Baaghi TV

Category: لاہور

  • مالی حالات اچھے نہیں،شوہر کوحکومت کی طرف سے ریڑھی نہیں دی گئی،خاتون ٹیچر انیلا

    مالی حالات اچھے نہیں،شوہر کوحکومت کی طرف سے ریڑھی نہیں دی گئی،خاتون ٹیچر انیلا

    لاہور: کاہنہ میں گزشتہ روز چھت گرنے کا معاملہ،خاتون ٹیچر انیلا لاہور جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے،خاتون ٹیچر انیلا کا کہنا تھا کہ میرے مالی حالات اچھے نہیں ہیں جس کی وجہ سے ٹیوشن پڑھاتی ہوں،

    انیلاکا کہنا تھا کہ میرے شوہر کو سی ایم پنجاب مریم نواز سے فروٹ والی ریڑھی نہیں دی گئی،میرا شوہر منڈی کے پاس ریڑھی لگاتے ہیں، میں دو سال سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہوں،مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے ٹیوشن میں آتے ہیں، گذشتہ روز 20 سے 22 بچے آئے تھے،بارش سے چھت ٹپکتی تھی جس کی وجہ سے مرمت کا کام شروع کیا گیا تھا،مجھے نہیں پتہ تھا کہ چھت گر جائے گی،میں خود بھی ملبے کے نیچے دبی ہوں، میری بیٹی بھی،میری بیٹی کی حالت بہتر ہے، وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئی ہے لیکن میں اس سے ملی نہیں ہوں،یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے

  • لاہور، تنخواہ نہ ملنے پر ستھرا پنجاب کے ورکرز کا احتجاج،ٹریفک جام

    لاہور، تنخواہ نہ ملنے پر ستھرا پنجاب کے ورکرز کا احتجاج،ٹریفک جام

    لاہور: ستھرا پنجاب ورکرز کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات پر جاری احتجاج کے باعث متعدد اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی، جبکہ بعض مقامات پر ٹریفک کو عارضی طور پر بند بھی کرنا پڑا۔

    ستھرا پنجاب ورکرز نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر فیروز پور روڈ پر احتجاج کیا،دو ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر ستھرا پنجاب ملازمین سڑکوں پر، ورکرز نے بقایا تنخواہیں فوری ادا کرنے کا مطالبہ کیا، احتجاج کی وجہ سے ٹریفک جام ہو گئی،ستھرا پنجاب کے ورکرز کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں 24 ،24 گھنٹے کام کرنے کے باوجود وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے وعدہ کیا گیا بونس ستھرا پنجاب کے ورکرز کو نہ مل سکا سونے پہ سہاگہ تنخواہوں میں بھی کٹ لگا کر غریبوں کا چولہا بجھانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے

    سٹی ٹریفک پولیس کے مطابق فیروزپور روڈ پر ارفع کریم ٹاور کے سامنے کلمہ چوک کی جانب احتجاج کے باعث ٹریفک عارضی طور پر معطل ہے۔ اس سے قبل جی ٹی روڈ پر قائداعظم انٹرچینج اور شوق چوک کے قریب بھی مظاہروں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شرازی کی ہدایت پر ڈی ایس پیز اور ٹریفک افسران مختلف مقامات پر موجود ہیں، جہاں مظاہرین سے مذاکرات جاری ہیں۔ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شاہراہوں کو جلد از جلد کھلوانے اور ٹریفک کی معمول کی روانی بحال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔لاہور ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری طور پر متاثرہ شاہراہوں کا رخ کرنے سے گریز کریں، سفر سے قبل ٹریفک کی تازہ صورتحال سے آگاہی حاصل کریں اور ممکنہ طور پر متبادل راستے اختیار کریں۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق شہر بھر میں ٹریفک کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور جیسے ہی احتجاج ختم ہوگا، متاثرہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی فوری طور پر بحال کر دی جائے گی۔

  • پنجاب ،غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی کا عمل جاری، 35 ہزار 719 افراد ڈی پورٹ

    پنجاب ،غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی کا عمل جاری، 35 ہزار 719 افراد ڈی پورٹ

    لاہور: پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلاء کا عمل بدستور جاری ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اب تک 35 ہزار 719 افغانیوں سمیت مختلف غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے، جبکہ 72 غیر قانونی مقیم افراد اس وقت ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں 14 ہزار سے زائد مرد، 7 ہزار 138 خواتین اور 14 ہزار 529 بچے شامل ہیں۔ بے دخل کیے گئے افراد میں رہائشی ثبوت رکھنے والے 11 ہزار 47 غیر ملکی، افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے 11 ہزار 135 افراد اور 13 ہزار 537 غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی بھی شامل ہیں۔انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عبدالکریم نے صوبے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے انخلاء کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس عالمی قوانین اور حکومتی پالیسی کے مطابق غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلاء کے عمل پر عملدرآمد کر رہی ہے۔

  • ڈاکٹر یاسمین راشد کے انتقال کی خبریں ،پی ٹی آئی کا بیان سامنے آگیا

    ڈاکٹر یاسمین راشد کے انتقال کی خبریں ،پی ٹی آئی کا بیان سامنے آگیا

    پاکستان تحریک انصاف نے9 مئی کے کیسز میں سزا یافتہ اور کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کی بزرگ خاتون رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کے انتقال کی خبروں پر وضاحت جاری کردی ہے۔

    سوشل میڈیا پر یہ یہ خبر زیر گردش تھی کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کی بزرگ رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی طبیعت اچانک خراب ہوئی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تو وہ دوران علاج خالق حقیقی سے جا ملیں،جس کے بعد پی ٹی آئی نے وضاحت جاری کی ہے-

    پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے سماجی رابطے کی سائٹ پر لکھا کہ اللہ کا شکر ہے ڈاکٹر یاسمین راشد زندہ اور وہ کوٹ لکھپت جیل میں ہیں، انہیں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے پر غیرقانونی حراست اور سخت سزاؤں کا سامنا ہے،ڈاکٹر یاسمین راشد کے بارے میں پھیلائی جانے والی تمام خبریں جھوٹی ہیں اور اُن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ڈاکٹر یاسمین راشد الحمداللہ حیات ہیں اور کوٹ لکھپت جیل میں اپنے لیڈر عمران خان کے نظریے کی خاطر قید و صعوبت کی قربانی دے رہی ہیں، عوام کسی افواہ پر کان نا دھرے۔

    شیخ وقاص اکرم نے پی ٹی آئی کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے حوالے سے کسی بھی قسم کی افواہ پر یقین نہ کریں کیونکہ یہ سب خبریں بے بنیاد ہیں، جیل حکام نے بھی تصدیق کی کہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری کی طبیعت ناساز ہے جس سے عدالت اور جیل حکام آگاہ ہیں-

  • 
کاہنہ ٹیوشن سینٹر سانحہ، مالک مکان سمیت 2 افراد حراست میں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    
کاہنہ ٹیوشن سینٹر سانحہ، مالک مکان سمیت 2 افراد حراست میں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    ‎لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
    ‎حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران جائے وقوعہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
    ‎پولیس، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ لاہور پولیس کے جوان ریسکیو ٹیموں کے شانہ بشانہ ملبہ ہٹانے، زخمی بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے اور امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔
    ‎حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال کاہنہ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ہسپتال کا دورہ کیا، زخمی بچوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
    ‎اس موقع پر انہوں نے متاثرہ بچوں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی، جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور یقین دلایا کہ حکومت اور لاہور پولیس اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کے غم میں پوری پولیس برابر کی شریک ہے۔
    ‎فیصل کامران نے بتایا کہ ابتدائی قانونی کارروائی کے تحت مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطہ برقرار ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
    ‎ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید کہا کہ لاہور پولیس متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن قانونی، انتظامی اور انسانی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ہنگامی حالات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

  • لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، کئی زخمی

    لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، کئی زخمی

    ‎لاہور کے علاقے کاہنہ میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں پیش آنے والے دلخراش حادثے میں چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ افسوسناک واقعے نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا۔
    ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب بچے معمول کے مطابق ٹیوشن کلاس میں موجود تھے۔ اچانک عمارت کی چھت زمین بوس ہو گئی اور کلاس روم میں موجود طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی افراد بڑی تعداد میں امدادی کارروائیوں میں شریک ہو گئے۔
    ‎حادثے کے وقت اکیڈمی میں تقریباً 35 بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق چھت گرنے کی زور دار آواز سن کر اہلِ علاقہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا۔ مقامی افراد نے کئی زخمی بچوں کو ملبے سے نکال کر ایمبولینسوں تک پہنچایا، جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے امدادی آپریشن شروع کر دیا۔
    ‎ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائی کے دوران ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے بچوں میں سے کم از کم سات کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎واقعے کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ گئی اور عمارت کی حالت کا جائزہ لیا۔ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عمارت کی چھت کس وجہ سے گری اور آیا تعمیراتی معیار یا حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت برتی گئی تھی۔
    ‎اہلِ علاقہ اور بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہر بھر میں قائم نجی تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کی عمارتوں کا حفاظتی معائنہ بھی یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • درست دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو بلاجواز سفر سے نہ روکا جائے۔لاہور ہائیکورٹ

    درست دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو بلاجواز سفر سے نہ روکا جائے۔لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفر کیلئے مطلوبہ فارن کرنسی نہ ہونے پر شہری کو آف لوڈ کیے جانے کیخلاف درخواست نمٹاتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ درست دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو بلاجواز سفر سے نہ روکا جائے۔

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ فاروق حیدر نے کہا کہ عالمی قوانین کے مطابق بیرون ملک سفر کیلئے ایک ہزار ڈالر ہونے چاہئیں، جعلی دستاویزت پر سفر کرنیوالے ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آف لوڈ کرتے وقت شہری کو تحریری وجوہات فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سفر کیلئے یومیہ 100 ڈالر کے حساب سے رقم ہونی چاہئے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر 4 ماہ کا ویزہ ہے تو پھر اس کے پاس 12000 ڈالر ہونے چاہئیں، درست دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو بلاجواز سفر سے نہ روکا جائے۔

  • لاہور،گولیاں چل گئیں،خاتون قتل، شوہر کی دوسری بیوی پر قتل کروانے کا الزام

    لاہور،گولیاں چل گئیں،خاتون قتل، شوہر کی دوسری بیوی پر قتل کروانے کا الزام

    لاہور کے علاقے مانگا منڈی میں کھوکھر چوک کے قریب نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے 30 سالہ خاتون کو قتل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق جاں بحق خاتون کی شناخت کرن بی بی کے نام سے ہوئی ہے۔ لاش کو جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کرن بی بی، شیر علی کی تیسری بیوی تھیں، جبکہ شیر علی نے مجموعی طور پر تین شادیاں کر رکھی تھیں۔دوسری جانب مقتولہ کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ کرن بی بی کو ان کے شوہر کی دوسری بیوی نے قتل کروایا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس الزام کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    ڈی ایس پی شاہزیب خان کے مطابق واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش کے دوران مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا 5 سالوں میں 5 ہزار مزید الیکٹرک بسیں لانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب کا 5 سالوں میں 5 ہزار مزید الیکٹرک بسیں لانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 5 سالوں کے دوران صوبے میں مزید 5 ہزار الیکٹرک بسیں لانے کا اعلان کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ ڈپارٹمنٹ کا اجلاس ہوا جس میں صوبے میں مزید الیکٹرک بسیں، ای ٹیکسیاں، ای بائیکس اور ای تھری وہیلرز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں مریم نواز نے کہا کہ آئندہ پانچ سال کے دوران 5 ہزار الیکٹرک بسیں پنجاب کے عوام کی خدمت کے لیے سڑکوں پر ہوں گی، پنجاب میں ناصرف الیکٹرک بسیں لائی جا رہی ہیں بلکہ ان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری بھی قائم کی جا رہی ہے۔

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں الیکٹرک بسوں کا اسمبلنگ پلانٹ کام شروع کر چکا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران طلبہ کو ایک لاکھ ای بائیکس فراہم کی جائیں گی، جبکہ پنجاب حکومت ہر ای بائیک پر 70 ہزار روپے کی سبسڈی دے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ طالبات کی ای بائیکس کی ڈاؤن پیمنٹ اور رجسٹریشن فیس وزیراعلیٰ خود ادا کریں گی جبکہ پنجاب کے سرکاری ملازمین بھی آسان اقساط پر ای بائیکس حاصل کر سکیں گے،

  • مولانا فاروق احمد راشدی کی وفات پر حافظ مسعود اظہر کا اظہار افسوس

    مولانا فاروق احمد راشدی کی وفات پر حافظ مسعود اظہر کا اظہار افسوس

    لاہور( )پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر حافظ مسعود اظہر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ممتاز عالم دین، استاد الاساتذہ، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا فاروق احمد راشدی کے انتقال کی خبر نے ملک کی دینی، علمی اور تعلیمی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ ان کی رحلت سے علم و فضل کا ایک ایسا آفتاب غروب ہو گیا ہے جس کی روشنی سے کئی نسلیں مستفید ہوئیں۔ ان کی جدائی کا غم صرف ان کے خاندان اور شاگردوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے علما، طلبہ اور دینی حلقے اس عظیم سانحے پر اشکبار ہیں۔ دل آہوں اور سسکیوں کے ساتھ شیخ الحدیث والتفسیر کو الوداع کہہ رہا ہے، فضا سوگوار ہے اور ہر آنکھ نم ہے ۔

    انھوں نے کہا کہ مولانا فاروق احمد راشدی نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و سنت کی تعلیم اور نوجوان نسل کی تربیت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ نے مسلسل چونتیس برس تک صحیح بخاری کی تدریس کا عظیم فریضہ انجام دیا اور ہزاروں طلبہ کو علمِ حدیث کی دولت سے مالا مال کیا۔ آج ملک اور بیرونِ ملک میں ان کے ہزاروں شاگرد دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو درحقیقت ان کے لیے بہترین صدق جاریہ اور ان کی علمی عظمت کا زندہ ثبوت ہیں۔مولانا فاروق احمد راشدی نہ صرف ایک بلند پایہ محدث اور مفسر تھے بلکہ وہ تقوی، اخلاص، عاجزی، بردباری اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ بھی تھے۔ ان کی شخصیت علم و عمل کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص ان کے خلوص، شفقت اور روحانی عظمت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔ انہوں نے اپنے کردار، تدریس اور دعوت کے ذریعے بے شمار لوگوں کی زندگیاں بدل دیں اور اپنے شاگردوں کے دلوں میں محبت، ادب اور دین کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام دینی و علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کا ساتھ نصیب فرمائے اور تمام پسماندگان، شاگردوں، متعلقین اور اہلِ محبت کو یہ عظیم صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔