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا، جس کے بعد حکومت نے معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وفد کی آمد کی درخواست ایک مقامی کمپنی نے دی تھی، جو ازبکستان کو زرعی مصنوعات برآمد کرتی ہے اور افغانستان کی منڈی میں بھی اپنا کاروبار بڑھانا چاہتی تھی،وزارت زراعت و خوراک نے یہ درخواست وزارت خارجہ، جنرل انسپکٹریٹ برائے مائیگریشن اور بارڈر پولیس کو بھیجی متعلقہ اداروں نے جانچ کے دوران پایا کہ طالبان وفد کے ارکان یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے، جس کے بعد مائیگریشن حکام نے مثبت رائے دی اور وزارت خارجہ نے انہیں ویزے جاری کر دیے، اس عمل میں مالدووا کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سروس سے مشاورت نہیں کی گئی، کیونکہ موجودہ ضوابط کے تحت ایسا کرنا لازمی نہیں تھا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ تمام انتظامی مراحل بظاہر مکمل کیے گئے، لیکن ضروری سیاسی اور سفارتی تجزیہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث ایک حساس معاملے کو معمول کی انتظامی کارروائی سمجھا گیا اور غلط فیصلہ سامنے آیا سرکاری اداروں کو صرف قواعد پر عمل درآمد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر فیصلے کے پس منظر، ممکنہ خطرات اور نتائج کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

    سرکاری حکام کے استعفوں کے مطالبات پر وزیراعظم نے کہا کہ محض کسی ایک فرد کو ذمہ دار ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ان کے بقول اصل ضرورت ان طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہے، جن کے باعث ایسا فیصلہ ممکن ہواحکومت انٹیلی جنس و سیکیورٹی سروس کے ساتھ مشاورتی نظام کا ازسرنو جائزہ لے گی، جبکہ فیصلے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف مناسب کارروائی بھی کی جائے گی۔

    دوسری جانب مالدووا کی وزارت خارجہ نے پیر کو تصدیق کی کہ طالبان کی وزارت زراعت کے وفد کو ملک میں داخلے کے لیے ویزے جاری کیے گئے تھے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ وفد کے ساتھ کوئی سرکاری ملاقات نہیں کی جائے گی حکومت نے اس پورے معاملے کی اندرونی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

  • ایسا محسوس ہوا جیسے آج ہماری جان نہیں بچے گی،ایئرانڈیا کے مسافرنے بتایا خوفناک احوال

    ایسا محسوس ہوا جیسے آج ہماری جان نہیں بچے گی،ایئرانڈیا کے مسافرنے بتایا خوفناک احوال

    بھارت جانے والی ایئر انڈیا کی ایک پرواز دورانِ سفر اچانک شدید فضائی جھٹکوں (ٹربولینس) کی زد میں آ گئی، جس کے نتیجے میں عملے کے 4 ارکان سمیت مجموعی طور پر 17 مسافر زخمی ہو گئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق تھائی لینڈ کے شہر پھوکٹ سے نئی دہلی آنے والی اس پرواز میں 137 مسافر اور 8 عملے کے ارکان سوار تھے۔ دورانِ پرواز اچانک شدید فضائی جھٹکوں کے باعث طیارہ غیر معمولی طور پر نیچے آیا، جس سے متعدد مسافر اپنی نشستوں سے اچھل گئے جبکہ طیارے کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔پرواز کو بحفاظت نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتارا گیا، جہاں زخمی مسافروں کو اسٹریچر کے ذریعے ایمبولینسوں میں منتقل کر کے فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

    ایک اطالوی خاتون مسافر نے اپنے خوفناک تجربے کا بیان کرتے ہوئے کہا کہ اچانک آنے والے شدید جھٹکوں کے باعث ان کی بہن اپنی نشست سے ہوا میں اچھل گئی، جبکہ ان کی والدہ کے سر پر چوٹ آئی۔ انہوں نے بتایا کہ کئی دیگر مسافر بھی زخمی ہوئے اور ایک شخص کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔خاتون مسافر کے مطابق، "ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے آج ہماری جان نہیں بچے گی، وہ لمحے انتہائی خوفناک تھے۔”دوسری جانب ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ کسی بھی مسافر یا عملے کے رکن کو شدید نوعیت کی چوٹ نہیں آئی۔ ایئرلائن کے مطابق تمام زخمیوں کو احتیاطی تدابیر کے تحت اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی معائنے کے بعد 5 افراد کو فارغ کر دیا گیا، جبکہ دیگر زخمیوں کا علاج جاری ہے۔

  • طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب

    طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب

    ایران کے ساتھ جاری پانچ ماہ طویل جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے انتہائی درست نشانہ لگانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کے عالمی ذخائر کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے-

    ’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکی فوج نے اپنے زمین سے زمین پر مار کرنے والے اہم ہتھیاروں، بالخصوص اٹیکمس (ATACMS) اور پریسجن اسٹرائیک میزائلوں (PrSM) کا بڑا ذخیرہ تقریباً ختم کر دیا ہے،یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار، جن میں سے ایک کی قیمت 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے، امریکی فوج کو محفوظ فاصلے سے درست نشانہ بنانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق ان میں تیزی سے ہوتی کمی کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے شروع کرتے ہیں تو انہیں پائلٹ والے بمبار طیاروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جنگ طویل ہونے کے باعث دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ میزائلوں کے کم ہوتے ذخائر سے روس اور چین جیسے دیگر عالمی حریفوں کو روکنے کی امریکی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان خدشات کی تردید کرتے ہوئے امریکی فوجی صلاحیت کو مضبوط قرار دیا ہے،وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ”امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اور ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ ہتھیار موجود ہیں، اور اس وقت ہماری دفاعی کمپنیاں کسی بھی دور سے زیادہ پیداوار کر رہی ہیں اور اپنے کارخانوں کو ریکارڈ سطح پر وسعت دے رہی ہیں۔

    اسی طرح پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس صدر کے حکم پر ہر جگہ کارروائی کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں، ہم نے اپنے لوگوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف محاذوں پر کامیاب آپریشنز کیے ہیں-

    سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق فروری سے جولائی کے دوران امریکا کے پاس موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً 65 فیصد حصہ استعمال ہو چکا ہے، جبکہ دفاعی تھاڈ سسٹم کے میزائل بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں کم از کم 38 فیصد کم ہو چکے ہیں اس کے علاوہ بحریہ کے بحری جہازوں اور آبدوزوں سے چلائے جانے والے مشہور ٹوما ہاک کروز میزائلوں کا بھی تقریباً آدھا عالمی ذخیرہ اس جنگ کی نذر ہو چکا ہے، جس کے بعد اب امریکی وزارتِ دفاع اور اس کی تیاری کرنے والی کمپنیوں کے درمیان پیداوار بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر معاہدے کیے جا رہے ہیں۔

  • صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر حادثے سے بال بال بچ گیا

    صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر حادثے سے بال بال بچ گیا

    صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر حادثے سے بال بال بچ گیا، واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی ہیلی کاپٹر ‘مرین ون’ (Marine One) منگل کے روز وائٹ ہاؤس سے پرواز کے دوران قریبی ایئر ٹریفک پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی کا شکار ہوا، جس پر (FAA) نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ کسی بڑے حادثے یا خطرناک حد تک قریب آنے کا خطرہ نہیں تھا-

    امریکا کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لے جانے والے ایک ملٹری ہیلی کاپٹر اور ایک تجارتی مسافر طیارے کے درمیان سیکیورٹی کے ایک واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہےایف اے اے میرین ون سے متعلق پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، تاہم یہ کوئی خطرناک تصادم کا لمحہ نہیں لگتا تھا اور نہ ہی دونوں طیارے بظاہر ایک دوسرے کے سامنے آ رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایلیپس سے سہ پہر تقریباً 2 بج کر 33 منٹ پر لاس اینجلس جانے کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن پالیسی کے مطابق قریبی رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پر تجارتی پروازوں کی آمد و رفت کو بروقت نہیں روکا گیا تھا۔

    ایئر ٹریفک کنٹرول کے قوانین کے مطابق ہوائی اڈوں کے قریب طیاروں کے درمیان افقی طور پر کم از کم 1.5 میل اور عمودی طور پر 500 فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق فلوریڈا جانے والی ایک علاقائی مسافر پرواز اور صدر کے ہیلی کاپٹر ’میرین ون‘ کے درمیان یہ درکار فاصلہ ختم ہو گیا تھا، تاہم خوش قسمتی سے دونوں جہاز محفوظ طریقے سے اپنی منزل پر لینڈ کر گئےاس واقعے کے دوران ایک اور مسافر پرواز کو بھی احتیاط کے طور پر ہوا میں چکر لگانے کی ہدایت کی گئی جس کے بعد اس نے معمول کے مطابق لینڈنگ کی۔

    واقعے کے بعد ایف اے اے کی جانب سے ایک سیفٹی ریویو ٹیم تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن کے رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہیلی کاپٹروں کی پروازوں پر یہ سخت پابندیاں رواں سال جنوری 2025 میں ایک ملٹری ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے کے بھیانک حادثے کے بعد لگائی گئی تھیں، جس میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    اس حادثے کے بعد نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کے نظام میں نقائص کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کے بعد قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ طے کیا گیا تھا کہ جب بھی صدر کا ہیلی کاپٹر میرین ون فضا میں ہوگا تو تجارتی پروازوں کو مکمل طور پر روک دیا جائے گا،عام طور پر اس کے لیے ایئر ٹریفک کنٹرول کو کم از کم تین منٹ پہلے اطلاع دی جاتی ہے تاکہ ایئرپورٹ کی آمد و رفت روک کر صدر کی پرواز کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔

  • ایران اور امریکا عبوری معاہدے کے حوالے سے  امریکی جریدے کابڑا دعویٰ

    ایران اور امریکا عبوری معاہدے کے حوالے سے امریکی جریدے کابڑا دعویٰ

    معروف امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس،نےدعویٰ،کیاہےکہ،امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کا باضابطہ اعلان جلد اور ممکنہ طور پر آج کیا جا سکتا ہے۔

    معروف امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس نے دو علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مجوزہ معاہدہ 60 روز کے لیے ہوگا، جس کے تحت آبنائے ہرمز میں آنے والے تجارتی جہاز ایران کے سمندری راستے سے جبکہ روانہ ہونے والے جہاز عمان کے سمندری راستے سے گزریں گے،یہ نظام ایران کے ساتھ رابطہ کاری میں نافذ کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق عبوری معاہدے کی مدت کے دوران تجارتی جہازوں سےکسی قسم کا ٹول ٹیکس یا ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائےگی،اس معاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کو مضبوط بنانا اور ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سفارتی پیش رفت میں عمان، قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اس فریم ورک سے اصولی اتفاق کیا تھا جبکہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے منگل کے روز اس کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا،تاہم، معاہدے کا باضابطہ اعلان تاحال نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکا، ایران یا عمان کی جانب سے اس حوالے سے سرکاری تصدیق سامنے آئی ہے-

  • اسپیس ایکس کا راکٹ اپنے مدار سے بھٹک گیا، آج  چاند سے ٹکرانے کے خدشہ

    اسپیس ایکس کا راکٹ اپنے مدار سے بھٹک گیا، آج چاند سے ٹکرانے کے خدشہ

    اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ آج کسی بھی وقت چاند سے ٹکرانے والا ہے۔

    فالکن 9 راکٹ کے ذریعے امریکی کمپنی فائر فلائی ایرو اسپیس کا بلیو گھوسٹ لینڈر اور جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا ریزیلینس لینڈر چاند کی جانب بھیجا گیا تھا یہ وہی راکٹ ہے جس نے جنوری 2025 میں دو نجی قمری مشنز کو خلا میں روانہ کیا تھا،بلیو گھوسٹ نے مارچ 2025 میں کامیاب لینڈنگ کی جبکہ ریزیلینس چند ماہ بعد لینڈنگ کے دوران ناکام ہوگیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق راکٹ کا پہلا مرحلہ لانچ کے بعد زمین پر واپس آگیا تھا تاہم دوسرا مرحلہ خلائی مشنز کو چاند کی سمت دھکیلنے کے لیے استعمال ہوا اور وہ خلا میں ہی موجود رہا۔

    اسپیس ایکس میں ناسا سائنس اور ڈریگن پروگرامز کی ڈائریکٹر جولیانا شیمین کے مطابق زمین کے قریب مدار میں جانے والے مشنز کے بعد راکٹ کے بالائی حصے کو عموماً زمین کی فضا میں جلا کر ختم کر دیا جاتا ہے لیکن زیادہ توانائی والے مشنز میں مختلف طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے اس مشن میں بھی تمام حفاظتی اصولوں کے مطابق کارروائی کی گئی تھی تاہم سورج کی سرگرمیوں اور کششِ ثقل کے مشترکہ اثرات نے راکٹ کے بالائی حصے کا راستہ تبدیل کر دیا جس کے باعث اب وہ چاند سے ٹکرانے کی سمت بڑھ رہا ہے۔

    اس تصادم سے زمین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تاہم اس واقعے کو سائنسی لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے چاند کی سطح پر ہونے والے اثرات اور خلائی ملبے کی حرکت سے متعلق مزید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

  • حوثی ملیشیا کا بھارتی بحری جہازپرمبینہ حملہ، بھارت کی سخت الفاظ میں مذمت

    حوثی ملیشیا کا بھارتی بحری جہازپرمبینہ حملہ، بھارت کی سخت الفاظ میں مذمت

    یمن کے قریب بحیرہ احمر میں ایک بھارتی پرچم بردار تجارتی جہاز ’ایم ایس وی فیض نورِ اولیا‘ کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ سمندر میں غرق ہو گیا۔

    ایرانی میڈیا اور حکام کے مطابق،یہ واقعہ حدیدہ اور مخا بندرگاہ کے قریب پیش آیا حادثے کے وقت جہاز پر 14 افراد سوار تھے جن میں سے 13 کا تعلق بھارت سے تھا، یمنی کوسٹ گارڈ نے بروقت اقدام کرتے ہوئے جہاز پر موجود تمام 14 افراد کو بحفاظت بچا کر مخا بندرگاہ منتقل کر دیا ہے۔

    اگرچہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس کی جانب سے کیا گیا، تاہم یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وزارتِ ترسیلات و مواصلات نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کے حامی حوثی جنگجوؤں نے اس بھارتی جہاز کو ایک دھماکہ خیز کشتی کے ذریعے نشانہ بنایا ہے،جبکہ،حوثی گروپ کی جانب سے اس واقعے پر فی الحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کے بحری جہاز رانی کے وزیر سربانند سونووال نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ہم اس بلا اشتعال حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور خطے میں اپنے تمام سمندری عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے-

    بھارتی وزارتِ خارجہ نے بھی تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی باضابطہ تصدیق کی ہے،بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے یہ واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں تجارتی جہازوں پر حملوں کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام بین الاقوامی بحری راستوں سے تجارت کی آزادانہ اور بغیر کسی رکاوٹ کے بحالی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے-