Baaghi TV


بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں 8 ارب سے زائد بے قاعدگیوں کا انکشاف

‎کراچی: حکومت سندھ نے کراچی کے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے قاعدگیوں کے معاملے پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ ابتدائی انکوائری میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے بعد متعلقہ افسران کے خلاف مزید کارروائی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
‎وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر محکمہ ٹرانسپورٹ میں 8 ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ کی انسپکشن ٹیم کو ذمہ داری سونپی گئی، جس نے مختلف پہلوؤں سے ابتدائی تحقیقات مکمل کرکے اپنی سفارشات وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی ہیں۔
‎چیئرمین سی ایم انسپکشن ٹیم بلال میمن کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی اور جھمان داس نے منصوبے پر عملدرآمد کے دوران مالیاتی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو نظرانداز کیا۔
‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں افسران نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھیکیداروں کو ساڑھے 8 ارب روپے کی پیشگی ادائیگیاں کیں، جس سے نہ صرف ٹھیکیداروں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا بلکہ منصوبے اور متعلقہ بینک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو بھی خطرات لاحق ہوئے۔
‎تحقیقات کے مطابق کنٹریکٹ مینجمنٹ، ٹیکس کٹوتی اور سرکاری خزانے میں رقوم جمع کرانے سے متعلق متعدد انتظامی ضابطوں کی بار بار خلاف ورزی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات سے حکومت سندھ اور مالیاتی اداروں کے مفادات کو نقصان پہنچا اور یہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔
‎انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ پورے عمل کے دوران مالیاتی پروٹوکول اور سیکیورٹی قواعد کو نظرانداز کیا گیا، جس سے سرکاری نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھے ہیں۔
‎اس سے قبل بھی مکمل مجرمانہ تحقیقات کی سفارش کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر اینٹی کرپشن حکام نے مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اب نئی رپورٹ میں مزید شواہد سامنے آنے کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
‎رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ضمیر عباسی اور جھمان داس کی مبینہ مالی بے قاعدگیاں انہیں سول سروس کے لیے نااہل قرار دلوانے کا سبب بن سکتی ہیں اور ان کے خلاف مزید محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

More posts