Baaghi TV

Category: کراچی

  • سنی تحریک کی اپیل پر جمعہ کو یوم تحفظ ناموسِ رسالتؐ وعظمت صحابہ ؓ منایا گیا

    سنی تحریک کی اپیل پر جمعہ کو یوم تحفظ ناموسِ رسالتؐ وعظمت صحابہ ؓ منایا گیا

    سنی تحریک کی اپیل پر جمعہ کو یوم تحفظ ناموسِ رسالتؐ وعظمت صحابہ ؓ منایا گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سنی تحریک کی اپیل پر جمعہ کو یوم تحفظ ناموسِ رسالتؐ وعظمت صحابہ ؓ منایا گیا۔

    فرانسیسی میگزین ”چارلی ایگڈو“ کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت،سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے اور پاکستان میں توہین صحابہ کرامؓ کے دل سوزواقعات کے خلاف مساجدمیں علماء کرام نے تحفظ ناموسِ رسالتؐ وعظمتِ صحابہ ؓکے موضوع پرخطباتِ جمعہ دیئے اور مذمتی قراردادیں منظورکیں،

    سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اور ریاست انتہاپسندی پھیلانے اور اسلامی مقدسات کی توہین کرنیوالوں کو فوری گرفتار کرئے،گستاخی صحابہ کرنیوالوں کے خلاف قانون کو حرکت میں نہیں لایا گیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے،آصف رضا علوی کا ملک سے باہر نکل جانا قانون پر سوالیہ نشان ہے،سوشل میڈیا پر گستاخ آمیز مواد کو ختم اور ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے، گستاخانہ خاکوں اور توہین قرآن کے معاملہ پر حکومت محض مذمت سے کام نہ چلائے،

    ثروت اعجاز قادری کا مزید کہنا تھا کہ اسلام دشمن قوتیں قرآن پاک کی توہین اور پیغمبر اسلامؐ کے خاکے شائع کر کے دنیا کو عالمی جنگ کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں،پاکستان فرانس حکومت پر گستاخ آمیز اشاعت کو روکنے کے لئے دباؤ بڑھائے،فرانس کے سفیر کو ناپسندیدہ قرار دیکر فوری ملک بدر کیا جائے،دنیا کو بتانا چاہتے ہیں مرسکتے ہیں ناموس رسالت پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کرینگے ،

    ثروت اعجاز قادری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اصحابِ رسولؐ کی توہین کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کرے،صحابہ کرامؓ پر تبرابازی کرنے کا سلسلہ روکانہ گیا توملک خانہ جنگی کا شکارہوجائے گا، شرپسند عناصر پاکستان کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں،قانون نافذ کرنے والے ادارے منصفانہ اورغیرجانبدارانہ طرزعمل اختیارکریں تاکہ قانون کی حکمرانی قائم ہواورملک فتنہ وفساد سے محفوظ رہے،فرقہ واریت اسلام وپاکستان کیخلاف سازش ہے، اہلسنّت ملک کو انتشار کی آگ میں جھونکنے کی ناپاک سازشیں ناکام بنائیں گے،انہوں نے کہا کہ ملک کے قومی اداروں کے ساتھ ہیں انتہاپسندی پھیلانے اور اسلامی مقدسات کی توہین کرنیوالوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے،

  • امید ہے نواز شریف صحت بہتر ہوتے ہی واپس آئیں گے، بلاول

    امید ہے نواز شریف صحت بہتر ہوتے ہی واپس آئیں گے، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن ملکر حکومت کے خلاف تحریک چلائے گی، تحریک کا فیصلہ اے پی سی میں ہو گا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اے پی سی کی میزبانی پیپلز پارٹی کرے گی،اگر ملک میں قانون ہے تو پھر پیپلز پارٹی نون لیگ جیسا ہی سلوک عاصم سلیم باجوہ سمیت عمران خان حکومت کے تمام معاونین، وزرا کا بھی احتساب کیا جائے ،خورشید شاہ تو آمدن سے زائد اثاثہ جات کے الزامات میں گرفتار ہیں مگر یہ کیوں نہیں؟ نیب کا دعوی تو فیس نہیں کیس کا ہے،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کوپیسہ نہ دینے کی باتوں سے وفاق کونقصان پہنچتا ہے، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف سے ملاقات مثبت رہی، چارٹر آف ڈیموکریسی کو مزیدفعال بناناچاہتےہیں، امید ہےنوازشریف کی صحت بہتر ہوتے ہی واپس آئیں گے،کچھ لوگ طعنہ دیتےہیں کہ سندھ کوپیسہ نہیں دیں گے، یہ پیسہ ان کے باپ کانہیں، سندھ کےعوام کاہے، ایسی باتوں سے وفاق کو نقصان ہوتاہے، ان کٹھ پتلیوں کو احساس نہیں، آپ کوسیاسی اختلافات چھوڑکرسب کا ساتھ دینا ہے.

    بلاول نے وزیراعظم کے دورہ کراچی سے قبل بڑا مطالبہ کر دیا

  • بلاول نے وزیراعظم کے دورہ کراچی سے قبل بڑا مطالبہ کر دیا

    بلاول نے وزیراعظم کے دورہ کراچی سے قبل بڑا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے وزیراعظم کے دورہ کراچی سے قبل بڑا مطالبہ کر دیا

    بلاول زرداری نے کہا کہ امید ہے وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ ملکر چلے گی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کی مدد کی ہے،کرونا کے بعد بارش آ گئی جس کی وجہ سے عوام مشکل میں ہے،عوام کی مشکلات حل کریں گے، صرف نالے صاف کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، عمران خان کراچی آ رہے ہیں امید ہے کراچی سمیت سندھ کے تمام عوام کے لئے پیکج کا اعلان کریں گے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، میر پور خاص، بدین کے لوگ کس صورتحال کا مقابلہ کر رہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ نے نہ صرف کراچی بلکہ اندورن سندھ کے بھی دورے کئے، عوام کی امیدوں پر پورا اترنا ہو گا، ہم کوشش اور محنت کریں گے، ہمیں یہ بھی پتہ ہے جو معاشی صورتحال ہے کرونا کے بعد کی، وہ بھی سب کے سامنے ہے، پھر بھی ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ کراچی کے انفراسٹرکچر میں بہتری لا سکتے ہیں،یہ بہت اچھی بات ہے، دو سال بعد ہمیں نظر آ رہا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کے لئے کچھ کام کرنا چاہتی ہے،پہلے کام نہیں ہوا تھا، ہم امید رکھتے ہیں کہ اب کام ہو گا،کراچی کے عوام کے مسائل بہت زیادہ ہیں وہ حل ہوں گے تو سب کو فائدہ ہو گا، یہ ملک کے عوام کے لئے فائدہ مند ہوں گے، ورلڈ بینک کے ساتھ کراچی کے کاموں کے حوالہ سے بات ہوئی،صفائی کا نظام ، سیوریج کا نظام آہستہ آہستہ بہتر ہو گا، ہم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں جو مشکل وقت میں یہاں پہنچے اور یکجہتی کا پیغام دیا،آرمی چیف بھی کراچی آئے، اسوقت پورا ملک کراچی کے ساتھ کھڑا ہے، اب عمران خان کراچی آ رہے ہیں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں الیکٹرک کے مسئلے کو حل کرنا ہو گا، جب آفات آتی ہیں تو بجلی کی وجہ سے شہریوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لوڈشیڈنگ بہت زیادہ ہے، وفاقی حکومت اس ضمن میں کردار ادا کرے، لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ کو حل ہونا چاہئے، مشکل وقت میں ہمیں اسکی ضرورت ہوتی ہے،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جن تاجروں کا نقصان ہوا انکو ریلیف دینے کی ضرورت ہے، ہمارا کوشش ہے کہ آج اور کل سے کراچی کے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے کر پھر دوسرے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیں گےمجھے خود جانا پڑا تو جاؤں گا، میڈیا کا شکر گزار ہوں میڈیا کو چاہئے کہ متاثرہ علاقوں کو دکھائے،متاثرین کی مدد کرنی چاہئے، ہم مشکل وقت سے گزر کے بلوچستان کے عوام کی بھی مدد کریں گے، بلوچستان کے لوگ بھی مشکلات کا شکار ہیں، فوٹیج دیکھی جو قیامت کا منظر لگا،بارش سے فصلوں کو بھی نقصان ہوا، گلگت بلتستان میں بھی بارشوں سے نقصان ہوا، ان لوگوں کی بھی مدد ہونی چاہئے.

  • کیماڑی آئل ٹرمینل پرآگ لگنے سے ملک بھر میں تیل کی سپلائی معطل

    کیماڑی آئل ٹرمینل پرآگ لگنے سے ملک بھر میں تیل کی سپلائی معطل

    کیماڑی آئل ٹرمینل پرآگ لگنے سے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معطل ہوگئی۔

    آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین شمس شاہوانی کا کہنا ہےکہ آگ سے ہمارا کافی نقصان ہوا ہے، حالات کی بہتری تک پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی روک دی اور فی الحال اپنی گاڑیاں آئل ٹرمینل سے ہٹالی ہیں، آگ پر قابو پانے کے بعد صورتحال دیکھ کرسپلائی بحالی کا فیصلہ کریں گے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق کیماڑی آئل ٹرمینل پر فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں جب کہ آتشزدگی سے 4 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ کی ٹیم اور فائر ٹینڈرز کیماڑی میں آئل ٹرمینل میں لگی آگ بجھانے میں معاونت کررہے ہیںپولیس کاکہنا ہےکہ جس پائپ لائن میں آگ لگی اس کی سپلائی بند کردی ہے اور آگ کو مزید بڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔

    آئل ٹرمینل پر آتشزدگی کے باعث ٹریفک کو آئی سی آئی پل سے متبادل راستے کی جانب بھیجا جارہا ہے
    کیماڑی میں شیل پاکستان ٹرمینل کے اندر سے گزرنے والی 20 انچ قطر کی پی ایس او کی درآمد لائن کو آگ لگ گئی ، حکام نے فوری کارروائی کی ، شیل پاکستان ٹیم کے ساتھ فائر بریگیڈ ، ہنگامی امدادی عملہ موجود ہے اور حفاظت کو یقینی بنانے میں اپنا تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • سندھ بھر میں بارشوں سے نقصان کی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ نے جاری کر دی،101 اموات ریکارڈ

    سندھ بھر میں بارشوں سے نقصان کی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ نے جاری کر دی،101 اموات ریکارڈ

    سندھ بھر میں بارشوں سے نقصان کی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ نے جاری کر دی،101 اموات ریکارڈ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں بارشوں نے تباہی مچادی،اگست میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ میرپور خاص میں سب سےزیادہ بارش ہوئی،بدین ،عمر کوٹ اور سانگھڑ میں سیلاب جیسے مناظر ہیں،جوہی میں 2لاکھ 40ہزار لوگ بارشوں سےمتاثرہوئے ہیں،ایک ہزار 640گھر وں کو نقصان پہنچا اور کچے مکانات تباہ ہوئے، کچے مکانوں میں رہنے والے لوگ اب سڑکوں پر رہ رہے ہیں

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ بارشوں اور نقصانات سے سندھ بھر میں 101 افراد جاں بحق ہوئے ہیں،نو اور 10 محرم کو پوری قوت کے ساتھ کام کیا سرجانی ٹاؤن کے یوسف گوٹھ سے پانی کی نکاسی مسئلہ بنی نیا ناظم آباد میں بھی پانی جمع ہو گیا تھا وہاں کی انتظامیہ کی مدد کی ،42ہزارخیمے متاثرین میں تقسیم کئے جا چکے ہیں،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی مخالفت کو ایک طرف رکھ کر عوام کی مدد کرنا چاہتے ہیں،

  • آپ نے وزیراعظم کوشامل تفتیش کیوں نہیں کیا؟ عدالت کا نیب سے سوال

    آپ نے وزیراعظم کوشامل تفتیش کیوں نہیں کیا؟ عدالت کا نیب سے سوال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ، پی ایس او میں غیرقانونی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے پی ایس او کے سابق ایم ڈیز کی تفصیلات پیش کردیں،شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ بھرتی کے لیے تمام ضابطوں پر عمل کیا گیا ،امیدواروں کے انٹرویوز کے بعد شارٹ لسٹ کیا گیا دیگر عہدوں پر بھی انٹرویوز کیے گئے ،شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے عدالت میں دلائل مکمل کرلیے

    نیب نے عدالت میں کہا کہ عمران الحق کی تقرری کے لیے اختیارات کاغیر قانونی استعمال کیاگیا،نیب پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کاحوالہ دینے کی کوشش کی جس پر جسٹس کے کے آغا نے نیب پراسیکیوٹر کو سپریم کورٹ فیصلے کا حوالہ دینے سے روک دیا

    عمران خان یہ کام کریں تو آزادی مارچ ختم ہو سکتا ہے، شیخ رشید

    مولانا فضل الرحمان کے لئے جیل تیار،کہاں رکھا جائے گا؟ خبر نے کھلبلی مچا دی

    پروڈکشن آرڈر والے کہاں ہیں،ان کو ایوان میں لایا جائے. ینل آف چیئر

    اگر ہتھیار استعمال کرتے تو یہ تھوڑے سے تھے، زرداری نے اسمبلی میں ایسا کیوں کہا؟

    ہمیں پروڈکشن آرڈرز کی کوئی ضرورت نہیں، آصف زرداری

    جسٹس کے کے آغا نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ ہمیں صرف نیب تفتیش کابتائیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ حوالہ بہت ہی اہم ہے،عدالت نے کہا کہ صرف یہ بتائیں کہ آپ نےتفتیش کیاکی ہے؟ آپ کاالزام یہی ہے کہ عمران الحق کی تقرری غیرقانونی ہے،آپ نے وزیراعظم کوشامل تفتیش کیوں نہیں کیا؟

  • این ایف سی کے سارے پیسے وزیراعلیٰ لے کر بیٹھ جاتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    این ایف سی کے سارے پیسے وزیراعلیٰ لے کر بیٹھ جاتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق سٹی ناظم کراچی، پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کراچی کو اس کے حقوق دیئے جائیں، نچلی سطح تک اختیارات منتقل ہونے تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سنا ہے کل وزیراعظم کراچی آرہے ہیں، کراچی آج کل پورے پاکستان کی نظروں میں ہے، وزیراعظم کراچی کیلئے صرف پیکج کا اعلان نہ کریں، پیکج سے کراچی کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جاسکتا، سب کے مل بیٹھنے سے امید ہے کراچی کے مسائل کا حل نکلے گا۔

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کراچی کو 18 ٹاؤنز اور ایک ڈسٹرکٹ میں دوبارہ بحال کیا جائے، کراچی کو اس کے حقوق دیئے جائیں، بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات اور فنڈز دیئے جائیں، این ایف سی کے سارے پیسے وزیراعلیٰ لے کر بیٹھ جاتے ہیں، فنڈز نچلی سطح تک نہیں پہنچائے جاتے۔

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    کراچی ڈوبنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ہوش آ گیا،اجلاس میں اہم حکم دے دیا

    کرونا کے باعث نالوں کی صفائی کا کام تاخیرکا شکار ہوا،وزیراعلیٰ سندھ

    صوبائی خود مختاری کے نام پر صرف ایک شخص کو اختیار دیا گیا،مصطفیٰ کمال

    کراچی کے مسئلہ پر آرمی چیف کو وزیراعلیٰ سندھ سے بات کرنی چاہئے،مصطفیٰ کمال نے کیا تشویش کا اظہار

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنی سیاست کی بقاکی خاطر صوبے میں لسانیت کی آگ لگا رہی ہے، ہم پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی جانب سے مہاجروں اور سندھیوں کو لڑوا کر انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھانے کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ کراچی کے بغیر پیپلز پارٹی کا سندھ کارڈ ادھورا ہے، اس لیے یہاں قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،میں مراد علی شاہ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے کراچی کے پہلے چھ ڈسٹرکٹس میں دودھ کی نہریں بہا دیں ہیں جو ساتواں ڈسٹرکٹ بھی بنادیا، پیپلز پارٹی والے اگر واقعی سندھیوں کے ہمدرد ہوتے تو صبر کر لیتے لیکن یہ مہاجروں سمیت سندھیوں کے بھی قاتل ہیں۔

  • فیصل قریشی کی مسلسل 7 دن بجلی کی عدم فراہمی پر کے الیکٹرک پر طنزیہ تنقید

    فیصل قریشی کی مسلسل 7 دن بجلی کی عدم فراہمی پر کے الیکٹرک پر طنزیہ تنقید

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور میزبان مسلسل جراچی کی خراب صورتحا ل اور بجلی کی عدم فراہمی پر سوشل میڈیا پر دُکھ اور برہمی کا اظہار کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : گزشتہ رات سوشل میڈیا پر اداکار نے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے گھر مون سون بارشوں کے بعد جانے والی بجلی اب تک بحال نہیں ہوسکی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں اداکار نے لکھا کہ کل صبح 8 بجے ماشاءاللہ سے بغیر بجلی کے سات دن ہوجائیں گے۔


    انہوں نے کے الیکٹرک کو ٹیگ کرتے ہوئے طنزاً ’شاندار‘ بھی لکھا۔

    اس سے قبل فیصل قریشی نے لکھا تھا کہ مسلسل 5 دن سے بجلی کی فراہمی معطل ہے جنریٹر پر گزارا کیا جارہا ہے۔

    اپنے ٹوئٹ میں دُکھ بیان کرتے ہوئے اداکار کا کہنا تھا کہ پانچ دن سے مسلسل جنریٹر چل رہا ہے اور اب وہ عجیب عجیب سی آوازیں بھی نکال رہا ہے۔

    انہوں نے کے الیکٹرک کو ٹیگ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کِیا آپ مجھے میرے نئے جنریٹر کے لئے ادائیگی کریں گے یا سال کا بل نہیں ہے حاصل کریں گے ؟؟؟ اب بھی میرے علاقے میں بجلی نہیں ہے


    یاد رہے کہ کراچی کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی ابھی تک بحال نہیں ہو سکی جبکہ ڈیفیس اور کلفٹن سے بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے اور بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف ان علاقوں کے رہائشیوں کی جانب سے رواں ہفتے پیر کو کنٹونمٹ بورڈ (سی بی سی) کے دفتر کے باہر احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

    ہ ہیڈ ڈسٹری بیوشن کے الیکٹرک احسن انیس کا کہنا ہے کہ ڈیفنس کے4 سے 5 علاقوں میں تا حال پانی موجود ہے پانی کی نکاسی کے بعد 6 سے 12 گھنٹوں میں بجلی بحال ہوگی

    اداکار فیصل قریشی مسلسل 5 دن سے بجلی کی عدم فراہمی پر کے الیکٹرک پر برہم

    کراچی کے 95 فیصد علاقوں میں بجلی معمول پرآگئی،کے الیکٹرک کا دعویٰ

    کراچی میں حالیہ بارشوں سے انفرا سٹرکچر تباہ ہوگیا

     

  • وزیراعظم این آر او کے جھوٹے بیانیے کے پیچھے چھپ رہے ہیں،شہباز شریف

    وزیراعظم این آر او کے جھوٹے بیانیے کے پیچھے چھپ رہے ہیں،شہباز شریف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کراچی کے دورے پر ہیں

    شہبازشریف کی گلستان جوہر آمد ہوئی ہے جہاں انہوں نے بارش کے متاثرین سے تعزیت کی شہبازشریف نے وفاقی وصوبائی حکومت سے سیلاب زدگان کی مالی امداد کا مطالبہ کیا

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر متاثرین کو فی الفور زرتلافی دیا جائے، انسانی جان کی قیمت نہیں ہوسکتی لیکن جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ کی مالی مدد کی جائے،جن گھروں میں سیلاب سے اموات ہوئی ہیں، مالی امداد کی فراہمی سے ان کی مشکلات کم کی جائیں،مکانات،دکانوں اور فصلوں کے نقصانات کا سامنا کرنے والوں کو معاوضہ ادا کیاجائے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی مشاورت سے امدادی پیک کا اعلان کرے ،وزیراعظم عمران خان کو سیلاب سے متاثرہ عوام کا کوئی احساس نہیں، انہیں کراچی آنے کی توفیق تک نہ ہوئی ،وزیراعظم فضول باتوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے مصیبت میں گھرے عوام کی خدمت پر توجہ دیں ،مصیبت زدہ عوام وفاق کی طرف دیکھ رہے ہیں

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سیاست کے بجائے اپنا فرض پورا کرے اور سندھ حکومت کی مدد کرے ،مسلم لیگ (ن) کے کارکن گھر گھر جاکر امدادی کاموں میں ہاتھ بٹائیں اور دین ودنیا دونوں کمائیں ،اس معاملے میں ذاتی طورپر نگرانی کروں گا، پارٹی کی قیادت اور کارکنان مصیبت زدہ عوام کے ساتھ ہیں،انشاءاللہ یہ مصیبت کا وقت ٹل جائے گا، متاثرین سے یک جہتی کرنے کراچی آیا ہوں ،عوام سیلاب، مہنگائی اور غربت میں پھنسی ہے، وزیراعظم ’این۔آر۔او نہیں دوں گا‘ میں پھنسے ہوئے ہیں

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آٹے، چینی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، وزیراعظم ’این آر او کے جھوٹے بیانئیے کے پیچھے چھپ رہے ہیں ،وزیراعظم عوام کے مسائل حل کریں، ورنہ قوم انہیں معاف نہیں کرے گی

    شہبازشریف نے ملیر کے پارٹی رہنماؤں فیروز خان، ملک تاج اورحاجی امین مانا سمیت کارکنان کا شکریہ ادا کیا.

    شہبازشریف کے ایک روزہ دورہ کراچی کی تفصیلات جاری

    صدر مسلم لیگ ن میاں شہباز شریف نے مسلم لیگ ن سندھ کے صدر سید شاہ محمد شاہ کی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت بھی کی،شہباز شریف نے ن لیگی کارکنان سے بھی خطاب کیا.

    شہباز شریف کا کراچی میں بھر پور استقبال،پہنچتے ہی وزیراعظم سے بڑا مطالبہ کر دیا

  • کراچی کا ڈُوبنا  تحریر:عدنان عادل

    کراچی کا ڈُوبنا تحریر:عدنان عادل

    کراچی ملک کا ایک یتیم اور لاوارث شہر ہے۔گزشتہ ہفتہ چند دنوں کی تیز بارش سے شہرمیںجوبربادی ہوئی ٹیلی ویژن چینل صبح شام دکھاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی حالت ِزار کی ویڈیوز نشر کرتے رہے۔ یہ اس شہر کا حال ہے جو وفاقی حکومت کی آمدن کا تقریباً نصف مہیا کرتا ہے اور سندھ حکومت کے محصولات کا نوّے فیصدلیکن بارش کی صورت میں نکاسئی آب کے انتظام سے محروم ہے۔ کراچی کے محنت کش عوام کماتے ہیں جس پر جاگیردار‘ وڈیر ے عیش کررہے ہیں لیکن شہر کے باشندوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ نہ صاف پانی ضرورت کے مطابق دستیاب ہے‘ نہ نکاسئی آب‘ نہ کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا بندوبست ہے ‘ نہ پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام۔ آدھا شہر کچی آبادیوں میں مقیم ہے۔ یہ کہنا کہ کراچی سمندر کے کنارے آباد ساحلی شہرہے آدھا سچ ہے۔ اب یہ شہرشمال اور مغرب کی جانب اتنا پھیل گیا ہے کہ اسکا بہت سا حصّہ سمندر کے کنارے واقع نہیں ہے بلکہ دُور واقع کیر تھرپہاڑیوں کے کنارے کو چُھو رہا ہے۔ ان پہاڑیوں میں قدرت نے ہزاروں برس میں پانی کے نکاسی کے راستے بنائے ہوئے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو پہاڑیوںسے پانی ان راستوں سے بہہ کر نیچے آتا ہے یعنی سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقہ میں جو کراچی کا مغربی علاقہ ہے۔ یہ برساتی نالے ملکر ہی شہر کی دو ندیاں بناتے ہیں جنہیں لیاری اور ملیر ندی کہا جاتا ہے۔ یہ ندیاں پانی لیکر سمندر میں گرتی ہیں۔ ان قدرتی نالوں کے راستوں میں رہائشی کالونیاں بن چکی ہیں جنکے ساتھ نکاسئی آب کی غرض سے ڈرین نہیں بنائے گئے۔ ان قدرتی برساتی نالوں اور ندیوں سے ریت نکالی جاتی ہے جس سے تعمیرات کی جاتی ہیں۔اس لئے ان ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ مزید تیز ہوگیا ہے جو شہر کا رُخ کرلیتا ہے۔ ماہر تعمیرات اور اربن پلانرعارف حسن صاحب کے مطابق شہر میںچونسٹھ پینسٹھ بڑے نالے ہیں اور ہزاروں چھوٹے چھوٹے نالے ہیں۔لیکن ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناتے ہوئے ان نالوں کو محفوظ نہیں کیا گیا بلکہ ان پر تعمیرات کرلی گئیں۔ پانی کے بہہ جانے کے قدرتی راستے مسدود کردیے گئے۔ چھوٹے چھوٹے نالے غائب ہوگئے۔اس پر مستزاد سڑکوں کے ساتھ بنائی جانے والی ڈرین ندیوں میں نہیں گرتیں جس کی وجہ سے بالآخر انکا پانی سڑکوں پر بہنے لگتا ہے۔جب زیادہ مینہ برستا ہے تو شہر کی سڑکیں برساتی نالوںمیں تبدیل ہوجاتی ہیں جسکا مظاہرہ ہم نے چند دنوں پہلے دیکھا ۔ 1960کی دہائی تک کراچی کاسرکاری ترقیاتی ادارہ (کے ڈی اے) اپنی اسکیموں میں گھروں کا گندہ پانی (سیویج) اور برساتی پانی کے نکاس کے لیے الگ الگ نظام بناتا تھا۔ تاہم نجی ہاوسنگ اسکیموں نے اپنے سیویج بڑے برساتی نالوں میں ڈالنے شروع کردیے۔ بعد میں کے ڈی اے نے بھی ایسا کرنا شروع کردیا۔ اب شہر کا بیشتر سیوریج برساتی نالوں میں جاتا ہے۔ سیوریج کا فضلہ برساتی نالوں میں جمتا ہے لیکن ان کی باقاعدگی سے صفائی نہیں کی جاتی کہ پانی کا بہاؤ ہوتا رہے۔ کچھ عرصہ پہلے عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے کراچی میں نکاسئی آب کے لیے اچھی خاصی فنڈنگ کی تھی لیکن وہ بھی ناقص فالو اَپ کی نذر ہوگئی۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی جو کراچی شہر میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرتی ہے اپنے رہائشیوں کونکاسئی آب کی مناسب سہولت تک مہیا نہیں کرسکتی۔ حقیقت یہ ہے کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ کالونی ایک بڑے برساتی نالہ کے راستے میں بنائی گئی ہے جو پانی کے سمندرمیں نکاس کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہاؤسنگ سوسائٹی بھی ایک بڑے قدرتی نالہ کا بہاؤ روکتی ہے۔ مائی کلاچی بائی پاس ایک بڑے نالے کے راستے میں تعمیر کیاگیا ہے۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ نالوں میںکی گئی ناجائز تجاوزات نے پوری کردی۔ کراچی کے بڑے نالوں کے بیچوں بیچ مکان اور دکانیں بنائی گئی ہیں۔پانی کیسے سمندر میں جائے؟شہر کے تین بڑے نالوں کا راستہ صاف کرنے کے لیے کم سے کم اسیّ ہزار مکانات منہدم کرنا پڑیں گے ۔جب یہ سب غیر قانونی کام ہورہا تھا تو حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے یاان کاموں میںشریک کار تھے۔ حال ہی میں نیا ناظم آباد کے نام سے ایک نئی پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم بنائی گئی جہاں بارش میں مکانات نو دس فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ اس کالونی میںبرساتی پانی کے نکاس کے لیے کوئی ڈرین نہیں بنائی گئی۔ لوگوں کی کروڑوں روپے کی جائیداد تباہ ہوگئی۔ اس ناقص ہاؤسنگ اسکیم کو بنانے والے اور اسکی منظوری دینے والے دونوں قصور وار ہیںلیکن بااثر لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کراچی شہر کی بیس سے زیادہ بڑی سڑکیں ہیں جس کے ارد گرد بڑے بڑے بنگلے تھے لیکن انہیں کسی منصوبہ بندی کے بغیر تجارتی علاقہ بنادیا گیا۔ اب وہاں بڑے بڑے پلازے ‘ شاپنگ مالز ہیں۔ جہاں چند سو لوگ رہتے تھے وہاں ہزاروں لوگ بزنس کرتے ہیں ۔ لاکھوں لوگ آتے جاتے ہیں۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ زیادہ لوگوں کے لیے استعمال کا پانی‘ نکاسئی آب کا بندوبست کیسے ہوگا اور ٹریفک کا ہجوم کیسے قابو کیا جائے گا۔ پارکوں کی کچی زمین پانی جذب کیا کرتی تھی وہاںچائنہ کٹنگ کرکے مکانات بنادیے گئے۔ ناجائز تجاوزات اور تجارتی علاقے قرار دیے جانے کے کام ایم کیو ایم نے انجام دیے۔ شہر کی تباہی میں وہ برابر کی ذمہ دار ہے۔ کراچی کے انفراسٹرکچر میں گزشتہ با رہ برسوں میں بہت کم سرمایہ کاری کی گئی۔ پیپلز پارٹی جب اقتدار میں آتی ہے‘ کراچی شہر کو نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ اسے یہاں سے ووٹ نہیں ملتے۔ اس بار تواسکے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری لیاری کی پکی سمجھے جانے والی اپنی خاندانی نشست سے بھی ہار گئے تو جذبہ انتقام اور بھی زیادہ ہے۔ رواں مالی سال کراچی شہر سے سندھ حکومت کو سوا تین سو ارب روپے کی آمد ن متوقع ہے لیکن سالانہ ترقیاتی بجٹ میں اسکے لیے صرف پچیس تیس ارب روپے کی اسکیمیںمختص ہیں۔ حالانکہ اس شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے کی خاطر سالانہ ڈیڑھ دو سو ارب روپے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ کراچی شہرسے کما کر اپنی جھولیاں بھرنے والے بہت ہیں لیکن اس پر خرچ کرنے والا کوئی نہیں۔ بارش کے بعد جب بھی شہر میں سیلاب آتا ہے چند روزاسکا اثر رہتا ہے۔ موجودہ حالات میں بہتری کے لیے کوئی ٹھوس کام ہوجائے تو معجزہ ہی ہوگا۔ ٭٭٭٭٭