کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے، جس کے باعث شہریوں کو سخت موسمی حالات کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے جبکہ حبس کے باعث گرمی کی شدت 44 ڈگری جیسی محسوس کی جا رہی ہے۔
دیگر شہروں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے، جہاں حیدرآباد میں محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت 47 ڈگری تک جا پہنچا ہے جبکہ سکھر میں بھی گرمی کی شدت 45 ڈگری تک ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت کے ساتھ نمی کے اضافے کی وجہ سے ہیٹ انڈیکس مزید بڑھ رہا ہے، جس سے گرمی کا اثر زیادہ محسوس ہو رہا ہے۔
شدید گرمی کے پیش نظر کراچی کے مختلف علاقوں میں ہیٹ ویو کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں جہاں شہریوں کو ٹھنڈا پانی، ابتدائی طبی امداد اور آرام کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدامات خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور محنت کش طبقے کو ریلیف دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں احتیاط کریں، زیادہ پانی استعمال کریں اور ہلکے کپڑے پہنیں تاکہ ہیٹ اسٹروک جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب ملک کے دیگر بڑے شہروں میں موسم نسبتاً معتدل ہے۔ لاہور میں درجہ حرارت 34، اسلام آباد میں 33 جبکہ پشاور میں 29 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے ان شہروں میں شہریوں کو گرمی کی شدت کم محسوس ہو رہی ہے۔
Category: کراچی
-

کراچی سمیت سندھ میں شدید گرمی، ہیٹ ویو کیمپ قائم
-

خفیہ اطلاع پر بغیر لائسنس ادویات تیار کرنے والی فیکٹری پر چھاپہ ،ملزم گرفتار
کراچی: ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے غیر قانونی ادویات بنانے والی فیکٹری کے خلاف کا رووائی کی، جس میں ملزم گرفتار کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون کی ہدایت پر ملیر میں بڑی کارروائی کی گئی جس سے جعلی فارما نیٹ ورک پر کاری ضرب لگائی گئی، خفیہ اطلاع پر بغیر لائسنس ادویات تیار کرنے والی فیکٹری پر چھاپہ ماراگیا۔ کارروائی کے دوران ملزم فیصل شاہد کو موقع پر گرفتار کیا گیا جو فیکٹری کا مالک اور آپر یٹر نکلا۔
چھاپے میں بڑی مقدار میں خام مال، تیار شدہ ادویات اور مشینری برآمد، جعلی پروڈکشن کا بڑا دھندا سامنے آگیا۔ برآمد شدہ سامان ڈریپ حکام کے حوالے کردیا گیا جبکہ سامان قانونی تقاضوں کے مطابق تحویل میں لے لیا گیا ہےمزید ملوث افراد کی تلاش جاری ہے اور نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کے لیے تحقیقات تیز کردی گئی ہیں۔
-
ہیٹ ویو میں کے الیکٹرک کا ریلیف پلان، لوڈشیڈنگ میں نرمی
کراچی میں ممکنہ ہیٹ ویو کے پیش نظر کے الیکٹرک نے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق شدید گرمی کے دوران بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
کے الیکٹرک حکام کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران سسٹم کی بہتری کے لیے کیے جانے والے تمام مینٹی ننس شٹ ڈاؤنز کو عارضی طور پر معطل کر دیا جاتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی تکنیکی خرابی یا مرمت کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
ترجمان نے بتایا کہ اس وقت کے الیکٹرک کا تقریباً 70 فیصد نیٹ ورک پہلے ہی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہے، جس سے شہریوں کی بڑی تعداد کو مسلسل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اگر شہر کا درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو دوپہر کے اوقات میں کی جانے والی اکنامک لوڈشیڈنگ بھی فوری طور پر روک دی جاتی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد شدید گرمی کے دوران شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ہیٹ ویو کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
کے الیکٹرک نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ ہیٹ ویو کے خطرات سے بچا جا سکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیٹ ویو کے دوران بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ -

چاندی کی قیمت میں اضافہ،سونا سستا
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں آج سونے کی قیمت میں کمی جبکہ چاندی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت 2 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 614 ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت بھی 200 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 83 ہزار 762 روپے ہوگئی، جبکہ فی 10 گرام سونا 172 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 14 ہزار 747 روپے پر پہنچ گیا۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی 193 روپے بڑھ کر 8 ہزار 14 روپے کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 165 روپے اضافے کے بعد 7 ہزار 870 روپے ہوگئی۔
-

کراچی میں ہیٹ ویو برقرار، درجہ حرارت 40 ڈگری تک جانے کا امکان
کراچی میں گرمی کی شدت برقرار ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دو دنوں میں درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ شہر میں جاری جزوی ہیٹ ویو کے باعث شہریوں کو شدید حبس اور گرمی کا سامنا ہے، جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت اصل سے 2 سے 3 ڈگری زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ اتوار اور پیر کو درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جو شہریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ آج کے دن درجہ حرارت 36 سے 38 ڈگری کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ مغربی سمت سے 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔
شہر میں سمندری ہواؤں کی رفتار کم ہونے کے باعث گرمی کی شدت میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیٹ ویو کے دوران براہ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں بارش کا کوئی امکان نہیں، جس کے باعث خشک اور گرم موسم برقرار رہے گا۔ اس صورتحال میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پانی کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں اور غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کریں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور محنت کش افراد کے لیے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ -

کراچی ہیٹ ویو 2015، اموات 5000 سے زائد ہونے کا دعویٰ
کراچی میں 2015 کی شدید گرمی کی لہر کے حوالے سے ایک بار پھر چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق ہیٹ اسٹروک سے جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہزار سے زائد تھی۔ یہ دعویٰ ایدھی فاؤنڈیشن کے ریکارڈ کے حوالے سے سامنے آیا، جس نے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ اموات کی نشاندہی کی ہے۔
یہ انکشاف پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام عالمی یوم مزدور کے موقع پر منعقدہ سیمینار میں کیا گیا، جہاں "ماحولیاتی تبدیلی اور مزدوروں کے حقوق” کے موضوع پر ماہرین نے اظہار خیال کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا محنت کش طبقہ ماحولیاتی تبدیلی میں کوئی کردار نہیں رکھتا، لیکن اس کے باوجود سب سے زیادہ متاثر یہی طبقہ ہوتا ہے۔
سیمینار میں بتایا گیا کہ 2015 کی گرمی کی شدید لہر کے دوران سرکاری طور پر تقریباً 300 اموات رپورٹ کی گئیں، تاہم ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق اصل تعداد 5 ہزار سے زیادہ تھی۔ مقررین کے مطابق ان اموات میں اکثریت محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی، جو شدید گرمی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پاکستان میں واضح ہو رہے ہیں اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے سانحات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے مؤثر حکمت عملی بنائی جائے، خاص طور پر مزدور طبقے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ -

کراچی،ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث "پاپا گروہ”کا سرغنہ گرفتار
پاکستان رینجرز (سندھ) نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی سے ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث "پاپا گروہ” سے تعلق رکھنے والے ملزم نعمان احمد عرف پاپا (گروہ کا سرغنہ) ولد محمد ظہور احمد کو گرفتار کر لیا،گرفتار ملزم کے قبضے سے چھینے گئے 2 عدد موبائل فونز اور1 عدد موٹرسائیکل برآمد کر لی گئی۔
تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شاہ فیصل کالونی، کورنگی، گلستان جوہر، ملیر اور ملحقہ علاقوں حتیٰ کہ پنجاب میں بھی ڈکیتی، اسٹریٹ کرائم، فائرنگ، پولیس مقابلے، موٹرسائیکل اور موبائل فون چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔گرفتار ملزم تقریباً 200 سے 250 ڈکیتی کی مختلف وارداتوں، 40 سے 50 موٹرسائیکلیں، 300 سے 400 موبائل فونز اور تقریباً 50 سے 60 لاکھ روپے چھیننے میں ملوث ہے۔ گرفتار ملزم کے مطابق بھینس کالونی میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہوا اور شاہ فیصل کالونی میں پولیس مقابلے میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ گرفتار ملزم عادی مجرم ہے اور پنجاب میں بھی ڈکیتی کے الزام میں گرفتار ہو چکا ہے اس کے علاوہ گرفتار ملزم کے خلاف کراچی اور پنجاب کے کئی تھانوں میں مختلف نوعیت کی متعدد ایف آئی آرز درج ہیں۔ گرفتار ملزم کے دو ساتھی رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں جبکہ دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔گرفتار ملزم کو بمعہ برآمد شدہ سامان مزید قانونی کاروائی کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
-

سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
مقامی اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں آج پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے،پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 4400 روپے کا اضافہ ہوگیا۔
ملک میں فی تولہ سونا 4400 روپے اضافے کے بعد 483,962 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 3772 روپے اضافے کے بعد 414,919 روپے کا ہو گیاہے اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 380,356 روپے ہوگئی،جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونا 44 ڈالر اضافے کے بعد 4616 ڈالر فی اونس کا ہو گیا ہے۔
اسی طرح، فی تولہ چاندی کی قیمت 55 روپے کے اضافے سے 7ہزار 821 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 47روپے کے اضافے سے 7ہزار 705روپے کی سطح پر آگئی۔
-

کراچی میں اے لیول کا پرچہ بھی لیک، امتحانی نظام پر سوالات
کراچی میں تعلیمی نظام ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گیا ہے جہاں میٹرک اور انٹر کے بعد اب اے لیول کا پرچہ بھی امتحان سے قبل لیک ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کیمبرج سسٹم کے تحت ہونے والے اے ایس ریاضی کے امتحان کا پرچہ رات گئے مبینہ طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہو گیا، جس نے طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پرچہ رات تین سے چار بجے کے درمیان لیک ہوا اور بعد ازاں مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ریڈٹ ایپ کے ذریعے اس پرچے کو فروخت کیا گیا اور پھر واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع کے ذریعے اسے وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔
لیک ہونے والا پرچہ "Pure Mathematics 1” سے متعلق بتایا جا رہا ہے، جس کا کوڈ 9707 تھا۔ اس واقعے نے امتحانی شفافیت اور نظام کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مئی جون سیشن کے امتحانات جاری ہیں۔
طلبہ اور والدین نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات محنتی طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہیں اور تعلیمی نظام پر اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ -

کراچی لاہور موازنہ مناسب نہیں، مشترکہ کام کی ضرورت: مرتضیٰ وہاب
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بارش کے دوران کراچی کی سڑکیں دو سے تین گھنٹوں میں صاف ہو جاتی ہیں اور ایسے حالات میں لاہور اور کراچی کا موازنہ کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے بجائے شہروں کی بہتری کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
لاہور میں واسا ہیڈ آفس کے دورے کے موقع پر وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی اور لاہور کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے معاہدہ کیا جا رہا ہے اور واسا لاہور کی حکمت عملی سے سیکھا جائے گا۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں شہر ایک دوسرے کے ساتھ اپنے انتظامی تجربات شیئر کرتے ہیں اور اسی طرح پاکستان کے بڑے شہر بھی ایک دوسرے سے سیکھ کر شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بلال یاسین کو کراچی آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق دیکھے بغیر موازنہ کرنا درست نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں پانی کے مؤثر استعمال کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں صنعتی استعمال کے لیے پانی کی فراہمی اور میٹھے پانی کے ذخائر کو محفوظ بنا کر شہریوں تک پہنچانا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں واسا لاہور نے ٹیرف میں اضافہ کیا ہے، وہاں کراچی میں ایسا نہیں کیا گیا۔
اس موقع پر وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین نے کہا کہ پنجاب حکومت کراچی کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بارش یا دیگر مسائل میں واسا لاہور، واسا کراچی کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔