Baaghi TV


تجارتی خسارہ 39.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، برآمدات بڑھائے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں: ایس ایم تنویر

PKR

‎یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے رہنما اور معروف صنعتکار ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39.5 ارب ڈالر کی تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
‎ایس ایم تنویر نے ملکی تجارتی اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال کے دوران درآمدات میں 8 فیصد اضافہ جبکہ برآمدات میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو معیشت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ رجحان برقرار رہا تو بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
‎انہوں نے کہا کہ معاشی خودمختاری قرضوں یا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پر انحصار سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ پائیدار اور مضبوط معیشت کے لیے ضروری ہے کہ ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور صنعتی شعبے کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنایا جائے۔
‎ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ حکومت کو برآمدی صنعتوں کو سستی توانائی، جدید ٹیکنالوجی، آسان مالی سہولیات اور کاروبار دوست پالیسیوں کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں بہتر انداز سے مقابلہ کر سکیں۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ صنعتکاروں کو درپیش مسائل کے فوری حل، پیداواری لاگت میں کمی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے بغیر برآمدات میں مطلوبہ اضافہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق برآمدات میں اضافہ نہ صرف تجارتی خسارہ کم کرے گا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر، روزگار کے مواقع اور مجموعی معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
‎ایس ایم تنویر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعت اور برآمدات کو قومی اقتصادی پالیسی کا مرکزی ستون بنائے تاکہ پاکستان دیرپا معاشی ترقی اور مالی خودمختاری کی جانب بڑھ سکے۔

More posts