پاکستان کی نامور اداکارہ روحی بانو کی آج 25 جنوری کو پہلی برسی منائی گئی
روحی بانو کا شمار اْن فنکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے پاکستان میں ٹی وی کو جنم لیتے اور بنتے دیکھااور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ڈراموں میں روحی بانوکی موجودگی لازمی سمجھی جانے لگی
اداکارہ نے کرن کہانی، زرد گلاب، دروازہ، زیر زبر، دھند، سراب،قلعہ کہانی ہو، حیرت کدہ،پکی حویلی اور دیگر بے شمار کلاسک ڈراموں میں جاندار اداکاری اور یادگار کردار ادا کرکے مداحوں کے دل جیت لئے
انہوں نے منو بھائی ،شوکت صدیقی، بانو قدسیہ، اشفاق احمد،حسینہ معین اور کے کرداروں کو اپنی بے مثال اور جاندار اداکاری سے اعلی سطح پر پہنچا دیا
علاوہ ازیں اداکارہ نے اناڑی، خدا اور محبت، تیرے میرے سپنے، نوکر، ضمیر ،پہچان، سیاں اناڑی،دشمن کی تلاش ، دل ایک کھلونا، گونج اٹھی شہنائی، راستے کا پتھر، بڑا آدمی، آج کا انسان، پالکی، کائنات، زینت، کرن اور کلی، دلہن ایک رات کی،جزیرہ آدھا چہرہ اورٹیپو سلطان سمیت بے شمار فلموں میں شاندار اداکاری کر کے مداحوں سے خوب داد سمیٹی
روحی بانو کو پی ٹی وی ایوارڈ، نگارایوارڈ، گریجویٹ ایوارڈ اور تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا
روحی بانو کی زندگی میں غم لبریز اس وقت ہوئی جب 2005میں ان کے اکلوتے جواں سال بیٹے فرزند علی کا پراسرار انداز میں قتل ہوا اور اس کے چند ہی ماہ کے بعد ان کی والدہ کی سوختہ لاش سامنے آئی ان صدموں نے انہیں زندہ درگور کردیا
روحی بانونے اپنے جواں سال بیٹے کے قتل کے بعد 14برس انتہائی اذیت میں گزارے اور مختلف خیراتی اداروں میں بھی زیرعلاج رہیں اور 25جنوری 2019کو روحی بانو کا ترکی کے شہر استنبول میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئیں
بھارتی ابھرتی ہوئی اداکارہ سیجل شرما نے ذاتی وجوہات پر ڈپریشن کی وجہ سے ممبئی میں خودکشی کرلی
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے شہر’ ادے پور‘ میں سیجل کی فیملی رہائش پذیر تھی جبکہ اداکارہ میرا روڈ ایسٹ کے شیوار گارڈن میں واقع رائل نیسٹ سوسائٹی میں دوستوں کے ساتھ رہائش پذیر تھیں
ان کے ساتھ رہائش پزیر ایک دوست نے فون کالز کیں جواب نہ پا کر زبردستی دروازہ توڑا تو انہیں پھندے پر لٹکا پایا جس کے بعد انہیں فوراً ہی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں اور چل بسیں
پولیس کے مطابق سیجل کے گھر سے ایک لکھا ہوا پیپر بھی برآمد ہوا ہے جس میں انہوں نے خودکشی کی وجہ ذاتی ریزن بتائی ہے اور یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اداکارہ نے ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کی ہے
سیجل نے کئی بالی ووڈ اداکاروں کے ساتھ ٹی وی اشتہارات میں کام کیا ٹی وی پر آنے سے پہلے سیجل شرما اشتہارات کی دنیا کا معروف چہرہ تھیں معروف ٹی وی ڈرامے ’دل تو ہیپی ہے جی‘ سے اداکارہ کو شہرت ملی علاوہ ازیں سیجل شرما نے ’آزاد پرندے‘ نام کی ایک ویب سیریز میں بھی کام کیا ہے
تمغۂ امتیاز حاصل کرنے والی پاکستانی معروف اور نامور ادکارہ مہوش حیات کراچی ایئر پورٹ پر خواتین کے لیے مختص کمرے میں موجود گندگی دیکھ کر برہم ہو گئیں
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے لکھا کہ بدقسمتی سے کراچی ائیر پورٹ پر خواتین کے لیے مختص کمرہ استعمال کرنے کا اتفاق ہوا جو انتہائی گندہ اور بدبو دار تھا وہاں مجھے لال بیگ بھی دکھائی دیئے جن کی موجودگی انتہائی مضر صحت ہے
مہوش حیات نےسوال کرتے ہوئے لکھاکہ ملک میں آنے والوں کو ہم کیا تاثر دینا چاہتے ہیں؟ اداکارہ نے یہ بھی لکھا کہ یہ بنیادی سہولیات ہیں اس لیے انہیں صاف رکھیں
اداکار و میزبان فخر عالم نے مہوش سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ان کے ایئر پورٹ منیجرز دنیا کے سامنے اس کے ذمہ دار ہیں انہوں نے مزید لکھا کہ اگے ہم اپنے ملک میں سیاحت کے لئے سنجیدہ ہیں تو اس جیسے کسی بھی بنیادی مسائل افورڈ نہیں کر سکتے
انہوں نے کہا کہ وہ مہوش کے سوال پر متفق ہیں اور وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوور سیز پاکستانی زلفی بخاری کومخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ناقابل قبول ہے برائے مہربانی کر کے اس مسئلے کی طرف توجہ دیں
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کا فلم زندگی تماشا کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہنا ہے کہ فلموں کے بارے میں رائے دینا اسلامی نظریاتی کونسل کا کام نہیں
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلموں کے بارے میں رائے دینا اسلامی نظریاتی کونسل کا کام نہیں اگر سرکار ہم سے کوئی بات پوچھے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کا جواب دیا جائے
ریاست،سماج اور مذہب کے نام سے مکالمہ میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی فلم’’زندگی تماشا‘‘ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سے سوالات کیے جا رہے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل اس بات کو یقینی بنائے کہ داڑھی کو لمبا رکھا جائے اور خواتین کے لیے الگ سے تعلیمی ادارے بنائے جائیں قانون سازی میں بھی ظاہری چیزوں پر زیادہ فوکس کیا جا رہا ہے ہم حقوق العباد اور دیگر چیزوں سے ہٹ گئے ہیں اور ہمارا زیادہ زور لباس اور چلنے پر ہو گیا ہے
ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا اگر سرکار ہم سے کوئی بات پوچھے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے اس کا جواب دیا جائےحکومت نے فلم ’زندگی تماشا‘ کا معاملہ ہمارے پاس بھیجا ہے اس کا جائزہ لیں گے فلموں کے بارے میں رائے دینا اسلامی نظریاتی کونسل کا کام نہیں ہم فلم اور ڈراموں کے ماہرین سے مشورہ لیں گے ہم کوئی بھی رائے کسی دباؤ میں آ کر نہیں دیں گے فیصلہ دینا صرف متعلقہ اداروں کا کام ہے ہم فلم ’زندگی تماشا‘ کے بارے میں فیصلہ نہیں صرف رائے دیں گے
واضح رہے کہ مرکزی فلم سنسر بورڈ نے فلم ’زندگی تماشا ‘ کے معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور فلم کا جائزہ لینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو خط لکھا تھا جس پر ترجمان اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا تھا کہ فلم کا جائزہ لینے کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو فلم کے مرکزی خیال اور ممکنہ معاشرتی اثرات کے بارے میں رپورٹ تیار کرکے چیئرمین کو پیش کرے گی
واضح رہے کہ ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی فلم’’زندگی تماشا‘‘اپنے حساس موضوع کے باعث پاکستان کی متنازع فلم بن گئی ہےفلم کو گزشتہ روز 24 جنوری ریلیز کیا جاناتھا لیکن سنسر بورڈ کے پاس فلم کے خلاف مختلف شکایات موصول ہونے اور فلم کی کہانی پر اعتراضات اٹھائے جانے کے باعث فلم کی ریلیز پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے
یاد رہے پنجاب سمیت سندھ حکومت نے بھی تاحال فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کر دی ہے اور صوبائی حکومت نے فلم ساز کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ ماہ 3 فروری کو صوبائی جائزہ کمیٹی کو ’زندگی تماشا‘ دکھانے کا بندوبست کرے
داکارہ منشا پاشا کو ڈراما سیریل ’’میرے پاس تم ہو‘‘کی تعریف کرنے اورڈرامے کی مقبولیت پر مبارکباد دینے پر سوشل میڈیا صارفین نے کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا
اداکار ہمایوں سعید، عائزہ خان اور عدنان صدیقی کے ڈرامے’’میرے پاس تم ہو‘‘نے مقبولیت ریکارڈ توڑ دئیے ہیں آج ڈرامے کی آخری قسط سینما اور ٹی وی پر ایک ساتھ نشر کی جائے گی ڈرامے کی آخری قسط کا انتظار شائقین بے چینی سے کررہے ہیں جب کہ فہد مصطفیٰ سمیت دیگر اداکار بھی ڈرامے کی کامیابی پر پوری ٹیم کو مبارکباد دے رہے ہیں
ڈرامے کی مقبولیت پر مبارکباد دینے والوں میں اداکارہ منشاپاشا بھی شامل ہیں جنہوں نے گذشتہ روز ڈرامے کی ٹیم کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص ہماری ذاتی رائے سے متفق نہیں ہوسکتا لیکن مصنف سے لے کر فنکاروں تک ہر ایک کی کامیابی اور صلاحیتوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا امید ہے مزید ڈرامے ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کی طرح مقبولیت حاصل کریں گے
منشا پاشا کی اس سوشل میڈیا صارفین نے اداکارہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا
منشا پاشا کے اس ٹوئٹ پر ملک یامین نامی شخص نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ خواتین کے خلاف امتیاز پھیلانے پر مبارکباد مردانگی اور نفرت انگیز مواد کو فروغ دینے پر مبارکباد عورت سے نفرت پر مبنی مواد کے باوجود اگر ’’میرے پاس تم ہو‘‘کی طرح کے ڈرامے کو غیر معمولی تعریفیں مل رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ معاشرے کو اپنے نقطہ نظر پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے اور اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے
ملک یامین کی تنقید پر منشا پاشا نے انہیں جوابی ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا یہ صرف ایک کہانی ہے انڈسٹری مختلف طرح کے ڈرامے بناتی ہے اور آخر میں یہ ایک تفریحی صنعت ہے کیا آپ نے ’’گیم آف تھرونز‘‘ میں اخلاقیات کو تلاش کیا آخر میں صرف یہی کہنا چاہوں گی ایک ڈرامے کو اچھی طرح لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے کردار دلچسپ ہونے چاہئیں
منشا پاشا کی اس بات پر نور نامی صارف نے انہیں کرارا جواب دیتے ہوئے کہا تفریح ہو یا نہیں میڈیا ہمارے عالمی نظریے کو شکل دیتا ہے اور میڈیا سے وابستہ لوگ جو اس طرح کا مواد بناتے ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات سے واقف ہوں کہ وہ لوگ اپنے مواد کے ذریعے کس طرح کا پیغام لوگوں تک پہنچا رہے
اس کے جواب نے منشا نے کہا مصنف کے ذاتی خیال کو کام کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیئے ہو سکتا ہے اس کے ذاتی خیال کے ساتھ متفق نہ ہوں لیکن پھر بھی ایک بہت بڑا مصنف ہو سکتا ہے
عباس نامی صارف نے بھی منشا پاشا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا آپ غلط کہہ رہی ہیں منشا میڈیا معاشرے میں رائے کو تشکیل دیتا ہے لہذا یہ لوگ متوازن خیالات کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں یہاں تک کہ ٹی وی اور ہر دوسرے ڈراموں میں خواتین کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تصور کریں ایک 10 سال کا بچہ جو اس طرح کے ڈرامے دیکھ رہاہے اس کے ذہن پر یہ سب دیکھ کر کیا اثر ہوگااور اس کے دماغ کی کیسی تشکیل ہورہی ہے
عباس کی تنقید پر منشا نے جوابی ٹویٹ دیتے ہوئے کہا کہ جب بچے گھروں میں ٹی وی پر کیا دیکھ رہے ہیں تب ہم کچھ نہیں سوچتے مختلف ریلیٹی شوز اور رومینٹیک قتل پر مبنی مواد تو تب ہم نہیں کہتے کہ ٹی وہ پر کیا دکھایا جا رہا ہے
جبکہ یاسر وٹو نامی صارف نے لکھا کہ جب مرد کسی دھوکے باز یا قاتل کا یا ظالنم و جابر انسان کا کردار ادا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے مردوں کو بدنام کیا جا رہا ہے اسی طرح یہاں تمام عورتوں کو دھوکے باز اور لالچی نہیں کہا جا رہا
واضح رہے کہ جہاں ڈراما سیریل’’میرے پاس تم ہو‘‘ نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے وہیں اس ڈرامے کے مصنف خلیل الرحمان قمر کو خواتین کے حوالے سے دئیے گئے متنازع بیانات کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے
ڈرامے کی آخری قسط رکوانے کے لئے ماہم نامی خاتون نے عدالت کو درخواست کی تھی جسے سول عدالت میں سول جج نائلہ ایوب نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ معاشرے پر ڈرامے کا کوئی برا اثر پڑنے کا امکان نہیں لہذاآج پچیس جنوری کو ڈرامے کی آخری قسط سینما اور ٹی وی پر ایک ساتھ نشر کی جائے گی
پاکستان کے نامور اداکار سید محمد احمد کے مطابق ہمارے معاشرے میں بیٹی کا باپ ہونا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے بیٹا نہیں دیا اگر بیٹا ہوتا تو شاید میری محبت بٹ جاتی
محمد احمد اس وقت اپنے ڈراموں ‘رسوائی’ اور ‘میرے پاس تم ہو’ کے لیے مداحوں سے کافی داد وصول کررہے ہیں
اے آر وائے ڈیجیٹل کے ڈرامے ‘رسوائی’ میں محمد احمد نے ایک ایسے والد کا کردار نبھایا جن کی بیٹی کو ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس وجہ سے اُس کی شادی شدہ زندگی مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے
اس ڈرامے میں محمود نامی کردار جو محمد احمد نبھارہے ہیں وہ اپنے بیٹے بہو اور بیٹی کے ہمراہ ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جاتے ہیں جہاں کچھ غنڈے ان کی بیٹی اور بہو کو اغوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اداکار اپنی بیٹی کے بجائے بہو کو بچالیتے ہیں
حال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں ‘رسوائی’ میں کام کرنے کے حوالے سے اداکار کا کہنا تھا کہ ان کے لیے اس کردار کو قبول کرنا مشکل ترین کام تھا کیوں کہ وہ اصل زندگی میں بھی اپنی بیٹی کے حوالے سے ایسے غم سے گزر چکے ہیں
محمد احمد کے مطابق ہمارے معاشرے میں بیٹی کا باپ ہونا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے لیکن میں اپنی بیٹیوں کے حوالے سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان چاروں نے مجھے ایک مغرور والد بنایا ہے جس کے لیے میں اللہ کا بےحد شکر ادا کرتا ہوں میری بیٹیوں نے ہمیشہ میرا سر بلند رکھا
انہوں نے مزید بتایا کہ جب رسوائی میں کام شروع کیا تو جو سارا غم انہیں زندگی میں ملا وہ سارا میں انہوں نے اپنے کردار میں پیش کردیا اداکار کے مطابق لوگ میرے کردار کو پسند ہی اس لیے کرتے ہیں کہ جب میں بیٹی کا والد بنتا ہوں تو میں اداکاری نہیں کرتا حقیقت پیش کرتا ہوں
بیٹیوں سے اپنے رشتے پر مزید بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ماں کا دل نرم ہوتا ہے تو میں سوال کرتا ہوں کہ کیا باپ کا دل کسی اور چیز سے بنا ہے؟ اور جتنے بھی باپ ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ اپنی اولاد کے لیے وہ کتنی محنت کرتے ہیں
سید محمد احمد کی 4 بیٹیاں ہیں جن میں سے تین کی شادی ہوچکی ہے جبکہ چوتھی کی بھی جلد شادی ہونے والی ہے
اداکارنے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے بیٹا نہیں دیااگر بیٹا ہوتا تو شاید میری محبت بٹ جاتی بہو ہوتی تو وہ بھی اتنی ہی پیاری ہوتی لیکن اللہ نے میرے دل کے 4 ٹکڑے بنائے ہیں اور سب مجھ سے بہت قریب ہیں
اپنی بیٹی کی طلاق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سید محمد دکھی ہوگئے ان کا کہنا تھا کہ میری ایک بیٹی کے ساتھ ایسا حادثہ ہوچکا ہے اس کو طلاق ہوئی جو میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا کیوں کہ میری بیٹی کا کوئی قصور نہیں تھاتاہم مجھے اس بات کا یقین ہے کہ جب آپ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس میں کچھ بہتری رکھی ہوگیاس وقت آپ کو اس کا پتہ نہیں ہوتا لیکن انسان کو کچھ سال بعد ہی سمجھ آتا ہے کہ اللہ جو کرتا ہے ہماری بہتری کے لیے ہی کرتا ہے
ڈرامے میں ریپ جیسے سنگین موضوع کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھے چینلز، پروڈیوسرز اور مصنفوں سے ایک بات پر شدید اختلاف ہے کہ جب وہ ریپ دکھاتے ہیں تو پھر اس کا انجام بھی اتنا ہی خوفناک دکھائیں تاکہ دیکھنے والوں کو عبرت ہو
البتہ انہوں نے کہا کہ ایسے موضوعات پر بہت کم ہی ڈرامے بننے چاہیے کیوں کہ یہ دیکھ دیکھ کر لوگوں کے دل آہستہ آہستہ پتھر کے ہوجاتے ہیں
یاد رہے کہ ‘رسوائی’ کے علاوہ محمد احمد کے ‘میرے پاس تم ہو’ میں کیے کردار کو بھی بےحد پسند کیا گیا اس ڈرامے میں اداکار نے مرکزی کردار ‘دانش’ کے باس اور دوست ‘متین صاحب’ کا کردار نبھایا تھا
سید محمد احمد پاکستان کی کامیاب فلم ‘کیک’ میں بھی کام کرچکے ہیں جبکہ وہ ‘عہد وفا’، ‘یہ دل میرا’ اور ‘سنو چندا’ جیسے مقبول ڈراموں میں بھی اپنی اداکری کے جوہر دکھا چکے ہیں
پاکستان شوبز اندسٹری کے نامور یاسر حسین کو اداکاری کرتے ہوئے تو سب ہی نے دیکھا ہوگا اور سب ہی ان کی صلاحیتوں کے معترف ہیں لیکن ساتھی اداکارہ اقرا عزیز سے شادی کے بعد ان کے ایک اور ہنر کا انکشاف ہوا ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے
یاسر حسین اور اقرا عزیز کی جوڑی پاکستان شوبز انڈسٹری کی مقبول ترین ’نوبیاہتا جوڑی‘ بن گئی ہے دونوں سوشل میڈیا پر اپنی مصروفیات سے مداحوں کو ہر وقت آگاہ رکھتے ہیں دلچسپ کیپشن، خوبصورت تصاویر اور دلکش الفاظوں سے ایک دوسرے کو سراہنے کا عمل مداحوں کو بھی خوب بھاتا ہے مداح خوب محفوظ ہوتے ہیں
حال ہی میں اقرا عزیز نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں یاسر حسین کو ’باورچی‘ بنتے دکھایا گیا ہے ایک ’سگھڑ‘ شوہر کی طرح یاسر حسین کھانا پکانے کے لیے درکار چیزوں کو خریدنے مارکیٹ جاتے ہیں صاف، تازہ، سبزیاں اور گوشت وغیرہ خریدتے ہیں
واضح رہے کہ یاسر حسین کی یہ تیاریاں اہلیہ اقرا عزیز کے لیے اپنی پسندیدہ ڈش پلاؤ بنانے کے لیے ہیں یاسر حسین کچن کے لوازمات کو سنبھالتے ہوئے کسی ماہر باورچی کی طرح سبزیاں کاٹتے اورکوکنگ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور پلاؤ تیار کرکے خود کو سگھڑ شوہر ثابت کردیتے ہیں
اس موقع پر اقرا عزیز بھی پھولے نہیں سمائیں اور اپنے شوہر کے ذائقہ دار پکوان سے اتنی خوش ہوئیں کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کردی اور ساتھ ہی اس پلاؤ کو خوبصورت نام دیتے ہوئے کیپشن دیا کہ پیار کا پلاؤ بنانے پر یاسر حسین کو ’بہترین باورچی‘ کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے اور بھر پور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئےکہا کہ ان کواپنی اس نئی زندگی کا ہر لمحہ اور سیکنڈ پیاراہے
پاکستان میں بڑھتی مہنگائی پر جہاں عوام سخت نالاں و پریشان ہیں وہیں معروف شخصیات بھی اس پر تنقید کرتے نظر آرہے ہیں نامور اداکارہ و میزبان مشی خان بھی وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت پربرس پڑیں
مشی خان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پاکستان میں بڑھتی مہنگائی پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا
https://www.instagram.com/p/B7rRQ8CBCvU/?igshid=17v8tzi65llgm
اپنی ویڈیو کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ امید ہے ان کے مداح خیریت سے ہوں گے جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ کچھ دن پہلے گھر کے قریب موجود ایک ڈھابے کی طرح کے ہوٹل سے انہوں نے روٹی اور کڑی پکوڑے کی ایک پلیٹ خریدی البتہ ایک پلیٹ کی قیمت سن کر ان کا دل عام عوام کے لیے افسردہ ہوگیا
مذکورہ معاملے کی تفصیل بتاتے ہوئے اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں ڈھابہ نما ہوٹل پہنچی تو دل کیاکہ یہی سے کھانا خرید لوں ہوٹل کا کھانا اچھا اور مزیدار ہوتا ہے جب میں نے پوچھا کہ کیا بنا ہے تو بتایا گیا کہ کڑہی پکوڑا ہے جس کی ایک پلیٹ کی قیمت 80 روپے تھی
مشی خان کے مطابق جب میں واپس گھر آکر کھانا کھانے لگی تو مجھے احساس ہوا کہ کڑی پکوڑے کی ایک پلیٹ جس میں صرف دو چھوٹے چھوٹے پکوڑے تھے وہ 80 روپے کی ہے میں بس یہی سوچتی رہی کہ ایک عام آدمی جس کی اتنی تنخواہ نہیں جو اتنا کماتا نہیں کہ صحیح سے دو وقت کا کھانا بھی نہیں کھا پارہا اسے شاید اس مہنگائی میں صرف ایک وقت کا کھانا میسر ہو جبکہ وہ اس بڑھتی مہنگائی کے ساتھ کیسے گزارا کررہا ہے
اداکارہ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور ان کی حکومت کا شکریہ جنہوں نے تبدیلی کے نام پر عوام پر ایسا بم گرایا کہ ہر روز گیس کی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے میں نہیں جانتی کہ بیچارے عوام کس طرح گزارا کررہے ہیں مجھے اس بات کا بےحد دکھ ہے
کورونا وائرس کے نتیجے میں چین میں ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں ایک کامیڈی فلم کو انٹرنیٹ پر ریلیز کیا جارہا ہے کیونکہ خدشہ تھا کہ سنیماﺅں میں ناظرین جان لیوا وائرس کا شکار نہ ہوجائیں
ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ہونشائی میڈیا گروپ نے جمعے کو بیجنگ بائیٹ ڈانس نیٹ ورک سے معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت نئی فلم ‘لوسٹ ان رشیا’ کو بائیٹ ڈانس کے آن لائن پلیٹ فارمز پر دکھایا جائے گا
https://www.youtube.com/watch?v=m3VQXfZaBWA&feature=youtu.be
مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک اور نیوز ایپ جنری ٹویٹیاﺅ کی مالک کمپنی بائیٹ ڈانس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لوگوں کے بڑے اجتماع کے خطرے کو کم کرنے کی کوششوں کے لیے یہ معائدہ کیا گیا ہے جو مداحوں کو یہ فلم ایپس میں مفت دیکھنے کی سہولت فراہم کرے گا بائیٹ ڈانس نے 63 کروڑ چینی یوآن کے عوض اس فلم کے اسٹریمنگ رائٹس اپنے نام کیے
کمپنی کے مطابق ‘اس فلم کو 25 جنوری کے دن سب نے دیکھنا تھا مگر اب اسے دیکھنے کا مقام سنیما کی جگہ موبائل فون اور ٹیلی فون ہوگیا ہے جبکہ دونوں کمپنیوں نے اس معاہدے کی تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کیا
واضح رہے کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں چین میں 25 افراد ہلاک جبکہ 800 سے زائد اس کا شکار ہوچکے ہیں، جس کے بعد 10 شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل اور ملک بھر میں عوامی اجتماعات کو روکنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں
چین میں 25 جنوری سے نئے تقویمی سال کا آغاز ہورہا ہے اور اس موقع پر لوگ بڑی تعداد میں سنیماﺅں کا رخ کرتے ہیں مگر وائرس کے باعث کم از کم 7 فلموں بشمول لوسٹ ان رشیا کے پریمیئر کو ملتوی کردیا گیا ہے
پاکستان کا معروف ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو روکنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ڈرامہ معمول کے مطابق نشر ہوگالاہور کی سول کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی
تفصیلات کے مطابق لاہور کی سول کورٹ میں پاکستان کے مقبول ترین ڈرامے ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کی آخری قسط نشر ہونے سے رکوانے کے لیے دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی
سول جج نائلہ ایوب نے درخواست پر سماعت کی عدالت میں تمام فریقین کے وکلاء نے دلائل مکمل کرلئے جس کے بعد سول جج نائلہ ایوب نے یہ ریمارکس دیتے ہوئے کہ ڈرامے سے معاشرے پر کوئی برا اثر پڑنے کا امکان نہیں ماہم جمشید کی درخواست مسترد کردی
واضح رہے رواں ماہ 22 جنوری کوسول عدالت میں ڈرامے کی آخری قسط نشر ہونے سے رکوانے کے لیے ماہم جمشید نامی خاتون نے اپنے وکیل ماجد چوہدری ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی تھی
خاتون نے درخواست میں موقف اختیار کرتےہوئے کہاتھا کہ ڈرامے میں خواتین کی مسلسل تضحیک اور عورت کو معاشرے میں کم تر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے ڈرامے نے پاکستانی خواتین پر مثبت نتائج نہیں ڈالے لہذٰا عدالت فوری ڈرامے کی آخری قسط نشر ہونے سے روکنے کا حکم دے
واضح رہے کہ خلیل الرحمان قمر کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’میرے پاس تم ہو‘‘ نے پاکستان بھر میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں
اس ڈرامے کا موازنہ سوشل میڈیا پر پی ٹی وی کے دور کے ڈراموں سے کیا جارہا ہے ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ہی ڈرامے کے پروڈیوسر اور مرکزی اداکار ہمایوں سعید اور ڈائریکٹر ندیم بیگ نے اس کی آخری قسط ٹی وی پر دکھانے کے ساتھ ساتھ سینما میں دکھانے کا فیصلہ کیا
میرے پاس تم ہو’ کی کہانی خلیل الرحمٰن قمر نے تحریر کی جبکہ اس کی ہدایات ندیم بیگ نے دی ہے ڈرامے میں ہمایوں سعید، عائزہ خان اور عدنان صدیقی نے مرکزی کردار نبھائے جبکہ شیث گل، حرا مانی، انوشے عباسی، سویرا ندیم، مہر بانو اور سید محمد احمد نے اہم کردار نبھائے
اس ڈرامے کی کہانی ہمایوں سعید کے کردار ‘دانش’ سے شروع ہوتی ہے جو اپنی بیوی مہوش سے بےحد محبت کرتا ہے، ان دونوں کا ایک بیٹا رومی بھی ہے دانش اپنی فیملی سے بےحد محبت کرتا ہے اور ہر حال میں خوش رہنے کی کوشش کے ساتھ ایک عام زندگی گزارنے کا خواہشمند ہے وہیں مہوش امیر ہونے کی خواہشمند ہے اور اپنی دوست مہر بانو سے پیسے ادھار لیتی رہتی ہے
ایک روز مہوش کی ملاقات مہر بانو کے بھائی کے باس شہوار سے ہوتی شہوار کو مہوش کی خوبصورتی اٹریکٹ کرتی ہے جس کے بعد ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتا اور وقت گزرنے کے بعد شہوار مہوش کو اپنے دفتر میں کام کرنے کی آفر دیتا جسے مہوش قبول کرلیتی
اس ہی دوران شہوار اور اس کی دولت سے متاثر ہونے والی مہوش اپنے شوہر دانش کو دھوکا دیتی اور اس سے طلاق لےکر بغیر شادی شہوار کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کردیتی بعدازاں ایک روز جب یہ دونوں شادی کرنے ہی جارہے تھے تب شہوار کی پہلی اہلیہ ماہم امریکا سے پاکستان واپس آجاتی اور شہوار کو گرفتار کروا کر مہوش کو بے عزت کر کے گھر سے نکال دیتی ہیں جس کے بعد مہوش کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا اور وہ ہمایوں سعید سے معافی مانگ کر اس کے پاس واپس جانے کی کوشش کرنے لگتی ہیں
دوسری جانب ہمایوں سعید اپنے بیٹے کو اس دوران بورڈنگ اسکول بھیج دیتا ہے جہاں اس کی ملاقات اس کی ٹیچر ہانیہ سے ہوتی ہے جو بعد میں دانش کو پسند کرنے لگتی ہیں
دوسری جانب ہمایوں سعید اپنے بیٹے کو اس دوران بورڈنگ اسکول بھیج دیتا ہے جہاں اس کی ملاقات اس کی ٹیچر ہانیہ سے ہوتی ہے جو بعد میں دانش کو پسند کرنے لگتی ہیں
دانش اپنی سرکاری نوکری چھوڑ دیتا ہے اور اپنا گھر فروخت کر کے کر پیسہ اسٹاک ایکسچینج میں لگا کر شہوار انڈسٹری کے شیئرز خرید لیتا ہے جس سے اسے کامیابی ملتی ہے اور اس کے دن بدل جاتے ہیں جس کے بعد وہ اپنے دوست کے ساتھ مل کر باقاعدہ کاروبار شروع کردیتا ہے
اس کی آخری قسط سینما میں دکھائی جانی تھی لیکن اب ڈرامے کی آخری میگا قسط روکنے کے لئے ماہم جمشید نے درخواست دائر کر دی تھی لیکن اب رپورٹ سامنے آئی ہے کہ سول جج نائلہ ایوب نے ماہم جمشید کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے سے معاشرے پر کوئی برا اثر پڑنے کا امکان نہیں ڈرامہ معمول کے مطابق نشر ہوگا