Baaghi TV

Category: کراچی

  • 
کراچی میں لاوارث لاشوں کی تعداد تشویشناک، رواں سال تقریباً 200 لاشیں برآمد

    
کراچی میں لاوارث لاشوں کی تعداد تشویشناک، رواں سال تقریباً 200 لاشیں برآمد

    ‎کراچی میں لاوارث لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں اور سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک شہر کے مختلف علاقوں سے تقریباً 200 لاوارث لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جن میں 13 خواتین بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ اموات کی وجوہات بھی واضح نہیں ہو سکیں۔
    ‎ایدھی فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق یہ لاشیں شہر کے مختلف علاقوں سے ملی ہیں، جن میں فٹ پاتھ، دریا کے کنارے، ویران جھاڑیاں، خالی مکانات اور دیگر سنسان مقامات شامل ہیں۔ بیشتر لاشوں کے پاس کوئی شناختی دستاویز موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے ان کی شناخت میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
    ‎صرف جولائی کے ابتدائی چار روز کے دوران مزید تین مردوں کی لاشیں ملنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ لاشوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ باعث تشویش ہے اور اس حوالے سے متعلقہ اداروں کی توجہ ناگزیر ہے۔
    ‎ایدھی حکام کے مطابق ابتدائی مشاہدات کی بنیاد پر بعض اموات کا تعلق ممکنہ طور پر منشیات کے استعمال سے ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اموات کی اصل وجوہات کا تعین صرف پوسٹ مارٹم، فرانزک تجزیے اور دیگر طبی معائنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
    ‎دوسری جانب پولیس کی جانب سے اب تک ان لاوارث لاشوں کے حوالے سے کوئی جامع باضابطہ رپورٹ یا تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ کتنے کیسز میں تحقیقات جاری ہیں یا کتنی لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ اس صورتحال پر شہریوں اور سماجی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاوارث لاشوں کی شناخت، اموات کی وجوہات اور ممکنہ جرائم کی تحقیقات کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی نہیں بلکہ صحت، سماجی بہبود اور منشیات کی روک تھام سے متعلق اداروں کے لیے بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ ان کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور جدید فرانزک سہولیات کے استعمال سے نہ صرف متاثرہ افراد کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے بلکہ اموات کی اصل وجوہات بھی سامنے لائی جا سکتی ہیں۔

  • 
کورنگی میں موبائل پر بات کرتے مزدور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

    
کورنگی میں موبائل پر بات کرتے مزدور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

    ‎کراچی کے علاقے کورنگی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 35 سالہ فضل وہاب کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تھا اور وہ روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھا۔
    ‎پولیس کے مطابق یہ واقعہ کورنگی نمبر 4 میں اویس شہید پارک کے قریب پیش آیا، جہاں موٹرسائیکل پر سوار تین افراد نے فضل وہاب کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جس کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس کے ذریعے لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔
    ‎ایس ایچ او کورنگی انسپکٹر ملک اشفاق کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ مقتول ابراہیم حیدری کے علاقے میں ایک تھلے والے کے پاس رہائش پذیر تھا اور مقامی یونین کونسل کے چیئرمین کے پاس مزدوری کرتا تھا۔ یوسی چیئرمین نے بھی مقتول کی شناخت کی تصدیق کر دی ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق واقعے کے وقت فضل وہاب موبائل فون پر کسی سے بات کر رہا تھا کہ اسی دوران ایک موٹرسائیکل پر سوار تین افراد اس کے قریب آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزمان نے پہلے اس سے مختصر بات چیت کی، جس کے بعد اچانک فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور فرار کے راستے کا تعین کیا جا سکے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے، جن میں ذاتی دشمنی، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر ممکنہ محرکات شامل ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ مقتول کے اہل خانہ اور قریبی افراد سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ قتل کی اصل وجہ تک پہنچا جا سکے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی، اسی وجہ سے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے، شرجیل میمن

    ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی، اسی وجہ سے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے، شرجیل میمن

    کراچی:سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے فاروق ستار کی پریس کانفرنس کو ایم کیو ایم کی سیاسی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی، اسی وجہ سے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے-

    سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے فاروق ستار کی پریس کانفرنس کو ایم کیو ایم کی سیاسی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے انہیں کراچی کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر وفاق سے سوال کرنے کا مشورہ دیا وفاقی مداخلت کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا بلیک میلنگ کا ثبوت ہے، ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی ہے، اسی وجہ سے اب شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے معاملات وفاق کے ہاتھ میں دینے کی بات وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش ہے، سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، یہ مینڈیٹ کسی پریس کانفرنس، دھمکی یا سیاسی بلیک میلنگ سے تبدیل نہیں ہوسکتا، ایم کیو ایم اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کے بجائے وفاقی اتحادیوں سے سوال کرے۔

    واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ساتھیوں اور گورنر شپ سمیت دیگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھیں گے۔

    فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ساتھیوں، آرٹیکل 140 اے، سندھ کی گورنر شپ اور اربن ڈیولپمنٹ پیکج جیسے مطالبات منظور نہ ہوئےتو ایم کیو ایم پاکستان جلد اسپیکر قومی اسمبلی کو ایک خط لکھے گی اور اپنے 22 اراکین کے لیے اپوزیشن بینچوں پر جگہ بنانے کی درخواست کرےگی 2022 میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دستخط کیے ، وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس معاہدے کے ضامن اور گواہ تھے، آخری وارننگ ہے، وزیر اعظم معاہدے پر عمل درآمد کروائیں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں، فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی نے بتایا ہے گورنر سندھ کو ہٹانے میں اُن کا ہاتھ نہیں ہے، وفاق اس معاملے پر وضاحت کرے۔

  • کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کیلئے انتظامی یونٹ بنائیں،ایم کیو ایم کا مطالبہ

    کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کیلئے انتظامی یونٹ بنائیں،ایم کیو ایم کا مطالبہ

    ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ساتھیوں اور گورنر شپ سمیت دیگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھیں گے۔

    فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لاپتہ ساتھیوں، آرٹیکل 140 اے، سندھ کی گورنر شپ اور اربن ڈیولپمنٹ پیکج جیسے مطالبات منظور نہ ہوئے تو ایم کیو ایم پاکستان جلد اسپیکر قومی اسمبلی کو ایک خط لکھے گی اور اپنے 22 اراکین کے لیے اپوزیشن بینچوں پر جگہ بنانے کی درخواست کرے گی، 2022 میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دستخط کیے ، وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس معاہدے کے ضامن اور گواہ تھے، آخری وارننگ ہے، وزیر اعظم معاہدے پر عمل درآمد کروائیں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں، پیپلز پارٹی نے بتایا ہے گورنر سندھ کو ہٹانے میں اُن کا ہاتھ نہیں ہے، وفاق اس معاملے پر وضاحت کرے۔

  • ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی،شرجیل میمن

    ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر،وزیر اطلاعات رہنما شرجیل میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیا ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم آج بھی عوامی مینڈیٹ کے بجائے شارٹ کٹ سیاست پر یقین رکھتی ہے، وفاقی مداخلت کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا سیاسی بلیک میلنگ کا ثبوت ہے،ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی ہے، اسی وجہ سے ایم کیو ایم اب شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے، کراچی کے عوام کے وسائل کو ایم کیو ایم سیاسی سودے بازی کا ذریعہ نہ بنائے،سندھ کے معاملات وفاق کے ہاتھ دینے کی بات وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش ہے، سندھ کوئی تجربہ گاہ نہیں کہ کسی جماعت کی سیاست کمزور پڑے تو حملہ آور ہو جائے .فاروق ستار کو یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، یہ مینڈیٹ کسی پریس کانفرنس، دھمکی یا سیاسی بلیک میلنگ سے تبدیل نہیں ہو سکتا، ایم کیو ایم کو اقتدار میں زیادہ حصہ چاہیے تو اس کا راستہ عوام کے ووٹ سے گزرتا ہے، وفاقی مداخلت یا آئینی اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے سے اقتدار نہیں ملتا۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا وفاق میں حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود کراچی کے لیے وعدوں پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کے بجائے وفاقی اتحادیوں سے سوال کرنا چاہیے، آئینی اختیارات، صوبائی خود مختاری اور کراچی کے عوام کے مینڈیٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، کراچی کی ترقی سیاسی بلیک میلنگ یا عہدوں کی تقسیم سے ممکن نہیں، سندھ حکومت صوبے کی ترقی، عوامی خدمت اور آئینی بالادستی کا سفر جاری رکھے گی

    واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کر دیا،کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں 2022ء میں کراچی کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے معاہدہ ہوا تھا، بلاول بھٹو نے اس معاہدے کو مانا اور دستخط کیے، ایم کیو ایم کی بار بار یاد دہانی کے باوجود معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا، پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ آخری معاہدہ ہے، کوئی اختیار نہیں مانگا گیا، وزیرِ اعظم اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کردار ادا کریں بصورتِ دیگر ایم کیو ایم احتجاج کرے گی،ملک بھر میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، ہر کوئی تکلیف اور کرب میں مبتلا ہے، شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، بلدیاتی قانون وضع کر دیتے تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا، کوٹہ سسٹم کے خلاف ہماری جدوجہد رہی ہے، اسے آئین میں گھسایا گیا ہے، کوٹہ سسٹم کا 40 فیصد حصہ نہیں مل رہا، جعلی ڈومیسائل پر ہمارے کوٹے پر نوکریاں دی گئیں، وفاق کو کہتا ہوں کہ وہ اپنا آئینی کردار ادا کرے، ماورائے آئین و قانون حکومت چلائی جا رہی ہے، میں نہیں کہہ رہا کہ گورنر راج لگائیں مگر ریفرنڈم کرائیں، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں،ہمارے سڑکوں پر آنے کا وقت آ گیا ہے، تیاری کر رہے ہیں، کراچی کے عوام کو بعد میں نہ روکیں، اگر روکنا ہے تو ابھی روکیں۔

  • کراچی: اینکر مرید عباس قتل کیس، فیصلہ محفوظ، 9 جولائی کو سنائے جانے کا امکان

    کراچی: اینکر مرید عباس قتل کیس، فیصلہ محفوظ، 9 جولائی کو سنائے جانے کا امکان

    کراچی میں معروف ٹی وی اینکر مرید عباس اور خضر حیات کے قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    عدالتی ذرائع کے مطابق مقدمے کا فیصلہ 9 جولائی کو سنائے جانے کا امکان ہے۔ یہ کیس گزشتہ سات برس سے زیرِ سماعت ہے اور اب اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ گیا ہے۔استغاثہ کے مطابق مقدمے کا مرکزی ملزم عاطف زمان اس وقت جیل میں قید ہے، جبکہ شریک ملزم عادل زمان تاحال مفرور ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہے۔

    واضح رہے کہ ٹی وی اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو 9 جولائی 2019ء کو کراچی میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔

  • 
بی آر ٹی یلو لائن کیس، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری

    
بی آر ٹی یلو لائن کیس، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری

    ‎کراچی میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) یلو لائن منصوبے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اینٹی کرپشن حکام نے منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق نوٹس انہیں جیل میں باقاعدہ طور پر وصول کرا دیا گیا ہے، جہاں وہ اس وقت اینٹی کرپشن کی تحویل میں ہیں۔
    ‎اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ ضمیر عباسی سے ان پر عائد سنگین الزامات کے حوالے سے تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے۔ شوکاز نوٹس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف کی مکمل تفصیلات مقررہ مدت کے اندر جمع کرائیں تاکہ ان کے جواب کا قانونی اور انتظامی سطح پر جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎حکام کے مطابق ضمیر عباسی کو جواب جمع کرانے کے لیے 14 روز کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر ان کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب غیر تسلی بخش قرار پایا یا الزامات کا مناسب جواب نہ دیا جا سکا تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، جس میں انہیں ملازمت سے برطرف کیے جانے کا امکان بھی شامل ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ضمیر عباسی اس وقت اینٹی کرپشن حکام کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں، جہاں ان سے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے سے متعلق مختلف معاملات پر تفتیش جاری ہے۔ تحقیقاتی ٹیم منصوبے کے مالی اور انتظامی امور سمیت دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ اگر کسی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
    ‎اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میرٹ اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ اس کیس میں سامنے آنے والے تمام شواہد اور متعلقہ دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر دیگر متعلقہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
    ‎واضح رہے کہ شوکاز نوٹس کا اجرا ایک انتظامی کارروائی کا حصہ ہے اور اس مرحلے پر عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین ہونا باقی ہے۔ ضمیر عباسی کو قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ کسی بھی حتمی کارروائی کا فیصلہ تحقیقات اور محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

  • 
گلشن معمار میں رکشے چھیننے والا 4 رکنی ڈکیت گینگ گرفتار

    
گلشن معمار میں رکشے چھیننے والا 4 رکنی ڈکیت گینگ گرفتار

    ‎کراچی کے علاقے گلشن معمار میں پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے رکشے چھیننے میں ملوث چار رکنی منظم ڈکیت گینگ کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے چھینے گئے تین رکشے اور مختلف گاڑیوں کی چھ نمبر پلیٹس بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔
    ‎پولیس کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر غنی آباد کے قریب کی گئی، جہاں چاروں ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان اسلحے کے زور پر شہریوں سے رکشے چھینتے تھے اور بعد ازاں انہیں کھول کر ان کے اسپیئر پارٹس مختلف مارکیٹوں میں فروخت کر دیتے تھے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے رکشے کراچی کے مختلف علاقوں، جن میں تھانہ سچل، لیاقت آباد اور قیوم آباد شامل ہیں، کی حدود سے چھینے گئے تھے۔ ملزمان سے برآمد ہونے والی چھ مختلف نمبر پلیٹس بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں، جنہیں وارداتوں کے دوران شناخت چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
    ‎پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق گینگ کے ممکنہ دیگر ساتھیوں، خریداروں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • 
مفتی تقی عثمانی آئندہ پانچ سال کے لیے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر منتخب

    
مفتی تقی عثمانی آئندہ پانچ سال کے لیے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر منتخب

    ‎وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں ممتاز عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی کو آئندہ پانچ سال کے لیے متفقہ طور پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا صدر منتخب کر لیا گیا، جبکہ قاری حنیف جالندھری کو ناظمِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رکھنے کی بھی اتفاق رائے سے منظوری دے دی گئی۔
    ‎کراچی میں منعقدہ اجلاس سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اجتماعیت، نظمِ جماعت اور اجتماعی قیادت کی اطاعت کا دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت سے وابستگی رکھنے والے ہر کارکن اور ذمہ دار پر اجتماعی فیصلوں کی پاسداری لازم ہے اور ذاتی رائے کو کبھی بھی اجتماعی نظم پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔
    ‎مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کامیاب تحریکیں واضح اصولوں، مؤثر حکمت عملی اور مضبوط پالیسیوں کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں، اس لیے جذبات کو ہمیشہ پالیسی کا تابع ہونا چاہیے، نہ کہ پالیسی کو وقتی جذبات کے مطابق تشکیل دیا جائے۔
    ‎انہوں نے برصغیر کی دینی و سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقسیم ہند سے قبل امارتِ شرعیہ کے قیام پر حضرت شیخ الحدیثؒ نے اس بنیاد پر اختلاف کیا تھا کہ امارت کے قیام کے لیے اقتدار اور قوت ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ دینی مدارس کے نصاب میں تاریخ کے ساتھ السیاست الاسلامیہ پر بھی مستقل کتاب شامل کی جائے تاکہ علماء کرام اسلامی سیاسی فکر اور عصری تقاضوں سے بہتر طور پر آگاہ ہو سکیں۔
    ‎اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے مفتی محمد تقی عثمانی کو آئندہ پانچ برس کے لیے صدر وفاق المدارس اور قاری حنیف جالندھری کو ناظمِ اعلیٰ برقرار رکھنے کی تجویز پیش کی، جسے شرکائے اجلاس نے مکمل اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔
    ‎جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری کے مطابق قائد جمعیت نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ دینی مدارس کی آزادی، اتحاد امت، نظریاتی تشخص اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد پہلے سے زیادہ قوت اور یکجہتی کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔
    ‎محمد اسلم غوری نے مفتی محمد تقی عثمانی اور قاری حنیف جالندھری کو نئی مدت کے لیے منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت میں وفاق المدارس دینی تعلیم کے فروغ اور مدارس کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • 
18ویں ترمیم کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں، وفاقی تعاون پر اعتراض نہیں: مراد علی شاہ

    
18ویں ترمیم کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں، وفاقی تعاون پر اعتراض نہیں: مراد علی شاہ

    ‎کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات حاصل ہیں، ان کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور آئین کے مطابق انتظامی اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس ہی رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وفاق مختلف اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے کوئی وفاقی ادارہ قائم کرتا ہے تو سندھ حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم آئینی حدود اور صوبائی خودمختاری کا ہر صورت احترام ضروری ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئین پاکستان میں واضح طور پر درج ہے کہ انتظامی یا ایگزیکٹیو اختیارات صوبوں کے پاس ہیں، اس لیے ہر فیصلہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ ملک کے مفاد میں ہے، لیکن ایسا کوئی بھی نظام صوبوں کے آئینی اختیارات کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔
    ‎مراد علی شاہ نے بتایا کہ ملکی سکیورٹی صورتحال اور جرائم کی روک تھام کو مؤثر بنانے کے لیے وفاق کے ساتھ ساتھ صوبے بھی اپنے انٹیلی جنس نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بھی معلومات کے تبادلے، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی بہتری کے لیے کئی نئے انٹیلی جنس اور نگرانی کے ادارے قائم کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں جاری طویل لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں 12 سے 18 گھنٹے تک بجلی کی بندش ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل لوڈشیڈنگ سے شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیاں اور صنعتی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ونڈ اور سولر توانائی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن وفاقی سطح پر رکاوٹوں کے باعث صوبہ اپنی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔ ان کے مطابق سندھ حکومت قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ بجلی کی قلت پر قابو پایا جا سکے، تاہم وفاق کی جانب سے اجازت نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
    ‎مراد علی شاہ نے زور دیا کہ اگر صوبوں کو اپنی قدرتی وسائل اور متبادل توانائی کے ذرائع استعمال کرنے کی آزادی دی جائے تو نہ صرف توانائی کے بحران میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔