Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • جرسی شور میں ایک ہفتے کی چھٹی پر 10 ہزار ڈالر خرچ، سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث

    جرسی شور میں ایک ہفتے کی چھٹی پر 10 ہزار ڈالر خرچ، سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث

    نیویارک: امریکہ کی مشہور ساحلی تفریح گاہ جرسی شور پر تعطیلات گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک خاتون نے انکشاف کیا کہ ان کا خاندان ہر سال صرف رہائش کے لیے تقریباً 10 ہزار امریکی ڈالر خرچ کرتا ہے، جس پر ہزاروں صارفین نے حیرت اور تنقید کا اظہار کیا۔

    فلاڈیلفیا سے تعلق رکھنے والی ماں اور سوشل میڈیا انفلوئنسر کیٹ کار ووگل نے ایک ویڈیو میں بتایا کہ ان کا خاندان ہر سال جرسی شور میں ایک گھر کرائے پر لیتا ہے، لیکن اتنی بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔انہوں نے کہا کہ کرائے کے مکان میں نہ بستر کی چادریں ملتی ہیں، نہ ٹوائلٹ پیپر، نہ پیپر ٹاولز، نہ کافی اور نہ ہی کھانے پینے کی کوئی چیز۔ ان کے بقول تمام سامان خود ساتھ لانا پڑتا ہے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "ہم بنیادی طور پر 10 ہزار ڈالر دے کر کیمپنگ کرنے آتے ہیں۔”

    ویڈیو میں خاتون نے شکایت کی کہ پارکنگ کی سہولت بھی محدود ہے، جس کے باعث ساحل تک پہنچنے کے لیے بیچ چیئر، بیگز اور دیگر سامان اٹھا کر کافی دور تک پیدل چلنا پڑتا ہے۔یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد تک پہنچ گئی اور سوشل میڈیا پر جرسی شور کی مہنگی تعطیلات کے حوالے سے شدید بحث شروع ہوگئی۔

    صارفین نے قیمت کو "پاگل پن” قرار دے دیا
    متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ آخر اتنی بڑی رقم ایک مقامی ساحل پر خرچ کرنے کا کیا جواز ہے۔ایک صارف نے لکھا "10 ہزار ڈالر میں تو یونان (Greece) کی شاندار چھٹیاں منائی جا سکتی ہیں۔”ایک اور تبصرہ تھا”پانچ ہزار ڈالر میں تو پورا خاندان کیریبین کی بہترین چھٹی گزار سکتا ہے۔”

    ایک مقامی رہائشی نے دعویٰ کیا کہ جرسی شور میں کسی بھی مکان کا اتنا کرایہ نہیں۔کچھ صارفین نے بحر اوقیانوس کے ساحل کے پانی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم خرچ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    پھر بھی جرسی شور کیوں مقبول ہے؟
    اگرچہ بہت سے افراد نے اس خرچ کو غیر منطقی قرار دیا، لیکن جرسی شور کے مستقل سیاحوں نے اس روایت کا بھرپور دفاع کیا۔ایک صارف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ساحل پر جانے کا معاملہ نہیں بلکہ کئی خاندانوں کی دہائیوں پرانی روایت ہے۔ان کے مطابق ہر سال ایک ہی شہر، ایک ہی کرائے کا گھر، وہی دوست، وہی بورڈ واک پر پہلی رات پیزا کھانے کی روایت، بدھ کے روز منی گالف کھیلنا اور پسندیدہ ریستورانوں میں کھانا کھانا ان تعطیلات کو خاص بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے بھی یہ یادگار لمحات ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہر سال انہی دوستوں سے اسی ہفتے ملاقات کرتے ہیں، اور یہی روایات اس مہنگے سفر کو ان کی نظر میں قابلِ قدر بناتی ہیں۔

    حالیہ برسوں میں جرسی شور ایک مرتبہ پھر نوجوانوں اور امیر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ساحلی کلب، بارز اور بورڈ واکس پر نوجوانوں کا رش رہتا ہے جبکہ بعض مقبول مقامات پر وی آئی پی داخلے کے لیے سینکڑوں ڈالر وصول کیے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں ساحلی علاقوں میں لگژری جائیدادوں کی قیمتیں بھی لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جس سے یہ علاقہ امریکہ کی مہنگی ترین تفریحی منزلوں میں شمار ہونے لگا ہے۔

    اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا مقامی ساحل پر چند روزہ تعطیلات کے لیے 10 ہزار ڈالر خرچ کرنا مناسب ہے یا یہی رقم بیرون ملک نسبتاً سستی اور زیادہ پرتعیش چھٹیوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔

  • میری جنسی زندگی میری 20 سالہ بیٹی سے زیادہ متحرک ہے،44 سالہ خاتون کا دعویٰ

    میری جنسی زندگی میری 20 سالہ بیٹی سے زیادہ متحرک ہے،44 سالہ خاتون کا دعویٰ

    برطانیہ کی 44 سالہ سابق ماڈل اور متنازعہ شخصیت کارلا بیلوچی ایک بار پھر اپنے غیرمعمولی بیانات کی وجہ سے خبروں میں آگئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی آج بھی انتہائی فعال ہے اور ان کے مطابق وہ اپنی 20 سالہ بیٹی سے زیادہ متحرک جنسی زندگی گزار رہی ہیں۔ موجودہ نوجوان نسل، جسے جنریشن زیڈ (Gen Z) کہا جاتا ہے، ماضی کی نسلوں کے مقابلے میں رومانوی تعلقات اور جنسی زندگی میں کم دلچسپی رکھتی ہے۔

    برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کارلا بیلوچی نے کہا کہ آج کے نوجوان اپنا زیادہ تر وقت موبائل فون، سوشل میڈیا اور آن لائن دنیا میں گزارتے ہیں، جس کی وجہ سے حقیقی انسانی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں آمنے سامنے ملاقاتوں، ڈیٹنگ اور جذباتی روابط کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے، جو معاشرتی سطح پر تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔کارلا نے دعویٰ کیا کہ وہ اور ان کے شوہر جیو اب بھی اپنی ازدواجی زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ ان کی بیٹی تنیشا اکثر والدین کی اس نجی زندگی سے بے زار ہو کر دوستوں کے گھر چلی جاتی ہے کیونکہ اسے والدین کی نجی سرگرمیوں کی آوازیں سننا ناگوار گزرتی ہیں۔

    کارلا بیلوچی کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کی توجہ حقیقی زندگی کے بجائے سوشل میڈیا پر زیادہ مرکوز ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق لوگ اپنی اصل شخصیت کے بجائے آن لائن تصویر بنانے میں مصروف رہتے ہیں، جس سے قدرتی سماجی روابط اور رومانوی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انٹرنیٹ پر بالغوں کے لیے مواد اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ورچوئل ساتھیوں تک آسان رسائی نے بھی نوجوانوں کی حقیقی تعلقات میں دلچسپی کم کر دی ہے۔

    کارلا کی بیٹی تنیشا نے اگرچہ اس بات سے اتفاق کیا کہ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ڈیٹنگ کی عادات کو تبدیل کیا ہے، تاہم اس نے اپنی والدہ کی اس رائے سے اختلاف کیا کہ جنسی تعلقات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔تنیشا کا کہنا تھا کہ اس کی عمر کے بہت سے نوجوان رومانوی تعلقات رکھتے ہیں، لیکن وہ خود مختصر یا وقتی تعلقات کے بجائے ایک سنجیدہ اور حقیقی رشتہ قائم کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اس کے مطابق موجودہ نسل میں بہت سے افراد جذباتی وابستگی اور اعتماد پر مبنی تعلقات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوان اس بات کے بارے میں زیادہ حساس ہو گئے ہیں کہ وہ دوسروں کو کیسے دکھائی دیتے ہیں، جس سے فطری انداز میں میل جول اور تعلقات قائم کرنا پہلے کے مقابلے میں مشکل محسوس ہوتا ہے۔

    کارلا بیلوچی اس سے قبل بھی اپنے متنازع بیانات اور فیصلوں کی وجہ سے متعدد بار میڈیا کی توجہ حاصل کر چکی ہیں۔2020 میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کرسمس پر انہوں نے اپنے بچوں کے بجائے تقریباً 10 ہزار ڈالر اپنی ذاتی خوبصورتی، کاسمیٹک علاج، بوٹوکس، فیشل اور دیگر اخراجات پر خرچ کیے، جبکہ بچوں کو تحائف دینے سے انکار کر دیا۔2023 میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ کرسمس ڈنر میں شریک ہونے والے رشتہ داروں سے فی کس تقریباً 200 ڈالر وصول کریں گی تاکہ کھانے کی تیاری پر آنے والی محنت اور اخراجات کی تلافی ہو سکے۔

    سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ رجحان سامنے آیا ہے کہ بعض ممالک میں نوجوان نسل کے درمیان جنسی سرگرمیوں اور ڈیٹنگ کے انداز میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم اس کی وجوہات پیچیدہ ہیں، جن میں معاشی دباؤ، ذہنی صحت، کام اور تعلیم کا دباؤ، سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال، بدلتی سماجی اقدار اور ذاتی ترجیحات شامل ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پوری جنریشن زیڈ یکساں رویہ رکھتی ہے، کیونکہ مختلف معاشروں اور افراد کے تجربات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

  • ڈیٹنگ کے تلخ تجربات،نیویارک میں سنگلز نے ملاقاتوں کی کہانیاں سنا دیں

    ڈیٹنگ کے تلخ تجربات،نیویارک میں سنگلز نے ملاقاتوں کی کہانیاں سنا دیں

    نیویارک: امریکہ کے شہر نیویارک میں منعقد ہونے والی ایک منفرد تقریب میں سینکڑوں نوجوان، خصوصاً خواتین، جدید ڈیٹنگ کلچر کے دوران پیش آنے والے تلخ، عجیب اور بعض اوقات تکلیف دہ تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے جمع ہوئیں۔ اس تقریب کا مقصد ایسے افراد کو یہ احساس دلانا تھا کہ محبت اور تعلقات میں پیش آنے والی مشکلات صرف ان کے ساتھ نہیں بلکہ بہت سے لوگ اسی طرح کے تجربات سے گزرتے ہیں۔

    یہ تقریب "About Last Night” کے عنوان سے بروکلین کے علاقے گووانس میں منعقد ہوئی، جہاں شرکاء نے اسٹیج پر آ کر اپنی ناکام ملاقاتوں، غیر مناسب رویوں اور جذباتی صدمات کی کہانیاں سنائیں۔ اس تقریب کا آغاز 2016 میں ہوا تھا اور اب یہ امریکہ کے مختلف شہروں میں منعقد کی جاتی ہے۔تقریب کے دوران کئی شرکاء نے ایسی کہانیاں بیان کیں جنہوں نے حاضرین کو حیران بھی کیا اور ہنسنے پر بھی مجبور کر دیا۔

    ایک خاتون نے بتایا کہ 22 سال کی عمر میں نیویارک میں اپنی پہلی ون نائٹ ملاقات کے دوران ان کا ساتھی اچانک برہنہ حالت میں ایک اسٹینڈنگ ڈیسک پر بیٹھ گیا اور اسے اوپر نیچے حرکت دیتا رہا، جس پر وہ شدید حیرت میں مبتلا ہو گئیں۔

    ایک اور خاتون سی جے نے بتایا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ان کا تعلق ایک جاپانی نوجوان سے رہا، جو اسکیٹ بورڈنگ کرتا تھا اور مبینہ طور پر کوکین فروخت کرتا تھا۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ وہ دراصل اپنی مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے والے ایک اور شخص سے محبت کرتی ہیں۔ اس نوجوان کے گھر سے نکلنے کے بعد وہ اچانک بلیک لائیوز میٹر کے احتجاج میں شامل ہو گئیں، جہاں پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس استعمال کی۔

    ایک مرد شریک نے بتایا کہ اس کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جو پہلے ہی ایک سخت نوعیت کے ذاتی تعلق میں بندھی ہوئی تھی، جہاں اس کے دوسرے ساتھی کی جانب سے اس کے پیغامات تک پڑھے جا رہے تھے اور اس کی ملاقاتوں پر بھی کنٹرول رکھا جاتا تھا۔

    اسی طرح ایک خاتون نے انکشاف کیا کہ ان کے دفتر کے ایک ساتھی نے دوسری ملاقات کے دوران اپنی ایک غیر معمولی جنسی پسند کے بارے میں بتایا، جس کے بعد انہیں شدید بے چینی کا سامنا کرنا پڑا۔

    چیس جیمز، جو اس تقریب کے بانی ہیں، نے بتایا کہ اس خیال کی ابتدا ان کے دوستوں کی اس عادت سے ہوئی کہ وہ ہر صبح ناشتے پر گزشتہ رات کی بدترین ڈیٹنگ کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے تھے۔انہوں نے تقریباً دس سال قبل سان فرانسسکو میں اس سلسلے کا آغاز کیا، جس کے بعد اسے شکاگو، نیویارک، ڈینور اور سیئٹل تک وسعت دی گئی، جبکہ جلد ہی آسٹن اور واشنگٹن ڈی سی میں بھی ایسی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔چیس جیمز کے مطابق "جب لوگ اپنی تکلیف دہ یادوں پر ایک ساتھ ہنستے ہیں تو وہ بوجھ کچھ ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے۔”

    تقریب میں سنائی جانے والی بیشتر کہانیوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ موجودہ دور میں بہت سے نوجوان تعلقات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے عارضی اور سطحی انداز میں دیکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں جذباتی نقصان، عدم اعتماد اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

    تقریب کی آخری مقررہ، ڈیزی نامی خاتون، نے اپنی ذاتی زندگی کا ایک نہایت جذباتی واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شخص سے کئی ملاقاتوں کے بعد انہوں نے اپنی خواہش کے برخلاف صرف اس امید پر جسمانی تعلق قائم کیا کہ شاید اس سے تعلق مزید مضبوط ہو جائے۔انہوں نے اس شخص سے باقاعدہ تعلق کی خواہش کا اظہار بھی کیا، تاہم اسے مسترد کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایک طبی پیچیدگی کے باعث انہیں شدید خون بہنے کی شکایت ہوئی اور فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا، جہاں انہیں ہنگامی سرجری سے گزرنا پڑا جبکہ ان کا ساتھی انہیں اسپتال میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا۔ڈیزی نے حاضرین سے کہا کہ اس واقعے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ اکثر لوگ معاشرتی دباؤ یا دوسروں کی توقعات کے باعث ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جو ان کی اپنی خواہشات اور حدود کے خلاف ہوتے ہیں۔

    تقریب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید ڈیٹنگ کے بہت سے مسائل صرف دوسروں کے رویوں کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض اوقات لوگ خود بھی دباؤ، تنہائی یا قبول کیے جانے کی خواہش میں اپنی ذاتی حدود سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صحت مند تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ افراد اپنی عزتِ نفس، ذاتی حدود اور جذباتی ضروریات کو ترجیح دیں اور ایسے رویوں کو قبول نہ کریں جو ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔

  • فلائی دبئی کی پرواز میں خاتون کوہراساں کرنے پرپاکستانی مسافر بینکاک میں گرفتار

    فلائی دبئی کی پرواز میں خاتون کوہراساں کرنے پرپاکستانی مسافر بینکاک میں گرفتار

    اٹلی کے شہر میلان سے دبئی کے راستے تھائی لینڈ جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز میں خاتون مسافر کو مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں ایک پاکستانی شہری کو بینکاک پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 33 سالہ تھائی خاتون نے الزام عائد کیا کہ وہ پرواز کے دوران اپنی چار سالہ بیٹی کو گود میں لیے سو رہی تھیں، اسی دوران ان کے ساتھ والی نشست پر موجود 30 سالہ پاکستانی مسافر نے مبینہ طور پر ان کے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اچانک بیدار ہو گئیں، جس پر ملزم نے اپنی حرکت چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے ایسا ظاہر کیا جیسے وہ نشست کے سامنے لگی اسکرین کو درست کر رہا ہو، تاہم وہ مسلسل ان کی جانب دیکھتا رہا۔شکایت ملنے پر خاتون نے فوری طور پر فضائی عملے کو آگاہ کیا، جس کے بعد عملے نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بینکاک کے ڈان میوانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حکام کو اطلاع دی۔ طیارہ لینڈ ہوتے ہی پولیس نے پاکستانی مسافر، جس کی شناخت رضا علی کے نام سے بتائی گئی ہے، کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

    رپورٹ کے مطابق خاتون نے دعویٰ کیا کہ ابتدا میں ملزم نے الزامات کی تردید کی، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر معافی مانگنے لگا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم نے انہیں معاف کرنے کی درخواست کی، جبکہ اس کے ساتھ سفر کرنے والے بعض افراد نے بھی معاملہ ختم کرنے کی اپیل کی۔تھائی پولیس کے مطابق ملزم کو فی الحال ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی اور خاتون کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ابتدائی مرحلے میں فریقین کے درمیان مصالحت کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم واقعے کی باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں۔

    متاثرہ خاتون نے واضح کیا ہے کہ وہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھیں گی اور ہرجانے کا بھی مطالبہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی شناخت ظاہر کرنے کا مقصد دیگر خواتین کو آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ ایسے کسی واقعے کی صورت میں خاموش رہنے کے بجائے فوری طور پر فضائی عملے سے مدد حاصل کریں۔

  • ایتھوپین ائیرلائنز   کے سابق سربراہ ائیر انڈیا کے سی ای او مقرر

    ایتھوپین ائیرلائنز کے سابق سربراہ ائیر انڈیا کے سی ای او مقرر

    بھارت کی قومی فضائی کمپنی ائیر انڈیا نے سابق ایتھوپین ائیرلائنز کے سربراہ ٹیولڈے گیبریماریم کو اپنا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ٹیولڈے گیبریماریم ایک دہائی سے زائد عرصے تک ایتھوپین ائیرلائنز کی قیادت کرتے رہے، جہاں ان کی سربراہی میں کمپنی نے نمایاں ترقی کرتے ہوئے افریقا کے سب سے بڑے ائیرلائن گروپ کی حیثیت حاصل کی۔انہوں نے اپنے دورِ قیادت میں 2019 کے بوئنگ 737 میکس طیاروں کے حادثات اور کورونا وبا جیسے غیر معمولی چیلنجز کے دوران بھی ایتھوپین ائیرلائنز کی کامیاب انداز میں رہنمائی کی، جس پر انہیں عالمی فضائی صنعت میں ایک تجربہ کار منتظم کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ٹیولڈے گیبریماریم، موجودہ سی ای او کیمبل ولسن کی جگہ سنبھالیں گے۔ کیمبل ولسن کو 2022 میں ٹاٹا گروپ نے ائیر انڈیا کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مقرر کیا تھا، جبکہ وہ 30 ستمبر 2026 کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

  • 
امریکا نے فلائی بغداد سے پابندیاں اٹھا لیں

    
امریکا نے فلائی بغداد سے پابندیاں اٹھا لیں

    ‎امریکا نے عراق سے متعلق اپنی پابندیوں کی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ایک جانب فلائی بغداد ایئرلائن پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کے الزام میں عراقی نائب وزیرِ پیٹرولیم اور متعدد کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
    ‎امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق فلائی بغداد ایئرلائن پر انسداد دہشت گردی کے تحت عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ایئرلائن کے دو بوئنگ 737 طیاروں کو بھی پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ طیارے بھی امریکی پابندیوں کے دائرے میں نہیں رہیں گے۔
    ‎یاد رہے کہ فلائی بغداد پر 2024 میں یہ الزام عائد کرتے ہوئے پابندیاں لگائی گئی تھیں کہ اس کے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط موجود ہیں۔ امریکی حکام نے اس وقت ایئرلائن کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کارروائی کی تھی، تاہم اب محکمہ خزانہ نے ان پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎دوسری جانب امریکا نے ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کے الزام پر عراق کے ڈپٹی وزیرِ پیٹرولیم علی معارج بھادلی کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
    ‎بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ علی معارج بھادلی ایران کے ساتھ پیٹرولیم انڈسٹری میں تعاون اور کاروباری روابط میں ملوث رہے، جس کے باعث ان کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا فیصلہ کیا گیا۔
    ‎امریکی محکمہ خزانہ نے اس کارروائی کے دوران تین آئل کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں جن پر علی معارج بھادلی کے ساتھ مالی یا تجارتی روابط رکھنے کا الزام ہے۔

  • 
ایران سے مذاکرات مثبت سمت میں، آبی گزرگاہ کی بحالی پہلا مرحلہ ہے، ٹرمپ

    
ایران سے مذاکرات مثبت سمت میں، آبی گزرگاہ کی بحالی پہلا مرحلہ ہے، ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اہم پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ سفارتی عمل کا پہلا مرحلہ آبی گزرگاہ کی بحالی ہے، جبکہ اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کیے جائیں گے۔
    ‎ایک حالیہ انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا موجودہ مذاکرات کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ مرحلہ مکمل ہو جائے گا تو اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی تاکہ دیرپا اور مؤثر معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
    ‎امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر ایران مستقبل میں اپنے وعدوں یا معاہدے سے پیچھے ہٹا تو امریکا سخت ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اپنے مفادات اور خطے کے استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ رابطوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت نے نہایت شائستگی سے کہا کہ "براہِ کرم، کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟” جس پر انہوں نے جواب دیا کہ "ہاں، ہم بات کر سکتے ہیں، آئیے اب اس معاملے کو مکمل کرتے ہیں اور منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں۔”
    ‎یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطے جاری ہیں، جبکہ علاقائی ممالک بھی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت معمول پر آ سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

  • ‎ایران، عمان معاہدے سے آبنائے ہرمز پر ایران کا کردار مضبوط ہونے کا دعویٰ

    ‎ایران، عمان معاہدے سے آبنائے ہرمز پر ایران کا کردار مضبوط ہونے کا دعویٰ

    ‎ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور نگرانی میں ایران کا کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے نیا فریم ورک زیر غور ہے، جس کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے تجارتی جہازوں کی نگرانی میں ایران کا کردار بڑھایا جا سکتا ہے، جبکہ عمان بھی اس نظام کا اہم حصہ رہے گا۔
    ‎غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت بحری جہازوں پر سروس فیس عائد کیے جانے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے لیے بھی ایک طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری دستاویز یا مشترکہ اعلامیے کا اجرا نہیں ہوا۔
    ‎رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مجوزہ انتظام کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے لیے نیا قانونی اور انتظامی ڈھانچہ متعارف کرایا جا سکتا ہے، جسے خطے کے بعض ممالک اور بین الاقوامی فریقین کی حمایت حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کے عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی ترسیل اور خطے کی جغرافیائی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی خام تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

  • پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب، ایران آبنائے ہرمز کی بحالی پر آمادہ

    پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب، ایران آبنائے ہرمز کی بحالی پر آمادہ

    ‎پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور امن کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عرب میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی پر آمادہ ہو گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے عبوری معاہدے کا اعلان آج متوقع ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق تہران نے پاکستان کو اس معاملے پر مثبت اشارے دے دیے ہیں اور جاری سفارتی رابطوں کے دوران اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں شامل فریقین کے درمیان زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم ایک یا دو معاملات پر ابھی مزید مشاورت جاری ہے۔
    ‎عرب میڈیا کے مطابق پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کیا، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے معاملے پر لچک کا مظاہرہ کیا۔ یہ پیش رفت عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
    ‎ادھر امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی قیادت نے مجوزہ عبوری معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ اگر باقی رہ جانے والے نکات پر بھی اتفاق ہو جاتا ہے تو معاہدے کا باضابطہ اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں کیا جا سکتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی مزید مستحکم ہوگی، جس سے تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔
    ‎تاحال ایران یا دیگر متعلقہ ممالک کی جانب سے عبوری معاہدے کے اعلان کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم سفارتی ذرائع اس پیش رفت کو انتہائی مثبت قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

  • 
برطانیہ میں بچوں سے زیادتی کے الزامات، آزاد کشمیر کے  رکن اسمبلی رخسار احمد تحقیقات کی زد میں

    
برطانیہ میں بچوں سے زیادتی کے الزامات، آزاد کشمیر کے رکن اسمبلی رخسار احمد تحقیقات کی زد میں

    ‎برطانوی اخبار گارڈین کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر سے رکن اسمبلی اور سابق پاکستانی وزیرِ مملکت رخسار احمد برطانیہ میں بچوں سے جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 62 سالہ رخسار احمد کو جولائی 2024 میں برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ 1990 کی دہائی میں مانچسٹر کے علاقے رشولم میں کم عمر اور غیر محفوظ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور انہیں اسمگل کرنے والے ایک مبینہ گروہ سے منسلک تھے۔ بعد ازاں انہیں پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور تحقیقات تاحال جاری ہیں۔‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رخسار احمد کو گزشتہ ماہ مانچسٹر کے ایک پولیس اسٹیشن میں ضمانت کی شرائط کے تحت پیش ہونا تھا، تاہم انہوں نے مبینہ طور پر طبیعت ناساز ہونے کے باعث برطانیہ سفر نہ کرنے کا عذر پیش کیا۔

    دوسری جانب اسی دوران وہ پاکستان میں آزاد کشمیر کے انتخابی جلسوں میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے سوشل میڈیا پر نظر آئے۔رخسار احمد گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ 2006 سے مختلف ادوار میں حکومتی عہدوں پر فائز رہے اور 2021 میں اپنی نشست ہار گئے تھے۔گارڈین کے مطابق گریٹر مانچسٹر پولیس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ رخسار احمد کے بیرون ملک سفر پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں، تاہم جولائی 2024 میں عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔‎تحقیقات سے متعلق بتایا گیا ہے کہ کم از کم دو خواتین نے پولیس کو بیان دیا کہ جب وہ کم عمر تھیں تو رخسار احمد مبینہ طور پر ان کے ساتھ زیادتی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ یہ تحقیقات 1990 کی دہائی میں بچوں کے نگہداشت مراکز سے متعلق سامنے آنے والے متعدد الزامات کا حصہ ہیں۔

    ‎رپورٹ کے مطابق اگر رخسار احمد آئندہ چند ہفتوں میں پولیس کے سامنے پیش نہ ہوئے تو گریٹر مانچسٹر پولیس ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے یا حوالگی کی کارروائی شروع کرنے پر غور کر سکتی ہے، جس سے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔‎مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے ایک سینئر رہنما نے اخبار کو بتایا کہ وہ رخسار احمد کو دو دہائیوں سے جانتے ہیں، تاہم انہیں ان الزامات کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ دوسری جانب رخسار احمد نے گارڈین کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔