سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے تناظر میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے ملک کے لیے قابلِ فخر کامیابی قرار دیا۔
شیری رحمان نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر قیادت کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے اور امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر جلد باضابطہ دستخط بھی ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سفارتی اقدامات کی بدولت امن کا عمل آگے بڑھتا رہا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بیک ڈور اور سائیڈ چینل سفارت کاری کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ دنیا بھر کے عوام کو پہنچ سکتا ہے۔
بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18 کھرب روپے سے زائد حجم کے بجٹ میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو مزید ریلیف ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ عوام اور صوبوں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم صوبوں کو منتقل نہیں کی جاتی۔
انہوں نے زور دیا کہ صحت، تعلیم اور سماجی شعبوں کی ذمہ داری زیادہ تر صوبوں پر عائد ہوتی ہے، اس لیے صوبوں کے مالی وسائل میں کمی ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، تجارت اور سروسز سیکٹر کو مؤثر انداز میں ٹیکس نظام میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
شیری رحمان نے خواتین کے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی، بے روزگاری اور زرعی شعبے کے مسائل پر بھی فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں کپاس، گندم اور چینی برآمد کرتا تھا لیکن آج ان اشیا کی درآمد پر انحصار بڑھ رہا ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے پہلے ہی مشاورت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے تاکہ بہتر اور متوازن معاشی پالیسی تشکیل دی جا سکے۔
پاکستان کی سفارتی کامیابی پر وزیراعظم کا اعلیٰ قیادت کے کردار کا اعتراف: سینیٹر شیری رحمان
