Baaghi TV


لاہور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

earthquake

‎لاہور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جمعہ کے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوف و ہراس کا شکار ہو کر گھروں، دفاتر اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکوں نے چند لمحوں کے لیے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
‎نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر (این ایس ایم سی) کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.9 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی گہرائی زمین کے اندر تقریباً 18 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز کشمیر کا علاقہ قرار دیا گیا۔
‎زلزلے کے جھٹکے لاہور کے مختلف علاقوں کے علاوہ گردونواح کے شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔ متعدد شہریوں نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ عمارتوں میں لرزش محسوس ہوئی، جس کے بعد احتیاطاً لوگ کھلی جگہوں پر منتقل ہو گئے۔
‎حکام کے مطابق ابتدائی جائزے میں کسی قسم کے جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ متعلقہ ادارے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
‎ماہرین کے مطابق پاکستان زلزلوں کے حوالے سے حساس خطے میں واقع ہے کیونکہ یہ بھارتی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر موجود ہے۔ بھارتی پلیٹ مسلسل شمال کی جانب یوریشین پلیٹ سے ٹکرا رہی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں زلزلوں کی سرگرمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔
‎پاکستان ماضی میں کئی تباہ کن زلزلوں کا سامنا کر چکا ہے۔ 2005 میں آزاد کشمیر میں آنے والے ہولناک زلزلے میں 73 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔ اسی طرح بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں 2021 کے زلزلے نے بھی جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔
‎ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیاں اکثر مشکل ہو جاتی ہیں، اس لیے پیشگی تیاری اور عوامی آگاہی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ زلزلے کی صورت میں حفاظتی اصولوں پر عمل کریں اور غیر مصدقہ افواہوں سے گریز کریں۔

More posts