Baaghi TV

Category: کراچی

  • ریسٹورنٹ انڈسٹری کے مسائل کے حل کیلئے حکومت اور تاجروں میں مشاورت پر اتفاق

    ریسٹورنٹ انڈسٹری کے مسائل کے حل کیلئے حکومت اور تاجروں میں مشاورت پر اتفاق

    پاکستان ریسٹورنٹس یونٹی ایسوسی ایشن کے چیئرمین عامر رفیق قریشی نے سیکریٹری فوڈ سندھ غلام عباس نائچ سے ملاقات کی، جس میں ریسٹورنٹ انڈسٹری کو درپیش مختلف مسائل، فوڈ سیفٹی اور کاروباری معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران ریسٹورنٹس میں فوڈ سیفٹی قوانین اور متعلقہ ایس او پیز پر عملدرآمد، کاروباری افراد کو درپیش عملی مشکلات اور ان کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر صنعت سے وابستہ افراد اور حکومتی اداروں کے درمیان بہتر رابطے اور مؤثر تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

    عامر رفیق قریشی نے کہا کہ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، تاہم اس کے ساتھ ریسٹورنٹ مالکان اور عملے کو قوانین، فوڈ سیفٹی کے تقاضوں اور ایس او پیز سے متعلق آگاہی اور تربیت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق آگاہی اور تربیت کے ذریعے قوانین پر عملدرآمد کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے نئے ریسٹورنٹس کے لیے مختلف سرکاری اداروں سے اجازت نامے اور این او سیز حاصل کرنے کے موجودہ طریقہ کار کو آسان بنانے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری افراد کی سہولت کے لیے ون اسٹاپ این او سی اور فسیلیٹیشن سسٹم قائم کیا جائے، جس سے مختلف محکموں سے الگ الگ اجازت نامے لینے کے عمل میں وقت اور مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

    ملاقات میں حکومت سندھ اور ریسٹورنٹ انڈسٹری کے درمیان مستقل رابطے اور مشاورت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ فوڈ سیفٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کاروباری ماحول کو آسان اور سہل بنانا بھی ضروری ہے تاکہ ریسٹورنٹ انڈسٹری مزید بہتر انداز میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس، مرکزی ملزم ارمغان کی درخواست ضمانت مسترد

    مصطفیٰ عامر قتل کیس، مرکزی ملزم ارمغان کی درخواست ضمانت مسترد

    کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ملزم کو کیس میں فوری طور پر ضمانت پر رہائی نہیں مل سکے گی۔

    پولیس کے مطابق ارمغان کے خلاف مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کے مقدمے کے علاوہ دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات بھی درج ہیں۔ ملزم کی پولیس مقابلہ، اقدام قتل اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سے متعلق مقدمات میں بھی درخواست ضمانتیں مسترد ہوچکی ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف درخشاں اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) تھانے میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ متعلقہ مقدمات میں پولیس کی جانب سے قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ عدالت میں ملزم کے خلاف مقدمات کی سماعت بھی قانون کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔

  • تاجروں نے جماعت اسلامی کی حمایت کردی، کل بڑی مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان

    تاجروں نے جماعت اسلامی کی حمایت کردی، کل بڑی مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان

    کراچی کی تاجر برادری نے جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 3 ستمبر کو دی گئی ملک گیر پُرامن شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کی حمایت کردی، جس کے باعث شہر کی تمام بڑی مارکیٹیں جمعرات کو بند رہیں گی۔

    تاجر رہنما عتیق میر نے مارکیٹوں کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 ستمبر کو کراچی بھر کی بڑی تجارتی مارکیٹیں ہڑتال کے باعث بند رکھی جائیں گی۔ کراچی ٹریڈرز الائنس کے جنرل سیکریٹری منہاج گل فراز کے مطابق موبائل فون اور الیکٹرانکس کی مارکیٹیں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال میں شامل ہوں گی۔

    کراچی میں مارکیٹوں کی بندش کا اعلان جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 3 ستمبر کو ملک گیر پُرامن ہڑتال کی کال کے بعد کیا گیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو مہنگائی اور اضافی مالی بوجھ سے ریلیف فراہم کیا جائے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے اور مارکیٹوں کے ساتھ اہم شاہراہوں پر بھی احتجاج کیا جائے گا، جبکہ آئندہ مرحلے میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آپشن بھی زیرِ غور آسکتا ہے۔

    تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے ٹیکسز، کاروباری اخراجات، مہنگائی اور مجموعی معاشی دباؤ کے باعث کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی شدید متاثر ہیں، اس لیے حکومت کو تاجروں اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔

    کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے اور شہر کی بڑی مارکیٹوں کی ایک روزہ بندش سے 3 ستمبر کو کاروباری سرگرمیاں نمایاں طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے۔ شہریوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ضروری خریداری اور دیگر کاروباری امور کے لیے متبادل دن کا انتخاب کریں۔

  • یکساں قومی ای فائلنگ نظام ،چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس

    یکساں قومی ای فائلنگ نظام ،چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں یکساں قومی ای فائلنگ نظام سے متعلق اہم اجلاس ہوا

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت اور سندھ بار کونسل کے وفد نے شرک کی،اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور ضلعی عدالتوں کے لیے یکساں اور معیاری قومی ای فائلنگ فریم ورک کی تیاری پر مشاورت کی گئی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بار کونسلز ای فائلنگ نظام کی اہم اسٹیک ہولڈر اور صارف ہیں، نظام کو قابلِ عمل، آسان اور صارف دوست بنانے میں وکلا کی تجاویز اہم ہوں گی۔مجوزہ نظام سے عدالتی کارروائیوں میں جدت، شفافیت، کیسز کی مؤثر ٹریکنگ، متحدہ الیکٹرانک ریکارڈ اور انصاف تک رسائی مزید آسان بنانے میں مدد ملے گی۔

    اجلاس میں تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرارز اور صوبائی بار کونسلز کے نامزد دو، دو ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔کمیٹی قومی سطح پر یکساں ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دے گی، جبکہ حتمی منظوری کے لیے ٹیمپلیٹس نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

  • جو حرام کھاتے ہیں،وہ آپ لوگوں کے لیے اچھے ہوتے ہیں،عدالت برہم

    جو حرام کھاتے ہیں،وہ آپ لوگوں کے لیے اچھے ہوتے ہیں،عدالت برہم

    وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غازی پولیس اہلکار کی جبری ریٹائرمنٹ پر برہمی کا اظہار کیا ہے

    1995 میں بلدیہ ٹاؤن میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ریڑھ کی ہڈی میں گولی لگنے والے پولیس اہلکار قرار حسین کو علاج فراہم نہ کرنے اور 2025 میں جبری ریٹائر کرنے کا معاملہ عدالت پہنچ گیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ”جو حرام کھاتے ہیں، بھتہ خوری کرتے ہیں وہ آپ لوگوں کے لیے اچھے ہوتے ہیں، جو سینے پر گولی کھائے وہ آپ کو اچھا نہیں لگتا”کیا پانچ لاکھ کی ادائیگی سے پورا جسم حاصل کرلیا گیا؟”اس طرح تو جانوروں کے ساتھ بھی نہیں ہوتا، یہ تو انسان ہیں، کم از کم اسی بنیاد پر قدر کریں”سب کچھ فورسز کے مورال سے ہوتا ہے، مورال ختم کردیں گے تو کون کھڑا ہوگا؟ عدالت نے جبری ریٹائرمنٹ سے متعلق رپورٹ اگلے سیشن تک طلب کرلی اور ڈی آئی جی کو طلب کرلی

  • ڈسٹرکٹ اور ڈویژن بڑھ سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں بڑھ سکتے؟،خالد مقبول

    ڈسٹرکٹ اور ڈویژن بڑھ سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں بڑھ سکتے؟،خالد مقبول

    ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہےکہ سندھو دیش کا نعرہ غداری نہیں لیکن سندھ میں نیا صوبہ بنانا غداری کہا جاتا ہے۔

    ڈیلس میں اسٹینڈ ود پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کہا کہ پاکستان میں آبادی کے ساتھ نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے، لسانی نہیں، انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بننے چاہئیں، ڈسٹرکٹ اور ڈویژن بڑھ سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں بڑھ سکتے؟ ،سندھو دیش کا نعرہ غداری نہیں، سندھ میں نیا صوبہ بنانا غداری کہا جاتا ہے موجودہ 4 صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں، پاکستان کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ضرورت ہے اور یہی ملک میں پولرائزیشن ختم کرنے کا راستہ ہے صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینا درست نہیں، سندھ میں نئے صوبے کا مطالبہ غداری قرار دیا جاتا ہے جبکہ ملک کی تقسیم کو غداری نہیں کہا گیا۔

    کراچی کے حوالے سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 2008ء تک کراچی دنیا کے 10 ابھرتے ہوئے شہروں میں شمار ہوتا تھا اور پورا پاکستان کراچی کے بلدیاتی نظام کی طرف دیکھ رہا تھا تمام حالات کے باوجود کراچی قومی بجٹ کا 60 فیصد فراہم کر رہا ہے جبکہ سندھ کے بجٹ کا 97 فیصد کراچی دیتا ہے، حیدر آباد، میرپورخاص، نوابشاہ اور سکھر مل کر باقی حصہ فراہم کرتے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ کراچی قومی اور صوبائی معیشت میں سب سے بڑا حصہ دیتا ہے، کراچی کے وسائل پر کراچی کا اختیار نہ ہونے کے برابر ہے، سندھ میں ایک طبقہ بجٹ بناتا ہے اور دوسرا اسے خرچ کرتا ہے جب کہ مردم شماری میں کراچی کے ساتھ ناانصافی ہوئی، اکیلا لیاقت آباد اتنا جی ایس ٹی دیتا ہے جتنا پاکستان کا دوسرا بڑا شہر۔

    مردم شماری پر سوال اٹھاتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گزشتہ 30 برس میں سب سے بڑی شہری آبادی میں اضافہ کراچی میں ہوا لیکن کاغذا ت میں کراچی کی آبادی میں 90 فیصد اضافہ دکھایا گیا جبکہ سندھ کے ایک اور شہر کی آبادی میں 780 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا جو ریاست ایمانداری سے مردم شماری نہیں کروا سکتی وہ کیا ایمانداری سے مردم شناسی کر سکتی ہے؟ تعصب سچ نہیں ہوتا لیکن سچ بھی تعصب نہیں ہوتا، اعداد و شمار درست ہوں تو انہیں تعصب قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    کراچی کے حالات کے حوالے سے خالد مقبول صدیقی نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں شہر کے حالات جان بوجھ کر خراب کیے گئے تاکہ سرمایہ ملک کے دیگر حصوں میں منتقل ہو، تاہم یہ سرمایہ بنگلا دیش، ملائیشیا اور افریقی ممالک تک منتقل ہو گیاکراچی والوں کا قصور بھی ہے، ان کا لہجہ معذرت خواہانہ ہے اور وہ اپنی شناخت پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔

    تعلیم سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب صوبائی وزراء ہی دے سکتے ہیں تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ وزارت ہے کیوں؟ایم کیو ایم چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ ٹریڈ ڈیفیسٹ سے زیادہ ٹرسٹ ڈیفیسٹ ہے، آئی ایم ایف حکومت بچاسکتا ہے، ملک نہیں، 18یں ترمیم نے اختیارات وفاق سے صوبوں تک پہنچائے،عوام تک نہیں، پاکستان طاقت سے نہیں، انصاف سے قائم رہ سکتا ہے-

  • جماعت اسلامی کا کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان

    جماعت اسلامی کا کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان

    جماعت اسلامی نے کل 3 ستمبر کو ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ چینی کی قیمت بڑھنے کے بعد اس کی برآمد کی کی اجازت دی گئی، جس کے نتیجے میں قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ عوام کو مسلسل مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے،حکومت کے پاس اسٹوریج موجود ہونے کے باوجود پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں-

    ان کا کہنا تھا کہ ریفائنریز اور آئل کمپنیوں کے ساتھ حکومتی گٹھ جوڑ کا اثر بھی عوام پر ڈالا جاتا ہے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ کسی صورت قبول نہیں، عوام پر بوجھ ڈال کر بڑے طبقے کو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں ، اگر روٹی 20 سے 25 روپے میں ملے گی تو غریب لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کیسے کھلائیں گے؟۔ حکومت ریلیف کے دعوے کرتی ہے تو ٹیکس بھی ختم کرے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ عوام، نوجوانوں، غریبوں اور مڈل کلاس طبقے کی تحریک ہے، مختلف طبقات ہماری ہڑتال اور تحریک کی حمایت کر رہے ہیں، وکلاء سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد تحریک میں موثر کردار ادا کریں،اسلام آباد کی کال، اسلام آباد اور راولپنڈی میں دھرنو ں سمیت تمام آپشنز موجود ہیں۔ کل شام آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پیٹرولیم لیوی اور بھتہ ٹیکس کی وصولی، آئی پی پیز کے معاہدوں اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر 17 روز سے دھرنا جاری ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میں بھی جماعت اسلامی کے کارکن دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

  • سندھ کابینہ کی پاسکو سے 2 لاکھ ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوری

    سندھ کابینہ کی پاسکو سے 2 لاکھ ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوری

    سندھ کابینہ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار 455 میٹرک ٹن گندم خریدنے اور صوبے میں گندم کے ذخائر مضبوط بنانے کے جامع منصوبے کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ حکومت ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے مزید 3 لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم بھی خریدے گی۔

    کابینہ نے پاسکو سے حاصل ہونے والی گندم کی صوبے کے مختلف علاقوں میں ترسیل کے انتظامات کی بھی منظوری دی۔ منصوبے کے تحت ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم کراچی منتقل کی جائے گی، جبکہ 30 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم حیدرآباد اور جامشورو پہنچائی جائے گی۔

    اجلاس میں شہید بینظیرآباد اور سانگھڑ کے پاسکو گوداموں میں موجود گندم کا ذخیرہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پاسکو کے موجودہ ذخائر سے شہید بینظیرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز کی گندم کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔

    محکمہ خزانہ گندم کی خریداری کے لیے 23 ارب 13 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کرچکا ہے، جبکہ گندم کی ترسیل کے اخراجات کی مد میں بھی 2 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں۔

    سندھ کابینہ نے درآمدی گندم کی خریداری کے لیے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ٹی سی پی اور سندھ حکومت کے درمیان سہ فریقی معاہدے کی منظوری بھی دے دی۔ اس کے علاوہ سندھ بینک سے کموڈیٹی فنانسنگ کے ذریعے درآمدی گندم کی پیشگی ادائیگیوں کی بھی منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں درآمدی گندم کی پیکنگ کے لیے باردانہ یعنی پی پی بیگز خریدنے کی منظوری بھی دی گئی۔ بندرگاہ سے درآمدی گندم اٹھانے کا یومیہ ہدف 5 ہزار میٹرک ٹن مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کابینہ نے خوراک سے متعلق ذیلی کمیٹی کو درآمدی گندم کی حتمی لینڈڈ کاسٹ کی منظوری دینے کا اختیار دے دیا۔

    سندھ کابینہ نے جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس کی تجویز کردہ گندم کے معیار کی بھی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں گندم کی بلاتعطل دستیابی اور اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گندم کی خریداری اور درآمد کا بنیادی مقصد صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت سندھ میں گندم کی وافر دستیابی برقرار رکھنے اور ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

  • میر رضا کیس،پہلے پوسٹ مارٹم پر پولیس سرجن سے جوڈیشل کمیشن کے سخت سوالات

    میر رضا کیس،پہلے پوسٹ مارٹم پر پولیس سرجن سے جوڈیشل کمیشن کے سخت سوالات

    کراچی: میر رضا کیس میں لاش کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے پولیس سرجن ڈاکٹر اسامہ جوڈیشل کمیشن کے روبرو پیش ہوئے، جہاں انہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

    جوڈیشل کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے استفسار کیا کہ انہوں نے ایم بی بی ایس کی ڈگری کب مکمل کی اور میڈیکو لیگل شعبے میں کب سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ انہوں نے 2016 میں ایم بی بی ایس مکمل کیا، 2019 میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سروس جوائن کی جبکہ 2021 میں پولیس سرجن آفس میں تعینات ہوئے۔ بعد ازاں انہیں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں بطور میڈیکو لیگل افسر تعینات کیا گیا۔

    کمیشن نے سوال کیا کہ کیا ایم بی بی ایس کے دوران میڈیکو لیگل کی تربیت دی جاتی ہے اور ڈگری مکمل کرنے کے بعد اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ٹریننگ ہوتی ہے؟ اس کے علاوہ ڈاکٹر اسامہ سے اب تک کیے گئے پوسٹ مارٹمز کی تعداد بھی دریافت کی گئی۔ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ وہ حتمی تعداد نہیں بتا سکتے، تاہم اب تک کم از کم 100 سے زائد پوسٹ مارٹم کرچکے ہیں۔ کمیشن نے سوال اٹھایا کہ کیا انہوں نے ڈپلومہ مکمل کیے بغیر پوسٹ مارٹم کیے؟ ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تقریباً 30 سے 50 پوسٹ مارٹم کیے ہوں گے۔

    کمیشن نے میر رضا کے پوسٹ مارٹم سے متعلق سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ پوسٹ مارٹم انہوں نے خود کیا تھا یا سویپر نے؟ ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ میر رضا کا پوسٹ مارٹم انہوں نے خود کیا تھا۔کمیشن نے دوبارہ استفسار کیا کہ پوسٹ مارٹم ڈاکٹر کرتے ہیں یا سویپر؟ ڈاکٹر اسامہ نے وضاحت کی کہ ہر پوسٹ مارٹم کے دوران سویپر بھی موجود ہوتا ہے۔اس موقع پر کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے سامنے اسمارٹ بننے کی کوشش نہ کریں۔ کمیشن نے رپورٹ میں جسم یا ہاتھ پر جلنے کے نشانات کے ذکر سے متعلق بھی سوالات کیے اور پوچھا کہ کیا پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج تفصیلات مناسب تھیں اور میر رضا کے جلنے کا ذکر کہاں کیا گیا ہے؟ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ جسم پر جلنے کے نشانات نہیں تھے بلکہ رنگ تبدیل ہوا تھا۔ اس جواب پر کمیشن نے سوال کیا، ’’کیا آپ ڈاکٹر ہیں بھی؟‘‘ کمیشن نے کہا کہ اگر رپورٹ میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کیا جائے۔کمیشن نے مزید نشاندہی کی کہ رپورٹ میں کسی ہڈی کے ٹوٹنے کا ذکر نہیں۔ ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ معائنے کے دوران کوئی واضح فریکچر نہیں ملا۔جوڈیشل کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا انہیں صرف ایک گولی کا نشان نظر آیا اور کیا لاش کا چہرہ ڈی کمپوز تھا؟ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ 24 سے 36 گھنٹوں کے دوران چہرہ ڈی کمپوز ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

    ’’دوست کمرے میں کچھ ڈھونڈ رہے تھے، بعد میں پارٹنرشپ معاہدہ غائب ملا‘‘
    میر رضا کے والدین نے بھی جوڈیشل کمیشن کے سامنے اہم تفصیلات بیان کیں۔میر رضا کے والد نے بتایا کہ بیٹے کی گمشدگی کے بعد فیروز آباد تھانے نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ نوجوان ہے، ممکن ہے ناراض ہوکر کہیں چلا گیا ہو۔ان کے مطابق ون فائیو پر رابطے کے باوجود پولیس کی جانب سے فوری مدد نہیں ملی۔ انہوں نے خود گھر کے قریب نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی، جس میں ایک گاڑی گھر کے سامنے سے گزرتی دکھائی دی۔ پڑوسی کے کیمرے کی فوٹیج میں میر رضا کو پیدل چلتے ہوئے دیکھا گیا۔والد نے بتایا کہ انہوں نے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور سے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے کی درخواست کی، تاہم اسٹور انتظامیہ نے انکار کردیا۔ بعد ازاں ایک جاننے والے اے ایس آئی کی مدد سے فوٹیج دیکھی گئی، جس میں میر رضا گاڑی میں بیٹھ کر جاتے ہوئے نظر آئے۔ان کے مطابق گاڑی خالد بن ولید روڈ کی جانب رانگ سائیڈ تیزی سے جاتی دکھائی دی اور پھر جھیل پارک کی طرف جاتے ہوئے نظر آئی۔ اہل خانہ نے اپنی مدد سے گاڑی کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جبکہ ان کے بقول پولیس نے ان کے سامنے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہیں کی۔ شام سات بجے ایس آئی او شبیر لغاری گھر آئے۔

    میر رضا کی والدہ نے بتایا کہ رات کے وقت میر رضا کے بزنس پارٹنر اور دیگر دوست گھر آئے اور کمرے کی تلاشی لی۔ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ شاید کوئی بس کا ٹکٹ تلاش کر رہے ہیں۔ والدہ کے مطابق انہیں سمجھ نہیں آیا کہ دوست کیا ڈھونڈ رہے تھے، تاہم بعد میں دوبارہ تلاش کرنے پر میر رضا کا پارٹنرشپ معاہدہ غائب پایا گیا۔والدہ نے کمیشن کو بتایا کہ 29 جولائی کی صبح میر رضا نے رینٹل کار سروس سے رابطہ کیا تھا۔ ڈرائیور احسان اللہ کے مطابق اس نے میر رضا کو گلستان جوہر بلاک ٹو میں اتارا تھا، جہاں میر رضا کا کلاؤڈ کچن بھی موجود تھا۔اہل خانہ خود ڈراپ لوکیشن پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ مقام کلاؤڈ کچن سے کچھ فاصلے پر تھا۔ کچن کے گارڈ نے بتایا کہ رات کے وقت کچن بند رہتا ہے اور مشورہ دیا کہ ممکن ہے میر رضا قریبی گیسٹ ہاؤس گیا ہو۔والدہ کے مطابق گیسٹ ہاؤس کا دروازہ بند تھا، اس لیے انہوں نے باہر سے ہی اندر موجود افراد کو میر رضا کی تصویر دکھائی۔ تصویر دیکھتے ہی اندر موجود لڑکے مبینہ طور پر اندر کی جانب بھاگ گئے۔

    کمیشن نے کہا کہ ممکن ہے لڑکے ڈر گئے ہوں، تاہم میر رضا کی والدہ نے بتایا کہ تصویر دکھاتے ہی گیسٹ ہاؤس میں بھگدڑ مچ گئی۔ اسی دوران چار موٹر سائیکلوں پر آٹھ افراد وہاں پہنچے اور بتایا کہ تین افراد پچھلی دیوار پھلانگ کر فرار ہوگئے ہیں۔

    میر رضا کے والد کے مطابق سامنے موجود اسکول کے گارڈ نے اہل خانہ سے کہا کہ وہ شریف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ گیسٹ ہاؤس جوہر تھانے کی سرپرستی میں چلتا ہے، اس لیے وہ وہاں سے چلے جائیں۔والد نے بتایا کہ گیسٹ ہاؤس سے فرار ہونے والے لڑکے کچھ فاصلے پر مل گئے، جنہیں پکڑ کر گیسٹ ہاؤس واپس لایا گیا۔ تاہم اہل خانہ کو بتایا گیا کہ گیسٹ ہاؤس میں فیملیز بھی موجود ہیں۔

  • میر رضا قتل کیس: تفتیشی افسر نے اہم دستاویزات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیں

    میر رضا قتل کیس: تفتیشی افسر نے اہم دستاویزات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیں

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے مطابق میر رضا علی خان قتل کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری نے کیس سے متعلق اہم دستاویزات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرا دی ہیں۔

    رجسٹرار کے مطابق تفتیشی افسر نے تمام دستاویزات رجسٹرار جوڈیشل کمیشن عبدالماجد کے حوالے کیں، جن میں میر رضا کی گمشدگی کی ایف آئی آر، کیس میموز اور گواہوں کے بیانات کی نقول شامل ہیں۔

    کیس کی تفتیشی ٹیم میں شامل افسران کی فہرست بھی جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادی گئی ہے۔ رجسٹرار کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے سندھ حکومت کے فوکل پرسن سے کیس کی مکمل تفصیلات طلب کی تھیں۔

    واضح رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتا ہوا تھا۔ وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا، تاہم دو روز بعد اس کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی۔

    پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش انتہائی خراب حالت میں ملی تھی اور اس کے سینے میں گولی لگی ہوئی تھی۔ لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کیے گئے تھے۔

    مقتول کے والد کے مطابق میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز کے حوالے سے انتہائی خوش تھا۔

    میر رضا کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ خامیوں کی نشاندہی کے بعد معاملہ مزید اہمیت اختیار کرگیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور مقتول کے والد نے بھی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

    بعد ازاں عدالتی حکم پر 8 اگست کو میر رضا کی قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے بعد اسی روز دوبارہ تدفین کردی گئی۔

    ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی جبکہ جسم پر تشدد کے متعدد نشانات موجود تھے۔ رپورٹ میں پسلیوں کے ٹوٹنے، سر اور چہرے پر متعدد زخموں اور جسم پر کالے دھبوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخموں کے نشانات پائے گئے، جبکہ جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے دھبے موجود تھے۔ دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی بھی نشاندہی کی گئی۔

    ابتدائی رپورٹ میں جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد کے ساتھ ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

    جوڈیشل کمیشن میں اہم دستاویزات جمع ہونے کے بعد کیس کی تحقیقات اور میر رضا کی موت کے اصل حقائق سامنے لانے کی کوششیں مزید اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔