کوئٹہ: گرین پاکستان انیشیٹو پروگرام کے تحت بلوچستان میں زرعی ترقی اور مقامی زمینداروں کی خوشحالی کے لیے متعدد اہم منصوبے کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
پروگرام کے فیز ون کے تحت دکی، قلعہ سیف اللہ اور سبی میں 3 ہزار 800 ایکڑ غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت بنایا گیا، جبکہ زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے 144 شمسی توانائی سے چلنے والے زرعی ٹیوب ویل بھی نصب کیے گئے۔ ان منصوبوں سے 74 زمیندار مستفید ہوئے۔گرین پاکستان انیشیٹو کے فیز ٹو کے تحت کوہلو، بارکھان، چمن، نوشکی، ڈیرہ بگٹی، ژوب، مستونگ، کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ میں مزید 8 ہزار 481 ایکڑ زمین کو قابلِ کاشت بنایا گیا، جس سے 214 زمینداروں کو فائدہ پہنچا۔قابلِ کاشت بنائی گئی اراضی پر گندم، کپاس اور مختلف اقسام کے باغات کی کاشت جاری ہے، جس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار میں اضافے اور معاشی خودکفالت کو فروغ مل رہا ہے۔
حکام کے مطابق ایف سی بلوچستان (نارتھ)، ضلعی انتظامیہ اور منتخب عوامی نمائندوں کی نگرانی میں مکمل ہونے والے یہ منصوبے بلوچستان میں زرعی شعبے کی ترقی اور مقامی آبادی کی معاشی خوشحالی کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت اقدامات کا مقصد غیر آباد اراضی کو زرعی مقاصد کے لیے بروئے کار لانا، مقامی زمینداروں کو سہولیات فراہم کرنا اور بلوچستان کو سرسبز و خوشحال بنانے میں معاونت کرنا ہے۔
