Baaghi TV


عامر خان کی تیسری شادی پر انتہا پسند ہندوؤں کا احتجاج، پتلا نذرِ آتش

‎پاکستان سمیت بھارت میں بھی بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان کی تیسری شادی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اداکار نے 5 جولائی کو اپنی دیرینہ ساتھی گوری سپراٹ کے ساتھ شادی کی، تاہم اس فیصلے کے بعد بھارت میں بعض انتہا پسند ہندو تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
‎سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف مقامات پر مظاہرین نے عامر خان کے خلاف احتجاج کیا اور ان کا پتلا بھی نذرِ آتش کیا۔ مظاہرین نے اداکار پر الزام عائد کیا کہ وہ ہندو خواتین سے شادیاں کر کے ایک مخصوص ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں، جبکہ بعض افراد نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
‎احتجاج کرنے والوں کا دعویٰ تھا کہ عامر خان کی مسلسل بین المذاہب شادیاں ایک منصوبہ بندی کا حصہ ہیں، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
‎یاد رہے کہ عامر خان کی پہلی شادی رینا دتہ سے ہوئی تھی، جن سے ان کے دو بچے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی، تاہم دونوں نے باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اب اداکار نے اپنی دیرینہ دوست گوری سپراٹ سے رشتۂ ازدواج قائم کیا ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق گوری سپراٹ برطانیہ میں مقیم ایک تامل خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے خاندانی پس منظر کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ان کے خاندان کا تعلق عیسائی روایت سے بھی رہا ہے۔
‎عامر خان کی شادی کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طرف ان کے مداح نئی زندگی کے آغاز پر مبارکباد دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض حلقے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ کئی صارفین نے مذہب اور ذاتی زندگی کو الگ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنی پسند کے مطابق شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔
‎تاحال عامر خان یا گوری سپراٹ کی جانب سے احتجاج یا سامنے آنے والے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا، تاہم سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

More posts