Baaghi TV


کسٹمز اصلاحات سے درآمدی کلیئرنس کا وقت 18 گھنٹے تک محدود، مزید کمی کا ہدف

‎فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کی سفارشات اور ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے تحت کسٹمز نظام کو جدید بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کا مقصد بحری معیشت کو فروغ دینا، بین الاقوامی تجارت کو آسان بنانا اور بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
‎وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کے چیئرمین افتخار احمد راؤ اور سیکرٹری میری ٹائم افیئرز کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں میری ٹائم سیکٹر کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے بندرگاہوں اور کسٹمز کے نظام میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔
‎سید شکیل شاہ کے مطابق ان اصلاحات کے نتیجے میں درآمدی سامان کی کلیئرنس کا دورانیہ ایک سال کے اندر 52.9 گھنٹوں سے کم ہو کر 18.3 گھنٹے رہ گیا ہے۔ حکومت نے اب اس وقت کو مزید کم کر کے 12 گھنٹے تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ درآمدی اور برآمدی سرگرمیوں کو مزید تیز بنایا جا سکے۔
‎انہوں نے بتایا کہ بندرگاہوں پر 50 ہزار کنٹینرز ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی حاصل کر لی گئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور سامان کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
‎ممبر کسٹمز نے کہا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس نظام کے تحت فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو 16 فیصد اضافے کے بعد 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر 7.7 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ درآمدی ٹیکسوں کی وصولی میں مجموعی طور پر 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
‎انہوں نے مزید بتایا کہ بڑے بحری جہازوں کی پاکستانی بندرگاہوں پر آمد میں بنیادی ڈھانچے اور بنکرنگ قواعد کی عدم موجودگی بڑی رکاوٹ تھی۔ اب بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے بنکرنگ کے قواعد نافذ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر بڑے جہازوں کو ایندھن کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے بحری تجارت اور بندرگاہی سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

More posts