Baaghi TV

ٹی ایچ کیو گوجرخان میں صفائی کا جنازہ، عملہ تین ماہ سے تنخواہ سے محروم

thq gujar khan

سفارشی صفائی اہلکاروں کی من پسند ڈیوٹیاں، نجی کمپنی کا نظام ناکام ہسپتال گندگی کے نرغے میں مریضوں کی صحت داؤ پر
واش رومز بدبودار فرشوں پر خون کی دھبے نجی کنٹریکٹ ختم کرکے محکمہ صحت کے براہِ راست ماتحت صفائی عملہ بھرتی کرنے کا عوامی مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال گوجرخان میں صفائی کا نظام سوالیہ نشان بن گیا، نجی کمپنی کے صفائی عملے کو مبینہ طور پر تقریباً تین ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کے باعث مالی مشکلات اور احتجاج کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب شہری ہسپتال کی ابتر صفائی صورتحال پر پھٹ پڑے۔ شہریوں کے مطابق فرشوں کی باقاعدہ ڈیپ کلیننگ کا فقدان ہے اور بعض مقامات پر مبینہ طور پر خون کے دھبے تک دکھائی دیتے ہیں، جو انفیکشن کنٹرول کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث ہیں واش رومز میں بدبو اور تعفن پھیلا ہوتا ہے۔ ذرائع نے صفائی عملے میں مبینہ سفارشی بھرتیوں اور من پسند تعیناتیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض بااثر افراد کے سفارشی اہلکار مبینہ طور پر اپنی مرضی کی جگہوں اور ڈیوٹیوں کا انتخاب کرتے، سہولت کے مطابق کام کرتے اور مطلوبہ ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے، جس سے صفائی کا نظام مزید متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے بعد ہڑتال، دباؤ اور پھر وقتی صلح کا سلسلہ بھی مسئلے کا مستقل حل ثابت نہیں ہو سکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ملازمین کو اجرت نہ ملنا ظلم ہے، مگر مریضوں کو ناقص صفائی کے حوالے کرنا بھی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اگر نجی کمپنی نہ بروقت تنخواہیں دے پا رہی ہے اور نہ صفائی کا معیار برقرار رکھ پا رہی ہے تو ایسے نظام کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نجی صفائی کمپنیوں کے کنٹریکٹس کا فوری جائزہ لے کر انہیں ختم کیا جائے اور اسپتالوں میں صفائی کا عملہ براہِ راست محکمہ صحت کے ماتحت میرٹ پر بھرتی کیا جائے، جبکہ ضلعی سطح پر کمشنر اور سی ای او ہیلتھ کو حاضری، ڈیوٹی، کارکردگی اور تنخواہوں کی براہِ راست نگرانی کا پابند بنایا جائے۔ ساتھ ہی صفائی عملے کی بھرتیوں، حاضری، ڈیوٹی روسٹر، کمپنی کو ہونے والی ادائیگیوں اور تنخواہوں کا مکمل آڈٹ کرکے مبینہ سفارشی کلچر کی تحقیقات کی جائیں۔ شہریوں کا دوٹوک مؤقف ہے کہ اسپتال علاج گاہ ہے، گندگی اور جراثیم پھیلانے کی جگہ نہیں، ٹھیکوں، سفارشوں، من پسند ڈیوٹیوں اور وقتی ہڑتالوں کے بجائے ایسا شفاف نظام دیا جائے جس میں صفائی بھی نظر آئے اور ذمہ دار بھی۔

More posts