حیدرآباد میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی مستحق خواتین سے غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 8 ڈیوائس ہولڈرز کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مستحق خواتین کی ہر قسط میں سے 1500 سے 2000 روپے تک غیر قانونی طور پر وصول کر رہے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق کارروائی لطیف آباد میں قائم بی آئی ایس پی سینٹر پر کی گئی، جہاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر چھاپہ مارا گیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ڈیوائس ہولڈرز امدادی رقم وصول کرنے آنے والی خواتین سے زبردستی رقم کاٹ کر انہیں کم ادائیگی کر رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ چھاپے کے دوران 8 ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔ کارروائی میں بائیومیٹرک ڈیوائسز، 13 لاکھ 86 ہزار روپے سے زائد نقد رقم اور اہم دستاویزی ریکارڈ بھی تحویل میں لے لیا گیا، جسے مزید تحقیقات کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں اس غیر قانونی نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے، جن کے خلاف جلد مزید کارروائیاں متوقع ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب اور مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے قائم کیا گیا ہے، اس لیے امدادی رقم میں کسی بھی قسم کی خرد برد یا غیر قانونی کٹوتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایف آئی اے نے مستحق خواتین سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی مرکز پر ان سے امدادی رقم میں غیر قانونی کٹوتی کی جائے یا اضافی رقم طلب کی جائے تو فوری طور پر متعلقہ حکام یا ایف آئی اے کو اطلاع دیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستحق افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور سرکاری فلاحی منصوبوں میں بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
بی آئی ایس پی کی خواتین سے رقم کٹوتی، حیدرآباد میں 8 ملزمان گرفتار
