کراچی: شہر قائد کے علاقے کورنگی زمان ٹاؤن میں ایک شہری کی حاضر دماغی اور بہادری نے مسلح ڈاکوؤں کی ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں ڈاکوؤں کو فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ کورنگی ڈھائی نمبر کے قریب پیش آیا، جہاں تین موٹر سائیکلوں پر سوار چھ مسلح ملزمان ایک دکان میں داخل ہوئے اور اسلحے کے زور پر لوٹ مار شروع کر دی۔
اسی دوران قریبی مکان میں موجود ایک شہری نے ڈاکوؤں کی کارروائی دیکھتے ہی فوری ردعمل دیا اور ان پر فائرنگ کر دی۔ اچانک مزاحمت کا سامنا ہونے پر ڈاکو گھبرا گئے اور اپنی جان بچانے کے لیے موقع سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق فرار کے دوران ملزمان اپنی موٹر سائیکلیں بھی موقع پر چھوڑ گئے اور پیدل ہی مختلف سمتوں میں بھاگ نکلے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے فرار ہونے والے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
Category: کراچی
-

کورنگی میں شہری کی بہادری، مسلح ڈاکوؤں کی ڈکیتی کی کوشش ناکام
-

خراب انٹرنیٹ سروس پر کمپنی کو صارف کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
کراچی کی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ ساؤتھ نے ناقص انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے مقدمے میں صارف کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے نجی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی پر جرمانہ عائد کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ متعلقہ کمپنی متاثرہ صارف کو 50 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرے۔ اس کے علاوہ کمپنی کو 5 ہزار روپے جرمانہ قومی خزانے میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ صارفین کو معیاری اور مسلسل انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کمپنی کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کمپنی کو اپنی سروس کے معیار کو بہتر بنانے اور مستقبل میں بلا تعطل انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
یہ فیصلہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی کمپنی کی ناقص سروس سے صارف کو مالی یا عملی نقصان پہنچے تو وہ کنزیومر پروٹیکشن قوانین کے تحت متعلقہ فورم سے رجوع کر کے انصاف حاصل کر سکتا ہے۔
اس فیصلے سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی دیگر کمپنیوں کے لیے بھی یہ واضح پیغام گیا ہے کہ صارفین کو معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ان کی قانونی ذمہ داری ہے، بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی اور مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ -

بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں 8 ارب سے زائد بے قاعدگیوں کا انکشاف
کراچی: حکومت سندھ نے کراچی کے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے قاعدگیوں کے معاملے پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ ابتدائی انکوائری میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے بعد متعلقہ افسران کے خلاف مزید کارروائی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر محکمہ ٹرانسپورٹ میں 8 ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ کی انسپکشن ٹیم کو ذمہ داری سونپی گئی، جس نے مختلف پہلوؤں سے ابتدائی تحقیقات مکمل کرکے اپنی سفارشات وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی ہیں۔
چیئرمین سی ایم انسپکشن ٹیم بلال میمن کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی اور جھمان داس نے منصوبے پر عملدرآمد کے دوران مالیاتی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو نظرانداز کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں افسران نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھیکیداروں کو ساڑھے 8 ارب روپے کی پیشگی ادائیگیاں کیں، جس سے نہ صرف ٹھیکیداروں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا بلکہ منصوبے اور متعلقہ بینک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو بھی خطرات لاحق ہوئے۔
تحقیقات کے مطابق کنٹریکٹ مینجمنٹ، ٹیکس کٹوتی اور سرکاری خزانے میں رقوم جمع کرانے سے متعلق متعدد انتظامی ضابطوں کی بار بار خلاف ورزی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات سے حکومت سندھ اور مالیاتی اداروں کے مفادات کو نقصان پہنچا اور یہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔
انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ پورے عمل کے دوران مالیاتی پروٹوکول اور سیکیورٹی قواعد کو نظرانداز کیا گیا، جس سے سرکاری نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھے ہیں۔
اس سے قبل بھی مکمل مجرمانہ تحقیقات کی سفارش کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر اینٹی کرپشن حکام نے مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اب نئی رپورٹ میں مزید شواہد سامنے آنے کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ضمیر عباسی اور جھمان داس کی مبینہ مالی بے قاعدگیاں انہیں سول سروس کے لیے نااہل قرار دلوانے کا سبب بن سکتی ہیں اور ان کے خلاف مزید محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ -

انمول عرف پنکی کے دو ساتھیوں کا جسمانی ریمانڈ منظور
کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے دو ساتھیوں کی گرفتاری کا معاملہ سامنے آ گیا۔
پولیس نے ملزمان عاقب اور غلام عباس کو عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔مقدمے میں مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی مفرور ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمہ کو مقدمے میں عدم گرفتار کیوں ظاہر کیا گیا۔فتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کو ابھی تک مقدمے میں باقاعدہ گرفتار نہیں کیا گیا۔ عدالت کی اجازت کے بعد ملزمہ انمول عرف پنکی کو مقدمے میں گرفتار کیا جائے گا۔
ملزمان کے سی آر او اور تفتیش کے لیے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔
-

پی آئی اےبورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اسلم آر خان وفات پا گئے
کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین چیئرمین اسلم آر خان انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ چند روز سے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
اسلم آر خان گزشتہ چھ دہائیوں سے پی آئی اے کے ساتھ وابستہ رہے اور قومی ایئرلائن کی ترقی و بہتری کے لیے نمایاں خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کے انتقال کی خبر پر پی آئی اے کے افسران، ملازمین اور فضائی شعبے سے وابستہ حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔خاندانی ذرائع کے مطابق اسلم آر خان کی نمازِ جنازہ آج بعد از نمازِ جمعہ خیابانِ غازی، ڈیفنس کراچی میں ادا کی جائے گی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے اسلم آر خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کا مقام ادارے کے لیے ایک شفیق والد جیسا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلم آر خان کی قیادت، رہنمائی اور خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔سی ای او پی آئی اے کا کہنا تھا کہ اسلم آر خان کے انتقال سے وہ ذاتی طور پر اور پوری پی آئی اے فیملی شدید سوگوار ہے۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔
-

سینیئر اسپورٹس جرنلسٹ قمر احمد 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
کراچی: پاکستان کے ممتاز کرکٹ صحافی، تجزیہ کار اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹر قمر احمد 88 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور کافی عرصے سے علیل تھے۔
قمر احمد کا شمار پاکستان کے ابتدائی اور باوقار کرکٹ صحافیوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی طویل صحافتی زندگی میں دنیا بھر میں ہونے والے 400 سے زائد ٹیسٹ میچز اور 600 سے زیادہ ایک روزہ بین الاقوامی میچز کی رپورٹنگ کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد آئی سی سی ٹورنامنٹس اور عالمی کرکٹ ایونٹس کی بھی کوریج کی، جس کے باعث انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی ایک معتبر کرکٹ رائٹر کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔
قمر احمد 23 اکتوبر 1937 کو بھارتی ریاست اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں وہ پاکستان منتقل ہوئے اور صحافت کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اپنی زندگی کے ایک طویل عرصے تک وہ انگلینڈ میں بھی مقیم رہے، جہاں سے انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ کی رپورٹنگ اور تجزیے کا سلسلہ جاری رکھا۔
صحافت کے ساتھ ساتھ قمر احمد نے عملی کرکٹ بھی کھیلی۔ انہوں نے 17 فرسٹ کلاس میچز میں حصہ لیا اور قائداعظم ٹرافی میں حیدرآباد کی ٹیم کی قیادت کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ کرکٹ کے کھیل پر ان کی گہری نظر، مستند تجزیے اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ نے انہیں دنیا کے ممتاز کرکٹ لکھاریوں میں شامل کر دیا۔
ان کے انتقال پر کرکٹ حلقوں، صحافی برادری اور کھیل سے وابستہ شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق قمر احمد کی نماز جنازہ آج بعد نماز مغرب ڈی ایچ اے فیز فور، کراچی میں واقع بیت السلام مسجد میں ادا کی جائے گی۔ -

سندھ میں کم از کم اجرت 43 ہزار 500 روپے مقرر
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے اخراجات کا سب سے بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن پر مشتمل ہے، جبکہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 43 ہزار 500 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں دیا گیا 10 فیصد ایڈہاک ریلیف بھی اب بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے، جس سے ملازمین کو مستقبل میں بھی مالی فائدہ حاصل ہوگا۔
مراد علی شاہ کے مطابق سندھ حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن پر مجموعی اخراجات کا حجم ایک ہزار 264 ارب روپے ہے، جو صوبائی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق سے فنڈز کی کمی کے باعث صوبے کا ترقیاتی بجٹ متاثر ہوا ہے، اسی لیے آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔ تاہم حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ اگلے سال تک 2,056 جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبے کے مجموعی آمدنی کے بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ جاری اخراجات کے لیے 2 ہزار 560 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کو وفاق سے ریونیو اسائنمنٹ کی مد میں 2 ہزار 83 ارب روپے اور دیگر مالی منتقلیوں سمیت مجموعی طور پر 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال صوبائی ٹیکسوں اور سروسز سے 380 ارب روپے کی وصولی ہوئی، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 456 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا کہ سندھ کی اپنی ریونیو گروتھ 23 فیصد ہے، جبکہ ایف بی آر کی شرح نمو 10 سے 11 فیصد کے درمیان رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ آئین کے تحت صوبوں کے مالی حقوق محفوظ ہیں، تاہم موجودہ قومی صورتحال میں چاروں صوبوں نے ملکی دفاع کے لیے وفاق سے بھرپور تعاون کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت موجودہ بجٹ سے بھی 260 ارب روپے وفاق کو فراہم کرے گی، جبکہ وفاقی اور غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں میں صوبے کا حصہ بھی ہر صورت ادا کیا جائے گا۔ -

پنکی گینگ سے تعلق رکھنے والے 2 ملزمان گرفتار، آئس اور کوکین برآمد
کراچی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر پنکی گینگ کے لیے کام کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق بوٹ بیسن کے قریب خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے آئس اور کوکین بھی برآمد ہوئی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزمان پنکی گینگ کے لیے کام کرتے تھے، جبکہ ان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ گینگ کے دیگر ارکان اور سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل تفتیشی ٹیم کو انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے بڑی مقدار میں ڈیجیٹل مواد ملا تھا، جس میں 75 ہزار تصاویر، 100 جی بی ڈیٹا، رقوم کی وصولی سے متعلق سیکڑوں اسکرین شاٹس، 13 ہزار سے زائد رابطہ نمبرز اور 42 ہزار کال لاگز شامل تھے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے ہونے والی تفتیش کی روشنی میں گینگ کے نیٹ ورک اور ممکنہ سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
-

کراچی میں مبینہ پین بم معاملے کا ڈراپ سین ہو گیا
کراچی: ماڈل کالونی میں مبینہ پین بم دھماکے کے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا، جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی تحقیقات میں واقعے کے اصل حقائق سامنے آ گئے ہیں۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق زخمی نوجوان کو کوئی پین بم یا مشتبہ دھماکا خیز شے نہیں ملی تھی بلکہ اس نے ابتدائی بیان میں غلط معلومات فراہم کی تھیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان اپنے کزن کی سالگرہ کی تقریب کے لیے پٹاخہ خرید کر لایا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان پٹاخہ چلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ اس کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ پٹاخہ سالگرہ کی تقریب میں استعمال کے لیے خریدا گیا تھا۔سی ٹی ڈی کو واقعے کی ایک ویڈیو بھی حاصل ہوئی ہے جو زخمی شخص کے کزن کے موبائل فون سے لی گئی۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان کے ہاتھ میں موجود پٹاخہ پھٹتا ہے جس سے وہ زخمی ہو جاتا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں سڑک کنارے ملنے والی ایک مبینہ مشتبہ شے کے پھٹنے سے ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ زخمی شہری نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اسے سڑک پر ایک مشکوک شے ملی تھی اور جیسے ہی اس نے اسے اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تو وہ پھٹ گئی۔تاہم سی ٹی ڈی کی تحقیقات اور دستیاب شواہد کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ واقعہ کسی پین بم یا مشتبہ دھماکا خیز مواد کا نہیں بلکہ پٹاخہ ہاتھ میں پھٹنے کا تھا۔
-

عمرکوٹ: پولیس موبائل میں چرس کی سگریٹ بنانے کی ویڈیو وائرل
عمرکوٹ میں پولیس موبائل کے اندر چرس کی سگریٹ تیار کرنے کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام نے ڈی ایس پی پیتھورو سے واقعے کی تین روز کے اندر تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وائرل ویڈیو میں دو افراد جو سفید رنگ کا لباس پہنے ہوئے ہیں کو پولیس موبائل کے اندر چرس کی سگریٹ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں موجود نوجوانوں کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ساتھ ہی متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی ممکنہ غفلت یا لاپرواہی کا بھی تعین کیا جائے گا۔
حکام نے ہدایت کی ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔