Baaghi TV


دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، شاہراہِ قراقرم بند، مسافر پھنس گئے

‎چلاس: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں گزشتہ رات مختلف وادیوں میں آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مکانات، زرعی زمینیں، رابطہ پل، آبی گزرگاہیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کے لیے بند ہو گئی۔
‎مقامی پولیس کے مطابق بارشوں کے بعد اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے متعدد دیہات کو متاثر کیا، جہاں کئی مکانات کو نقصان پہنچا، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، فصلیں تباہ ہو گئیں، پن چکیاں بہہ گئیں اور آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے واٹر چینلز بھی شدید متاثر ہوئے۔ مختلف علاقوں میں رابطہ پلوں کو بھی نقصان پہنچنے سے مقامی آبادی کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
‎چلاس میں گورنر فارم نرسری کے قریب سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ قراقرم گزشتہ رات سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ شاہراہ کی بندش کے نتیجے میں دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں، جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق پھنسے ہوئے مسافروں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، جو کئی گھنٹوں سے شاہراہ کھلنے کے منتظر ہیں۔ مسافروں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہِ قراقرم کو جلد از جلد بحال کیا جائے تاکہ وہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں۔
‎ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے، جبکہ سڑکوں کی صفائی، لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹانے اور متاثرہ پلوں کی بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔
‎انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ سفری ہدایات پر عمل کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شاہراہِ قراقرم کو محفوظ قرار دیے جانے کے بعد ہی ٹریفک کے لیے کھولا جائے گا۔

More posts