Baaghi TV

Category: لاہور

  • نواز شریف سے ازبکستان کے سفیر  علی شیر تختیوف کی ملاقات

    نواز شریف سے ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف کی ملاقات

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف سے ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات کے موقع پر پاکستان اور ازبکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی، مذہبی اور تہذیبی رشتے استوار ہیں، جن کی بنیاد پر دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم کیے جا سکتے ہیں۔ازبکستان کے سفیر محترم علیشر تختیوف نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا اعادہ کیا اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

  • حج کے بہترین انتظامات عبادت ہیں، ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حج کے بہترین انتظامات عبادت ہیں، ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    لاہور( ) خادم الحرمین سلمان بن عبدالعزیز ،ولی عہد محمد بن سلمان اورسعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ حجاج کرام کی خدمت کا حق ادا کررہے ہیں ۔ پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں۔ حج کے بہترین انتظامات عبادت بھی ہے اور سعادت بھی ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے تاہم اس عبادت کا حق اسی وقت ادا ہوسکتا ہے جب مناسک حج سنت طریقے کے مطابق بجالائیں ۔ سعودی حکومت حج کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرتی ہے۔ روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔سعودی حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان ، ملائشیا ، بنگلہ دیش ،انڈونیشیا سے حج کے لیے جانے والوں کیلئے بہت آسانی ہوگئی ہے ، اسی طرح سعودی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے منی، مزدلفہ اور عرفات کے عظیم ترقیاتی منصوبوں کی بدولت ضیوف الرحمان کو مناسک حج کی ادائیگی میں بہت آسانیاں اور سہولتیں رہی ہیں ۔ ضیوف الرحمان نے مکمل اطمینان و سکون کے ساتھ حج کے تمام مناسک ادا کرتے ہیں ، پاکستان میں سعودی سفیر سعادت الاستاذ نواف بن سعید المالکی بھی خادم الحرمین الشریفین کے ہدایات کے مطابق پاکستانی حجاج ومعتمرین کے لیے ہر طرح کی سہولیات ا ور آسانیاں پیدا کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں اور حقیقی معنوں میں خادم الحرمین الشریفین کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے ، ہم پاکستانی عوام کی طرف سے خادم الحرمین الشریفین ملک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، سعودی حکام اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کے شکرگزار ہیں اور ان کی کوششوں کو تحسین کی نظر دیکھتے ہیں۔ سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی جہاں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ہیں اسی طرح وہ سعودی عرب میں بھی پاکستان کی سفارت کاری کا حق ادا کرتے ہیں جس پر پاکستانی قوم سعودی سفیر کی کوششوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔

  • بڑھتی مہنگائی حکمرانوں کی واضح نااہلی،پٹرول کی پرانی قیمتیں مقرر کی جائیں، خالد مسعود سندھو

    بڑھتی مہنگائی حکمرانوں کی واضح نااہلی،پٹرول کی پرانی قیمتیں مقرر کی جائیں، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی مہنگائی حکمرانوں کی واضح نااہلی ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے کمی کی بجائے پرانی قیمتیں مقرر کی جائے،آمدہ وفاقی بجٹ میں آئی ایم ایف کی خوشنودی کی لئے860 ارب روپے کے نئے ٹیکس، پیٹرول و ڈیزل سبسڈی کا خاتمہ، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے نئے طوفان کی راہ ہموار کی جارہی ہے،مرکزی مسلم لیگ عوام دشمن فیصلوں کو مسترد کرتی ہے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں، معیشت سست روی کا شکار ہے، کاروبار تباہ ہورہے ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے جبکہ حکومت مسلسل نئے ٹیکس لگا کر عوام کا جینا دوبھر کررہی ہے،عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور یہاں پٹرولیم لیوی بڑھا رہے ہیں، پاکستان ایک آزاد و خودمختار ملک ہے،آئی ایم ایف کی ہر شرط من و عن مان کر پاکستان کی معاشی خودمختاری کو داؤ پر لگایا جارہا ہے،حکمران اشرافیہ اپنی مراعات کم کرنے کے بجائے غریب آدمی کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہی ہے، پٹرول، ڈیزل، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی مزید پس جائے گا،ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ پہلے اپنی شاہ خرچیاں ختم کرے، کرپشن اور ٹیکس چوری روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، اور عوام پر نئے ٹیکسوں کا ظلم بند کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ عوامی جذبات کی ترجمانی کرے گی، کسی بھی عوام دشمن فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا،

  • قرآن مجید کی تعلیم کیلئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،محمد ناظم الدین

    قرآن مجید کی تعلیم کیلئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،محمد ناظم الدین

    خادم قرآن اور پنجاب قرآن بورڈ کے سابق ممبر محمد ناظم الدین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اکثر پرائیویٹ تعلیمی ادارے عدالت کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر قرآن مجید کی تعلیم سے روگردانی کررہے ہیں جبکہ محکمہ تعلیم بھی خاموش تماشائی بن گیا ہے جس وجہ سے عوام میں سخت غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔ بچوں کے والدین بھی محکمہ تعلیم کی اس غفلت اور لاپرواہی پر پریشان ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کیلئے عدالت اپنے جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے اور اس مقصد کی خاطر انسپکیشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے دورے کریں اور عدالتی احکامات سے روگردانی کرنے والے تعلیمی اداروں کی سخت باز پرس کی جائے اور ایسے اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے ۔

    انھوں نے کہا کہ ایک طویل جدوجہد کے نتیجہ میں 2020 میں انٹرا کورٹ اپیل کے دوران جسٹس افضل چوہدری اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پہلی کلاس سے پانچویں تک سرکاری اور تعلیمی اداروں میں ناظرہ قرآن اور ترجم القرآن کی تدریس کو یقینی بنانے کے واضح احکامات جاری کیے تھے اور اس فیصلے کے تحت قرآنِ پاک کو نصاب میں بطور لازمی مضمون شامل کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں ۔تاہم اس کے باوجود بہت سے تعلیمی ادارے عدالت کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے رہے جس پر عدالت نے محکمہ تعلیم کو انسپیکشن ٹیمیں تشکیل دینے اور عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے ۔ اس طرح سخت عدالتی احکامات کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں قرآن مجید کی تدریس کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔اب پھر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ناظرہ قرآن مجید اور ترجمۃ القرآن کی تدریس کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے ۔ صرف 8سے 10فیصد پرائیویٹ تعلیمی ادارے تدریس قرآن کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عدالت اس مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کا فوری نوٹس لے اور قرآن مجید کی تعلیم سے روگردانی کرنے والے اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے فی الفور احکامات جاری کرے

  • عظمیٰ کاردار جم کرتے ہوئے سر پر راڈ لگنے سے زخمی

    عظمیٰ کاردار جم کرتے ہوئے سر پر راڈ لگنے سے زخمی

    لاہور: ن لیگی ایم پی اے عظمیٰ کاردار جم میں ورزش کے دوران حادثے کا شکار ہو کر زخمی ہوگئیں۔ مسلم لیگ ن کی رکنِ پنجاب اسمبلی کے سر پر راڈ لگنے کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

    عظمیٰ کاردار نے چوٹ لگنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ٹرینر کی عدم موجودگی میں وہ خود ورزش کے آلات درست طریقے سے سیٹ نہیں کر پائیں، جس کے باعث دورانِ ورزش راڈ آ کر ان کے سر پر لگی۔واقعے کے بعد لیگی ایم پی اے کو سروسز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ذرائع کے مطابق ابتدائی طبی معائنے کے بعد عظمیٰ کاردار کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

  • پنکی کو ملکہ کونین کس نے بنایا،اہم انکشافات

    پنکی کو ملکہ کونین کس نے بنایا،اہم انکشافات

    منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے سابق شوہر کا بھائیوں سمیت منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    لاہورپولیس کا کہنا تھاکہ انمول عرف پنکی کا سابق شوہر ناصر دو بھائیوں سمیت اس منشیات کے کاروبار میں ملوث تھا،پولیس کابتانا ہے کہ ناصر اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ گوجرانوالہ سے لاہور آگیا جہاں تینوں بھائیوں نے مل کر پہلے گیسٹ ہاؤسز اور شراب کا کاروبار شروع کیا، بعد ازاں ناصر نے اپنے دو بھائیوں، ایک دوست اور بہنوئی کے ساتھ مل کر کوکین کا کاروبار شروع کیا، ناصر نے ہی انمول عرف پنکی کو کوکین بنانے کا ماہر بنایا، دونوں میاں بیوی مل کرلاہور اور کراچی سمیت پورے پاکستان میں کوکین سپلائی کرتے جبکہ بعد ازاں ناصر بھائیوں سمیت کوکین کا کاروبار کراچی لے گیا،لاہور پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی نے سابق انسپکٹر رانا اکرم کے کہنے پر 2021 میں ناصر سے طلاق لے لی تھی۔ اب گرفتاری کے بعد پنکی نے الزام عائد کیا کہ اس کے خلاف یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اس کا سابق شوہر ملوث ہے۔

  • جنگ ، دی نیوز گروپ نے مختلف شہروں میں میڈیا دفاتر فروخت کیلئے پیش کر دیے

    جنگ ، دی نیوز گروپ نے مختلف شہروں میں میڈیا دفاتر فروخت کیلئے پیش کر دیے

    پاکستان کے معروف میڈیا گروپ جنگ / دی نیوز، جو کہ میر شکیل الرحمان کی ملکیت ہے، نے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں قائم اپنے میڈیا دفاتر فروخت کیلئے پیش کر دیے ہیں، جس کے بعد صحافتی اور میڈیا حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    جنگ اور دی نیوز میں شائع ہونے والے اشتہار کے مطابق لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کراچی میں واقع گروپ کے اہم میڈیا دفاتر فروخت کیلئے دستیاب ہیں۔ ان میں لاہور کے ڈیوس روڈ پر قائم پرنٹنگ پریس اور میڈیا دفتر، راولپنڈی میں مری روڈ پر ریلوے برج کے قریب مرکزی دفتر، اسلام آباد میں ڈی چوک کے قریب بلیو ایریا میں واقع میڈیا آفس، جبکہ کراچی میں مین ملیر کالا بورڈ روڈ پر قائم دفتر شامل ہیں۔

    اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ ان دفاتر میں آفس اسپیس، پریس ایریاز، پارکنگ اور دیگر آپریشنل سہولیات موجود ہیں، جبکہ خریداروں کیلئے رابطہ معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

    میڈیا ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی روایتی پرنٹ میڈیا انڈسٹری کو درپیش بڑھتے ہوئے مالی دباؤ، اشتہارات میں کمی، بڑھتے اخراجات اور ڈیجیٹل میڈیا کی جانب تیزی سے منتقلی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں کئی بڑے میڈیا ادارے اخراجات کم کرنے اور آپریشنز محدود کرنے کیلئے ری اسٹرکچرنگ پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔

    اس پیش رفت کے بعد صحافیوں اور میڈیا ورکرز میں ممکنہ ملازمتوں کے خاتمے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ میڈیا حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر دفاتر منتقل یا آپریشنز محدود کیے گئے تو ادارے سے وابستہ صحافیوں، ٹیکنیکل اسٹاف، پرنٹنگ ورکرز اور دیگر ملازمین کی بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔

  • ایچ ای سی نے ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی داخلوں کیلئے انٹری ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا

    ایچ ای سی نے ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی داخلوں کیلئے انٹری ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا

    ‎ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر میں ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں داخلوں کیلئے نئی اور سخت پالیسی نافذ کرتے ہوئے سال 2026 کے سمسٹر سے انٹری ٹیسٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
    ‎نئی تعلیمی گائیڈ لائنز کے مطابق اب کوئی بھی سرکاری یا نجی یونیورسٹی پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کیلئے اپنا الگ انٹری ٹیسٹ منعقد نہیں کر سکے گی۔
    ‎ایچ ای سی کے مطابق تمام جامعات میں داخلے اب صرف ہائر ایجوکیشن ایپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ (HAT) یا گریجویٹ ریکارڈ ایگزامینیشن (GRE) کی بنیاد پر دیے جائیں گے، جو ایچ ای سی کی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے تحت منعقد ہوں گے۔
    ‎کمیشن نے میرٹ اور شفافیت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی 2023 کی بعض شقیں فوری طور پر واپس لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
    ‎ایچ ای سی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک بھر کی جامعات میں داخلوں کیلئے ایک یکساں، معیاری اور شفاف قومی فریم ورک قائم کرنا ہے تاکہ تمام طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
    ‎کمیشن نے تمام سرکاری اور نجی جامعات کو نئی ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
    ‎تعلیمی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے مختلف یونیورسٹیوں کے الگ الگ داخلہ ٹیسٹوں کا خاتمہ ہوگا، جس سے طلبہ پر مالی اور ذہنی دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔
    ‎دوسری جانب بعض طلبہ اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ مرکزی ٹیسٹنگ سسٹم سے داخلوں میں شفافیت تو بڑھے گی، تاہم دیہی اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کیلئے تیاری اور رسائی کے مسائل پر بھی توجہ دینا ضروری ہوگی۔
    ‎ایچ ای سی کے مطابق نئی پالیسی کا اطلاق 2026 کے تعلیمی سیشن سے ہوگا اور تمام جامعات کو اس سلسلے میں مکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

  • مریضوں کا علاج اپنے ماں باپ اور بچوں کی طرح کریں، ماہرین

    مریضوں کا علاج اپنے ماں باپ اور بچوں کی طرح کریں، ماہرین

    لاہور: قومی اور بین الاقوامی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں طبی اور ادویاتی غلطیوں کے باعث ہزاروں مریض ہر سال اسپتالوں میں نقصان اٹھا رہے ہیں یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اور مریضوں کی حفاظت اسی وقت یقینی بنائی جا سکتی ہے جب ڈاکٹر، نرسیں، فارماسسٹ اور اسپتال انتظامیہ ہر مریض کو اپنے والدین یا بچوں کی طرح سمجھ کر علاج کریں۔

    یہ بات لاہور میں شالامار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں منعقدہ “نویں بین الاقوامی کانفرنس برائے مریضوں کا تحفظ 2026” سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہی۔ دو روزہ کانفرنس کا موضوع “Patient Safety from the Start” تھا، جس میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ صحت، پالیسی سازوں، معالجین، نرسوں، فارماسسٹوں اور محققین نے شرکت کی۔کانفرنس کے دوران ماہرین نے زور دیا کہ علاج سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ مریض کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے اسپتالوں اور طبی عملے پر زور دیا کہ وہ غلطیوں کو چھپانے کے بجائے تسلیم کریں، منفی واقعات کی رپورٹنگ کریں اور ناکامیوں سے سیکھ کر نظام کو بہتر بنائیں۔سابق معاونِ خصوصی وزیرِاعظم برائے صحت اور شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایک اہم سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن ان سے سیکھ کر انہیں روکا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کا تحفظ طبی عملے کی اولین ذمہ داری ہے اور اسپتالوں میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں ڈاکٹرز اور دیگر عملہ خوف کے بغیر غلطیوں کی نشاندہی کر سکے تاکہ مستقبل میں نقصان سے بچا جا سکے۔

    کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے رفاہ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کیئر امپروومنٹ اینڈ سیفٹی (RIHIS) نے مختلف طبی اداروں کے تعاون سے کیا۔ کانفرنس میں مریضوں کے تحفظ، اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن، ادویاتی تحفظ، انفیکشن کنٹرول، ڈیجیٹل ہیلتھ اور صحت کے نظام میں بہتری پر تفصیلی سیشنز منعقد ہوئے۔افتتاحی تقریب میں شوکت خانم میموریل اسپتال کو مریضوں کے تحفظ کے شعبے میں چار بڑے ایوارڈز دیے گئے۔ “رفیدہ الاسلمیہ پیشنٹ سیفٹی چیمپیئن ایوارڈ” بہترین اسپتال کے طور پر شوکت خانم اسپتال کو دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر ہارون حفیظ کو بہترین معالج، ناصر خان کو بہترین نرس اور عمر بھٹہ کو بہترین فارماسسٹ قرار دیا گیا۔ مریضوں کے تحفظ کے فروغ کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے سفیان احمد کو خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔

    کانفرنس کے چیئرمین اور رفاہ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کیئر امپروومنٹ اینڈ سیفٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ذکی الدین احمد نے کہا کہ پاکستان میں مریضوں کے تحفظ کی تحریک ایک چھوٹے اقدام سے بڑھ کر قومی سطح کے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد اسپتالوں میں قابلِ تدارک نقصانات کو کم کرنا اور معیاری علاج کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے گائناکالوجی، آبسٹیٹرکس اور پرائمری کیئر فزیشنز کے لیے مریضوں کے تحفظ سے متعلق دو خصوصی گروپس کے قیام کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ اگلی بین الاقوامی کانفرنس پشاور میں رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں منعقد ہوگی۔

    سی ای او صحت سہولت پروگرام محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ حکومت پاکستان کو سستے اور معیاری علاج کے علاقائی مرکز کے طور پر متعارف کرانے کے لیے میڈیکل ٹورازم پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن اور معیارات میں بہتری میڈیکل ٹورازم اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ناگزیر ہے۔

    رفاہ ہیلتھ کیئر سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسداللہ خان نے بیماریوں کے بوجھ میں کمی کے لیے احتیاطی صحت اور لائف اسٹائل میڈیسن کی اہمیت پر زور دیا۔

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک مریض غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے باعث نقصان اٹھاتا ہے، جبکہ برطانیہ نے مریضوں کے تحفظ کے بہتر نظام کے ذریعے سالانہ تقریباً 22 ہزار جانیں بچانے میں کامیابی حاصل کی۔

    شالامار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زاہد بشیر نے کہا کہ امراضِ قلب سمیت ان شعبوں میں جہاں لاکھوں پاکستانی علاج کرواتے ہیں، محفوظ طبی سہولیات کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    چلڈرن یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے کہا کہ پاکستان میں اکثریتی آبادی سرکاری اسپتالوں پر انحصار کرتی ہے، اس لیے سرکاری صحت کے اداروں کو مریضوں کے تحفظ اور علاج کے معیار بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

    کانفرنس میں ادویاتی تحفظ، انفیکشن کنٹرول، نرسنگ سیفٹی، ڈیجیٹل ہیلتھ، اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے مریضوں کے تحفظ کو بہتر بنانے سے متعلق ورکشاپس، پینل مباحثے، پوسٹر پریزنٹیشنز اور تکنیکی سیشنز بھی منعقد کیے گئے-

  • کوٹ لکھپت:پولیس اہلکار  ہنی ٹریپ میں پولیس ملوث نکلا

    کوٹ لکھپت:پولیس اہلکار ہنی ٹریپ میں پولیس ملوث نکلا

    لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں پولیس اہلکار ہنی ٹریپ میں پولیس ملوث نکلا خواجہ سراؤں کے ساتھ مل کر شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا اور نقدی چھین لی-

    پولیس اہلکار دو خواجہ سراؤں نے قصور کے شہری کو ٹریپ کر کے اپنے فلیٹ پر بلایا، جہاں انہوں نے ساتھی خواجہ سراؤں کے ساتھ مل کر شہری پر تشدد کیا اور چالیس ہزار نقدی چھین لی بعد ازاں شہری کو واش روم میں بند کر دیا گیا کچھ دیر بعد فلیٹ پر چار پولیس اہلکار آئے اور خواجہ سراؤں نے شہری کو ان کے حوا لے کیا پولیس اہلکاروں نے شہری کو دھمکیاں دے کر شناختی کارڈ کی کاپی اور 11 ہزار نقدی چھین لی۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واقعہ پر فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی ماڈل ٹاؤن کو معاملے کی جانچ کا حکم دیا۔

    خفیہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر پولیس نے خواجہ سراؤں سمیت چار کانسٹیبلز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گرفتار اہلکاروں میں وقاص، سلیمان، عمیر اور عرفان شامل ہیں، جبکہ خواجہ سراؤں میں ماہی، خوشی اور کشمالہ کو بھی گرفتار کیا گیا ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق ملزمان شہری کو ہراساں کر کے رقم اور قیمتی اشیاء چھیننے میں ملوث تھے واقعہ کا مقدمہ نمبر 2462/26 شہری بلال احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے، جبکہ واقعہ میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔