Baaghi TV

Category: شوبز

  • ’ٹُک ٹُک مارچ‘  میں شوبز ستاروں کی شرکت

    ’ٹُک ٹُک مارچ‘ میں شوبز ستاروں کی شرکت

    پاکستانی شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے متعدد فنکاروں کو حال ہی میں ’ٹُک ٹُک مارچ‘ کے نام سے ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کرتے دیکھا گیا۔

    باغی ٹی وی : ٹُک ٹُک مارچ میں ماہرہ خان، ہمایوں سعید، بلال اشرف، ایچ ایس وائے، صنم سعید، فیروز خان، مایا علی اور عائشہ عمر سمیت پاکستانی شوبز انڈسٹری کے دیگر فنکاروں نے شرکت کی۔

    ٹُک ٹُک مارچ ایک غیر سرکاری فلاحی ادارے (این جی او) کی جانب سے شروع کی گئی رکشہ سواری ہے جسے خاص طور پر معذور افراد کے لیے شروع کیا گیا ہے یعنی اس کے چلانے والے معذور افراد ہیں۔

    پاکستانی فنکاروں کی اس تقریب میں شرکت کا مقصد بھی یہی ہے کہ معذور افراد بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں، انہیں کمتر نہ سمجھا جائے اور ان کے ساتھ سفر کرتے ہوئے کسی قسم کا خوف محسوس نہ کیا جائے۔

    تقریب میں شریک اداکار فیروز خان کا ایک معذور کیپٹن کے ساتھ رکشے پر سواری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں بہت پرجوش اور بہت خوش ہوں کہ ہم ان جیسے لوگوں کے لیے کچھ کر رہے ہیں۔

    فیروز خان نے کراچی کے شہریوں اور اپنے چاہنے والوں سے اپیل کی کہ وہ باہر نکلیں اور ان رکشہ ڈرائیورز پر بھروسہ کریں، ان کے ساتھ سفر کرتے ہوئے فکرمند نہ ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ ان کے ساتھ اور یہ (رکشہ ڈرائیورز) آپ کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھیں گے۔

    پاکستانی اداکار کا ہالی وڈ سپر اسٹار کی مثال دیتے ہوئے کہنا تھا شاید ایک کمرشل بھی ہے جس میں جیمز بانڈ ٹُک ٹُک چلا رہا ہے، تو پھر ہم کیوں اسے چلانے میں شرم محسوس کریں۔

    معذوری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اداکار فیروز خان کا کہنا تھا میری نظر میں کسی دوسرے کو قبول نہ کرنا معذوری ہوتی ہے۔

  • میں نے جس بھی داکارہ کے ہاتھ پر تھوکا ہے وہ نمبر ون بن گئیں    عامرخان

    میں نے جس بھی داکارہ کے ہاتھ پر تھوکا ہے وہ نمبر ون بن گئیں عامرخان

    بالی ووڈ سُپراسٹار عامر خان کا کہنا ہے کہ میں نے جس بھی اداکارہ کے ہاتھ پر تھوکا ہے وہ نمبر ون بن گئیں-

    باغی ٹی وی : بالی ووڈ ہدایت کارہ اور کوریوگرافر فرح خان نے ایک انٹریو میں انکشاف کیا ہے کہ اداکار عامر خان شوٹنگ کے دواران فلم کے سیٹ پر بہت مستی کرتے ہیں اور اکثر اپنی ساتھی فنکاروں کے ساتھ پرینک بھی کرتے ہیں لیکن ان کی ایک عجیب عادت ہے جو وہ کئی عرصہ سے کرتے ہوئے آرہے ہیں۔

    فرح خان نےعامر خان کی اس عجیب عادت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ عامر خان سیٹ پر موجود ہر نئے شخص کو کہتے ہیں ’اپنا ہاتھ دکھاو میں تمہاری ہاتھ کی لکیریں پڑھ کر بتاتا ہوں اور جیسے ہی وہ شخص اپنا ہاتھ آگے بڑھاتا ہے، عامر خان اس پر تھوک دیتا ہے‘۔

    رپورٹس کے مطابق جب خود مسٹر پرفیکشنسٹ سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’میں نے جس جس ہیروئن کے ہاتھ پر تھوکا ہے وہ نمبر ون بن گئیں‘۔

    بالی ووڈ اداکارہ پوجا بیدی کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ’میں اپنی بیٹی عالیہ سے کہوں گی کہ وہ عامر انکل سے ضرور ملیں تاکہ وہ تمہارے ہاتھ پر ایک بار تھوک دیں اور تم نمبر ون بن جاو‘۔

  • ماہرہ خان کی تصویر پر بالی ووڈ اداکارہ کا تبصرہ

    ماہرہ خان کی تصویر پر بالی ووڈ اداکارہ کا تبصرہ

    پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان کی تصویر پر بھارتی اداکارہ نے ردعمل کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اداکارہ ماہرہ خان کے پاکستان سمیت سرحد پار اور دنیا بھر میں مداح موجود ہیں جو اپنی پسندیدہ اداکارہ کی جانب سے شئیر کی گئیں تصاویر اور پوسٹس پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں تاہم اس بار انکی پوسٹ پر پڑوسی ملک بھارت کی مشہور اداکارہ نے بھی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    ماہرہ خان نے فوٹو اور ویڈیو ایپلیکیشن انسٹاگرام پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک منفرد انداز میں اپنی دو تصاویر شیئر کیں جس میں انہوں نے سفید رنگ کی چادر سر پر لے رکھی ہے اور نہایت دلکش اور معصوم دکھائی دے رہی ہیں-

    تصاویر شئیر کرتے ہوئے ماہرہ نے کیپشن میں لکھا کہ’عجیب داستان ہے یہ‘۔

    ماہرہ خان کی تصاویر پر جہاں ان کی پاکستانی ساتھی اداکاراؤں یمنی زیدی،صنم سعید اور ثروت گیلانی کی جانب سے پسندیدگی کا اظہار کیا گیا وہیں بھارتی اداکارہ مونی رائے نے کمنٹ سیکشن میں اظہار پسندیدگی اور اظہار محبت کیا۔

    جبکہ کمنٹ سیکشن میں پاکستانی اداکارہ یمنیٰ زیدی نے ماہرہ خان کو حسین ترین قرار دیا-

    ماہرہ خان کی تصاویر کو مشہور شخصیات سمیت 2لاکھ 29 ہزار سے زائد افراد نے پسند کیا اور انہیں سکیڑوں تعریفی کمنٹس بھی لکھے۔

  • ڈرامہ نویس اور مصنفہ حسینہ معین نے زندگی بھر شادی کیوں نہیں کی تھی؟

    ڈرامہ نویس اور مصنفہ حسینہ معین نے زندگی بھر شادی کیوں نہیں کی تھی؟

    پاکستانی ٹیلی ویژن کی معروف ڈرامہ نویس، مصنفہ اور مکالمہ نگار حسینہ معین نے زندگی بھر شادی نہیں کی تھی۔

    باغی ٹی وی : 26 مارچ کو 79 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرنے والی حسینہ معین نے کچھ برس قبل سینئر اداکارہ ثمینہ پیرزادہ کے ویب انٹرویو میں بطور مہمان شریک ہوئیں جہاں انہوں نے زندگی کے نشیب و فراز کے حوالے سے بات چیت کی وہیں اپنی شادی نہ کرنے کی وجہ بھی بتائی تھی-

    میزبان ثمینہ پیرزادہ کے شادی کے حوالے سے سوال کہ زندگی تنہا گزار دی، کبھی شادی کا خیال کیوں نہ آیا کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پریشانی میری اماں کو بھی لاحق رہتی تھی مجھے لگتا ہے کہ میں شادی کے لیے نہیں بنی، خدا نے سب کا جوڑ بنایا، مگر میرا جوڑ شاید کہیں کھو گیا ہے اس لیے میں نے شادی نہیں کی۔

    شادی نہ کرنے پر افسوس کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے حسینہ معین نے کہا کہ انہیں شادی نہ کرنے کا کوئی ملال نہیں ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ رات میں اکثر جب مجھے کہیں جانا ہو اور ڈرائیور نہ ہو تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ابھی کوئی ہوتا تو مجھے یہ پریشانی نہ ہوتی۔

  • فلم فئیر ایوارڈ 2021:عرفان خان کو بعدازمرگ دیئے جانیوالے دوایوارڈزوصول کرتے ہوئے بابیل جذباتی ہو گئے

    فلم فئیر ایوارڈ 2021:عرفان خان کو بعدازمرگ دیئے جانیوالے دوایوارڈزوصول کرتے ہوئے بابیل جذباتی ہو گئے

    بالی ووڈ کے مشہور اداکار مرحوم عرفان خان جن کا گزشتہ برس اپریل میں انتقال ہوگیا تھا، ان کے بیٹے بابیل خان اس وقت افسردہ اور جذباتی سے ہوگئے جب انھوں نے اپنے والد کو بعدازمرگ دیے جانے والے دو فلم فیئر ایوارڈز وصول کیے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی میں بالی ووڈ کے 66ویں فلم فیئر ایوارڈز کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کئی نامور اداکاروں، پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال اس دُنیا سے رخصت ہوئے بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان کو بھی فلم فیئر ایوارڈز میں دو اعزازات سے نوازا گیا۔

    عرفان خان کو فلم ’انگریزی میڈیم‘ میں بہترین اداکاری کرنے پر ’مرکزی کردار کے بہترین اداکار‘ کا ایوارڈ دیا گیا اس کے علاوہ عرفان خان کو ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا جسے مرحوم اداکار کے بیٹے بابیل خان نے وصول کیا-

    گو کہ یہ کسی بھی بیٹے کے لیے نہایت قابلِ فخر لمحہ ہوتا ہے جب وہ اپنے والد کی میراث کو جاری رکھنا اور آگے بڑھانے کے خواب دیکھ رہا ہو، لیکن اتوار کی شام مرحوم اداکار عرفان خان کے بیٹے بابیل خان جذباتی نظر آئے جب انھوں نے عرفان خان کو دیے جانے والے مذکورہ بالا ایوارڈز وصول کیے۔

    اس تقریب کے بعد بالی ووڈ سلیبریٹیز تصاویر بنواتے نظر آئے لیکن اپنے والد کو یاد کر کے بابیل جذباتی سے ہوگئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے سینئر اداکار جے دیپ الہوات سے گفتگو بھی کی۔

    بعدازاں بابیل نے اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر اپنے جذبات کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس اہم تقریب میں اپنے والد کے ایوارڈز حاصل کرنا اہم موقع تھا۔

    انھوں نے کہا کہ بہت سارے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میری آنکھوں میں میرے عزائم عیاں ہیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ کا اندازہ درست ہے، میں جب سے یونیورسٹی سے فارغ ہوا ہوں میرے ارادے بلند ہیں۔

    واضح رہے کہ فلم ’انگریزی میڈیم‘ 2017ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’ہندی میڈیم‘ کا سیکوئل تھی۔

    ’ہندی میڈیم‘ وہ فلم ہے جس میں عرفان خان کو بہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ ملا تھا اور اس فلم میں پاکستانی اداکارہ صبا قمر نے عرفان خان کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ سال 29 اپریل کو ورسٹائل اداکار عرفان خان 53 سال کی عمر میں کولون انفیکشن کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ عرفان خان کے لواحقین میں اہلیہ اور دو بیٹے ایان اور بابیل شامل ہیں۔

  • کتاب جیسا وفادار کوئی دوست نہیں ہوتا    ریما خان

    کتاب جیسا وفادار کوئی دوست نہیں ہوتا ریما خان

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئیر اور نامور اداکارہ ریما خان کا کہنا ہے کہ کتاب کی طرح وفادار کوئی دوست نہیں ہوتا۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ ریما خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پوسٹ پر اپنی دلکش تصاویرشئیر کیں تصا ویر شیئر کرتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ بیرونی خوبصورتی وہ ہے جو آنکھیں دیکھ سکتی ہے جبکہ اندرونی خوبصورتی کو صرف دل کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے۔

    اپنی ایک اور انسٹاگرام پوسٹ میں ریما خان نے اپنی تصاویر شئیر کیں جس میں وہ ہاتھ میں کتاب پکڑے کھڑی ہیں پوسٹ کے کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ کتاب کی طرح وفادار کوئی دوست نہیں ہوتا۔

    اداکارہ ریما خان کی دونوں تصاویر اور پوسٹ کومداحوں کی جانب سے نہ صرف خوب پسند کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں متعدد کمنٹس بھی لکھے ہیں-

  • سلمان خان کی فلم کا آئٹم سانگ ’منی بدنام ہوئی‘ برطانیہ کے اسکول کے نصاب میں شامل

    سلمان خان کی فلم کا آئٹم سانگ ’منی بدنام ہوئی‘ برطانیہ کے اسکول کے نصاب میں شامل

    بالی ووڈ سُپر اسٹارسلمان خان اور اداکار و پروڈیوسر ارباز خان کی مشہور بالی ووڈ فلم ’دبنگ‘ کا گانا ’منی بدنام ہوئی‘ برطانیہ کے اسکول کے نصاب میں شامل کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے محکمہ تعلیم نے موسیقی کا نیا نصاب جاری کیا ہے جس میں بالی ووڈ فلموں کے گانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ انگلینڈ کے اسکولوں کے میوزک کے نصاب میں بھارتی گیت شامل کیے گئے ہیں جن میں ’سہیلا رے‘، ’جے ہو‘ اور فلم دبنگ کا آئٹم سانگ ’منی بدنام ہوئی‘ شامل ہیں۔

    یہ نصاب 15 میوزک ایجوکیشن اسپیشلسٹ، اساتذہ اور موسیقاروں نے ترتیب دیا ہے۔

    واضح رہے کہ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان اور ارباز خان کی فلم ’دبنگ‘ میں یہ گیت ’منی بدنام ہوئی‘ بطور آئٹم سانگ شامل کیا گیا تھا جس میں اداکارہ و ماڈل ملائکہ اروڑہ نے ڈانس کیا ہے۔

  • بینڈ ٹوٹنے کے بعد اسٹرنگز ارکان کی الوداعی ملاقات

    بینڈ ٹوٹنے کے بعد اسٹرنگز ارکان کی الوداعی ملاقات

    ’اسٹرنگز‘ بینڈ کے ٹوٹنے کے بعد بینڈ کے ارکان بلال مقصود اور فیصل کپاڈیہ نے الوداعی ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی : گلوکار بلال مقصود نے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر فیصل کپاڈیہ اور دیگر دوستوں کے ہمراہ ایک گروپ فوٹو شیئر کیا۔

    تصویر شیئر کرتے ہوئے بلال مقصود نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ ’بینڈ کی الوداعی میٹنگ‘

    واضح رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر سرگرم اسٹرنگز کی جانب سے اچانک بینڈ کو ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا اور فیصل کپاڈیا، بلال مقصود، عدیل علی، حیدر علی، احمد نیانی اور بریڈلے ڈی سوزا پر مشتمل اس بینڈ کا 33 سالہ سفر تمام ہوا۔

    یہ بینڈ 1980 کی دہائی کے اختتامی سال کے دوران وجود میں آیا اور کالج کے دنوں سے ہی اس نے دھوم مچائی تاہم 33 سال کے دوران اسٹرنگز نے بے شمار مقبول گانے بنائے جنہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے حد پذیرائی ملی۔

    ’اسٹرنگز‘ کے خاتمے پر بینڈ کے بانی رکن اور معروف گٹارسٹ بلال مقصود کا کہنا تھا کہ وہ اور فیصل کپاڈیہ دونوں ہی بالکل عجیب محسوس کررہے ہیں۔

    اسٹرنگز بینڈ کےٹوٹنےسے زیادہ مشکل کام کوئی اور نہیں ہوسکتا اسکے پیچھے کئی وجوہات ہوں گی فرحان سعید

    33 سال بعد معروف پاکستانی میوزیکل بینڈ اسٹرنگزٹوٹ گیا

    ’اسٹرنگز‘میوزک بینڈ کے ختم ہونے کی خبر سے بھارتی بھی افسردہ

    بینڈ کا یوں اچانک ٹوٹ جانا اسٹرنگز مداحوں کے لیے دل دہلا دینے والا مقام ہے

  • آرٹس کونسل کراچی میں حسینہ معین کی یاد میں تقریب،ملک کی نامور ادبی شخصیات اور فنکاروں کی شرکت

    آرٹس کونسل کراچی میں حسینہ معین کی یاد میں تقریب،ملک کی نامور ادبی شخصیات اور فنکاروں کی شرکت

    کراچی : آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں چند روز قبل وفات پانے والی معروف ڈراما نویس اور آرٹس کونسل کراچی کی نائب صدر حسینہ معین کی یاد میں تعزیتی اجلاس جون ایلیاء لان میں منعقد کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ روز اجلاس میں ادیب و دانشور انور مقصود، افتخار عارف، کشور ناہید، حارث خلیق، منور سعید، ارشد محمود، اداکار شکیل، ساجد حسن، خالد انعم، مہتاب اکبر راشدی، سمیت معروف علمی و ادبی شخصیات اور ٹی وی کے نامور ستاروں نے خطاب کیا۔

    ان کے ساتھ صدر آرٹس کونسل احمد شاہ، سیکرٹری پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، سید اسجد بخاری، گورننگ باڈی کے رکن طلعت حسین، ڈاکٹر قیصر سجاد، کاشف گرامی، قدسیہ اکبر، محمد اقبال لطیف، سید سعادت علی جعفری، عنبرین حسیب عنبر، ڈاکٹر ایوب شیخ، نصرت حارث، بشیر خان سدوزئی، عظمیٰ الکریم، شکیل خان، اخلاق احمد اور عرفان اللہ خان نے بھی شرکت کی۔

    اس تعزیتی اجلاس کی نظامت کے فرائض ہما میر نے انجام دیئے، تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق اس موقع پر معروف ادیب و دانشور انور مقصود نے کہا کہ حسینہ کمال کی خاتون تھیں وہ مجھ سے یونیورسٹی میں سینئر تھیں، ان سے جب آخری ملاقات ہوئی تو انہوں نے ایک نظم سنائی تھیں ’آخر کہ تئیں ہنس اکیلا ہی سدھارا‘۔ انور مقصود نے یہ بھی کہا کہ کیوں نہ حسینہ کو ہنس کر یاد کیا جائے۔

    صدر آرٹس کونسل نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں سے ہمارا ان سے گہرا تعلق تھا، حسینہ آپا ہماری گورننگ باڈی کی ممبر رہیں اور پھر نائب صدر بنیں۔

    احمد شاہ نے مزید کہا کہ ان کے آخری الفاظ تھے احمد کو فون کرو، میری بیٹی کی شادی میں انہوں نے بالکل گھر کے بزرگ کی طرح اسے رخصت کیا۔

    انہوں نے کہا کہ حسینہ آپا کے جانے سے ہمارا ذاتی نقصان ہوا ہے، وہ ہماری ماں اور سربراہ تھیں، ہم آرٹس کونسل کے ہال کا نام حسینہ معین ہال رکھ رہے ہیں ان کا نام یہاں ہمیشہ باقی رہے گا۔

    صدر آرٹس کونسل نے یہ بھی کہا کہ حسینہ آپا جیسے لوگوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کو زینت بخشی، انہوں نے 23 مارچ کے پروگرام میں آخری تقریر کی اور کہا کی میں چلتی ہوں اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے چلی گئیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہندوستان سمیت دنیا کے ادیبوں اور فنکاروں نے تعزیت کے لیے آرٹس کونسل فون کیا ہے، میں ان سب کا شکر گزار ہوں۔

    کشور ناہید نے کہا کہ میرے اور حسینہ کے مضمون الگ تھے، میں شاعری لکھتی تھی اور وہ ڈرامہ، لیکن ایک موقع پر آکے ہمارا سنگم ہوتا ہے، اس نے مجھے آخری سیڑھی پر نہیں چڑھنے دیا اور مجھ سے پہلے چلی گئی۔

    افتخار عارف نے کہا کہ میری پہلی دفعہ ان سے ملاقات ہوئی جب وہ بچوں کے لیے خاکے لکھا کرتی تھیں پھر ٹی وی پر انہوں نے بے شمار کامیاب سیریل لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی حسینہ معین سے زندگی کی شکایت نہیں سنی، انہوں نے کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا، وہ ڈرامے اپنی مرضی سے لکھا کرتی تھی پر جب اسکرپٹز تیار کرتی تھیں تو پروڈیوسرز کے ساتھ بیٹھ کر لکھتی تھیں۔

    افتخار عارف نے مزید کہا کہ میں نے احمد شاہ سے درخواست کی ہے کہ حسینہ آپا کے ڈراموں کی کوئی کلیات شائع کردیں تا کہ وہ ہمیشہ باقی رہیں ٹیلی ویژن کی حد تک کوئی دوسری خاتون ایسی نہیں ہیں جنہوں نے سوشل اسٹبلیش منزمنٹز کے خلاف لکھا اور شہرت پائی۔

    اداکار طلعت حسین نے کہا کہ حسینہ آپا نے ہمیں چلنا سکھایا مجھے بتایا کہ ڈرامہ کیا ہے کیسے بنتا ہے، ان کے بہت سے ڈراموں میں کام کیا اور کامیابی سے ہمکنار ہوا مجھے اپنے مخصوص انداز میں ڈانٹا بھی کرتی تھیں انہوں نے ہر موڑ پر میری بہت مدد کی۔

    اداکارہ ثانیہ سعید نے کہا کہ حسینہ آپا سے میرا دلچسپ رشتہ تھا، پچھلے چند سالوں میں ان کے ساتھ سفر کا بھی موقع ملتا رہا جب مجھے ”آہٹ“ آفر ہوا تھا تو حسینہ آپا کو میں خاص پسند نہیں آئی تھی پر بعد میں ہمارا ایک گہرا تعلق قائم ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ دوسروں کے نقطہ نظر کو آپا بہت اہمیت دیتی اور وہ روایت توڑنے والوں میں سے تھیں لوگ کہتے ہیں فنکار کیا کرسکتے ہیں، دوسرے ممالک میں پاکستان کو تھوڑا زندہ رکھتے ہیں جیسے حسینہ آپا نے اپنی تحریروں سے کیا۔

    بہروز سبزواری نے کہا کہ وہ بہت دھیمے مزاج کی خاتون تھیں، وہ سینز لکھ کر لاتی تھیں اور پھر پروڈیوسرز کے ساتھ مل کر انہیں مکمل کرتی تھیں، میں ان کا بہت چہیتا تھ ساری زندگی وہ اکیلی رہی ہیں اور اکیلی ہی رخصت ہوگئیں میں ان کیلئے دعاگو ہوں اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاں بھی اُردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں حسینہ کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    اداکار شکیل نے کہا کہ بات کرنی کبھی اتنی مشکل نہ تھی جتنی آج لگ رہی ہے، میری ان سے آخری ملاقات نہ ہو پائی میں بہت خوش قسمت ہوں کہ حسینہ کے ساتھ کام کرنے کا سب سے زیادہ مجھے موقع ملا۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا ٹیلی ویڑن کا سفر ایک ساتھ شروع ہوا، مجھے یہ راستہ انہوں نے ہی دکھایا تھا، میری ٹیلی ویژن کی پہچان میں حسینہ کا نمایاں کردار تھا۔

    ارشد محمود نے کہا کہ ’اَن کہی‘ کے وقت میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی، اس کے بعد ہمارا ایک گہرا تعلق بن گیا، انہوں نے جتنے بھی ڈرامے لکھے تھے، ان میں کسی نہ کسی حوالے سے میرا تعلق رہا، ہم انہیں ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے۔

    اس موقع پر سیاسی رہنما تاج حیدر نے کہا کہ جس دور میں وہ لکھ رہی تھیں وہ جبر کا دور تھا جو صدیوں سے چل رہا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ جو آرٹ سوالات نہ اٹھائے جس میں جہد نہ ہو وہ آرٹ نہیں ہوتا، حسینہ نے جبر کے دور میں سوالات اٹھائے پیغامات دیئے۔

    تاج حیدر نے مزید کہا کہ انہوں نے جو حوصلہ اُس وقت دیا عورتوں پر اس کے اثرات آج بھی ہیں، ہر ایک نے کہا وہ چلی گئیں، جسمانی طور پر وہ نہیں ہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ ہم میں موجود ہیں اور رہیں گی۔

    مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ جو کردار حسینہ نے اپنے ڈراموں میں تخلیق کیے وہ کردار ان کے اپنے جذبات تھے، وہ خود کسی سے نہیں لڑتی تھیں، پر ان کے کردار بہت بولڈ ہوتے تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ حسینہ معین نے اپنے کرداروں کے عمل سے دکھایا کہ خواتیں کو کیسا ہونا چاہیے آج ہم ان کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر اسد محمد خاں، حارث خلیق، منور سعید، ڈاکٹر فاطمہ حسن، مصباح خالد، عمرانہ مقصود، ساجد حسن، ایم ظہیر خان، ڈاکٹر عالیہ امام نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    ان کی زندگی میں لکھے گئے ڈراموں پر مبنی ڈاکومینٹری فلم دکھائی گئی،آخر میں اقبال لطیف نے دُعائے مغفرت کرائی۔

  • ارطغرل غازی کی پروڈکشن ٹیم کا عیدالفطر کے بعد پاکستان آنے کا اعلان

    ارطغرل غازی کی پروڈکشن ٹیم کا عیدالفطر کے بعد پاکستان آنے کا اعلان

    شہرہ آفاق ترک سیریز ارطغرل غازی کی پروڈکشن ٹیم نے عیدالفطر کے بعد پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترکی اردو کی رپورٹ کے مطابق مشہور ترک ڈرامے ارطغرل غازی کی پروڈکشن ٹیم عید کے بعد پاکستان کا دورہ کرے گی ،یہ دورہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی دعوت پر کیا جارہا ہے ۔


    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے حالیہ دورہ ترکی کےد وران ارطغرل غازی اور کورولش عثمان ڈرامے کے پروڈیوسر بزداق سے ملاقات کی ۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے ڈرامے کی پروڈکشن ٹیم کو پاکستان آنے کی دعوت دی جبکہ پاکستان اور ترکی کے درمیان نئے ڈرامہ کیلئے مشترکہ پروڈکشن پر بھی اتفاق کیا گیا ۔

    ترکی اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ارطغرل غازی ڈرامہ کی پروڈکشن ٹیم دورہ پاکستان کےدوران وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کرے گی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستانی اداکاروں کے ساتھ مل کر ڈرامہ سیریل بھی بنائی جائے گی ۔

    واضح رہے کہ اسد قیصر اس وقت ترکی میں موجود ہیں اورانہوں کورولس عثمان کے سیٹ کا دور ہ کیا اوع ڈرامے کے ادکاروں اور پروڈکشن ٹیم سے بھی ملاقات کی-

    اس موقع پر سپیکر کا کہنا تھا کہ اسلامی تاریخ کو اجاگر کرنا ایک قابل تحسین قدم ہے وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی تاریخ سے بخوبی واقف ہوں اسلامی تاریخ ہمیں سبق دیتی ہے کہ مشکل حالات میں یکجا ہوکر دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے اور ہر طرح کے مصیبتوں کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اسلامی تاریخ پر مبنی اس ڈرامے میں کردار نبھانے والے اداکاروں کے کام کو سراہا۔