ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جسے عالمی توانائی اور تجارتی منڈیوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بحری نقل و حمل کی بحالی کے ساتھ عالمی سطح پر تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل معمول پر آنے لگی ہے۔
بحری نقل و حمل کی نگرانی کرنے والی کمپنی کے مطابق جمعرات کے روز 25 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو 18 اپریل کے بعد ایک ہی دن میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ بحری ٹریفک ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں تجارتی اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی روانی میں بہتری آنے سے عالمی سپلائی چین کو استحکام ملنے کی توقع ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خطے میں کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد تجارتی سرگرمیوں میں دوبارہ تیزی آنا شروع ہو گئی ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بحال، تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ
