Baaghi TV

Category: شوبز

  • میں پہلی و آخری اداکارہ نہیں جس نے اسکرین پر کسی کو گلے لگایا: سحر ہاشمی

    میں پہلی و آخری اداکارہ نہیں جس نے اسکرین پر کسی کو گلے لگایا: سحر ہاشمی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ اور سوشل میڈیا انفلوئنسر سحر ہاشمی نے اپنے کیریئر، تنقید اور اسکرین پر بولڈ مناظر سے متعلق کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید نے انہیں بطور اداکار بہتر بننے میں مدد دی، تاہم بعض تبصرے، خصوصاً بھارتی اداکار عمران ہاشمی سے کیا جانے والا موازنہ، غیر منطقی اور افسوسناک تھا۔
    ‎سحر ہاشمی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ڈرامہ "ظلم” سے کیا اور مختصر عرصے میں اپنی اداکاری کی بدولت شوبز انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ تاہم بعض ڈراموں میں اسکرین پر دکھائے گئے مناظر کے باعث انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
    ‎اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف وہی مناظر فلمائے جو اسکرپٹ کا حصہ تھے اور جنہیں ہدایت کار اپنے تخلیقی وژن کے مطابق پیش کرنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق ہر فنکار اپنے کردار کی ضرورت کے مطابق کام کرتا ہے اور اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بات انتہائی عجیب لگی کہ صرف گلے لگانے جیسے مناظر پر انہیں اس قدر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ اس طرح کے مناظر ماضی میں بھی کئی فنکار ادا کر چکے ہیں۔ سحر ہاشمی نے کہا کہ وہ نہ پہلی اداکارہ ہیں اور نہ آخری جنہوں نے اسکرین پر ایسے مناظر کیے ہوں۔
    ‎سحر ہاشمی نے انکشاف کیا کہ شوٹنگ سے قبل ہدایت کار نے انہیں مکمل اختیار دیا تھا کہ اگر وہ ان مناظر کے حوالے سے خود کو مطمئن محسوس کرتی ہیں تو ہی انہیں فلمایا جائے۔ ان کے بقول انہوں نے اپنی رضامندی سے کردار کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کیا۔
    ‎جب ان سے پوچھا گیا کہ زیادہ تر تنقید صرف انہیں ہی کیوں برداشت کرنا پڑی جبکہ مرد اداکار نسبتاً تنقید سے محفوظ رہے، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ شاید اس کی وجہ عمران ہاشمی سے کیا جانے والا موازنہ تھا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اس تنازع نے انہیں آئندہ ایسے مناظر کے انتخاب کے حوالے سے مزید محتاط ہونے پر ضرور مجبور کیا ہے۔
    ‎اداکارہ نے کہا کہ اگر ناظرین کسی چیز کو پسند نہیں کرتے تو فنکاروں کو بھی ان کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ مستقبل میں ایسے معاملات میں زیادہ احتیاط سے فیصلے کریں گی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسی فنکار کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھانے پر غیر ضروری تنقید یا ذاتی حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

  • 
عامر خان کی تیسری شادی پر انتہا پسند ہندوؤں کا احتجاج، پتلا نذرِ آتش

    
عامر خان کی تیسری شادی پر انتہا پسند ہندوؤں کا احتجاج، پتلا نذرِ آتش

    ‎پاکستان سمیت بھارت میں بھی بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان کی تیسری شادی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اداکار نے 5 جولائی کو اپنی دیرینہ ساتھی گوری سپراٹ کے ساتھ شادی کی، تاہم اس فیصلے کے بعد بھارت میں بعض انتہا پسند ہندو تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
    ‎سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف مقامات پر مظاہرین نے عامر خان کے خلاف احتجاج کیا اور ان کا پتلا بھی نذرِ آتش کیا۔ مظاہرین نے اداکار پر الزام عائد کیا کہ وہ ہندو خواتین سے شادیاں کر کے ایک مخصوص ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں، جبکہ بعض افراد نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
    ‎احتجاج کرنے والوں کا دعویٰ تھا کہ عامر خان کی مسلسل بین المذاہب شادیاں ایک منصوبہ بندی کا حصہ ہیں، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
    ‎یاد رہے کہ عامر خان کی پہلی شادی رینا دتہ سے ہوئی تھی، جن سے ان کے دو بچے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی، تاہم دونوں نے باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اب اداکار نے اپنی دیرینہ دوست گوری سپراٹ سے رشتۂ ازدواج قائم کیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق گوری سپراٹ برطانیہ میں مقیم ایک تامل خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے خاندانی پس منظر کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ان کے خاندان کا تعلق عیسائی روایت سے بھی رہا ہے۔
    ‎عامر خان کی شادی کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طرف ان کے مداح نئی زندگی کے آغاز پر مبارکباد دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض حلقے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ کئی صارفین نے مذہب اور ذاتی زندگی کو الگ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنی پسند کے مطابق شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔
    ‎تاحال عامر خان یا گوری سپراٹ کی جانب سے احتجاج یا سامنے آنے والے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا، تاہم سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

  • عامر خان کا پورے خاندان کو ایک جگہ رکھنے کیلئے  بڑا فیصلہ

    عامر خان کا پورے خاندان کو ایک جگہ رکھنے کیلئے بڑا فیصلہ

    بالی وڈ مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان نے اپنے خاندان کے تمام افراد کیلئے ایک بڑی رہائش گاہ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر خان نے ممبئی کے مہنگے ترین علاقے پالی ہل کے نزدیک بیلا وسٹا اور مرینا اپارٹمنٹس میں 2 رہائشی منصوبےکی از سر نو تعمیر کا فیصلہ کیا ہے ان تمام اپارٹمنٹس کو ملا کر ایک بڑی اسکائی ولا تعمیر کی جائے گی،عامر خان پہلے ہی بیلا وسٹا میں متعدد اپارٹمنٹس کے مالک ہیں اور نئے رہائشی منصوبے کیلئے وہ تقریباً 100 کروڑ کی منصوبہ بندی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس نئی رہائش گاہ میں خاندانی تقریبات کیلئے وسیع وعریض ایریا سمیت ضرورت کے تحت رہائشی مقامات بھی تعمیر کیے جائیں گے،ایک فلور انٹرٹینٹمنٹ زون کے طور پر تیار کیا جائےگا ، دوسرا فلور عامر کے بیٹے جنید خان کے لیے مختص کیاگیا ہے، توقع ہے کہ عامر خود اپنی نئی نویلی دلہن گوری اسپرٹ اور ان کے بیٹے کے ساتھ دو فلور پر مقیم ہوں گے خاندان کے دیگر افراد کے پاس ایک ہی رہائشی کمپلیکس میں منفرد اپارٹمنٹس ہوں گے۔

    ان اپارٹمنٹس میں عامر خان کی والدہ زینت حسین، ان کی بہنیں، نگہت خان اور فرحت خان دتہ کے ساتھ ساتھ ان کی سابقہ بیوی کرن راؤ اور ان کے بیٹے آزاد کے لیے بھی اسی رہائشی منصوبے میں ایک اپارٹمنٹ مختص کیے جانے کی اطلاعات ہیں،نئے رہائشی منصوبے کی تکمیل تک عامر عارضی طور پر پالی ہل کے نزدیک واقع ایک اپارٹمنٹ میں منتقل ہوگئے ہیں۔

    واضح رہے کہ عامر خان نے حال ہی میں ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ایک سادہ اور نجی تقریب میں گوری اسپرٹ سے شادی کی ہے۔

  • فلم جراسک پارک کے معروف اداکار انتقال کر گئے

    فلم جراسک پارک کے معروف اداکار انتقال کر گئے

    ہالی ووڈ کی معروف فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل 78 برس کی عمر میں پیر کے روز اچانک انتقال کر گئے۔

    اداکار کے اہل خانہ نے اسی روز جاری کیے گئے ایک بیان میں ان کی وفات کی تصدیق کی سیم نیل کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کا انتقال اچانک اور غیر متوقع تھا، تاہم یہ اطمینان کی بات ہے کہ وہ وفات کے وقت کینسر سے مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھےسیم نیل نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں آخری سانس لی، اہل خانہ نے ان کی دیکھ بھال کرنے والے نجی اسپتال کے طبی عملے کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔

    نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے سیم نیل نے 1993ء کی بلاک بسٹر فلم جراسک پارک میں ڈاکٹر ایلن گرانٹ کا یادگار کردار ادا کیا تھاانہوں نے 2023 میں شائع ہونے والی اپنی سوانح عمری میں انکشاف کیا تھا کہ وہ تیسرے درجے کے نان ہاجکن لِمفوما میں مبتلا تھے اور ممکنہ طور پر زندگی کے آخری مرحلے سے گزر رہے تھے،تاہم رواں برس اپریل میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ علاج کے بعد وہ خون کے سرطان سے مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تعزیتی پیغام میں کہا کہ سیم نیل نے بیماری کا مقابلہ بھی اسی وقار، مزاح اور عزم کے ساتھ کیا جس نے ان کی ہر اداکاری کو یادگار بنایا،انہیں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا،خدا انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔

    سیم نیل نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1970 کی دہائی میں کیا تھا اور کئی دہائیوں پر محیط اپنے سفر میں فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں درجنوں یادگار کردار ادا کیے، ان کی نمایاں تخلیقات میں جراسک پارک، پیکی بلائنڈرز، دی ہنٹ فار ریڈ اکتوبر اور دی پیانو شامل ہیں اداکاری کے علاوہ سیم نیل نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیر ے کے خوبصورت علاقے سینٹرل اوٹاگو میں انگور کے باغات کے بھی مالک تھے-

  • کراچی والے روزانہ کی مشکلات جھیلنے پر تمغوں کے مستحق ہیں، عائشہ عمر

    کراچی والے روزانہ کی مشکلات جھیلنے پر تمغوں کے مستحق ہیں، عائشہ عمر

    ‎کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل عائشہ عمر نے کراچی کے شہریوں کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہرِ قائد کے رہائشی اپنی ثابت قدمی اور حوصلے کی وجہ سے واقعی تمغوں کے مستحق ہیں۔
    ‎عائشہ عمر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کراچی کو رہائش کے اعتبار سے دنیا کے بدترین شہروں میں شامل کیے جانے پر ردِعمل دیا۔ انہوں نے لکھا کہ کراچی کے لاکھوں شہری روزانہ ٹریفک جام، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی بدترین صورتحال، بجلی اور دیگر شہری مسائل کے باوجود اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رکھتے ہیں، جو ان کی غیر معمولی ہمت اور برداشت کا ثبوت ہے۔
    ‎اداکارہ نے کہا کہ کراچی میں رہنے والے افراد ہر روز بے شمار مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں اور زندگی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں بھی شہریوں کا حوصلہ قابلِ تعریف ہے اور وہ اس استقامت پر داد کے مستحق ہیں۔
    ‎عائشہ عمر کی پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے ان کی رائے سے اتفاق کیا۔ متعدد افراد نے کہا کہ کراچی کے شہری برسوں سے بنیادی شہری سہولیات کی کمی، ٹریفک کے مسائل، نکاسیٔ آب کی خراب صورتحال اور دیگر انتظامی چیلنجز کے باوجود اپنی زندگی گزار رہے ہیں، اس لیے ان کی مشکلات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
    ‎کئی صارفین نے اس موقع پر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ شہر کے انفراسٹرکچر، ٹریفک نظام، صفائی، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو روزمرہ مشکلات سے نجات مل سکے۔
    ‎واضح رہے کہ برطانوی تحقیقی ادارے دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی جانب سے جاری کردہ گلوبل لائیویبلٹی انڈیکس 2026میں دنیا کے 173 شہروں کا مختلف شعبوں کی بنیاد پر جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں استحکام، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، ماحول اور ثقافتی سرگرمیوں جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے درجہ بندی کی گئی، جس میں کراچی 170 ویں نمبر پر رہا اور رہائش کے اعتبار سے دنیا کے تین بدترین شہروں میں شامل قرار پایا۔
    ‎اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کراچی کی شہری سہولیات، انفراسٹرکچر اور انتظامی مسائل پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے، جبکہ مختلف حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ شہر کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • 
تھائی لینڈ ٹرپ کی تصاویر پر صبور علی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

    
تھائی لینڈ ٹرپ کی تصاویر پر صبور علی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

    ‎کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبور علی اپنے حالیہ تھائی لینڈ ٹرپ کے دوران شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے باعث ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ ان کی نئی پوسٹس پر جہاں مداحوں کی جانب سے تعریف دیکھنے میں آئی، وہیں متعدد صارفین نے ان کے لباس اور انداز پر تنقید بھی کی۔
    ‎صبور علی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تھائی لینڈ کے ساحلِ سمندر سے لی گئی متعدد تصاویر اور مختصر ویڈیوز شیئر کیں، جن میں وہ بیچ ویئر اور مغربی طرز کے ملبوسات میں نظر آئیں۔ تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آرا کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
    ‎کئی صارفین نے ان کے لباس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مختلف تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ عام طور پر شادی کے بعد لوگ زیادہ سنجیدہ طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں، لیکن صبور علی کے انداز سے ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ایسے ملبوسات اپنے ملک میں نہیں پہنے جا سکتے، اسی لیے بیرونِ ملک جا کر ایسی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب اداکارہ کے مداحوں نے انہیں بھرپور حمایت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو اپنی نجی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارنے اور لباس کے انتخاب کا بنیادی حق حاصل ہے۔ مداحوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کی ذاتی پسند یا چھٹیوں کی تصاویر کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنانا مناسب رویہ نہیں۔
    ‎سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے رائے دی کہ عوامی شخصیات کی ہر پوسٹ پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، تاہم تنقید شائستگی اور احترام کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فنکار کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اس کی ذاتی زندگی یا لباس سے جوڑنا درست نہیں۔
    ‎واضح رہے کہ صبور علی ماضی میں بھی اپنے مختلف فوٹو شوٹس، فیشن اسٹائل اور سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے خبروں میں رہ چکی ہیں۔ ہر بار ان کی تصاویر پر ملے جلے ردعمل سامنے آتے ہیں، جہاں ایک طرف انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں بڑی تعداد میں مداح ان کے اعتماد، انداز اور ذاتی آزادی کے حق کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

  • شادی اور طلاق میرا ذاتی فیصلہ تھا، کسی اور کو قصوروار نہیں ٹھہراتی، میرا سیٹھی

    شادی اور طلاق میرا ذاتی فیصلہ تھا، کسی اور کو قصوروار نہیں ٹھہراتی، میرا سیٹھی

    پاکستان کی معروف اداکارہ، مصنفہ اور میزبان میرا سیٹھی نے پہلی بار اپنی شادی اور طلاق کے حوالے سے تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کرنا اور بعد ازاں طلاق لینا ان کا ذاتی فیصلہ تھا، اس لیے وہ کسی اور کو اس کا ذمہ دار یا قصوروار نہیں ٹھہراتیں۔

    حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے میرا سیٹھی نے اپنی ازدواجی زندگی اور طلاق سے حاصل ہونے والے تجربات شیئر کیے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے اس مرحلے نے انہیں بہت کچھ سکھایا اور وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بالغ نظر اور مضبوط شخصیت بن چکی ہیں۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ طلاق کے بعد انہوں نے دو اہم اسباق سیکھے۔ پہلا یہ کہ ہمیشہ صرف اپنی "گَٹ فیلنگ” پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، جبکہ دوسرا یہ کہ کسی بھی شخص، خواہ وہ شوہر ہو، دوست، باس یا کوئی اور، اس کی خوشنودی کے لیے اپنی اصل شخصیت تبدیل نہیں کرنی چاہیے۔میرا سیٹھی نے کہا کہ اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ان کی خواہشات کے مطابق خود کو بدل لیں، لیکن ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ اس سے انسان اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب ان کی طلاق کو کئی سال گزر چکے ہیں اور وہ اس مرحلے سے آگے بڑھ چکی ہیں، اسی لیے وہ اس موضوع پر کھل کر بات کرنے میں خود کو مطمئن محسوس کرتی ہیں۔

    معاشرتی رویوں پر بات کرتے ہوئے میرا سیٹھی نے کہا کہ پاکستان میں طلاق یا خلع کی صورت میں زیادہ تر خواتین کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ "ایڈجسٹ” نہیں کر سکیں۔ ان کے مطابق ان پر شادی کرنے کے لیے کسی قسم کا سماجی دباؤ نہیں تھا، بلکہ انہوں نے نسبتاً بڑی عمر میں اپنی مرضی اور محبت کی بنیاد پر شادی کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ شادی ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور اس فیصلے کی ذمہ داری بھی وہ خود قبول کرتی ہیں، اس لیے اپنی ازدواجی زندگی کے خاتمے پر کسی دوسرے فرد کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتیں۔

    واضح رہے کہ میرا سیٹھی نے نومبر 2019ء میں کیلیفورنیا میں بلال صدیقی سے شادی کی تھی، تاہم یہ رشتہ 2023ء میں طلاق پر ختم ہوگیا، جبکہ انہوں نے گزشتہ برس عوامی سطح پر اپنی علیحدگی کی تصدیق کی تھی۔

    میرا سیٹھی پاکستان کی معروف اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں اور وہ "کچھ ان کہی”، "محبت صبح کا ستارہ ہے”، "چپکے چپکے” اور "ڈاکٹر بہو” سمیت متعدد کامیاب ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔ وہ معروف صحافی نجم سیٹھی اور جگنو محسن کی صاحبزادی جبکہ گلوکار علی سیٹھی کی بہن ہیں۔

  • 
شاہ رخ خان نے دہلی میں اپنی پہلی رہائش گاہ کی تمام منزلیں خرید لیں

    
شاہ رخ خان نے دہلی میں اپنی پہلی رہائش گاہ کی تمام منزلیں خرید لیں

    ‎بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان نے دہلی میں واقع اس گھر کی باقی تمام منزلیں بھی خرید لی ہیں جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ گوری خان کے ساتھ شادی کے بعد ازدواجی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خریداری کے بعد شاہ رخ خان اس پوری جائیداد کے واحد مالک بن گئے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جنوبی دہلی کے پوش علاقے پنچ شیل پارک میں واقع اس رہائشی عمارت کی دوسری اور تیسری منزل تقریباً 37 کروڑ بھارتی روپے میں خریدی گئی ہے۔ اس سے قبل شاہ رخ خان تہہ خانے اور پہلی منزل کے مالک تھے، جبکہ حالیہ معاہدے کے بعد پوری عمارت ان کی ملکیت میں آ گئی ہے۔
    ‎یہ رہائش گاہ صرف ایک قیمتی جائیداد نہیں بلکہ شاہ رخ خان اور گوری خان کی زندگی کی یادگار جگہ بھی سمجھی جاتی ہے۔ دونوں نے 25 اکتوبر 1991 کو شادی کے بعد اسی گھر میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد شاہ رخ خان ممبئی منتقل ہوئے اور فلمی دنیا میں اپنی کامیاب جدوجہد شروع کی، جو بعد میں انہیں بالی ووڈ کے سب سے بڑے ستاروں میں شامل کرنے کا سبب بنی۔
    ‎بھارتی میڈیا کے مطابق یہ گھر تقریباً 1,200 مربع گز کے پلاٹ پر تعمیر کیا گیا ہے، جس کا کل رقبہ تقریباً 10,800 مربع فٹ بنتا ہے۔ جنوبی دہلی کے اس علاقے کا شمار مہنگے اور پرتعیش رہائشی علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں جائیداد کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔
    ‎گوری خان بھی ماضی میں ایک انٹرویو کے دوران اس گھر کی جذباتی اہمیت بیان کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی والدہ کے گھر کے قریب ایک ایسا گھر چاہتی تھیں جہاں خاندان کی خوبصورت یادیں ہمیشہ محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اس گھر میں ایک دیوار پر ان کے بچوں آریان، سہانا اور ابرام کے بچپن سے متعلق کئی یادگار اشیا بھی سجائی گئی ہیں، جو اس گھر کو ان کے خاندان کے لیے مزید خاص بناتی ہیں۔
    ‎شاہ رخ خان کی اس خریداری کو مداح نہ صرف ایک بڑی جائیداد کی سرمایہ کاری بلکہ ان کی ذاتی زندگی سے جڑی خوبصورت یادوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔

  • 
پنجاب میں فلم ’ستلج‘ کی گاؤں گاؤں نمائش، سکھوں سے متعلق موضوع پر نئی بحث چھڑ گئی

    
پنجاب میں فلم ’ستلج‘ کی گاؤں گاؤں نمائش، سکھوں سے متعلق موضوع پر نئی بحث چھڑ گئی

    ‎دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج سے متعلق تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی پنجاب میں متعدد مقامات پر فلم کی نمائش کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں دیہات اور گوردواروں میں بڑی اسکرینیں نصب کر کے عوام کو فلم دکھائی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہزاروں دیہات میں فلم کی اسکریننگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی سطح پر رضاکاروں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے عوامی نمائش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ کئی گوردواروں میں بھی فلم دکھائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم میں بھارتی پنجاب کے سکھوں کو درپیش تاریخی واقعات اور ان سے متعلق مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فلم کی کہانی اور اس میں پیش کیے گئے واقعات کے باعث مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ اس کے مواد پر متضاد آراء سامنے آ رہی ہیں۔
    ‎دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلم کی نمائش کو محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اقدامات اور ان کی قانونی حیثیت پر بھی بحث جاری ہے۔
    ‎فلم کی نمائش کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر وسیع تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ایک طبقہ فلم کو تاریخی واقعات اجاگر کرنے کی کوشش قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اس کے بعض نکات پر اختلاف کا اظہار کر رہا ہے۔

  • پاکستانی ڈراموں میں بولڈ مناظر کا بڑھتا رجحان، مشی خان کا اظہار تشویش

    پاکستانی ڈراموں میں بولڈ مناظر کا بڑھتا رجحان، مشی خان کا اظہار تشویش

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور میزبان مشی خان نے پاکستانی ڈراموں میں بولڈ اور غیر مناسب مناظر کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس حوالے سے بروقت توجہ نہ دی گئی تو ڈرامہ انڈسٹری اپنی روایتی شناخت کھو سکتی ہے۔

    مشی خان، جو سوشل میڈیا پر قومی، بین الاقوامی اور سماجی معاملات پر اپنی بے باک رائے دینے کے لیے جانی جاتی ہیں، نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے پاکستانی ڈراموں میں شامل کیے جانے والے رومانوی اور جسمانی قربت کے مناظر پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ فلموں، ڈراموں، اسٹیج شوز اور سوشل میڈیا کے نام پر بے حیائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی فلمیں اور گانے پہلے ہی غیر مناسب مواد کی طرف جا چکے ہیں اور اب پاکستانی ڈراموں میں بھی اسی طرز کا رجحان دکھائی دینے لگا ہے، جو تشویشناک ہے۔

    مشی خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستانی ڈرامے اپنی خاندانی اقدار، مضبوط کہانیوں اور معیاری کردار نگاری کی وجہ سے پسند کیے جاتے تھے، لیکن اب تقریباً ہر ڈرامے میں شادی شدہ جوڑوں کے درمیان گلے ملنے جیسے مناظر کو معمول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں بیڈروم سینز اور بوس و کنار جیسے مناظر بھی عام ہو سکتے ہیں۔اداکارہ نے مزید کہا کہ پاکستانی ڈرامے پورے خاندان، بزرگوں اور بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جاتے ہیں، اس لیے ان میں ایسا مواد شامل کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے جو خاندانی ماحول کے لیے نامناسب ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈراموں کو تفریح کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار اور ثقافتی روایات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔