Baaghi TV

Category: کراچی

  • ناظم آباد میں گھر سے لاش برآمد، اہلیہ زیرِ حراست

    ناظم آباد میں گھر سے لاش برآمد، اہلیہ زیرِ حراست

    ‎کراچی: شہر کے علاقے ناظم آباد میں ایک گھر سے ریٹائرڈ اسپتال ملازم کی لاش برآمد ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کو ابتدائی طور پر قتل قرار دیتے ہوئے مقتول کی اہلیہ کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق مقتول کی لاش اس کے گھر سے ملی، جہاں وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقتول کو گلا دبا کر یا پھندا لگا کر قتل کیا گیا، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ مقتول ماضی میں عباسی شہید اسپتال کے ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں ملازم رہ چکا تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ناظم آباد میں رہائش اختیار کیے ہوئے تھا۔
    ‎پولیس نے شبہ کی بنیاد پر مقتول کی اہلیہ کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا ہے، جہاں ان سے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
    ‎تفتیشی حکام کے مطابق خاتون نے ابتدائی بیان میں قتل سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، تاہم پولیس تمام شواہد، فرانزک رپورٹس اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی قتل کے محرکات اور ذمہ دار افراد کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

  • کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ

    کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ

    ‎کراچی: شدید گرمی اور عیدالاضحیٰ کے بعد قربانی کے گوشت کے غیر مناسب استعمال کے باعث کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
    ‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سول اسپتال کراچی میں روزانہ پیٹ کے امراض اور ڈائریا کے 200 سے زائد مریض علاج کے لیے لائے جا رہے ہیں، جبکہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں بھی گیسٹرو کے یومیہ مریضوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔
    ‎جناح اسپتال کے ڈاکٹر عمران کے مطابق بڑی تعداد میں شہری شدید پیٹ درد، الٹی، متلی، بخار اور لوز موشن کی شکایات کے ساتھ ایمرجنسی میں پہنچ رہے ہیں، جن میں بچوں اور بزرگوں کی تعداد بھی قابلِ ذکر ہے۔
    ‎طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عید کے بعد قربانی کا گوشت مناسب درجہ حرارت پر محفوظ نہ رکھنے، بار بار گرم کرنے اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کے باعث معدے اور آنتوں کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق فریزر میں طویل عرصے تک رکھا گیا گوشت اگر مناسب طریقے سے نہ پکایا جائے تو اس میں موجود جراثیم صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں خوراک میں بیکٹیریا کی افزائش بھی تیزی سے ہوتی ہے، جس کے باعث آلودہ یا باسی کھانا گیسٹرو اور اسہال کا سبب بن سکتا ہے۔
    ‎ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باہر کے غیر معیاری کھانوں، باسی گوشت اور آلودہ پانی سے پرہیز کریں، صرف ابلا یا صاف پانی استعمال کریں، تازہ اور اچھی طرح پکا ہوا کھانا کھائیں اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
    ‎ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسلسل الٹی، شدید اسہال یا پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔

  • گل پلازہ آتشزدگی، پولیس نے 5 افراد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    گل پلازہ آتشزدگی، پولیس نے 5 افراد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    ‎کراچی: گل پلازہ میں پیش آنے والے خوفناک آتشزدگی کے واقعے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کراچی پولیس نے کیس کا چالان تیار کرتے ہوئے مارکیٹ یونین کے عہدیداروں سمیت پانچ افراد کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، تاہم پراسیکیوشن نے تفتیش کو نامکمل قرار دیتے ہوئے چالان اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا ہے۔
    ‎پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان کے مطابق گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر حذیفہ عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان اور جس دکان سے آگ بھڑکی اس کے مالک نعمت اللہ کو واقعے کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
    ‎تفتیشی حکام نے چار صفحات پر مشتمل مرکزی چالان کے ساتھ سینکڑوں صفحات پر مشتمل دیگر دستاویزات بھی جمع کرائی ہیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر مذکورہ افراد کی ذمہ داری سامنے آئی ہے۔
    ‎دوسری جانب پراسیکیوشن نے پولیس کی تفتیش پر متعدد اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے ناکافی قرار دیا ہے۔ پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق کیس کے ساتھ انکوائری کمیشن کی مکمل رپورٹ منسلک نہیں کی گئی، جس کے باعث چالان کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔
    ‎پراسیکیوشن نے ہدایت کی ہے کہ گل پلازہ اور اس کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی تمام متعلقہ فوٹیج بھی تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائے تاکہ واقعے کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔
    ‎ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ پولیس نے متاثرہ دکان کے اردگرد موجود ممکنہ چشم دید گواہوں کو تلاش کرنے اور ان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ اسی وجہ سے تفتیش کو مزید مکمل کرنے اور تمام خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
    ‎اب پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات اور دیگر ضروری شواہد شامل کر کے نظرثانی شدہ چالان دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ مقدمے کی کارروائی مضبوط قانونی بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔

  • کراچی میں دکان میں دھماکہ، 5 افراد زخمی

    کراچی میں دکان میں دھماکہ، 5 افراد زخمی

    ‎کراچی: شہر کے علاقے شیرشاہ میں جناح روڈ کے قریب واقع ایک دکان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس، ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکا دکان کے اندر موجود زیر زمین پانی کے ٹینک میں گیس جمع ہونے کے باعث ہوا۔ گیس کے دباؤ میں اچانک اضافے کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا جس سے دکان کو نقصان پہنچا اور وہاں موجود افراد زخمی ہو گئے۔
    ‎ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو فوری طور پر ملبے سے نکال کر سول اسپتال کراچی کے برنس وارڈ منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ دھماکے کی نوعیت اور اسباب کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا، تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
    ‎انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ زیر زمین ٹینکوں، بند جگہوں اور گیس سے متعلق تنصیبات کی باقاعدہ جانچ کرائیں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار عناصر یا ممکنہ غفلت کا تعین بھی کیا جا رہا ہے۔

  • حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہئے، حافظ نعیم الرحمان

    حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہئے، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت کا آدھا بجٹ سود میں جاتا ہے، ایک اقلیتی رکن نے بھی کہا کہ سود اللہ سے جنگ ہے، لیکن اس کے باوجود سودی نظام کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھایا جا رہا ہے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا پورا بوجھ پاکستانی عوام پر پڑتا ہے سود کی ادائیگی کے باعث 540 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    اعلیٰ عدالتی احکامات کے باوجود حکومت سود ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں، نئے بجٹ میں کوئی نئی چیز نہیں، بجٹ میں تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا اور مہنگائی 8 فیصد بڑھی، مہنگائی کے دور میں نجی شعبے کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، تنخوا ہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو 43 ہزار روپے میں ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں بلاول بھٹو یہ بھی بتائیں کہ ان کے والد کی زمینوں پر کام کرنے والے ہاریوں کی کم از کم تنخواہ کتنی ہے۔

    انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بدترین فسطائیت قائم ہے عوامی رائے کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کراچی کا میئر قابض ہے ، یہاں بھی جمہوریت کو قبول نہیں کیا گیا،سندھ میں گزشتہ 40 سال سے پیپلز پارٹی حکمران ہے، اس کے باوجود صوبے کے بچوں کی حالت زار نہیں بدلی، ہزاروں بچے اسکولوں سے باہر ہیں ، نہ مناسب سڑکیں ہیں اور نہ ہی معیاری تعلیم۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں، صوبے پر 18 سال سے پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے، اندورنِ سندھ میں بچوں کو تعلیم اور صحت کیوں نہیں مل رہی، بنیادی صحت مراکز کا برا حال ہے، سندھ میں تعلیم روزگار اور صحت کا فقدان ہے، شہر میں سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں، سوال ہے ان سے جن لوگوں نے میئر اور پیپلز پارٹی کو ہم پر مسلط کیا۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کی صورتحال سب کے سامنے ہے شہر کی سڑکوں کا بھی برا حال ہے کراچی کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے جماعت اسلامی کی جا نب سے پیش کی گئی انٹرن شپ آفر کے لیے 8 ہزار بچوں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں سندھ حکومت نے طلبہ کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ پیپلز پارٹی کو فرینڈلی اپوزیشن ملی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے شہر کے مسائل پر کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔

    انہوں نے کہا کہ کبھی بریف کیس لے کر گلگت بلتستان اور بلوچستان پہنچ جاتے ہیں گلگت بلتستان میں ارکان کی خرید فروخت ہمارے ٹیکس کے پیسوں سےکی جا رہی ہے، پیٹرول پر لیوی کا اطلاق ان پر ہو رہا ہے جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، لیوی اس لیے کم کی گئی ہے کہ ہدف پورا کر کیا گیا، لیویز کا نفاذ ناجائز ہے، لیوی کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے،28 فروری کی قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہیں کی گئیں-

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخ کم کیے جائیں ، سلیب سسٹم ختم کیا جائے، آئی ایم ایف کے کہنے پر لیوی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے یہ 24 واں آئی ایم ایف پروگرام ہے اور ہر مرتبہ یہی کہا جاتا ہے کہ یہ آخری پروگرام ہوگ حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہیے۔شہر کے 90 فیصد لوگ موٹر سائیکل استعمال کر تے ہیں، اس لیے عوام کو فوری ریلیف دیا جانا چاہیے بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود اس کی ادائیگی کی جا رہی ہے آئی پی پیز کے معاہدوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چا ہیے انہوں نے وزیر خزانہ سے سوال کیا کہ ایف بی آر کیا کر رہا ہے ، 80 فیصد ٹیکس بھی جمع نہیں کر پاتا اور اس کے 25 ہزار ملازمین موجود ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے 800 ارب روپے اپنے انتظامی اخراجات پر خرچ کر دیے ہیایران نے امریکا اور اسرائیل کو شکست دی ہے، تاہم اسرائیل اب بھی لبنان پر حملے اور فلسطین پر بمباری کر رہا ہے انہوں نے مسلم ممالک سے اسرائیل کے خلاف مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کیا اور مزید کہا کہ حکومت نے ثالثی کے حوالے سے جو کردا ر ادا کیا، وہ ایک اچھا اقدام تھا۔

  • کراچی، تیز رفتار گاڑی امام بارگاہ کے باہر ٹینٹ میں گھس گئی، 11 افراد زخمی

    کراچی، تیز رفتار گاڑی امام بارگاہ کے باہر ٹینٹ میں گھس گئی، 11 افراد زخمی

    کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں صبا ایونیو کے قریب ایک تیز رفتار گاڑی امام بارگاہ کے باہر لگے ٹینٹ میں گھس گئی، جس کے نتیجے میں 11 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق حادثے میں ملوث گاڑی کے ڈرائیور سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں گاڑی کو تیزی سے آتے ہوئے سڑک پر نصب قناعتوں کو توڑ کر اندر داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں گاڑی شہریوں سے ٹکراتی ہوئی بھی نظر آتی ہے، جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گاڑی بریک فیل ہونے کے باعث بے قابو ہو کر مجلس کے مقام میں داخل ہوئی، جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔سید مراد علی شاہ نے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ گاڑی کو تحویل میں لے کر ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور واقعے کی مکمل انکوائری رپورٹ جلد پیش کی جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور دعا کا اظہار بھی کیا ہے۔

  • ‎کراچی میں مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام، کالعدم ٹی ٹی پی کا مشتبہ دہشت گرد گرفتار

    ‎کراچی میں مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام، کالعدم ٹی ٹی پی کا مشتبہ دہشت گرد گرفتار

    ‎کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مبینہ طور پر وابستہ ایک مشتبہ خودکش دہشت گرد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزم شہر میں بڑے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
    ‎سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت سلمان کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر مطلوب دہشت گرد زعفران کا قریبی ساتھی رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سائٹ ایریا میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں پر فائرنگ کے واقعے میں بھی ملوث رہا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
    ‎حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک خودکش جیکٹ، حساس مقامات کی تصاویر اور مختلف علاقوں کے نقشے برآمد کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ دہشت گرد زعفران پہلے ہی ایک مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے، جبکہ اس کی گرفتاری پر ایک کروڑ روپے انعام مقرر تھا۔
    ‎ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزم کو دیگر ساتھیوں کے ساتھ کراچی میں ایک بڑے خودکش حملے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ اس کے مزید مبینہ خودکش حملہ آور ساتھی بھی شہر پہنچنے والے تھے۔
    ‎سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم کے ایک ساتھی کی ہلاکت 2025 میں کوئٹہ میں فرنٹیئر کور پر ہونے والے خودکش حملے کے دوران ہوئی تھی، جبکہ ایک اور ساتھی گزشتہ سال ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں مارا گیا تھا۔
    ‎تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے مبینہ طور پر افغانستان میں خودکش حملوں کی تربیت حاصل کی۔ سی ٹی ڈی کے مطابق وہ مولوی مخلص یار کی ہدایت پر اپنے ساتھی ادریس عرف اسد اللہ کے ساتھ کراچی آیا تھا، جہاں مبینہ طور پر ٹارگٹ کلنگ کے بعد خودکش حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
    ‎ترجمان نے مزید بتایا کہ ملزم کے دیگر مبینہ ساتھیوں، سہولت کاروں اور ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

  • کراچی سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    کراچی سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    سندھ رینجرزنے خفیہ اطلاع پر کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت جاوید خان عرف سواتی کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع سوات کے علاقے شکردرہ کا رہائشی ہے ملزم کا تعلق کالعدم دہشت گرد کمانڈر فضل اللہ گروپ سے ہے اور وہ دہشت گردی کی متعدد سنگین کارروائیوں میں مطلوب تھاجاوید خان عرف سواتی نے سال 2007 میں فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں مختلف دہشت گرد سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم متعدد اسکولوں، پولیس چوکیوں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہا ہے، جبکہ اس پر سرکاری اسلحہ لوٹنے اور مختلف جائیدادوں پر غیر قانونی قبضوں کے الزامات بھی ہیں سال 2008 میں سوات میں ہونے والےفوجی آپریشن کے دوران ملزم مینگورہ میں روپوش رہااور بعد ازاں ملک سے فرار ہو کر بیرونِ ملک چلا گیا تھا۔

    رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ جاوید خان سال 2022 میں دوبارہ پاکستان واپس آیا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر متحرک ہوگیاگرفتار دہشت گرد سے مزید تفتیش مکمل کرنے کے بعد اسے قانونی کارروائی کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سوات کے حوالے کر دیا گیا ہےسیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی، جبکہ گرفتار ملزم سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مزید کارروائیوں کا بھی امکان ہے۔

  • چائے نہ پلانے پردوست قتل ، ملزم گرفتار

    چائے نہ پلانے پردوست قتل ، ملزم گرفتار

    کراچی: چائے نہ پلانے کے تنازع پر ایک شخص نے اپنے دوست کو قتل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق گزشتہ روز صدر کے ایک ہوٹل پر دو دوستوں عباس اور جہانزیب کے درمیان جھگڑا ہوا بات بڑھنے پر ملزم عباس نے تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں جہانزیب موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا،واقعے کے بعد ملزم فرار ہو گیا تھا، تاہم صدر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قتل کا معمہ حل کر لیا اور ملزم عباس کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول جہانزیب رکشہ ڈرائیور تھا جبکہ گرفتار ملزم عباس صدر کے علاقے میں ریڑھی پر پھل فروخت کرتا ہے،کہ دونوں کے دمیان چائے پلانے پر بحث ہوئی جو ایک بڑا تنازعہ اتیر کر گئی،ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق ملزم کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔

  • ڈی ایچ اے کمرشل پلاٹ فراڈ کیس، سندھ ہائی کورٹ کا 21 سال پرانی اپیل پر بڑا فیصلہ

    ڈی ایچ اے کمرشل پلاٹ فراڈ کیس، سندھ ہائی کورٹ کا 21 سال پرانی اپیل پر بڑا فیصلہ

    کراچی: ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں کمرشل پلاٹ کی خریداری میں مبینہ فراڈ کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ نے 21 برس پرانی اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے ہرجانے کی رقم 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 کروڑ روپے مقرر کر دی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ ریئل اسٹیٹ کمپنی اور پلاٹ کا موجودہ خریدار مشترکہ طور پر ہرجانے کی رقم ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ عدالت نے ہرجانے کی رقم پر 1998ء سے 15 فیصد سالانہ مارک اپ کی ادائیگی کا بھی حکم دیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق 1997ء میں کمرشل پلاٹ کی خریداری کے لیے 43 لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے، تاہم مکمل ادائیگی کے باوجود پلاٹ کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کر دیا گیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ جاری کردہ پے آرڈر معاہدے میں بطور قیمت استعمال ہوا تھا، جبکہ پلاٹ کے موجودہ خریدار کی جانب سے ادائیگی سے متعلق کوئی مؤثر دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مدعی تقریباً تین دہائیوں تک اپنے سرمائے اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رہا، جس کے باعث اسے مناسب معاوضہ دینا ضروری ہے۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ڈیفنس کے کمرشل پلاٹس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، لہٰذا صرف اصل رقم یا معمولی ہرجانے کی ادائیگی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتی۔عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو فیصلے کے مطابق ہرجانہ اور مارک اپ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔