انگلینڈ کے دورے پر بھارتی کرکٹ ٹیم کی مشکلات برقرار ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں مایوس کن کارکردگی کے بعد بھارت کو ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد تین میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر ہوگئی۔
دوسرے ایک روزہ میچ میں بھارتی بیٹنگ لائن انگلش بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔ ویرات کوہلی، روہت شرما، شبمن گل اور دیگر اسٹار بلے بازوں پر مشتمل ٹیم مقررہ اوورز میں 233 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
بھارت کی جانب سے شریاس ائیر نے 66 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جبکہ ویرات کوہلی نے 65 رنز بنا کر ٹیم کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ تاہم دیگر بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور چھ بھارتی کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے، جس کے باعث ٹیم بڑا مجموعہ بنانے میں ناکام رہی۔
انگلینڈ کی جانب سے فاسٹ بولرز نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ جوفرا آرچر اور گس ایٹکنسن نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔
Category: کھیل
-

انگلینڈ نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو شکست دے کر سیریز برابر کر دی
-

کراچی میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے شہری جاں بحق
کراچی میں ہیوی ٹریفک کے باعث ہونے والے مہلک حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ شہر کے مصروف علاقے یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک تیز رفتار واٹر ٹینکر نے موٹرسائیکل سوار کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ افسوسناک واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ سعد کے نام سے ہوئی ہے۔ حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، تاہم شہری جانبر نہ ہو سکا۔ لاش کو قانونی کارروائی اور ضروری ضابطے مکمل کرنے کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے حادثے میں ملوث واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی، جس سے گاڑی کا بڑا حصہ جل کر تباہ ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، رینجرز اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ پر قابو پا کر صورتحال کو کنٹرول میں لے لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث ڈرائیور کے بارے میں بھی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
کراچی میں ہیوی ٹریفک، بالخصوص واٹر ٹینکروں کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات پر شہریوں میں مسلسل تشویش پائی جاتی ہے۔ متعدد جان لیوا حادثات کے بعد شہری تنظیمیں اور سماجی حلقے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد، ڈرائیوروں کی مؤثر نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
حکومت سندھ نے حالیہ عرصے میں واٹر ٹینکروں کی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے بارکوڈ سسٹم متعارف کرایا ہے تاکہ گاڑیوں کی نقل و حرکت، رجسٹریشن اور آپریشنل نظام کی بہتر نگرانی کی جا سکے۔ تاہم تازہ حادثے نے ایک بار پھر شہر میں ہیوی ٹریفک کی حفاظت اور نگرانی سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ -

ورلڈ ایتھلیٹکس سلور میٹ، ارشد ندیم فائنل راؤنڈ میں جگہ نہ بنا سکے
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ورلڈ ایتھلیٹکس کانٹینینٹل ٹور سلور میٹ کے جیولن تھرو مقابلے میں پاکستان کے اسٹار ایتھلیٹ ارشد ندیم اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہے۔ قومی ایتھلیٹ اپنے گروپ میں آخری پوزیشن پر رہے اور فائنل راؤنڈ تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
مقابلے کے دوران ارشد ندیم اپنی بہترین کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کی پہلی تھرو فاؤل قرار دی گئی، جبکہ دوسری کوشش میں انہوں نے 74.87 میٹر دور جیولن پھینکا۔ تیسری کوشش میں ان کی تھرو 73.26 میٹر رہی۔
چوتھی باری بھی فاؤل قرار پائی، جبکہ پانچویں کوشش میں ارشد ندیم نے 73.39 میٹر کی تھرو کی۔ آخری اور چھٹی کوشش میں انہوں نے 78.47 میٹر کی بہترین تھرو کی، تاہم یہ فاصلہ انہیں اگلے مرحلے میں پہنچانے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق ایونٹ میں ارشد ندیم کی سب سے بہتر تھرو 78.47 میٹر رہی، لیکن سخت مقابلے کے باعث وہ اپنے گروپ میں آخری نمبر پر رہے۔ اس نتیجے کے بعد پاکستانی شائقین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے مقابلوں میں ایک دن کی خراب کارکردگی کسی بھی ایتھلیٹ کے ساتھ پیش آ سکتی ہے۔
ایونٹ میں جرمنی کے جیولن تھرو ایتھلیٹ جولین ویبر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 87.04 میٹر کی تھرو کے ساتھ پہلی پوزیشن اپنے نام کی۔ ان کی یہ کارکردگی ایونٹ کی نمایاں کامیابیوں میں شمار کی گئی۔
ارشد ندیم اب اپنی توجہ آئندہ بین الاقوامی مقابلوں پر مرکوز کریں گے۔ وہ 23 جولائی سے شروع ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے، جہاں قوم کو ان سے ایک بار پھر بہترین کارکردگی اور تمغے کی امید ہے۔ شائقین کو یقین ہے کہ ارشد ندیم اس ایونٹ میں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور ماضی کی طرح پاکستان کا نام روشن کرنے کی کوشش کریں گے۔ -

ون ڈے ورلڈ کپ کےنئے فارمیٹ کا اعلان،پاک بھارت کے درمیان اضافی میچز کا امکان
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2027 میں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے نئے فارمیٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی میچ ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے-
آئی سی سی کے مطابق 2027 کا ورلڈ کپ 14 ٹیموں پر ہی مشتمل ہوگا، تاہم ٹورنامنٹ کا ڈھانچہ پہلے سے مختلف ہوگا، نئے فارمیٹ کے تحت کوالیفائی کر نے والی 14 ٹیموں میں سے سب سے کم درجہ بندی رکھنے والی تین ٹیمیں ابتدائی مرحلے میں کھیلیں گی، جن میں سے صرف ایک ٹیم اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی اس کے بعد مرکزی مرحلے میں 12 ٹیمیں شامل ہوں گی، جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر گروپ میں 6، 6 ٹیمیں ہوں گی۔
گروپ مرحلے کے بعد پہلے کی طرح ”سپر سِکس“ مرحلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی جگہ ”سپر سیون“ مرحلہ متعارف کرایا گیا ہے اس مرحلے میں ٹیمیں مزید اہم میچز کھیلیں گی، تاہم اس بار کوارٹر فائنلز نہیں ہوں گے یعنی ٹورنامنٹ میں ناک آؤٹ مرحلے کا ایک اضافی راؤنڈ نہیں رکھا گیا۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ نئے فارمیٹ کا مقصد ٹورنامنٹ کو زیادہ دلچسپ، مسابقتی اور اہم بنانا ہےاس تبدیلی سے ایسے میچز کی تعدا د کم ہوگی جن کے نتائج سے ٹورنامنٹ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، جبکہ ہر میچ کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی نئے فارمیٹ کی وجہ سے گروپ اور سپر7 مرحلے میں زیادہ میچز کھیلے جا ئیں گے، جس کے باعث بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی مقابلہ ہونے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے، بشرطیکہ دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے تک رسا ئی حاصل کر لیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کئی برسوں سے دوطرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلتے ، دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی کے عالمی ٹورنامنٹس یا ایشیا کپ جیسے محدود ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں دونوں ملکوں کے درمیان آخری دوطرفہ سیریز 2006 میں پاکستان میں کھیلی گئی تھی، جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے میچز شامل تھے۔
کرکٹ کے شائقین کی بڑی تعداد اور دونوں ممالک کے درمیان اس تاریخی مقابلے کی مقبولیت کے باعث بھارت اور پاکستان کا میچ نشریاتی حقوق اور تجارتی آمدنی کے لحاظ سے آئی سی سی کے لیے سب سے زیادہ اہم مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آئی سی سی نے مردوں کے 2028 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں بھی تبدیلی کی منظوری دی ہے اس ٹورنامنٹ میں 20 ٹیمیں ہی شریک ہوں گی، لیکن گروپ مرحلے سے 8 کے بجائے 10 ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی، ”سپر 10“ مرحلے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی دو ٹیمیں براہ راست سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی، جبکہ باقی سیمی فائنل کی نشستوں کا فیصلہ ایک نئے ایلیمینیٹر مرحلے کے ذریعے ہوگا۔
-

ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود ناروے کی ٹیم کا شاندار استقبال
فیفا ورلڈ کپ سے کوارٹر فائنل میں باہر ہونے کے باوجود ناروے کی قومی فٹ بال ٹیم کا وطن واپسی پر تاریخی استقبال کیا گیا، جہاں دارالحکومت اوسلو کی سڑکوں پر ایک لاکھ سے زائد مداح اپنے کھلاڑیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہو گئے۔
ناروے کی ٹیم کا ورلڈ کپ کا سفر ہفتے کے روز انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں 2-1 کی شکست کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اگرچہ ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی، لیکن شاندار کارکردگی کے باعث کھلاڑیوں کو وطن واپسی پر ہیروز کا درجہ دیا گیا۔
ٹیم کے طیارے کے اوسلو ایئرپورٹ پہنچنے پر روایتی واٹر کینن سلامی دی گئی، جس کے بعد شہر میں خصوصی پریڈ کا اہتمام کیا گیا۔ ہزاروں شائقین قومی پرچم لہراتے ہوئے سڑکوں پر موجود رہے اور کھلاڑیوں کا پرتپاک استقبال کیا۔
تقریب کے دوران شاہی گارڈز کی موجودگی میں قومی ٹیم کے کھلاڑی شاہی محل کی سیڑھیوں پر آئے اور ہاتھ ہلا کر مداحوں کی محبت کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شائقین نے نعروں اور تالیوں کی گونج میں اپنی ٹیم کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ تقریب کے ابتدائی حصے میں شریک رہے، تاہم انہیں ذاتی مصروفیات کے باعث جشن کے اختتامی لمحات سے قبل روانہ ہونا پڑا۔ اس وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روایتی Viking Row جشن میں شریک نہ ہو سکے۔
تقریب کا اختتام ناروے کی روایتی وائکنگ انداز کی جشن منانے کی تقریب سے ہوا، جس کی قیادت ولی عہد کراؤن پرنس ہاکون نے خود ڈرم بجا کر کی۔ کھلاڑیوں اور مداحوں نے مل کر اس منفرد روایت میں حصہ لیا، جس نے قومی یکجہتی اور کھیل سے محبت کی خوبصورت مثال پیش کی۔
ناروے کی ٹیم اگرچہ ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی، لیکن اس کی جرات مندانہ کارکردگی اور ٹیم اسپرٹ نے شائقین کے دل جیت لیے، جس کا اظہار وطن واپسی پر ہونے والے غیرمعمولی استقبال سے واضح طور پر نظر آیا۔ -

پاکستانی طلبہ نے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں تین کانسی کے تمغے جیت لئے۔
پاکستان نے بین الاقوامی سائنسی میدان میں ایک اور اہم کامیابی اپنے نام کرتے ہوئے 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں تین کانسی کے تمغے حاصل کر لیے۔ 4 سے 12 جولائی 2026 تک کولمبیا کے شہر بوکارامانگا میں منعقد ہونے والے اس عالمی مقابلے میں پاکستانی طلبہ نے اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر میں ملک کا پرچم بلند کیا۔
اس سال کے مقابلوں میں 90 سے زائد ممالک کے 400 سے زیادہ باصلاحیت طلبہ نے شرکت کی، جہاں نظریاتی اور عملی طبیعیات کے انتہائی مشکل امتحانات کے ذریعے نوجوان سائنس دانوں کی صلاحیتوں کو جانچا گیا۔ سخت مقابلے کے باوجود پاکستانی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین کانسی کے تمغے اپنے نام کیے۔
پاکستان کے لیے کانسی کے تمغے گورنمنٹ سٹی بوائز اسکول ڈیرہ غازی خان کے ذوالفقار علی، ایف جی سر سید کالج راولپنڈی کے علی حمدان علوی اور دی سائنس اسکول روات اسلام آباد کے دانیال شہزاد حامد نے حاصل کیے۔ اس کے علاوہ ایچی سن کالج لاہور کے حزہ محمود اور صدیق پبلک اسکول راولپنڈی کے عبداللہ اعجاز کو نمایاں کارکردگی پر اعزازی اسناد سے نوازا گیا۔
یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور منظم تربیتی عمل کا ثمر ہے۔ ان طلبہ کا انتخاب 22ویں نیشنل سائنس ٹیلنٹ کنٹیسٹ کے ذریعے کیا گیا، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) کے مشترکہ اسٹیم کیریئرز پروگرام کے تحت منعقد کیا جاتا ہے۔ ملک بھر سے منتخب ہونے والے طلبہ کو پیاس میں خصوصی تربیتی کیمپسز میں عالمی معیار کی نظریاتی اور تجرباتی تعلیم فراہم کی گئی، جس کے بعد وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوئے۔
پاکستانی وفد کی قیادت پیاس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عرفان اور ڈاکٹر محمد وسیم نے کی، جنہوں نے طلبہ کی سائنسی تیاری اور رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان میں نیشنل سائنس ٹیلنٹ کنٹیسٹ ہر سال فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور ریاضی کے شعبوں میں منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد نویں، دسویں، او لیول، ایف ایس سی اور اے لیول کے ذہین طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں عالمی سائنسی مقابلوں کے لیے تیار کرنا ہے۔ ملک کے 19 شہروں میں ہونے والے اس انتخابی عمل کے بعد نمایاں طلبہ کو مختلف تربیتی مراحل سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی اولمپیاڈز میں بہترین کارکردگی دکھا سکیں۔
پاکستان 2001 سے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں باقاعدگی سے حصہ لے رہا ہے، جبکہ بعد ازاں ریاضی، کیمسٹری اور بائیولوجی کے عالمی اولمپیاڈز میں بھی شرکت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اسٹیم کیریئرز پروگرام کے آغاز سے اب تک 365 سے زائد پاکستانی طلبہ عالمی سائنس اولمپیاڈز میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں اور مجموعی طور پر 144 بین الاقوامی تمغے حاصل کر چکے ہیں۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ پاکستانی طلبہ کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید سہولیات اور مناسب رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کے طلبہ کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سائنسی تحقیق، جدید تعلیم اور باصلاحیت طلبہ کی سرپرستی میں مزید سرمایہ کاری کی جائے تاکہ مستقبل میں پاکستان عالمی سائنسی میدان میں مزید نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکے۔ -

فیفا کا ورلڈ کپ فائنل کے بعد اسٹیڈیم کی گھاس فروخت کرنے کا اعلان
فیفا نے 2026 ورلڈ کپ کے فائنل کے بعد اسٹیڈیم کی اصل گھاس کے ٹکڑوں کو یادگاری اشیاء کے طور پر فروخت کرنے کا اعلان کر دیا ہےان ٹکڑوں کی قیمت 450 سے 3 ہزار ڈالر تک رکھی گئی ہے، اس منصوبے سے فیفا کو ایک کروڑ ڈالر سے زائد آمدن ہونے کی توقع ہے۔
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے بعد آمدن حاصل کرنے کے لیے منفرد منصوبہ متعارف کراتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فائنل میچ میں استعمال ہونے والی پچ کی اصل گھاس کے ٹکڑوں کو یادگاری اشیاء (میمورابیلیا) کے طور پر فروخت کیا جائے گا شائقین 450، 900، 1200 اور 3 ہزار امریکی ڈالر تک کی مختلف قیمتوں میں پچ کے محفوظ کیے گئے ٹکڑے خرید سکیں گے ، ہر ٹکڑے کو خصوصی ایکرائلک کیس میں محفوظ کیا جائے گا، جس میں اس کی اصلیت کا تصدیقی سرٹیفکیٹ بھی شامل ہو گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فیفا کو اس فروخت سے ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے زائد آمدن ہونے کی توقع ہے، ہر قیمت کے درجے میں زیادہ سے زیادہ 2 ہزار 26 ٹکڑے فروخت کیے جائیں گے، جو 2026 ورلڈ کپ کی مناسبت سے مخصوص تعداد رکھی گئی ہے۔
فیفا کا کہنا ہے کہ یہ یادگاری اشیا خصوصی طور پر ان شائقین اور کلیکٹرز کے لیے تیار کی گئی ہیں جو ورلڈ کپ فائنل کی تاریخی یاد کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ، مہنگے ترین پیکیج میں پچ کے ٹکڑے کے ساتھ سونے کی نقاشی والا یادگاری ٹکٹ، ورلڈ کپ کی منی گیند اور کرسٹل سے تیار کردہ ورلڈ کپ ٹرافی کی نقل بھی شامل ہو گی۔
ورلڈ کپ 2026 کا فائنل امریکا کے نیو جرسی نیو یارک اسٹیڈیم (سابقہ میٹ لائف اسٹیڈیم) میں کھیلا جائے گا، اس اسٹیڈیم کی پچ کے حوالے سے کھلاڑ یوں اور کوچز کی جانب سے پہلے بھی تحفظات سامنے آ چکے ہیں، کیونکہ یہاں امریکی فٹبال کے مقابلوں کے لیے عام طور پر مصنوعی گھاس استعمال کی جاتی ہے، تاہم ورلڈ کپ کے لیے قدرتی گھاس بچھائی گئی ہے۔
-

فیفا ورلڈ کپ 2026 کھیلنے والا نوجوان فٹبالر اچانک انتقال کرگیا
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں جنوبی افریقا کی نمائندگی کرنے والے فٹبالر جے ڈن ایڈمز 25 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نوجوان فٹبالر جے ڈن ایڈمز نے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 میں جنوبی افریقا کی قومی ٹیم کی نمائندگی کی تھی تاہم ان کے انتقال کی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
جنوبی افریقا کے وزیر کھیل گیٹن میک کینزی نے فٹبالر کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مامیلودی سن ڈاؤنز اور بافانا بافانا کے باصلاحیت مڈفیلڈر جے ڈن ایڈمز کی وفات قومی فٹبال کے لیے بڑا نقصان ہے جنوبی افریقا نے ایک بہترین اور ہونہار نوجوان ٹیلنٹ کھو دیا ہےجبکہ پوری قوم ان کے اہل خانہ، ساتھی کھلاڑیوں اور لاکھوں مداحوں کے غم میں برابر کی شریک ہے، جنہوں نے انہیں ایک ابھرتے ہوئے اکیڈمی کھلاڑی سے قو می ٹیم کے اہم رکن بنتے دیکھا۔
وزیر کھیل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور اس مشکل وقت میں مرحوم کے اہل خانہ اور ان کے کلب مامیلوڈی سن ڈاؤنز کی نجی زندگی کا احترام کریں۔
جنوبی افریقی فٹبال پلیئرز یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کا فٹبال ایک باصلاحیت کھلاڑی، کھیل کا مخلص نمائندہ اور ایک ایسی نوجوان شخصیت سے محروم ہو گیا ہے، جس کے پاس مستقبل میں بہت کچھ کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے بھی انسٹاگرام پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ فیفا اور عالمی فٹبال برادری کی ہمدردیاں جیڈن ایڈمز کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق جے ڈن ایڈمز کی لاش ان کے گھر سے ملی ہے، جبکہ ان کی اچانک موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جنوبی افریقی کلب میملوڈی سن ڈاؤنز کے مڈ فیلڈر جیڈن ایڈمز نے چند روز قبل ہی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا سب سے بڑا سنگِ میل عبور کیا تھا۔
جیڈن ایڈمز نے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقا کی تاریخی مہم میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی ٹیم کے تینوں گروپ مرحلے کے میچز میں حصہ لیا جب کہ راؤنڈ آف 32 میں کینیڈا کے خلاف میچ میں وہ متبادل کھلاڑی کے طور پر بینچ پر موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں جنوبی افریقی ٹیم پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔
جیڈن ایڈمز نے ورلڈ کپ کے گروپ اے میں میکسیکو اور جمہوریہ چیک کے خلاف میچز میں ابتدائی الیون کا حصہ بنے جب کہ جنوبی کوریا کے خلاف 1-0 کی کامیابی میں بطور متبادل میدان میں اترے تھے اس فتح کے نتیجے میں جنوبی افریقا نے پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا، جہاں اسے کینیڈا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جمہوریہ چیک کے خلاف میچ سے ایک روز قبل جیڈن ایڈمز کی دادی انتقال کر گئی تھیں، جس کے باعث وہ اس میچ میں ہاف ٹائم پر تبدیل کر دیے گئے تھے۔
جیڈن ایڈمز جنوبی افریقا کے شہر پریٹوریا کے کلب میملوڈی سن ڈاؤنز سے وابستہ تھے اور انہوں نے 2025-26 کے سیزن میں ٹیم کو افریقی چیمپئنز لیگ کا ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا،جیڈن ایڈمز نے اپنے فٹبال کیریئر کا آغاز اسٹیلن بوش ایف سی کے یوتھ سسٹم سے کیا اور جنوری 2025 میں میملوڈی سن ڈاؤنز میں شمولیت اختیار کی انہوں نے 2022 میں موزمبیق کے خلاف جنوبی افریقا کی قومی ٹیم کے لیے ڈیبیو کیا، 13 بین الاقوامی میچز کھیلے اور دو گول اسکور کیے، جو دونوں 2026 فیفا ورلڈ کپ کوالیفائرز میں آئے تھے۔
-

انگلینڈ نے بھی بھارت کو ٹی 20 سیریز میں وائٹ واش کردیا
انگلینڈ نے پانچ میچوں پر مشتمل سیریز کے آخری ٹی 20 میچ میں بھی بھارت کو 56 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر سیریز 0-4 سے اپنے نام کر لی ہے-
ہفتے کو ساؤتھمپٹن میں کھیلے گئے پانچویں اور آخری ٹی 20 میچ میں انگلینڈ نے بھارت کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 257 رنز بنائے، انگلینڈ کے 258 رنز کے ہدف تعاقب میں بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز ہی بناسکی۔
انگلینڈ کی جانب سے فل سالٹ اور جوز بٹلر نے اننگز کا آغاز کیا لیکن 8 رنز کے اسکور پر انگلش ٹیم کو پہلا نقصان اٹھانا پڑا، اوپنر فل سالٹ 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئےپہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد انگلش وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر اور کپتان ہیری بروک نے بھارتی بولرز کی بھرپور دھلائی کی، ہیری بروک اور جوز بٹلر نے 102 گیندوں پر 233 رنز کی پارٹنرشپ بنائی،یہ پارٹنر شپ ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں دوسری وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت ہے۔ اس سے قبل یہ عالمی ریکارڈ بھارت کے سنجو سیمسن اور تلک ورما کے پاس تھا، جنہوں نے دوسرے وکٹ کے لیے 210 رنز کی شراکت قائم کی تھی۔
241 رنز پرجوز بٹلر آؤٹ ہوگئے، انہوں نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 64 گیندوں پر 131 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، جس میں 8 چھکے اور 12 چوکے شامل تھے، یہ جوز بٹلر کی بھارت کے خلاف ٹی 20 کیریئر کی بہترین اننگز قرار دی جا رہی ہے اس کے علاوہ کپتان ہیری بروک نے بھی جارحانہ انداز اپنایا اور 95 رنز کی ناقابل شکست دھواں دار اننگز کھیلی، جس میں 8 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے اس کے علاوہ انگلینڈ کے جیکب بیتھل بغیر کوئی رنز نہ بنا سکے جب کہ وِل جیکس 7 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اس طرح انگلینڈ نے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 257 رنز بنا ئے-
بھارت کی جانب سے شیوم دوبے نے 2 وکٹیں حاصل کیں جب کہ پراسدھ کرشنا ایک کھلاڑی کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔
انگلینڈ کے 258 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارت کی جانب سے سنجو سیمسن اور ابھیشک شرما بیٹنگ کے لیے آئے تاہم ابھیشک شرما 3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جب کہ سنجو سیمسن 27 رنز بنا سکے اور کپتان شریاس ائیر 28 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوگئے بھارتی وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 35 گیندوں پر 2 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 56 رنز بنائے، انہیں راشد کی گیند پر فل سالٹ نے کیچ آؤٹ کیا جب کہ شیوم دوبے 14 رنز بنا سکے۔
بھارت کی چھٹی وکٹ تلک ورما کی گری، انہوں نے 25 گیندوں پر 4 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے۔ سورینش صرف 7 رنز بنا سکے، اکثیر پٹیل 3 رنز بنا کر راشد کی گیند پر وہل جیکس کو کیچ تھما کر پویلین لوٹ گئے اس طرح مقررہ بھارت کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز بنا سکی اور یوں انگلینڈ کی ٹیم یہ میچ 56 رنز سے جیت گئی۔
اس کامیابی کے ساتھ انگلینڈ نے بھارت کے خلاف ٹی 20 سیریز میں مکمل برتری ثابت کرتے ہوئے سیریز 0-4 سے اپنے نام کرلی اور یوں آئرلینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی بھارت کو ٹی 20 سیریز میں وائٹ وائش کردیا۔
-

پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے فیلڈنگ کوچ مستعفیٰ ہو گئے
پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے –
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ نے اپنی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، جس کے بعد قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے شین میک ڈرموٹ گزشتہ سال پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں شامل ہوئے تھے اور ان کی تقرری ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی سفارش پر کی گئی تھی،ان کے استعفے کی ممکنہ وجہ گھریلو مصروفیات بتائی جا رہی ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
شین میک ڈرموٹ نے اپنے دورِ ذمہ داری میں پاکستان ٹیم کی فیلڈنگ کے معیار کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا اور ان کی خدمات کو کھلاڑیوں اور کرکٹ حلقوں میں سراہا گیا جب کہ ان کی کوچنگ میں پاکستان ٹیم کی فیلڈنگ میں واضح بہتری دیکھی گئی، جسے ان کی محنت کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔