آصفہ بھٹو کی سیاست میں دبنگ انٹری،ریلی کی قیادت، گھنٹہ گھر پہنچ گئیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملتان میں پی ڈی ایم کی ریلی جاری ہے، اپوزیشن کی سب جماعتوں کی ریلیاں جلسہ گاہ کی جانب جاری ہیں، مولانا فضل الرحمان جلسہ گاہ پہنچ چکے ہیں جنہوں نے نماز جلسہ گاہ میں جا کر ادا کی ہے
آصفہ بھٹو بھی جلسہ گاہ کی جانب رواں دواں ہیں اور جلوس کی قیادت کر رہی ہیں،یوسف رضا گیلانی،فریال تالپوراورمیاں افتخاربھی آصفہ بھٹوکے ہمراہ ہیں ،آصفہ بھٹو خصوصی ٹرک پرسوارہیں اورکارکنوں کے نعروں ک ہاتھ ہلا کرجواب دیتی رہیں
دوسری جانب پی ڈی ایم کے کارکنان نے گھنٹہ گھر چوک میں رکاوٹیں ہٹانا شروع کردی ہیں ، واٹر ورکس روڈ پر لگی رکاوٹیں ،ٹریکٹر ٹرالی کو ہٹا دیا گیا ہے ،کارکنان کی ایک بڑی تعداد کے سامنے پولیس بے بس ہو گئی اورپیچھے ہٹ گئی ، پی ڈی ایم کے کارکن قاسم باغ میں داخل ہو گئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے ہیں
واضح رہے کہ پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری کراچی سے ملتان پہنچی تھیں۔ صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعیدغنی ، وزیر اطلاعات سندھ ناصرشاہ، ایم این اے شگفتہ جمانی بھی آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ تھے۔ آصفہ بھٹو زرداری چارٹرڈ طیارے کے ذریعے ملتان پہنچیں۔ آصفہ بھٹو پیپلزپارٹی جلسے میں بلاول بھٹو کی نمائندگی کریں گی، وہ جلسے میں پی ڈی ایم قیادت کا استقبال کرینگی۔
مریم نواز کے قافلے میں حادثہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے قافلے میں حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے قافلے کی گاڑیاں آپس میں ٹکرانے سے بال بال بچ گئیں،مریم نواز کی گاڑی سے آگے لیگی رکن اسمبلی مرزا جاوید کی گاڑی کا ٹائر اچانک پھٹ گیا جس سے پیچھے آنے والی گاڑیاں آپس میں ٹکرانے سے بال بال بچیں۔ قافلے کے تمام افراد محفوظ رہے۔
مریم نواز کے قافلے کی گاڑیاں اپس میں ٹکرانے سے بچ گئی مریم نواز کی گاڑی سے اگے لیگی ایم پی اے مرزا جاوید کی گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا تمام افراد اور قافلے کے افراد شکر الحداللہ محفوظ رہے@MaryamNSharif@Atifrauf79
مریم نواز کی گاڑی کو کارکنان نے گھیر رکھا ہے، سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،مریم نواز کا مختلف مقامات پر بھرپور استقبال کیا گیا،مریم نواز لاہور سے ملتان کے لئے براستہ موٹروے نکلیں جہاں وہ پی ڈی ایم کے جلسہ سے خطاب کریں گی
مریم نواز کے ملتان جانے والے قافلے میں اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جبکہ ن لیگ کے کچھ مرکزی رہنما پہلے ہی ملتان پہنچ چکے تھے جنہوں نے مریم نواز کا استقبال کیا،ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ، عظمیٰ بخاری و دیگر مریم نواز کے استقبال کے لئے موجود تھے.
لاہور سے ملتان روانگی کے وقت مریم نواز کا کہنا تھا کہ جس طرح انہوں نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا اور کارکنان کو گرفتار کیا وہ سب کے سامنے ہے جلسہ اب چاہے ملتان سٹیڈیم میں ہو یا کسی سڑک پر جلسہ تو ہوگا یہ جلسہ ہونے سے پہلے سے ہی کامیاب ہوگیا ہے
مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو اپنا خاتمہ نظر آ رہا ہے جب ملک پر مشکل آئیگی پھر بیٹیاں گھروں سے نکلتی ہیں آج آصفہ بھٹو اور میں گھر سے نکل رہی ہوں لوگ گھروں سے نکلیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں ،ملتان کے باسیوں سے گزارش ہے کہ باہر آئیں اور جدوجہد میں شامل ہوں،ملتان کے راستے میں لگا ہر ناکہ کنٹینر اس حکومت کے خوف کی عکاس ہے۔راستے میں لگے کنٹینر اوررکاوٹیں ان کی خوف کی نشانی ہیں،یہ خوف ان کے خاتمہ کی عکاسی کرتا ہے ،میں ملتان جارہی ہوں اپنا غم پیچھے چھوڑ کر میاں صاحب کی ہدایت پر،میرے والد اور اہلخانہ یہاں موجود نہیں،قوم کے دکھ اور غم میں شریک ہونے جا رہی ہوں
دوسری جانب ملتان میں اسٹیڈیم کے دروازے کھول دیئے گئے ،اسٹیڈیم میں تمام بجلی کے. کشن منقطع ہیں ،پی ڈی ایم کے لیے ساونڈ سسٹم اور بجلی ایک بڑے مسئلہ ہو گا ،علی قاسم گیلانی کی ضمانت اور رکاوٹوں کے بعد کارکنان زیادہ چارج دکھائی دے رہے ہیں
قبل ازیں پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ رکاوٹیں ہٹانے کا عدالتی فیصلہ قانون کے عین مطابق ہے،عدالت اور ہم دونوں چاہتے ہیں کہ جلسہ ہو،جے یو آئی ف کے رضا کار قوم کے خدمت گزار ہیں ،یہ اسکواڈ نہیں ،مجھے گرفتار کرنے سے پہلے گرفتار کرنے والوں کو گرفتار کرلیں گے ،رکاوٹیں ،موبائل فون سروس اوردیگر پابندیاں کام نہیں آئیں گی .جلسے کا تمام نظم و ضبط بہترین ہو گا،
پی ڈی ایم جلسہ، آئی جی پنجاب نے پولیس کے لئے بڑا حکم جاری کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی پنجاب انعام غنی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے کارکنوں کے راستے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریلی کی شکل میں آنے والے کارکنوں سے کسی قسم کی مزاحمت نہ کی جائے۔
دوسری جانب ملتان میں پی ڈی ایم کے کارکن ٹولیوں اور ریلیوں کی صورت میں مختلف مقامات پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔ قلعہ کہنہ قاسم باغ سٹیڈیم کی طرف پہنچنے والے کارکنوں کو منتشر کرنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ گیلانی ہاؤس کے باہر پی پی کے جیالوں کی بڑی تعداد موجود ہے،پی ڈی ایم اکے رہنما اختر مینگل، ناصر حسین شاہ اور محمود اچکزئی گیلانی ہاﺅس میں موجود ہیں
پیڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کچھ دیر میں مدرسہ قاسم العلوم کیلئے روانہ ہوں گے جہاں سے وہ ریلی کی شکل میں جلسہ گاہ کی طرف چلیں گے ،پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو گیلانی ہاﺅس پہنچ چکی ہیں جہاں ان کی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات ہوئی ہے ، آصفہ بھٹو گیلانی ہاﺅس سے ریلی کی شکل میں چوک گھنٹہ گھر کی طرف روانہ ہوں گی جبکہ مریم نوازشریف بھی ملتان کیلئے لاہور سے روانہ ہو چکی ہیں وہ چونگی نمبر نو سے ریلی کی شکل اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھیں گی ۔
صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئی جی پنجاب کی جانب سے وائرلیس پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ مرکزی رہنما ریلیوں کی شکل میں آئیں تو ان کے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں اور مزاحمت سے گریز کیا جائے ۔
ایک ہزار پولیس اہل کار گھنٹہ گھر چوک پر تعینات ہیں جب کہ اسٹیڈیم اور گھنٹہ گھر چوک کو سیل کر دیا گیا ہے۔ملتان شہر میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں اور صرف گاڑیوں کو چیکنگ کے بعد شہر میں داخلے کی اجازت ہو گی، شہرکے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے
اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم آج پنجاب کے شہر ملتان میں طاقت کا مظاہرہ کرے گا ,ملتان میں پی ڈی ایم کی جانب سے قافلوں کی آمد کا شیڈول طے پاگیا ہے، ملتان میں سیاسی پارہ گزشتہ3 دن سے مسلسل بڑھ رہا ہے اور درجنوں کارکن گرفتار ہیں۔ ابھی تک قاسم باغ میں اسٹیج نہیں لگ سکا اور نہ ہی کرسیاں پہنچ سکیں۔ اسٹیڈیم سے پی ڈی ایم جماعتوں کے جھنڈے اور بینرز بھی اتار دئیے گئے
دوسری جانب انتظامیہ نے بھی کمر کس لی، جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، کنٹینر لگا کر راستے بلاک کر دئیے گئے۔ ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے کئی شہروں میں پکڑ دھکڑ کی گئی۔ پولیس نے ملتان گھنٹہ گھر چوک میں نواز لیگ کی ریلی نکالنے کی کوشش ناکام بنا دی، گھنٹہ گھر کو چاروں طرف سے سیل کر دیا گیا
لاہور جلسے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو اسلام آباد کا رخ کر لیں گے،رانا ثناء اللہ کا بڑا اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے پورے ملتان کو قید خانہ بنادیا،
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اگلے ایک گھنٹے میں کنٹینرز ہٹا لیے جائیں گے،عوام پر کوئی ظلم برداشت نہیں کریں گے،آج ہر قیمت پر گراوَنڈ کے اندر ہو یا باہر جلسہ ہو گا،
رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاریوں سے بات آگے نکل گئی ہے، سر پر کفن باندھ کر نکلے ہیں,ملتان کی سڑکوں پر خون بہا تو انتظامی افسران انکوائریاں بھگتیں گے، ملتان کے شہری باہر نکلیں، "ووٹ کو عزت دو” کیساتھ کھڑے ہوں، سلیکٹڈ گھبرا گیا ہے، جس نے اپوزیشن کو کنٹینر دینے کا اعلان کیا تھا وہ اپنے بچائو کیلئے کنٹینر ڈھونڈتا پھر رہا ہے کنٹینر لگانے سے حکومت پی ڈی ایم کا جلسہ نہیں روک سکتی،
رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ پر امن طور پر ہی قائدین کو جلسہ گاہ تک لائیں گے،حکمرانوں کو اب بھاگنے کا راستہ بھی نہیں ملے گا،13دسمبرکو لاہور جلسے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو اسلام آباد کا رخ کر لیں گے
رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ تم نے قوم کے ساتھ فراڈ کیا غلط وعدے کیئے ،اجتماعی دھوکہ دیا،کہتا تھا 90 دن میں کرپشن ختم ہوگی 10 گناہ ذیادہ ہو گئی،50 لاکھ گھر 1کروڑو نوکریوں کا کہا ڈھائی سال میں 10 نوکریاں یا 10گھر ہی دیئے؟ اسکامنسٹر کہتا تھاعمران خان آئے گی200 ارب ڈالر لائے گی کہاں ہیں وہ200 ارب ڈالر،
اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم آج پنجاب کے شہر ملتان میں طاقت کا مظاہرہ کرے گا ,ملتان میں پی ڈی ایم کی جانب سے قافلوں کی آمد کا شیڈول طے پاگیا ہے، ملتان میں سیاسی پارہ گزشتہ3 دن سے مسلسل بڑھ رہا ہے اور درجنوں کارکن گرفتار ہیں۔ ابھی تک قاسم باغ میں اسٹیج نہیں لگ سکا اور نہ ہی کرسیاں پہنچ سکیں۔ اسٹیڈیم سے پی ڈی ایم جماعتوں کے جھنڈے اور بینرز بھی اتار دئیے گئے
دوسری جانب انتظامیہ نے بھی کمر کس لی، جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، کنٹینر لگا کر راستے بلاک کر دئیے گئے۔ ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے کئی شہروں میں پکڑ دھکڑ کی گئی۔ پولیس نے ملتان گھنٹہ گھر چوک میں نواز لیگ کی ریلی نکالنے کی کوشش ناکام بنا دی، گھنٹہ گھر کو چاروں طرف سے سیل کر دیا گیا
آصفہ بھٹو مریم نواز پر پہلے روز ہی بازی لے گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آصفہ پہلی بار جلسہ کرنے نکلی اور ن لیگی رہنما مریم نواز پر بازی لے گئی
ملتان میں پی ڈی ایم جلسے سے آصفہ بھٹو اور مریم نواز نے خطاب کرنا ہے، مریم نواز ابھی کچھ دیر قبل لاہور سے ملتان کے لئے نکلی ہیں لیکن آصفہ بذریعہ جہاز کراچی سے ملتان پہنچ چکی ہیں،ملتان پہنچے پر پیپلز پارٹی کے کارکنان نےآصفہ بھٹو کا استقبال کیا، اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سعید غنی بھی انکے ہمراہ تھے، پی پی کارکنان نے آصفہ کی ملتان آمد پر خیر مقدمی نعرے لگائے
مریم نواز بائی روڈ ملتان جا رہی ہیں اور انکا قافلہ راوی ٹول پلازہ کراس کر چکا ہے، باخبر ذرائع کے مطابق مریم نواز کی خواہش ہے کہ راستے میں انکو روکا جائے اور انکو گرفتار کر لیا جائے اسی لئے وہ براستہ سڑک ہی ملتان کے لئے روانہ ہوئی ہیں تا ہم حکومت کی جانب سے ابھی تک مریم نواز کو گرفتار کرنے کی کوئی تیاری نہیں ہے
ایم این اے شگفتہ۔جمانی، سینیٹر قرة العین مری، جنید، کرنل بابر سمیت دیگر 4 سیکورٹی اسٹاف ہمراہ ہیں ،پاکستان پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر آج بتاریخ 30 نومبر بروز پیر بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی سربراہی میں گیلانی ہاؤس ملتان سے ریلی نکلے گی، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی ہمراہ ہوں گے۔آصفہ بھٹو زرداری ملتان میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے جلسے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی نمائندگی کریں گی اور شرکاء سے خطاب بھی کریں گی۔
اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم آج پنجاب کے شہر ملتان میں طاقت کا مظاہرہ کرے گا ,ملتان میں پی ڈی ایم کی جانب سے قافلوں کی آمد کا شیڈول طے پاگیا ہے، ملتان میں سیاسی پارہ گزشتہ3 دن سے مسلسل بڑھ رہا ہے اورعلی قاسم گیلانی سمیت درجنوں کارکن گرفتار ہیں۔ ابھی تک قاسم باغ میں اسٹیج نہیں لگ سکا اور نہ ہی کرسیاں پہنچ سکیں۔ اسٹیڈیم سے پی ڈی ایم جماعتوں کے جھنڈے اور بینرز بھی اتار دئیے گئے
دوسری جانب انتظامیہ نے بھی کمر کس لی، جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، کنٹینر لگا کر راستے بلاک کر دئیے گئے۔ ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے کئی شہروں میں پکڑ دھکڑ کی گئی۔ پولیس نے ملتان گھنٹہ گھر چوک میں نواز لیگ کی ریلی نکالنے کی کوشش ناکام بنا دی، گھنٹہ گھر کو چاروں طرف سے سیل کر دیا گیا
حکومت ہمیں تنگ کرے گی تو کارکن بھی ڈنڈا اٹھائیں گے ، مولانا فضل الرحمن کی ملتان میں دھواں دھار پریس کانفرنس
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملتان میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہم لاقانونیت کوتسلیم کرنےکوتیارنہیں ہیں، ہم ہرصورتحال کامقابلہ کرنےکوتیارہیں،کوئی ڈنڈااستعمال کریگا تو کارکنوں کو بھی ڈنڈا اٹھانے کی اجازت ہے..کوئی طاقت روکےگی تو عوام کا سیلاب بہا کر لےجائےگا،
ا
فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام صورتحال کا مقابلہ کرنےکیلیے حکمت عملی تیار کرلی ہے،حکومت اس وقت ریاستی دہشت گردی پر اترآئی ہے، ملتان، ڈیرہ غازی خان سےپارٹی کارکنوں کو گرفتار کیا جارہاہے.ملتان کی انتظامیہ کی طرف سےاوچھے ہتھکنڈے استعمال کیےجارہےہیں،پی ڈی ایم کی طرف سےپورےملک میں عوامی جلسوں کاسلسلہ شروع ہے
واضح رہے کہ اپوزیشن ملتان میں جلسہ کرنے پر بضد ہے جبکہ حکومت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے روکنے پر اپنا زور لگا رہی ہے.جلسے سے پہلے ہی پولیس اور جیالوں میں رات گئے تصادم ہو چکا ہے ۔ پی ڈی ایم کے کارکنوں نے قلعہ کہنا اسٹیڈیم پر دھاوا بولا تھا
جس کے جواب میں پولیس نے کریک ڈاون کیا اور یوسف رضاگیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی سمیت تیس افراد گرفتارکرلیا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری طلب کرنے پر کارکنان واپس چلے گئے۔
پنجاب حکومت نے ملتان میں اسٹیڈیم کا تالہ توڑنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔ صوبائی حکومت نے پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ بھی روکنے کا بھی اعلان کیا ہے۔معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ دو بچے ابو بچاؤ تحریک میں قوم کے بچوں کو ایندھن بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نےخبردار کیا کہ ملتان میں ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہو گی۔ اپوزیشن کو حالات مزید خراب نہیں کرنے دیں گے اور پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ بھی روکیں گے۔
چئیرمین پیپلز پارٹی بلال بھٹو کی ملتان میں کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملتان میں پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس سے بوکھلا اٹھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے30نومبرکو جلسہ ہرحال میں کریں گے۔ جیالوں کو کوئی بھی تکلیف ہوئی تو ملک کے کونے کونے میں احتجاج ہو گا۔
سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ کے بنتے ہی پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے اس علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو-
باغی ٹی وی : حال ہی میں پاکستان کے صف اول کے سینئیر صحافی مبشر لقمان نے سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی –
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی اے جنوبی پنجاب میں بہت بڑا جلسہ کرنے جا رہی ہے معلوم کہ جلسے میں بات ہو گی یا نہیں کہ ساؤتھ پنجاب کوصوبہ بنانے کے لئے اپوزیشن پارٹیز نے کیا کیا ہے اور حکومت نے کیا کیا ہے کیونکہ بہر حال جب کہ منصوبہ بننا ہوگا یا بنے گا تو دونوں کو کوآپریٹ کرنا پڑے گا تب ہی ایک بڑی تعداد اسمبلی میں خاص طور پر صوبائی اسمبلی میں وہ اس کو ووٹ کرے گی عثمان بزدار نے جنوبی پبجاب میں جو سارا انتظام کیا ہے ان کے بقول اب وہاں پر بڑی آسانیاں ہو گئی ہیں-
سئینئر اینکر پرسن نے کہا کہ آج سے وہ ایک سیریز شروع کر رہے ہیں جنوبی پنجاب کے مختلف ساتھیوں کو دوستوں کو دعوت دے کر کہ وہ آئیں اور ہمیں بتائیں کہ جنوبی پنجاب کے منصوبے کی حقیقت کیا ہے کیا ان کے معاملات آسان ہوئے ہیں-
آج کی اس قسط میں مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے سوال پوچھا کہ اب ان کا صوبہ کیسا لگ رہا ہے ؟
جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبہ تو ابھی نہیں بنا میں تو بنیاد ی طور پر بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو صوبہ ماننے کے حق میں ہوں لیکن ابھی تک یہ ہوا ہے کہ وہاں پر ایک سیٹلائٹ سیکرٹریٹ بنا دیا گیا ہے کہ اس سیکرٹریٹ کے بنتے ہیں پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے-
جس پر مبشر لقمان نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو وزیراعظم ہے یہاں پر جنوبی پنجاب کا اور آپ کے تو بڑے وزرا ہیں وفاق میں تو آپ دوسرے درجے کے کیسے ہیں جس پر سابقہ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے مسئلے ہی یہی ہیں کہ ہمارے وزیراعلی بھی ہوتے ہیں اور وزرا بھی ہوتے ہیں –
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار اور سوکالڈ ایلیکٹیبل جو ہیں ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو تا کہ تخف لاہور پر وہ بیٹھ سکیں اور مرکز میں بڑے عہدے لے سکیں وزیراعظم بن سکیں لیکن عوام غریب کے غریب ہی رہیں محروم ہی رہیں –
محمد علی درانی نے انکشاف کیا کہ جو کچھ سکرٹریٹ بنا ہے اس میں تخت لاہور کا کوئی کردار نہیں ہے اس کے سب ڈیزائن کو میں جانتا ہوں اس کو جنوبی پنجاب کے وڈیروں نے خود بنایا ہے اور خود ان کو لاگو کرایا ہے اس کا ان کو اس چیز کا ایک یہ فائدہ ہے کہ لوگ ان کے غلام ان کے غلام ہی رہیں گے اور وہاں نہ ترقی ہو گی نہ وہ ڈویلپمنٹ ہوگا بلکہ اس نئی ڈویلپمنٹ کی وجہ سے پورے پنجاب کی ڈویلپمنٹ متاثر ہو گی-
سابق وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اس وقت پنجاب کا 82 فیصد بجٹ نان ڈویلپمنٹل ہے 82 فیصد بجٹ تنخواہوں اور مراعات وغیرہ میں چلا جاتا ہے ان مراعات کا ایک اور بنڈل پنجاب کے اوپر لوڈ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب کا بالفرض اگر 100 ارب کا بجٹ ہو تو اس میں سے ساٹھ سے 70 ارب روہے اس سیکرٹریٹ پر لگ جائیں گے مطلب مرے کو مارے جو غریب لوگ وہاں کے ان کے ڈویلپمنٹ کا بجٹ تھا وہ اور کم ہوگیا پہلے یہ تھا کہ جنوبی پنجاب کے شہری پنجاب کے شہریوں کے برابر تھے تو ان میں سے کوئی بھی آکر لاہور کے سیکرٹریٹ کے اندر بتا سکتا تھا تولیکن اس نئے سیکرٹریٹ کے بعد ان کو جانوروں کی طرح ایک جنوبی پنجاب کے پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے –
مبشر لقمان نے اس پر کہا کہ آپ کسی بھی حالات میں خوش نہیں ہوتے سیکٹریٹ مانگا آپ کو دیا اس پر بھی آپ خوش نہی ہوئے-
اس پر سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے ایک عوام کا نمائندہ ایک عوام کا مطالبہ ایسا دے دیں جس نے سیکرٹریٹ مانگا اور ہم نے جو صوبہ مانگا تھا وہ گوانتاما جیل بن گیا ہے میں دلیل پر بات کرتا ہوں ویسے میں بات ہی نہیں کرتا وہاں پر بیٹھا آدمی مسائل کی وجہ سے لاہور آتا تھا تو اس کے دومسائل ہوتے تھے ایک خرچہ اور دوسرا فاصلہ اب اس کے 4 مسائل ہوگئے ہیں-
کیونکہ اب وہ تب تک یہاں آ نہیں سکتا جب تک وہاں کا آڈیشنل آئی جی اسے پرمٹ نہیں دے گا وہ آئی جی کے پاس پرابلم نہیں لا سکتا وہاں کی آڈیشنل کی سیکرٹری اسے پرمیشن لیٹر نہیں دے گی آڈیشنل آئی جی کے پاس شہریوں کے مسائل حل کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے اس نے جو ایکشن بھی لینا ہے آئی جی کی ہدایات پر لینا ہے یا آئی جی کی آگاہی پر لے گامطلب وہ با حکم آئی جی ہے وہاں پر کوئی بھی چیز چیف سیکرٹیری اور آئی جی کے انتظام کے بغیر نہیں ہو سکتی-
محمد علی درانی نے کہا کہ اب اس کے اوپر ظلم پر ظلم یہ کہ آدھا سیکرٹریٹ ملتان میں اور آدھا بہاولپور میں ہے آپ بتائیں پنجاب میں آدھا سیکرٹریت لاہور میں رکھیں اور آدھا اسلام آباد میں بھیج دیں تو مطلب یہ ہے کہ نہ لاہور والوں کو کچھ ملے گا نہ راولپنڈی والوں کو کچھ ملے گا ایک سیکرٹری ادھر بیٹھا ہوگا آڈیشنل سیکرٹری ادھر بیٹھا ہو گا مطلب بہاولپور اور جنوبی پنجاب سے متعلق کوئی مسئلہ بھی جو ہے وہ 4 گُنا زیادہ گھمبیر ہو گیا ہے اس ڈویلپمنٹ کے باعث اس کے بعد آپ کو نوکریں ملیں گی لیکن نوکریوں کا کوئی نشان ہی نہیں ہے یہ ہمارے لئے صوبہ نہیں ہے جیل خانہ ہے-
مبشر لقمان نے کہا کہ سولہ وزرا ہیں جنوبی پنجاب کے وفاق میں تو ابھی بھی آپ یہ سب کہہ رہے ہیں-
جس پر محمد علی درانی نے کہا کہ اسی لئے تو جنوبی پنجاب میں یہ حالات ہیں سیکرٹریٹ بنا کر اپ نے ایک زنجیر باندھ دی ہے جنوبی پنجاب کے آگے اس کو کوئی جنوبی پنجاب کا شہری نہیں پار کر سکتا صوبے کی ڈیمانڈ وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے صوبے کی ضرورت وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے ڈویلپمنٹ کی ضرورت اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ نان ڈویلپمینٹل بجٹ کم ہو-
جلسہ روکنے کے لئے حکومتی انتظامات ناکام، تالے پھر ٹوٹ گئے.پی ڈی ایم کارکنان قاسم باغ میں داخل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے کارکنان نے مختلف مقامات سے ریلی نکالی اور رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے جلسہ گاہ قلعہ کہنہ قاسم باغ سٹیڈیم پہنچ گئے ہیں اور تالے توڑ کر اندر داخل ہو گئے ہیں ۔
انتظامیہ کی جانب سے قلعہ کہنہ قاسم باغ کو سیل کیا گیا تھا اور جلسے کو روکنے کیلئے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تاہم آج پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ریلی کی قیادت علی حیدر گیلانی اور موسیٰ گیلانی کی جبکہ ن لیگ کی جانب سے بھی ریلی نکا لی گئی ، ملتان کے گھنٹہ گھر چوک میں لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا دی گئیں جبکہ کنٹینرز کو ہٹانے کیلئے کرین بھی منگوا لی گئی ہے ۔
کارکنان سٹیڈیم کے تالے توڑ کر اندر داخل ہو گئے ہیں ،جلسے کے چیف کوارڈینیٹر علی قاسم گیلانی بھی پہنچ چکے ہیں اور کنٹینر کے علاوہ دیگر سامان بھی پہنچانا شروع کر دیا گیاہے۔کارکنان کا مقصد یہ ہے کہ حکومت نے جو کنٹینرز لگا کر قلعہ کو سیل کیا تھا ، اسے ہٹاتے ہوئے اندر داخل ہوں اور 30 نومبر کے جلسے کیلئے سٹیج اور کرسیاں لگانے کا کام مکمل کیا جا سکے ۔کارکنان دو دن تک بڑی تعداد میں اس سٹیڈیم میں باری باری موجود رہیں گے اور ڈیوٹیاں دیں گے ۔
پی ڈی ایم کارکنوں نے کہنہ قاسم باغ میں استقبالیہ کیمپ لگانے کی تیاری شروع کردی ,پی ڈی ایم کارکنوں نے کہنہ قاسم باغ میں استقبالیہ کیمپ لگادیا
سیکریٹری جنرل پیپلزپارٹی سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے چار جلسوں نے سلیکٹڈ کے اعصاب خطا کردیئے ہیں،سید نیر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ جیالے عمران خان کی طرح چھپ کر بیٹھنے والے نہیں.ملتان میں جلسہ روکنے کی کوشس سلیکٹڈ کی بزدلی ظاہر کرتی ہے. نالائق اور نا اہل لاڈلے نے عوام کو مہنگائی اور معاشی بدحالی کا شکار کر دیا ہے. اسٹیل ملز سے ہزاروں ملازمین کی برطرفی عمران خان کو مہنگی پڑے گی،سید نیر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ کا مزید اقتدار میں رہنا ملک کی تباہی کو دعوت دینا ہے. عمران خان اب اپنے مانگے تانگے اقتدار کے دن گننا شروع کرے.
پی ڈی ایم نے 30 نومبر کو قاسم باغ میں جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم کے جلسے کی درخواست مسترد کر دی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری جنرل پیپلزپارٹی سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے چار جلسوں نے سلیکٹڈ کے اعصاب خطا کردیئے ہیں،
سید نیر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ جیالے عمران خان کی طرح چھپ کر بیٹھنے والے نہیں.ملتان میں جلسہ روکنے کی کوشس سلیکٹڈ کی بزدلی ظاہر کرتی ہے. نالائق اور نا اہل لاڈلے نے عوام کو مہنگائی اور معاشی بدحالی کا شکار کر دیا ہے. اسٹیل ملز سے ہزاروں ملازمین کی برطرفی عمران خان کو مہنگی پڑے گی،
سید نیر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ کا مزید اقتدار میں رہنا ملک کی تباہی کو دعوت دینا ہے. عمران خان اب اپنے مانگے تانگے اقتدار کے دن گننا شروع کرے.
پی ڈی ایم نے 30 نومبر کو قاسم باغ میں جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم کے جلسے کی درخواست مسترد کر دی ہے اور قلعہ کہنہ اور اطراف کو رات گئے پولیس کی جانب سے سیل کردیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت پہلے ہی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے صوبے بھر میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹکی جانب سے کیے جانے والے جلسوں کی اجازت نہ دینے کا اعلان کر چکی ہے۔
دوسری جانب ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے کے سلسلے میں 2 روز قبل سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی سمیت دیگر کارکنوں کو بلا اجازت ریلی نکالنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے جبکہ ملتان میں جلسے کی تیاریوں کے لیے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور دیگر رہنما سرگرم ہیں جس کے لیے کارنر میٹنگز، ورکرز کنونشن اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے
پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس وقت ڈی سی ملتان اور سی پی او ملتان سمیت تمام سرکاری مشینری پر جلسہ رکوانے کے لیئے اوپر سے شدید دبا ہے، ملتان کا سفیدے کا درخت بھی انتظامیہ کو جلسہ ہونے پر ٹرانسفر اور معطلی کی دھمکیاں دے رہا ہے جنہوں نے دباو کے تحت جھوٹے مقدمے درج کرنا شروع کر دیئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور حکومت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ملتان کا جلسہ ہر صورت ہوگا، اگر روک سکتے ہو تو روک لو۔
کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی، سابق وفاقی وزیر پر مقدمہ درج
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملتان میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ن لیگی رہنما عبدالرحمان کانجو پر مقدمہ درج کر لیا گیا
سابق وفاقی وزیر مملکت عبدالرحمان کانجو کے خلاف مقدمہ تھانہ صدر کہروڑ پکا میں درج کیا گیا،ملتان میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پردرج مقدمے میں 120 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے،سابق وزیرمملکت عبدالرحمان کانجو نے گزشتہ روز گھر میں ورکر کنونشن منعقد کیا تھا
واضح رہے کہ پی ڈی ایم ملتان میں جلسہ کر رہی ہے، جس کےلئے کارنر میٹنگز جاری ہیں، پی ڈی ایم رہنماؤن پر پہلے بھی مقدمے درج کئے گئے ہیں ، ملتان میں رہنما پاکستان مسلم لیگ ن ملتان وحید آرائیں ، شیخ طارق رشید ، رہنما پیپلز پارٹی قاسم گیلانی ، عبدالقادر گیلانی اور 30 نامعلوم افراد پر حکومت نے سنگل اور تالا چوری کی ایف آئی آر کٹوا دی ہے،پی ڈی ایم کمیٹی ملتان نے جلسے کے لیئے قاسم باغ اسٹیڈیم کا دورہ کیا تھا،پی ڈی ایم کمیٹی قیادت چیف کورآرڈینیٹر جلسہ 30 نومبر قاسم گیلانی نے کی تھی،ایم پی اے سید علی حیدر گیلانی، سیدعبدالقادر گیلانی، عبدالرحمان کانجو,شیخ طارق رشید,عبدالوحید آرائیں و دیگربھی شریک تھے، جس کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
پی ڈی ایم کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ ملتان پولیس نے دبا میں آکر مقدمہ درج کیا ہے،پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس وقت ڈی سی ملتان اور سی پی او ملتان سمیت تمام سرکاری مشینری پر جلسہ رکوانے کے لیئے اوپر سے شدید دبا ہے، ملتان کا سفیدے کا درخت بھی انتظامیہ کو جلسہ ہونے پر ٹرانسفر اور معطلی کی دھمکیاں دے رہا ہے جنہوں نے دباو کے تحت جھوٹے مقدمے درج کرنا شروع کر دیئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور حکومت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ملتان کا جلسہ ہر صورت ہوگا، اگر روک سکتے ہو تو روک لو۔
نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ گیلانی کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے ،موسی گیلانی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں، یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں پر جھوٹے مقدمات درج کئے گئے،گیلانی خاندان پر جھوٹے مقدمات جلسہ روکنےکی سازش ہے،حکومت ملتان جلسے سے اتنا ڈر گئی ہے کہ گیلانی خاندان کے خلاف تالا توڑنے کا کیس بنا ڈالا،انتقامی سرکار گلگت بلتستان کے بعد ملتان کو میدان جنگ بنانا چاہتی ہے