Baaghi TV

Category: کراچی

  • 
کراچی میں 20 تولہ سونا چوری کرنے والی ملازمہ گرفتار

    
کراچی میں 20 تولہ سونا چوری کرنے والی ملازمہ گرفتار

    ‎کراچی: شہر کے علاقے رسالہ میں پولیس نے انٹیلی جنس بیسڈ ٹارگٹڈ کارروائی کرتے ہوئے گھر سے 20 تولہ سونا چوری کرنے والی گھریلو ملازمہ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے چوری شدہ سونے کا بڑا حصہ فروخت کر کے حاصل ہونے والی رقم سے کراچی میں ایک گھر بھی خرید لیا تھا۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمہ کی شناخت آصفہ کے نام سے ہوئی ہے، جو گزشتہ چھ ماہ سے متاثرہ خاندان کے گھر میں بطور ملازمہ کام کر رہی تھی۔ تفتیش کے مطابق ملزمہ نے 12 جون کو موقع پا کر گھر سے تقریباً 20 تولہ سونا چوری کیا، جس کے بعد متاثرہ خاندان کی شکایت پر تھانہ رسالہ میں مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
    ‎پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں اور خفیہ معلومات کی مدد سے ملزمہ کو گرفتار کیا۔ دوران تفتیش اس کے قبضے سے چھ تولہ مسروقہ سونا برآمد کر لیا گیا، جبکہ باقی سونے کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
    ‎پولیس کے مطابق ملزمہ نے اعتراف کیا کہ اس نے چوری شدہ سونے کا ایک بڑا سیٹ بلوچستان کے علاقے حب میں واقع ایک جیولر کو 21 لاکھ 50 ہزار روپے میں فروخت کیا۔ اس کے بعد تقریباً دو لاکھ روپے مالیت کا مزید سونا بھی حب کے ایک اور جیولر کے ہاتھ فروخت کیا گیا۔
    ‎تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمہ نے چوری سے حاصل ہونے والی رقم سے کراچی کے علاقے مواچھ گوٹھ میں اپنے نام پر ایک مکان خرید لیا۔ اس کے علاوہ اس نے کچھ سونا ایک اور جیولر کے پاس امانت کے طور پر بھی رکھوایا، جس کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔
    ‎رسالہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ حب میں موجود ان جیولرز اور دیگر متعلقہ افراد تک پہنچنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ چوری شدہ تمام سونا برآمد کیا جا سکے۔ پولیس کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس واردات میں کوئی اور شخص بھی ملوث تھا یا نہیں۔

  • سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج اور واک آؤٹ

    سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج اور واک آؤٹ

    وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا، ایوان میں نعرے بازی کی اور بعد ازاں واک آؤٹ کر گئے، تاہم وزیراعلیٰ نے اپنی بجٹ تقریر جاری رکھی۔
    مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 3 ہزار 562 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ صوبے کی ترقی کے لیے 720 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
    وزیراعلیٰ کے مطابق ترقیاتی فنڈز انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں، نکاسی آب اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ سندھ کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔
    وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کا صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس سال کسی بھی نئے ٹیکس کا نفاذ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کو ترجیح دی ہے۔
    وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ کے بجٹ کا مجموعی حجم 3 ہزار 562 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، سماجی تحفظ اور دیگر عوامی شعبوں کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ ترقی کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔
    ‎مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 720 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈز سڑکوں، پلوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے نہ صرف عوام کو بہتر سہولیات ملیں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری ملازمین کے لیے بھی اہم اعلانات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ منظور کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
    ‎انہوں نے مزید اعلان کیا کہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت ایک ہزار روپے بڑھا کر 41 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کم آمدنی والے مزدوروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکیں۔
    ‎مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ حکومت نے عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے محصولات میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر صوبے کی ترقی اور فلاحی منصوبوں کو جاری رکھنا ہے۔

  • ‎ٹیکس پالیسیوں کے خلاف کراچی کے صرافہ تاجروں کا احتجاج

    ‎ٹیکس پالیسیوں کے خلاف کراچی کے صرافہ تاجروں کا احتجاج

    ‎کراچی میں جیولرز اور صرافہ تاجروں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس اقدامات اور ریگولیٹری پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے لگائے گئے حالیہ ٹیکسوں اور سخت ضوابط پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تاجر برادری نے مکمل ہڑتال کی، جس کے باعث شہر کی تمام چھوٹی بڑی صرافہ اور جیولری مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں۔
    اپنے مطالبات کے حق میں دباؤ ڈالنے کے لیے صرافہ تاجروں نے ایک بڑی ریلی بھی نکالی۔ احتجاج کے دوران جیولرز برادری کے نمائندوں نے ایف بی آر کے ساتھ جاری مذاکرات کو بھی فوری طور پر معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ تاجر رہنماموں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، تب تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی، جس سے تاجروں اور ٹیکس حکام کے درمیان جاری یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

  • انمول پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد  غیر معمولی ڈیٹا حاصل کرلیا گیا

    انمول پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد غیر معمولی ڈیٹا حاصل کرلیا گیا

    منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے غیر معمولی اور وسیع ڈیجیٹل ڈیٹا ریکارڈ تفتیشی ٹیم نے حاصل کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے موبائل فون کی تیار کردہ فرانزک رپورٹ تفتیشی افسر کے حوالے کر دی گئی ہے، جس میں اہم شواہد سامنے آئے ہیں فرانزک رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا ریکور کیا گیا ہے اس کے علاوہ فون سے 75 ہزار سے زائد پیغامات بھی برآمد کیے گئے ہیں موبائل فون سے آن لائن ٹرانزکشنز، بینک سلپس اور اسکرین شاٹس بھی حاصل ہوئے ہیں جو مالی لین دین سے متعلق شواہد میں شامل ہیں۔

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 13 ہزار سے زائد افراد کے ساتھ رابطوں کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے انمول عرف پنکی ایک ہی موبائل فون میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی، جن میں ایک نمبر پر عام واٹس ایپ اور دوسرے پر بزنس اکاؤنٹ فعال تھا حاصل ہونے والا ڈیجیٹل مواد مزید تحقیقات اور شواہد کے تجزیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انمول پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرایا گیا تھا جب کہ پولیس نے 5 ملزمان کو مفرور قرار دے دیا تھا، ان ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں ملزمہ انمول عرف پنکی 16 سال سے منشیات کی تیاری میں ملوث تھی، ملزمہ نے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے کوکین کی تیاری سیکھی اور پھر طلاق کے بعد منشیات کا اپنا کام شروع کیا تھا، ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کر رہائش اختیار کرتی تھی۔

    چالان کے مطابق ملزمہ پنکی منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی اوراپنے خریداروں کو ذیشان اور سہیل کے اکاؤنٹس نمبر دیتی تھی، ملزم ذیشان رقم کی وصولی کے اسکرین شاٹ بھیجتا تو پنکی رائیڈرز کے ذریعے منشیات گاہک کو بھیج دیتی ملزم ذیشان کے 5 اور سہیل کے 2 اکاؤنٹس سامنے آئے، ذیشان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں سے زائد کی ٹرانز یکشن کا انکشاف ہوا،پنکی کے لاہور کے بینک اکاؤنٹ میں چھ کروڑ انتالیس لاکھ کی رقم موجود تھی، ملزمہ سادہ کوکین 20 ہزار روپے جب کہ گولڈن سٹف 40 ہزار فی گرام فرو خت کر تی تھی، کراچی اور لاہور میں ملزمہ کے خلاف ستائس مقدمات درج ہیں۔

    تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ کی ٹریول ہسٹری حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے جب کہ اس سے برامد شدہ منشیات اور دیگر اشیاء کی کیمیکل معائنہ کروایا گیا، اداروں کی جانب سے جوابات موصول ہونے کے بعد حتمی چالان جمع کروادیا جائے گا۔

  • 
شرجیل میمن کی خالد مقبول پر کڑی تنقید، کراچی کسی جماعت کی جاگیر نہیں

    
شرجیل میمن کی خالد مقبول پر کڑی تنقید، کراچی کسی جماعت کی جاگیر نہیں

    ‎سندھ کے سینئر صوبائی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پورے پاکستان کا معاشی مرکز اور سندھ کا دارالحکومت ہے۔
    ‎اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس سیاسی قوت نے شہر میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا اور کس دور میں شہر بھتہ خوری، لسانی کشیدگی اور بوری بند لاشوں جیسے المناک واقعات کی زد میں رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاست کے آغاز سے قبل کراچی ایک پُرامن اور متحرک شہر تھا جہاں دہشت گردی اور تشدد کا موجودہ طرزِ سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
    ‎صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی کے تلخ تجربات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور کراچی کے شہری بخوبی واقف ہیں کہ شہر نے کن ادوار میں بدامنی، خوف اور عدم استحکام کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق شہری مسائل کو صرف سیاسی نعروں یا جذباتی بیانات سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔
    ‎شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کراچی کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہری سہولتوں کی فراہمی شامل ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی میں جدید ٹرانسپورٹ نظام متعارف کرانے، سڑکوں کے جال کو بہتر بنانے اور شہری سہولتوں میں اضافے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں، جن کے نتائج عوام کو بتدریج نظر آ رہے ہیں۔
    ‎شرجیل میمن کے مطابق کراچی میں ہونے والی مثبت تبدیلیاں اور ترقیاتی کام پیپلز پارٹی کی پالیسیوں اور عملی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہری مسائل کے حل اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے اور مستقبل میں بھی ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی کی سیاست میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بیانات کا تبادلہ ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جبکہ دونوں جماعتیں شہر کی نمائندگی اور ترقیاتی کارکردگی کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

  • 
سندھ کو مالی مشکلات کا سامنا، تنخواہوں میں اضافے پر غور جاری: مراد علی شاہ

    
سندھ کو مالی مشکلات کا سامنا، تنخواہوں میں اضافے پر غور جاری: مراد علی شاہ

    ‎وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو اس وقت شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے محتاط فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپنی مالی گنجائش کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ تنخواہوں میں کتنا اضافہ ممکن ہے۔
    ‎کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی حکومت کی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی، وفاق کے ساتھ تعلقات، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود سندھ حکومت نے ریکارڈ مدت میں چھ بڑے میگا پراجیکٹس مکمل کیے ہیں، جو عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچے۔
    ‎مراد علی شاہ نے ماضی کے وفاقی وعدوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام اب اپنے حقوق سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی اور سندھ کے لیے بڑے بڑے اعلانات کیے گئے لیکن عملی طور پر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ ان کے بقول ایک سابق وفاقی رہنما نے 1100 ارب روپے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا لیکن ان وعدوں کا کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ موجودہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 64 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد۔سکھر موٹروے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم شاہراہ کی تعمیر آئندہ سال جنوری میں شروع ہونے کی توقع ہے اور اسے تقریباً ساڑھے تین سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔
    ‎پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ سندھ کو اپنے حصے کے پانی میں 41 فیصد کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کو باضابطہ احتجاجی خط بھی ارسال کیا جا چکا ہے تاکہ صوبے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پر تنقید کی اور کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ اگر انہیں اپنی عوامی حمایت پر اعتماد تھا تو انہیں انتخابی میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے تھا۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے عہدے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہٹانے کی افواہیں گزشتہ کئی برسوں سے سننے میں آ رہی ہیں، تاہم ان کی تمام تر توجہ عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر مرکوز ہے۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی پر وزیراعظم کا اعلیٰ قیادت کے کردار کا اعتراف: سینیٹر شیری رحمان

    پاکستان کی سفارتی کامیابی پر وزیراعظم کا اعلیٰ قیادت کے کردار کا اعتراف: سینیٹر شیری رحمان

    ‎سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے تناظر میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے ملک کے لیے قابلِ فخر کامیابی قرار دیا۔
    ‎شیری رحمان نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر قیادت کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے اور امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر جلد باضابطہ دستخط بھی ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سفارتی اقدامات کی بدولت امن کا عمل آگے بڑھتا رہا۔
    ‎شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بیک ڈور اور سائیڈ چینل سفارت کاری کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ دنیا بھر کے عوام کو پہنچ سکتا ہے۔
    ‎بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18 کھرب روپے سے زائد حجم کے بجٹ میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو مزید ریلیف ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ عوام اور صوبوں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم صوبوں کو منتقل نہیں کی جاتی۔
    ‎انہوں نے زور دیا کہ صحت، تعلیم اور سماجی شعبوں کی ذمہ داری زیادہ تر صوبوں پر عائد ہوتی ہے، اس لیے صوبوں کے مالی وسائل میں کمی ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، تجارت اور سروسز سیکٹر کو مؤثر انداز میں ٹیکس نظام میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
    ‎شیری رحمان نے خواتین کے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی، بے روزگاری اور زرعی شعبے کے مسائل پر بھی فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں کپاس، گندم اور چینی برآمد کرتا تھا لیکن آج ان اشیا کی درآمد پر انحصار بڑھ رہا ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے پہلے ہی مشاورت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے تاکہ بہتر اور متوازن معاشی پالیسی تشکیل دی جا سکے۔

  • سونے اور چاندی کی  قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    سونے اور چاندی کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں آج اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج پیر کے روز فی اونس سونے کی قیمت مسلسل تیسرے دن بھی 108ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 327ڈالر کی سطح پر آ گئی جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی کاروباری ہفتے کے پہلے روز فی تولہ سونے کی قیمت مزید 10ہزار 800روپے کے بڑے اضافے سے 4لاکھ 55ہزار 136روپے کی سطح پر آگئی اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 9ہزار 720روپے کے اضافے سے 3لاکھ 89ہزار 600روپے کی سطح پر آگئی۔

    اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 30سینٹس کے اضافے سے 70ڈالر 30سینٹس کی سطح پر آگئی، جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 230روپے کے اضافے سے 7ہزار 509روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 197روپے کے اضافے سے 6ہزار 396روپے کی سطح پر آگئی۔

  • انمول  پنکی   کیخلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع

    انمول پنکی کیخلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع

    پولیس نے انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع کرادیا۔

    کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے جنوبی نے انمول عرف پنکی اور دیگرکےخلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کی جہاں تفتیشی افسر نے عبوری چالان عدالت میں جمع کرادیا عبوری چالان کے مطابق کیس میں 3 خواتین سمیت 5 ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا اور عبوری چالان میں 16 گواہان کے نام بھی شامل ہیں، مقدمے میں انمول عرف پنکی، ذیشان الرحمٰن، سہیل الرحمٰن، محمد سمیر گرفتار ہیں، مفرور ملزمان میں بیسل امیکا عرف عینا، حمیرا، صابرہ بی بی میں شا مل ہیں۔

    عبوری چالان کے مطابق پولیس نے ملزمہ کو اُسکے گارڈن والے فلیٹ سے 11 مئی کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کیخلاف سال 2018 سے 2026 تک کراچی اور لاہور میں مقدمات درج ہوچکے ہیں، مفرور ہونے کی وجہ سے انمول کے بینک اکاؤنٹ، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک ہوچکے ہیں گرفتاری کے وقت تیار شدہ 1240 گرام کوکین جبکہ پندرہ کیپسول کوکین جسکا وزن 3 سو گرام ہے برآمد ہوئے، ملزمہ سے منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان اور نقدی بھی برآمد ہوئی-

    عبوری چالان کے مطابق ملزمہ 16 سال سےمنشیات کی تیاری میں ملوث ہے، ملزمہ نے سابق شوہر سے کوکین بنانا سیکھا اور ملزمہ نے طلاق کے بعد اپنا کام شروع کیا ملزمہ کراچی کے پوش علاقے میں کوکین فروخت کرتی ہے، ملزمہ تعلیمی ادارے اور پارٹیز میں کارندوں کے ذریعےکوکین فروخت کرتی ہے جب کہ ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کرقیام کرتی تھی ملزمہ کےموبائل فون فارنزک سےکراچی سے تین رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے جب کہ ملزمہ منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی۔

    پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی معلومات حاصل کی جائیں۔

    عارف سیتائی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کیلئے متعلقہ بینکوں اور اداروں کوخطوط لکھے جائیں، انمول عرف پنکی کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں، ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں سے معلومات حاصل کی جائیں۔

    ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ کے ساتھیوں اور رشتہ داروں کی جائیداد کی معلومات بھی حاصل کی جائیں، معلومات کیلئے اسٹیٹ بینک (ایف ایم یو)۔ایف آئی اے، ایف بی آر۔ایکسائز اور اے این ایف سے بھی معلومات لی جائیں۔

  • اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے 15 جون 2026 کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کمیٹی نے مہنگائی، عالمی تیل کی قیمتوں اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا، اس سے قبل اپریل 2026 کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 11.5 فیصد کیا تھا۔

    اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی اشاریوں اور جیو پولیٹیکل حالات کا جائزہ لیا، مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں معیشت کیلئے نئے چیلنجز پیدا ہوئے اجلاس میں ایران امریکا معاہدے ، تیل کی گرتی قیمت اور بجٹ اقدامات کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، بیان کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمت کے دباؤ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

    معاشی ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کی آخری اور بجٹ کے فوری بعد آنے والی یہ مانیٹری پالیسی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس وقت ملک میں بنیادی شرح سود 11.5 فیصد ہے جبکہ اس سے قبل مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔

    مالیاتی ماہرین اور بروکریج ہاؤسز کی آراء شرحِ سود میں اضافے اور اسے برقرار رکھنے (Status Quo) پر برابر منقسم تھیں، تاہم کمیٹی نے محتاط معاشی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔