سندھ کے سینئر وزیر،وزیر اطلاعات رہنما شرجیل میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم آج بھی عوامی مینڈیٹ کے بجائے شارٹ کٹ سیاست پر یقین رکھتی ہے، وفاقی مداخلت کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا سیاسی بلیک میلنگ کا ثبوت ہے،ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی ہے، اسی وجہ سے ایم کیو ایم اب شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے، کراچی کے عوام کے وسائل کو ایم کیو ایم سیاسی سودے بازی کا ذریعہ نہ بنائے،سندھ کے معاملات وفاق کے ہاتھ دینے کی بات وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش ہے، سندھ کوئی تجربہ گاہ نہیں کہ کسی جماعت کی سیاست کمزور پڑے تو حملہ آور ہو جائے .فاروق ستار کو یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، یہ مینڈیٹ کسی پریس کانفرنس، دھمکی یا سیاسی بلیک میلنگ سے تبدیل نہیں ہو سکتا، ایم کیو ایم کو اقتدار میں زیادہ حصہ چاہیے تو اس کا راستہ عوام کے ووٹ سے گزرتا ہے، وفاقی مداخلت یا آئینی اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے سے اقتدار نہیں ملتا۔
شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا وفاق میں حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود کراچی کے لیے وعدوں پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کے بجائے وفاقی اتحادیوں سے سوال کرنا چاہیے، آئینی اختیارات، صوبائی خود مختاری اور کراچی کے عوام کے مینڈیٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، کراچی کی ترقی سیاسی بلیک میلنگ یا عہدوں کی تقسیم سے ممکن نہیں، سندھ حکومت صوبے کی ترقی، عوامی خدمت اور آئینی بالادستی کا سفر جاری رکھے گی
واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کر دیا،کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں 2022ء میں کراچی کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے معاہدہ ہوا تھا، بلاول بھٹو نے اس معاہدے کو مانا اور دستخط کیے، ایم کیو ایم کی بار بار یاد دہانی کے باوجود معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا، پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ آخری معاہدہ ہے، کوئی اختیار نہیں مانگا گیا، وزیرِ اعظم اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کردار ادا کریں بصورتِ دیگر ایم کیو ایم احتجاج کرے گی،ملک بھر میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، ہر کوئی تکلیف اور کرب میں مبتلا ہے، شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، بلدیاتی قانون وضع کر دیتے تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا، کوٹہ سسٹم کے خلاف ہماری جدوجہد رہی ہے، اسے آئین میں گھسایا گیا ہے، کوٹہ سسٹم کا 40 فیصد حصہ نہیں مل رہا، جعلی ڈومیسائل پر ہمارے کوٹے پر نوکریاں دی گئیں، وفاق کو کہتا ہوں کہ وہ اپنا آئینی کردار ادا کرے، ماورائے آئین و قانون حکومت چلائی جا رہی ہے، میں نہیں کہہ رہا کہ گورنر راج لگائیں مگر ریفرنڈم کرائیں، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں،ہمارے سڑکوں پر آنے کا وقت آ گیا ہے، تیاری کر رہے ہیں، کراچی کے عوام کو بعد میں نہ روکیں، اگر روکنا ہے تو ابھی روکیں۔
